Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

حکومت طالبان مذاکرات

February 19, 2014February 19, 2014 0 1 min read
Imran Changaizi
 PPP ,PML N
PPP ,PML N

پاکستان کے اقتدار پر طویل عرصہ سے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی باری باری حکمرانی اس بات کو ثابت کررہی تھی کہ ملک میں صرف دو ہی طاقتیں ہیں جو پاکستان و عوام پر حکمرانی و اقتدار کا حق رکھتی ہیں مگر مشرف نے میاں نواز شریف کی عوامی حکومت کو رخصتی اور جنرل ضیاألحق کی جانشینی کے ذریعے اس تصور کو زائل کرتے ہوئے ثابت کر دیا کہ تیسری قوت ابھی موجود ہے۔ پاکستان کے عوام پر حق حکمرانی کا حق صرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ہی نہیں ہے بلکہ تیسری قوت بھی اس حق کی اہل ہے مگر پھر مشرف و افتخار چوہدری کے مابین جاری جنگ میں سول سوسائٹی اور کالے کوٹوں کی شرکت نے مشرف کو نواز شریف و بینظیر کو وطن واپسی کی اجازت دینے اور ملک میں انتخابات پر مجبور کر دیا جس کے نتیجے میں قائم ہونے والی منتخب حکومت کو عوامی مارچ نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی پر مجبور کر کے یہ پیغام دیا کہ سب سے بڑی قوت عوام ہیں مگر اس پیغام کا تاثر تا دیر قائم نہیں رہ سکا اور عدلیہ و حکومت محاذ آرائی سے یہ محسوس ہونے لگا کہ ایک نئی قوت بھی اس میدان میں اپنی جگہ بنانے کیلئے کوشاں ہے مگر حکمرانوں نے افتخار چوہدری کی مدت ملازمت میں توسیع سے انکار کر کے اس باب کو فی الوقت بند کر دیا جس کے بعد تحریک انصاف تیسری بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی مگر بیلٹ بکس سے نکلنے والے نتائج اور عمران خان شو میں شریک ہونے والے لوگوں کی تعداد میں عدم یکسانیت نے عمران خان کو خیبر پختونخواہ تک محدود کر دیا جس کے بعد عمران خان کیلئے اپنی ڈوبتی سیاسی ناؤ کو سہارا دینے کیلئے نیٹو کیخلاف دھرنوں اور طالبان حمایت واحد راستہ رہ گیا تو عوام یہ بات جان گئے کہ وہ بھی تیسری قوت نہیں ہو سکتے۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے پارلیمنٹ کے مشورے اور قوم کے مطالبے کے بر خلاف طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ کرکے تیسری قوت کے حوالے سے عوام کو راستہ دکھا دیا اور عوام جان گئے کہ پاکستان میں تیسری بڑی قوت طالبان ہیں جو طویل جدوجہد کے بعد بالآخر ریاست وحکومت دونوں سے اپنا وجود منوانے اور مقتدر قوتوں سے برابری کی بنیاد پر بات چیت کیلئے ریاست کو مجبور کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

میاں نواز شریف کا طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ ابتدائی طور پر ملک بھرمیں تنقید کا باعث بنا کچھ حلقے اسے مسلم لیگ (ن) کا طالبان سے لگاؤ قرار دینے لگے تو کچھ کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ طالبان کے ہاتھوں قتل ہونے والے فوج و سیکورٹی اہلکاروں اور دہشتگردی’ خود کش حملوں و بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے معصوم شہریوں کے قاتلوں سے مذاکرات کا مطلب”شہیدوں کے لہو پر سودے بازی اور قاتلوں کو قتل معاف کر دینے کے مترادف ہے اور وزیراعظم یا پارلیمنٹ کو ایسا کوئی قانونی آئینی یا شرعی اختیار نہیں ہے کہ وہ عوام فوج کے شہداء اور بے وجہ قتل کئے جانے والے معصوم عوام کا قتل معاف کرسکیں۔

