
ہمارا نظام تعلیم دور غلامی کی یاد گار ہے جسے لارڈ میکالے نے جاری کیا تھا تا کہ حکومت کی مشینری چلانے کے لئے بیرونی حکمرانوں کو کلرک ملتے رہیں اور قیام پاکستان کے بعد بھی غلامی کے اس طوق کو اتارنے کی علمی کوششیں نہیں کی حکومت پنجاب نے صوبے کے تمام سرکاری سکولوں میں بھی انگریزی ذریعہ تعلیم لازمی قرار دیا تھاتا کہ سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے طلباء کو بھی مستقبل میں زندگی کے ہر شعبہ میں انگلش میڈیم اور پبلک سکولوں سے فارغ التحصیل طلباء سے مقابلہ کے قابل بنایا جائےـ آئیے اب ذرا انگریزی کو سرکاری سکولوں میں کرنے کی ضرورت اور اس کے پس منظر کا جائزہ لیتے ہیںـ
پاکستان میں تعلیمی اداروں کو پانچ گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہےـ
1ـسرکاری سکول (ٹاٹ سکول) 2 ـعیسائی مشنری سکول 3 ـانگلش میڈیم سکول (جو نجی وسائل سے چلائے جا رہے ہیں 4 ـمتمول خاندانوں کے اعلی اقامتی سکول 5ـکمیونٹی سکول (آغا خان و بوہرا کمیونٹی وغیرہ) ان سکولوں میں دینی مدارس کو شامل نہیں کیا گیا ،ان کا مزاج اور نصاب ہی مختلف ہےـ واضح رہے کہ پرائیویٹ انگلش میڈیم سکولوں میں داخلہ کے لئے والدین کو پانچ سو سے دو ہزار روپے تک کی ما ہانہ فیس جمع کرانے کے علاوہ سکول کی انتظامیہ کو 30 سے 50ہزار روپے تک کی رقوم چندے کے طور پر ادا کرنی پڑتی ہیں جبکہ لاہور میں قائم پرائیویٹ سیکٹر میں پوسٹ گرایجویٹ اداروں میں پڑھنے کے خواہشمند طلباء کوسال بھر کے ڈیڑھ سے 2 لاکھ روپے فیس یکمشت ادا کرنی پڑتی ہے ـاس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان اداروں میں صوبہ کی کتنے فیصد آبادی تعلیم سے فیض یاب ہو سکتی ہےـ
گزشتہ صدی 80 کی دہائی کے دوران انگلش میڈیم سکولوں کی تعداد موسمی کھمبیوں کی طرح بڑھتی ہے اور بعض لوگوں نے دولت کے بل بوتے پر جگہ جگہ کاروباری اداروں کے متاثر کن بورڈ لگا رکھے ہیں ایسے سکولوں کا الگ مسئلہ ہے جن پر باقاعدہ تحقیقات و انکوائری کمیشن بٹھانے کی ضرورت ہےـ صوبہ پنجاب میں انگلش میڈیم میں امتحان دینے والوں کی تعداد 20 ہزار سے زائد نہیں ہے جبکہ پنجاب کے 32 ہزار پرائمری سکولوں میں طلباء کی تعداد 30 لاکھ ہے اور ہائی سکولوں کی طلباء کی تعداد 20 لاکھ کے لگ بھگ ہو گئی اور پنجاب کے صرف 4 کالجوں دو دو برائے ْ طلباو طالبات سینئر کیمرج کی محدود نشستوں میں داخلہ مل سکتا ہے ان سکولوں میں گویا داخلے کا معیار صرف دولت اور مادی ذرائع و وسائل ہیں اور ان تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلبا کا مقصد حیات علم کی بنا پر نام پیدا کرنے کی بجائے صرف حکومت کرنا یا اعلی انتظامی عہدوں کا حصول ہی رہ گیا ہے اسی دوہرے بلکہ تہرے نظام تعلیم کی وجہ سے ہی اب تک سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی علوم میں جدید تحقیقات کے نتائج کا سرمایہ ہم تک منتقل نہ ہو سکاـ
انگلش میڈیم سکولوں میں شروع سے ہی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء ایک خاص ماحول میں پرورش پانے کی بنا پر رواں انگریزی میں گفتگو کرتے ہیں ـاس کے علاوہ بہترانگریزی میں بہتر جواب لکھنے کی بنا پر ایسے طلباء مستقبل میں سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء سے آگے نکل جاتے ہیں ـاپنے بچوں کو انگریزی میڈیم میں تعلیم دلوانے والے اور انہیں انگریزی میں گفتگو میں طاق کرنے والے والدین کا تعلق معاشی لحاظ سے بہتر کلاس سے ہوتا ہے یعنی جو اپنی اولاد کو انگریزی میڈیم سکولوں میں پڑھانے کی اخراجات آسانی سے برداشت کر سکتے ہیں ـاس طرح قیام پاکستان کے بعد بھی انگریزی زبان پر ایک خاص طبقے کی اجارہ داری رہی اور ملک کی اعلی انتظامی ملازمتوں کے حصول کے لئے پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں اسی وجہ سے ایک خاص طبقے کے چشم و چراغ آگے آتے رہےـ ہم انگریزی زبان میں ایک طبقے کی اس بے جا تصرف اور اجارہ داری کے خلاف ہیں ـانگریزی کا احیاء اور ترویج پرائمری سکول سے ہی کی جانی چاہیے یعنی تمام سرکاری سکولوں میں انگریزی پڑھائوـ اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو انگلش میڈیم سکولوں کو ہی ختم کر دیا جائے یعنی یا تو انگریزی زبان سے سب کا تعلق قائم کر دیا جائے یا پھر سب کو اس سے محروم کر دیا جائےـ ایک ہی قوم کو حاکم اور محکوم میں تقسیم نہیں کی جانا چاہیے، اس سے کروڑوں عوام کی آرزوں کا دم گھٹ کر رہ جاتا ہےـ
