Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عظیم ملک کا عظیم پرچم، بلند رہے گا

August 14, 2017 0 1 min read
Pakistan Flag
Pakistan Flag
Pakistan Flag

تحریر : حفیظ خٹک
یہ بتائیں بابا کہ ہم پاکستان کی 70ویں یوم آزادی منا رہے ہیں، اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟ مجھے کچھ نہیں کہنا ہے ، کیوں بابا، ایسا کیوں ؟ دیکھا جب یہ ملک بنا تھا اس کے ایک سال کے بعد میری پیدائش ہوئی اور اب جبکہ اس ملک کی 70ویں سالگرہ آپ منا رہے ہیں تو میری عمر 60برس ہوگئی ہے اور آج تک میں نے کبھی اپنی سالگرہ نہیںمنائی ہے اور نہ ہی مجھے یہ یاد ہے کہ میں نے اس ملک کی سالگرہ منائی ہو۔ میںنے تو جب سے ہوش سنبھالا ہے تب سے کام ہی کر رہا ہوں۔ آپ یہ باتیں چھوڑیں اور بتائیں کہ آپ میرے ریڑھی میں رکھے پھلوں میں سے کیا لینا چاہتے ہیں ، وہ لیں اور اپنا وقت ضائع نہ کریں ۔بابا کی ان باتوں نے وہاں موجود افراد کو اپنی جانب متوجہ کردیا ۔ اس دوران چند لمحوں کیلئے خاموشی ہوئی تاہم سینے پر اک جھنڈا لگائے نوجوان نے کہا کہ بابا آپ یہ کسی باتیں کررہے ہیں ؟ ہم پاکستانی ہیں اور ہمیں اپنے ملک پر ناز ہے ۔ ہم اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہمارا ملک اسلام کے نام پر آزاد ہوا اور اس کی تعمیر میں بڑی قربانیاںدی گئیں ۔ آج جبکہ اس کا یوم آزادی قریب آرہا ہے اور آپ مایوسی کی سی باتیں کر رہے ہیں۔

بابا نے اس بار سب کی جانب دیکھا اور کہا کہ دیکھو پہلے یہ ایک صاحب آئے اور انہوں نے مجھ سے چیز لینے کے بجائے اسی حوالے سے بات کا آغازکردیا اب جبکہ یہ ایک فرد نہیں ہے اور ان کے ساتھ آپ سب جمع ہوگئے ہیں تو میں اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا ہوں ۔ میں ایک مزدور ہوں اور برسوں سے محنت کررہا ہوں ،یہ کام ہمارے نہیں ہیں ۔ ہم نے تو یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے پھل فروخت ہوں اور ہم سورج ڈھلنے سے قبل گھر اپنی مزدوری لے کر پہنچ جائیں ۔ کچھ وقت اپنے بچوں کے ساتھ گذاریں اور پھر اگلے دن کی تیاری کریں۔ میں یہ باتیں اس لئے کر رہاہوںکہ میں آپ سب کا اور اپنا وقت ان باتوں میں ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھ سے پھل خریدیں اور اپنا راستہ لیں ،آگے بڑھیںاور زندگی میں مصروف ہوجائیں ۔ بابا کا انداز اس بار کچھ جارہانہ سا لگا ، دو افراد تو اسی وقت چلے گئے باقی میں سے کچھ نے پھل خریدے اور وہ بھی چل دیئے ۔ تاہم راقم وہیں پر موجود رہا ۔ بابا نے نظر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا اور لب ہلائے پھر اپنے پھلوں کو ترتیب سے رکھتے ہوئے کچھ مزید پڑھنے لگے ۔ چند لمحوں کے اس عمل کے بعد ان کی نظر راقم پر پڑی اور گویا ہوئے ، جی آپ نہیں گئے ،کیوں ؟ اگر آپ کی پھل لینے کی گنجائش ذرا کم ہے تو بھی مجھے بتادیں اور اگربالکل نہیں ہے تو بھی میں آپ کو پھل دیدونگا ۔ نہیں ، بابا مجھے آپ کے پھل نہیں چاہئے ، میں یہاں جو کھڑا رہا وہ چند باتوں کیلئے ہی کھڑا ہواہوں ، اب اگر آپ اجازت دیں تو میں بات کروں بصورت دیگر میں بھی چلا جاتا ہوں ۔ بابا مسکرائے اور کہا کہ دیکھو اور کوئی ضرور کرنا یہ ملک کی ،اور اسکی سالگرہ کی باتیں نہ کرنا ۔ بابا ،ایسا کیوں کہہ رہے ہیں ؟