عمران خان’جماعت اسلامی اور فضل الرحمن گروپ کے علاوہ تقریبا جماعتوں کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کی کھل کر مخالفت کی گئی۔ متحدہ قومی موومنٹ نے مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعا ضرور کی مگر اس عمل کو پاکستان کے مستقبل کیلئے خطرناک بھی قرار دیا۔ متحدہ مجلس عمل نے اسے سیاسی سودے بازی قرار دیکر اس کی مخالفت کی جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہاں تک کہہ دیا کہ طالبان سے مذاکرات کرنے ہیں تو پھر آئین تبدیل کر دیا جائے البتہ اس صورتحال میں فوج کی خاموش زبان نے مخالفت کرنے والے کو ہوا کے رخ کا پتا دے دیا اور پھر طالبان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت قبول کرلیئے جانے کے بعد میاں نواز شریف کے طالبان سے مذاکرات کے فیصلے کو پذیرائی حاصل ہونے لگی۔

قومی و بین الاقوامی سطح پر ملنے والی اس پذیرائی کے ساتھ امریکہ کی جانب سے ڈرون حملے کم کر دیئے جانے اور طالبان مذاکرات کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیئے جانے سے نہ صرف میاں نواز شریف کا حوصلہ بڑھا بلکہ طالبان سے مذاکرات کے فیصلے کی حمایت بھی بڑھنے لگی جس کے بعد وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اپنے معاون خصوصی عرفان صدیقی ،میجر(ر)محمدعامر، سینئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی اور تحریک انصاف کے رہنما افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیررستم شاہ مہمند پر مشتمل چار رکنی مذاکراتی کمیٹی کا اعلان کر دیا۔

جواب میں تحریک طالبان کی مرکزی شوری نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان،جمعیت علماء اسلام(ف)کے رہنما سابق ایم پی اے مفتی کفایت اللہ اورلال مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کو اپنی نمائندگی اور مذاکرات کیلئے نامزد کیا جبکہ اس مذاکراتی کمیٹی کے اوپر بھی ایک 9 رکنی نگراں کمیٹی قائم کر کے تاثر دیا کہ وہ جلد مذاکرات کی کامیابی کے خواہاں ہیں۔

Imran Khan
Imran Khan

پاکستان تحریک انصاف نے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی میں پارٹی کے سربراہ عمران خان کی شمولیت سے معذوری کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومتی کمیٹی میں شامل رستم شاہ مہمند پہلے ہی ان مذاکرات میں تحریک انصاف کی نمائندگی کر رہے ہیں جبکہ جمیعت علماء اسلام (ف) نے مذاکراتی کمیٹی کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔

عمران خان کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کا حصہ بننے سے انکار نے ان کی قومی سیاست کو زبردست دھچکا پہنچایا اور ان کی گرتی ہوئی ساکھ کیلئے مزید تباہی کے اسباب پیدا کرگیا کیونکہ عمران خان عوام کے ہر فرد کے پاس جاکر اسے یہ بات نہیں سمجھا سکتے کہ انہیں مذاکرات کی کامیابی کی ذرہ برابر امید نہیں ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ جب مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ حکومتی مذاکراتی ٹیم پر ڈالا جائے تو اس ٹیم اراکین میں ان کا نام بھی شامل ہو جبکہ مذاکراتی ٹیم سے باہر رہ کر انہوں نے اپنے لئے ثالث کا کردار از خود تجویز کرلیا ہے اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ جب مذاکرات ناکام ہو جائیں گے تو وہ حکومت و طالبان کے درمیاں تیسری قوت کے طور ثالثی اک کردار ادا کر کے اپنی ڈوبتی سیاسی ناؤ کو بچانے میں کامیاب ہوجائیں گے کیونکہ اس وقت قوم کو مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی سے زیادہ ان کا ثالثی کا کردار پسند آئے گا۔

حکومت پاکستان اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا پہلا راؤنڈ کھیلا جاچکا ہے اور اس ملاقات میں جاری ہونے والے اعلامیہ میں کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی جسے امن کی جانب دو طرفہ سنجیدہ عمل قرار دیا جاسکے کیونکہ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے مذاکرات میں پانچ نکات اٹھائے اول مذاکرات آئین کے مطابق ہونے چاہئیں۔

دوئم مذاکرات کا دائرہ کار صرف شورش زدہ علاقوں تک محدود ہوگا اور ان کا اطلاق پورے ملک پر نہیں ہوگا۔سوئم امن و سلامتی کے منافی تمام سرگرمیاں ختم کی جائیں گی۔ چہارم کیا حکومتی کمیٹی کو طالبان کی نگران کمیٹی سے بھی بات چیت کرنا ہو گی۔ پنجم مذاکرات کا عمل طویل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ قوم خوش خبری سننے کی منتظر ہے۔ دوسری جانب طالبان کی تین رکنی کمیٹی نے بھی حکومتی کمیٹی کے سامنے حکومتی کمیٹی کا دائرہ کار اور مینڈیٹ کیا ہے۔

Government Committee
Government Committee

دوئم:ـ حکومتی کمیٹی طالبان کے مطالبات منوانے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے۔
سوئم :ـ وزیراعظم اور آرمی چیف سے طالبان کمیٹی کی ملاقات کرائی جائے۔ طالبان کمیٹی نے حکومتی کمیٹی کے مطالبات طالبان تک پہنچائے اور حکومتی کمیٹی نے مطالبات حکومت ارباب اقتدار تک منتقل کئے مگر عوام اس وقت حکومت طالبان مذاکرات کی بیل منڈھے چڑھنے سے مایوس ہو گئے جب طالبان کی جانب سے نامزد کمیٹی کے رکن مولانا سمیع الحق کایہ بیان سامنے آیا کہ آئین ملک میں قرآن و سنت کی بالا دستی کاحکم دیتا ہے اور طالبان آّئین پر عملدرآمد کے لئے لڑ رہے ہیں جبکہ اسی مذاکراتی ٹیم کے دوسرے رکن اور لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے اس بیان نے مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے تشویش کو مزید گہرا کیا جب انہوں نے کہا کہ حکومت آئین میں رہ کر مذاکرات کرنا چاہتی ہے لیکن طالبان اسے مانتے ہی نہیں ہیں کیونکہ پاکستان کا آئین ابھی تک اسلامی نہیں بنایا گیا اور اس میں بہت ساری غیر اسلامی دفعات شامل ہیں ہم نیک نیتی سے مذاکراتی عمل میں شامل ہوئے لیکن مذاکرات میں آئین کی شرط لگانے سے تعطل پیدا ہوگا۔ مذاکرات صرف قرآن اور سنت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ ان کی اصل لڑائی ہی شریعت کے لئے اور ہمیں اس کے علاوہ کچھ اور منظور نہیں جب کہ حکومت سے مذاکرات کا بھی مقصد ملک میں شریعت کا نفاذ ہے جو اتنا مشکل کام نہیں، ہم سب مسلمان ہیں اور پاکستان بھی اسلام کے نام پر بنا، ہم شریعت نافذ کرنے کا مطالبہ امریکا سے نہیں پاکستان کے حکمرانوں سے کر رہے ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دو گروپ آپس میں ملتے ہیں تو مختلف مطالبات پیش کئے جاتے ہیں اور ہم حکومتی کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ نکات پر غور کررہے ہیں جس پر ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

اور حقیقت بھی یہی تھی کہ مذاکرات کی نیک نیتی پر شبہ کرنا واقعی درست نہیں تھا اور نہ ہی ان کے نتائج سے توقعات وابستہ کر لینا ٹھیک تھا مگر بوجوہ ایسا ہوا مذاکرات پر ازحد خدشات و تنقید بھی سامنے آئے اور ان کے مثبت نتائج کے بعد مستقبل کے محفوظ و پر امن ہونے کے حوا لے سے بھی ہر طرح سے یقین دلانے کی کوشش کی گئی۔

کچھ تجزیہ کاروں نے مذاکرات کو محض وقت گزارنے کا ذریعہ قرار دیا ان کا خیال تھاکہ سرد موسم کی شدت اور برف باری نے نہ صرف پہاڑی گزرگاہوں کو بند کرکے طالبان کے رسدوکمک روکدی ہے بلکہ برف باری کے اس موسم میں فی الوقت طالبان کے پاس آپریشن کی صورت اپنے مورچوں سے نکل کر فرار ہونا یا جم کر افواج پاکستان سے مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہو گا اسلئے طالبان نے مذاکرات کا پتا کھیلا ہے تاکہ مارچ کے وسط تک آپریشن کے فیصلے کو مؤخر کرا دیا جائے کیونکہ موسم کی شدت کے خاتمے کے بعد طالبان اپنے علاقوں میں ہر طرح کے آپریشن سے نمٹے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کچھ تبصرہ نگار یہ کہتے سنائی دیئے کہ حکمران طبقہ طالبان کیخلاف آپریشن کا فیصلہ کر کے اپنے بہت سے تعلقات کشیدہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اسے بھی اپنے محبوب حلقوں کو طالبان کیخلاف آپریشن کیلئے رضامند کرنے کیلئے کچھ مہلت درکار ہے اسلئے اس نے بھی اس موقع کو غنیمت جانا ہے اور فوج کو اعتماد میں لیکر مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے یعنی حکومت بھی اسی نیت سے طالبان سے مذاکرات کر رہی ہے جو طالبان کی ہے۔

ایک حلقہ اس بات پر زور دے رہا تھا کہ طالبان سے مذاکرات اور پرویز مشرف کیس کا مقصد نجکاری سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے کیونکہ حکومت پاکستان کے 60 سے زائد اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کرچکی ہے اور فوری طور پر PIA کی نجکاری کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری بھی مستقبل قریب میں کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ جبکہ نیشنل بینک’ الائیڈ بینک اور گیس کی فراہمی کے ادارے کے علاوہ توانائی کے کم و بیش 20 اداروں کی نجکاری کا منصوبہ ہے جنہیں آئی ایم ایف کی ہدایت پر فروخت کرنا لازم ہے اور مذاکرات و مشرف کیس کا ڈرامہ اس نجکاری سے توجہ ہٹانے کیلئے ہے اسلئے نہ تو مشرف کو کوئی بڑی سزا دی جاسکے گی اور نہ ہی مذاکرات کی پٹاری سے خوش گمانی کی تعبیر نکل پائے گی لیکن ہمارا خیال ہے کہ طاقت کے استعمال پر اکسائے جانے کے با وجود وزیرِ اعظم نواز شریف صاحب نے دہشتگردی کے ناسور سے نبرد آزما ہونے کیلئے پر امن مذاکرات کے راستے کو اپنا کر انتہائی دانشمندانہ فیصلہ کیا تھا کیونکہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے تو ملک میں امن کے قومی خواب کو تعبیر مل جاتی اور ناکامی کی صورت میں حکومت کے پاس ریاستی رٹ برقرار رکھنے کیلئے انتہائی آپشن کے استعمال کا اخلاقی جوا زبہرحال موجود ہے کیونکہ بد امنی سے پریشان اور احساس عدم تحفظ کا شکار پاکستان کے عوام ہر حال میں امن تحفظ اور روزگار چاہتے ہیں۔

بدامنی نے جہاں امن و سکون غارت کیا ہے وہیں کاروبار و تجارت کو بھی برباد اور تعلیم و صلاحیتوں کو بھی تباہ کردیا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ اخلاقی پستیوں کا شکار ہو رہا ہے اور آہستہ آہستہ ہر گھر میں دہشتگرد پیدا ہوتے جارہے ہیں جو خود کش حملے بم دھماکے اور انسانوں کو قتل کرنے والے دہشتگردوں سے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ مقدر کا رونا روتے ‘بیروزگاری کا عذاب سہتے اور استحصال کے باعث مایوسی میں بغاوت کی حد سے گزرتے یہ نوجوان اپنی ہی گھر والوں کیلئے تکلیف کا باعث بنتے جارہے ہیں اور ان کی بے راہ روی مشتعل مزاجی نفسیاتی تباہی کے باعث گھر وں کا ماحول آہستہ آہستہ ایسا ہوتا جا رہا ہے کہ گھر کے افراد ہر لمحہ اذیتناک زندگی جی رہے اور ہر پل تکلیف دہ موت مررہے ہیں اسلئے قوم کو اس اذیت سے نجات دلانے کیلئے کاروبار و تجارت تعلیم و معیشت کو فروغ دینا اور احساس تحفظ کے ساتھ ادب و ذوق اور تفریح کے مواقعوں کو بڑھانا ہوگا مگر یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب ملک میں مکمل امن قائم ہو اور امن کیلئے ہر راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے چاہے وہ راستہ مذاکرات ومحبت کا ہو یا جنگ و قتل کا اور یہ رویہ صرف طالبان سے ہی نہیں بلکہ ہراس فرد ‘ طاقت اور جماعت کے ساتھ اپنانے کی ضرورت ہے جو معاشرے میں بد امنی اور تباہی کے اسباب پیدا کر رہا ہے مگر پہلے ہر ایک کو ایک موقع سمجھنے اور سمجھانے کا اور ایک مہلت سدھرجانے کی دینی لازم ہے جبکہ مہلت گزرتے ہی کوئی بھی عذرقبول کئے بغیر وہی کرنا ضروری ہے جو ریاست کو بچانے اور دشمن سے نبٹنے کا آخری حربہ ہوتا ہے یعنی جنگ اور قتل مگر ہمیں وتوقع تھی کہ طالبان سے مذاکرات میں کامیابی اس نوبت تک جانے ہی نہیں دے گی۔

Taliban
Taliban

لیکن دوران مذاکرات دہشتگردی کا تسلسل برقرار اور خود کش حملے ملسل جاری رہے کراچی میں پولیس ٹریننگ کالج اور مہمند میں ایف سی پر حملے نے نے مذاکرات کے عمل میں رخنہ ڈال دیا حکومتی کمیٹی نے طالبان کمیٹی سے ملنے سے انکار کر دیا اور طالبان کمیٹی نے حکومتی کمیٹی کے اس رویئے کیخلاف احتجاجی پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پر آپریشن کی تیاریوں کا الزام لگاتے ہوئے آپریشن کو قومی مستقبل کیلئے خطرناک قرار دے دیا جبکہ تحریک طالبان نے ان حملوں کو سیکورٹی اداروں کا طالبان قیدیوں کے ساتھ سلوک اور ان کے ماؤرائے عدالت قتل کا رد عمل قرار دیا جبکہ کچھ تجزیہ وتبصرہ نگار یہ بھی فرمارہے ہیں کہ مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی آرمی چیف راحیل شریف کا دورہ سعودی عرب جس مقصد کیلئے تھا وہ ظاہر ہوچکا ہے اور سعودی شہزادے کے دورہء پاکستان اور پاکستانی قیادت کے ملاقات کے بعد حکومتی کمیٹی کا طالبان کمیٹی سے ملاقات سے انکار جبکہ طالبان کمیٹی کا حکومت و فوج پر آپریشن کی تیاریوں کے حوالے سے الزام دانشمندوں کو آنے والے وقت کا پتا دے رہا ہے جس کے حوالے سے دانشور بہت دور تک دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس آئینے میں انہیں پرویز مشرف کا روشن مستقبل ہی نہیں بلکہ ایران وسعودی عرب اتحاد اسرائیل و امریکہ مخاصمت بھارت وچائنا اقتصادی دوستی برطانیہ کی یورپی یونین میں شمولیت قابل تکریم مسلم ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے اور مسئلہ کشمیر کے بھارت و پاکستان کی خواہشات کے برخلاف حل جیسے حالات و واقعات دکھائی دے رہے ہیں۔

دانشمندوں کی اس مستقبل بینی کا احوال جو بھی ہو ہماری دعا ہے کہ پاکستان میں امن ہونا چاہئے تاکہ ہم اس وقت سے محفوظ رہ سکیں جب بڑھتی ہوئی غربت انسان کو بھوک کی جانب لے جاتی ہے اور بھوک انسان کو انسانی گوشت کھانے اور خون پینے پر مجبور کردیتی ہے۔ اللہ ہمیں اس وقت سے محفوظ رکھے۔

Imran Changaizi
Imran Changaizi

تحریر: عمران چنگیزی

Share this:
Tags:
Committee Future government Negotiations pakistan taliban پاکستان حکومت طالبان کمیٹی مذاکرات مستقبل
Supreme Court
Previous Post سپریم کورٹ: سندھ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت
Next Post ہمیشہ اپنے لیجنڈ گلوکاروں کے گیتوں کو اہمیت دی، ظفر رامے
Zafar Ramy

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close