عام سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلباء کی انگریزی کا تو ستیاناس ہو ہی چکا ہے ان طلباء کی اکثریت کی اردو بھی قابل رشک نہیں اور ہماری موجودہ حکمت عملی کا شکار نئی نسل انگریزی سکولوں میں پڑھنے والے طلباء سے احساس کمتری کا شکار ہو چکی ہے ـجیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ مقابلے کے تمام امتحانات انگریزی میں منعقد ہوتے ہیں ـان امتحانات میں بدستور شروع ہی سے انگریزی کی اہلیت رکھنے والے طلباء آگے نکلتے ہیں ـصوبائی حکومت نے انگریزی سکولوں میں شروع ہی سے رائج کرنے کا جو فیصلہ کیا اس کے لئے ضرورت ہے کہ ہم سرکاری سکولوں میں انگریزی کو محض رسم کے طور پر متعارف نہ کرایا جائے بلکہ قومی ذمہ داری اور وقت کے تقاضے سمجھتے ہوئے صحیح معنوں میں لاگو کیا جائےـ اساتذہ کرام کے لئے مرحلہ وار ٹریننگ کا بندوبست کیا جائے انہیں بھی اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے کہ وہ تعلیمی نتائج کو بہتر سے بہتر بنائیںـ
اس کے علاوہ تعلیمی سلیبس اور طریق امتحانات میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے اور حکومت پنجاب کی جانب سے نصاب اتھارٹی قائم کردی گئی ہے جو لائق تحسین اقدام ہے لیکن اتھارٹی نے دو سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک قابل ذکر کارنامہ سر انجام نہیں دیا سرکاری سکولوں میں پرائمری اور مڈل کی سطح پر منعقد ہونے والے اعلی سطح کی وظائف کے امتحانات بھی ایک ہی روز میں محض دو تین گھنٹوں میں لے لئے جاتے ہیں اور پسند کے طلبا و طالبات کو وظائف لگا دیئے جاتے ہیں اس سے آپ سرکاری سکولوں کی تعلیمی پستی کا اندازہ لگا سکتے ہیں فوری طور پر ان میں اصلاح کرنے کے لئے وفاقی حکومت کے تحت قائم سکولوں اور کالجوں کے نصاب اور یونیفارم کی مثال لے لیتے ہیں جو کہ پشاور سے لیکر کراچی اور بلوچستان تک ایف جی کے سکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے لئے پورے پاکستان میں ایک ہی ہےـ
پاکستان میں خواندگی کا تناسب 62 فیصد بیان کیا جا رہا ہے جبکہ جاپان میں سو فیصد ،تائیوان میں 92 فیصد، سنگا پور میں اے لیول کی تعدادکا تناسب 14 فیصد ہے جبکہ تائیوان اور جاپان میں بالترتیب 92 اور 93 فیصد ہے ـاس کے برعکس پاکستان میں 16 ہزار سکولوں کے لئے بمشکل ہی ایک استاد میسر ـ30ہزار کے قریب سکول بغیر عمارت کے چل رہے ہیں یعنی جو صرف محکمہ تعلیم کے کاغذوں میں موجود ہیں اور ان میں تعینات تدریسی اور دیگر عملہ کی تنخواہیں اور دوسرے اخراجات باقاعدگی سے جاری کئے جاتے ہیں جبکہ عملی طور پر ان کاکوئی وجود نہیں ہے ـہمارے پچاس فیصد سے کم بچے تعلیم کے حصول کے لئے پرائمری سکولوں تک پہنچ پاتے ہیں اور ایسے میں ہم کیسے دعوی کر سکتے ہیں کہ 2015 تک پاکستان تعلیم سب کے لئے ہدف پورا کر لے گاـ
طبقائی تعلیم کو ختم کرنے کے لئے حکومت پنجاب کے اعلانات پر عملدر آمد سے صوبہ کی اکثریتی، دیہی آبادی فائدہ صرف اسی صورت میں اٹھا سکے گی جب دیہات میں سرکاری سکولوں کی مناسب عمارتیں موجود ہوں اور ہاں کے تدریسی عملہ کو بہتر تربیت فراہم کی جائےـ اس کے علاوہ پبلک سکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کو بھی مرحلہ وار سرکاری سکولوں میں رائج کیا جائے اور اساتذہ کرام کو ریفریشر کورسز کی سہولیات فراہم کی جائیں ـاس کے علاوہ سرکاری تعلیمی اداروں خاص طور سے دیہات میں قائم اداروں کے اساتذہ کو مقامی سیاست اور گروہی درجہ بندی و برادری ازم سے آزاد کرنے کے لئے موثر اقدامات کئے جائیںـ
تحریر:چوہدری امجد
ch.amjad59@gmail.com
