مہمند ایجنسی : گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب کا دورہ مہمند ایجنسی۔ غلنئی جرگہ ہال میں قومی جرگہ سے خطاب کیا۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایف سی کیمپ آئے اوربریفنگ لی۔ شھید خاصہ دار کی بیوہ کو تین لاکھ روپے کا چیک دیا، قبائیلی مشران، ملکان اور ن لیگ کے مقامی رہنمائوں نے شرکت کی۔ گورنر کو روایتی کلاہ لنگی پہنائی گئی۔
فرضی اعلانات نہیں کرتا، قبائل پاکستانی طاقت کا ستون ہے، قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ دو جنگوں سے زیادہ نقصان حالیہ جنگوں سے ہوا، طورخم کی طرح مہمند ایجنسی دوسرا بڑا گیٹ وے ہے۔ تمام فنڈز قوم کی امانت ہے۔ افغانستان کیساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، شرپسندوں نے معاشرہ، ملک اور دین کو نقصان پہنچایا۔ گورنر کا مہمند قبائل کے جرگہ سے خطاب۔گورنر خیبر پختونخوا نے آج منگل کو مہمند ایجنسی کا دورہ کیا۔ ھیلی کاپٹر کے ذریعے ایف سی کیمپ غلنئی میں پہنچے اور ایجنسی صورتحال پر بریفنگ لے لی۔ غلنئی جرگہ ہال میں قبائلی جرگہ سے خطاب کیا۔ جرگہ میں مہمند ایجنسی کے قبیلوں حلیمزئی، ترکزئی، خویزئی، بائیزئی، اتمانخیل اور صافی سے تعلق رکھنے والے قبائلی مشران، ملکان اور ن لیگ کے مقامی رہنمائوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ قومی مشران اور عمائدین نے گورنر کو ایجنسی کے عوام کی مشکلات سے اگاہ کیا۔
گورنر مہتاب عباسی نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہمند قبیلہ نے بے شمار قربانیاں دے کر حکومت اور فورسز کیساتھ تعائون کیا۔ اور ایجنسی میں قیام امن میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ قبا ئل نے بہت مشکل حالات میں حب الوطنی کا مظاہرہ کیا۔ اور ہم قبائلی عوام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ میں فرضی اعلانات نہیں کرتا۔ جو کام کرسکتا ہوں اسی کا اعلان کروںگا۔ جھوٹ نہیں بول سکتا۔
مہتاب عباسی نے کہا کہ حالیہ جنگوں سے اتنا زیادہ نقصان ہوا ہے جو بھارت کے ساتھ دو جنگوں میں ہوا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ قبائل پاکستانی طاقت کا ستون ہے اور ہم اس ستون کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہاں کے عوام کو ترقی کی راہ پر لانے کیلئے طورخم کی طرح دوسرا گیٹ وے بنانے پر غور ہورہا ہے۔
گورنر نے کہا کہ شرپسندوں نے ہمارے معاشرے، ہمارے ملک اور ہمارے دین کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ امن قائم رکھنے کیلئے بھر پور کردار ادا کرینگے اور قبائل کی تعاون کے بغیر امن کا قیام ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام فنڈز قوم کی امانت ہے اور قوم کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائیگی۔
ایک سوال کے جواب میں گورنر نے کہا کہ پڑوسی ملک افغانستان کیساتھ امن کے خواہاں ہیں اور مہمند ایجنسی کے راستے تجارت تب بحال ہوسکتی ہے، جب بارڈر کے دونوں جانب امن اور سکون ہو۔
