لاہور: اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے نو منتخب ناظم اعلیٰ محمد زبیر حفیظ نے کہا ہے کہ وڈیرے اور جاگیردار ملک کی سیاست پر قابض ہیں، طلبہ یونین کی بحالی میں ان کے تخت شاہی الٹنے کا ڈر ہے۔ ملک کا آئین طلبہ کو یونین سازی کا اختیار دیتا ہے، طلبہ کو ان کے جمہوری حق سے محروم کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے، ملک بھر میںفی الفور طلبہ یونین کے انتخابات کروائے جائیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جمہوری حکومت قیادت کی نرسریوں پر پابندی کو ختم کر کے اپنے جمہوری ہونے کا ثبوت دے۔ طلبہ یونین کے انتخابات نہ کروانا طلبہ کے جمہوری حقوق کو صلب کرنے کے مترادف ہے جس کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔ جب طلبہ کو ووٹ دینے کا حق حا صل ہے تو طلبہ یو نین پر پابندی ختم ہو نے کے با وجود طلبہ یو نینز کے ا لیکشن کیو ں نہیں کروائے جا رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت بتائے گا کہ تعلیمی ادارے ہی انقلاب کا مرکز ہیں۔طلبہ حقوق کو صلب کرنے والے سیاست دانوں نے راستہ نہ دیا تو انہیں پارلیمنٹ کا راستہ بھی نہیں ملے گا۔ من مانی کرنے والے سیاست دان قوم کی قیادت کے اہل نہیں ہیں۔ طلبہ یونین کے انتخابات سے ہراساں سیاست دان قوم کی بہتری نہیں چاہتے ہیں۔ناظم اعلیٰ جمعیت نے مزید کہا کہ جمہوری حکومت میں طلبہ یونین کی عدم بحالی اور اساتذہ پر تشددجمہوری روایات کا قتل عام ہے ۔طلبہ تصادم سمیت تمام تعلیمی مسائل کا واحد حل صرف طلبہ یونین ہی ہے طلبہ یونین پر پابندی کی وجہ سے ہی تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہوا، تعلیم کو طبقات میں تقسیم کر کے غریب طلبہ پر تعلیم کے دروازے بند کیے گئے ، طلبہ کو زبردستی تعلیمی اداروں سے بیدخل کیا گیا،تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہوئے اور تشدد کی سیاست پروان چڑھی جو کہ طلبہ یونین کے دور میں نہیں تھیںلہذا طلبہ یونین کی بحالی ہی ان تمام مسائل کا واحد حل ہے۔
ماضی میں طلبہ تنظیموں نے قومی تحریکوں میں اپنامثبت رول ادا کیا ہے ۔دنیا بھر میں تعلیمی اداروں کے اندر طلبہ کو یونین سازی کا اختیار ہے۔ بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھارت ہی نہیں امریکہ، برطانیہ اور روس کی بھی اعلیٰ پائے کی یونیورسٹیز میں طلبہ یونینز کام کر رہی ہیں ۔اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں ریڑھی والے سے لے کر وکلاء اور اساتذہ تک سب کی یونینز ہیں لیکن ملک و قوم کا سب سے باشعور طبقہ اس حق سے محروم ہے ۔ آج جبکہ 18سال کے نوجوان کو قومی انتخابات میں ووٹ کا حق حاصل ہے تو تعلیمی ادارے میں اُس سے ووٹ کا حق چھیننا کہاں کی عقلمندی ہے۔ یونین سازی طلبہ کا بنیادی، جمہوری، اخلاقی اور قانونی حق ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں فی الفور یونین بحال کی جائے ۔اس مقصد کے لئے حکومتی سطح پر ایک ضابطہ اخلاق مرتب کیا جا سکتا ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی ممکن ہے ۔تاکہ ایک عظیم تر اسلامی جمہوری مملکت کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔
