صبح نور کو کڑی دھوپ میں جلتے دیکھا
سرمئی شام کو اندھیرے میں ڈھلتے دیکھا
بنت حوا کو نیلامی کی منڈی میں کھڑے
شرف انسان کو حیوانیت میں بدلتے دیکھا
ایسے بھی دور آئے، جو دنیا سے سنبھالے نہ گئے
معصوم تمنائوں کو ، وحشت میں ابلتے دیکھا
ہم تو ٹھیرے رہے اک سپنوں کی وادی میں
اور پتھروں کو لاوے میں پگھلتے دیکھا
وہ بھی انسان تھا،سجدے سے خدا بن نہ سکا
ابن آدم کو بس ٹھوکر سے سنبھلتے دیکھا
عالیہ جمشید خاکوانی