مجھے یہ جان کر عجب سا لگ رہا ہے ، ایک جانب مجھے ہر فرد ہی سینے پر قومی جھنڈالگائے نظر آتاہے ، گاڑیوں پر چھوٹے اور بڑے جھنڈے نظر آرہے ہیں ، حتیَ کہ آپ کے ارد گرد بھی جو دیگر پھل فروش ہیں وہ بھی پاکستان کے جھنڈے لگائے ہوئے اور آپ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتے ہیں ، کیوں ؟ دیکھو ، ہر بات کی تہہ میںایک بات ہوتی ہے اور میری اس بات کی تہہ میں بھی اک بات ہے۔ یہ کہتے ہوئے وہ مسکرائے اور اپنے پھلوں پر کپڑا مارتے ہوئے میری بات کو نظر انداز کرنے لگے ۔ تاہم اس بار راقم قدرے جذباتی سا ہوا اور ان سے کہا کہ اب اگر آپ نہیں بتائیں گے تو یہ میرے سینے پر آ پ جھنڈا دیکھ رہے ہیں نا، میں اسے اتاردونگا۔ بابا یکدم راقم کی جانب غور دے دیکھنے لگے اور کہا کہ نہیں ہرگز نہیں آپ ایسا قطعی نہیں کریں گے ۔ یہ جھنڈا اس قابل نہیں ہے کہ اسے اتار دیاجائے بلکہ اس جھنڈے کا مقام تو آسمان کی بلندیاں ہیں ۔ اسے جھنڈے کو تو اللہ بلندرکھنے کی ذمہ داری دی ہیں ۔ اس ملک جھنڈا ہے کہ جو کہ اسی اللہ کے نام پر ، اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر اور اس کے دین کے نام پر بنا ۔ آخر یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ میرے سامنے آپ اس جھنڈے کو سینے سے اتاریں ۔ میں تو اس جھنڈے کو زمین سے اٹھا کر اپنی جیب میں رکھتا ہوں ، جھنڈے کو کیا میں تو اس ملک کے نام کو بھی نیچے پڑا دیکھتا ہوں تو اسے بھی اٹھا کر رکھتاہوں ، اور اس وقت آپ مجھے یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ اسے سینے سے اتار دیں گے ۔ میںایسا آپ کو نہیںکرنے دونگا۔

بابا ، اس با رخاصے جذباتی ہوگئے ۔ آسمان کی جانب دیکھااور پھر اپنی چادر ،چہرے پر پھیرتے ہوئے بولے کہ اب آپ پوچھیں ، جو جی میں آئے پوچھیں ۔ راقم نے ان کی آنکھوںمیں آنسوﺅں کو دیکھا اور اک لمحے کو یہ خیال آیا کہ بابا کو اسی حالت میں چھوڑ کر چل دینا مناسب ہوگا کیونکہ کسی کی آنکھوں میں نمی آجائے اور وہ بھی ایسی کسی بات پر جس کا علم نہیں، بہرحال راقم نے ان سے پوچھا کہ آپ صرف ایک سوال کا جواب دیدیں اور سوال یہ ہے کہ آپ یوم آزادی کو کیوں نہیں مناتے ؟ بس یہی سوال ہے اور کوئی بات ہے تو وہ بھی پوچھ لیں کیونکہ میں آپ کے اس سے زیادہ سوالوں کے جواب دینے کا پابند نہیں ہوں ۔ یہ کہتے ہوئے وہ مسکرادیئے ۔ نہیں بابا اور کوئی سوال نہیں بس آپ جواب دیں اور اس جواب کا آغاز کر دیں۔

بابا نے ایک بار پھر آسمان کی جانب دیکھا اور پھر کہنے لگے کہ دیکھو ، میں ایک مزدور ہوں روزانہ مزدوری کرتاہوںاور اس طرح سے اپنی ذمہ دارریاں پوری کر رہا ہوں ۔ ملک کے حالات پر میری نظر رہتی ہی نہیں گہری نظر رہتی ہے ۔ میں قیام سے اب تلک کے حالات سے باخبر ہوں ۔ میںجانتا ہوں کہ اس ملک کے سیا ستدان کس طرح کام کرتے ہیں اور ان کے ساتھ حکومت کس طرح کام کررہی ہے۔ دینی جماعتیں کس طرح کام کررہی ہیں اور غیر سیاسی تنظیمیں جنہیں آپ این جی اووز کہتے ہیں وہ کس طرح سے کام کررہی ہیں ؟ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں اسلام کے نفاذ کیلئے کیا کام ہورہا ہے اور اب تلک ہمارا ملک کیسے چل رہا ہے؟
بابا کی اچانک سے یہ ساری باتیں سن کر راقم تو جیسے سکتے میں آگیا ہو، کچھ اسی طرح کی کیفیت ہوگئی کیونکہ بظاہر مزدور نظر آنے والا یہ بابا اس قدر گہری نظروں سے ملک کے حالات کا کو دیکھتے ہیں ۔ بہرکیف ،راقم نے ان سے کہا کہ بابا آپ اپنی بات کوجاری رکھیں ۔ دیکھو اس ملک کے وزیر اعظم ہیں بلکہ اب تو وہ سابق ہوگئے ہیں ان کا نام نواز شریف ہے ، انہوںنے اس ملک پر دیکھا جائے تو اک طویل مدت سے حکمرانی کی ہے ۔ پنجاب صوبہ میں برسوں سے انہی کی ہی حکومت رہی ہے آپ ان کا حال دیکھیں اور ان کا کردار دیکھیں ۔ انہیں اس ملک کی سپریم کورٹ نے نا اہل قرار دیا اور یہ بات یونہی نہیں کہی سپریم کورٹ نے بلکہ اس فیصلے کیلئے طویل عرصے تک تحقیقات ہوئیں اور اس کے بعد فیصلہ ہوا۔ نواز شریف کے وکلاءبھی تھے جنہوںنے بھاری رقمیں لے کر وزیراعظم کا مقدمہ لڑا لیکن سپریم کورٹ نے دونوں جانب کی باتیں اور دلائل سننے کے بعد انہیں ناہل قرار دیدیا ۔ اب اس بات انہیں یہ شور نہیں کرنا چاہئے جو وہ گذشتہ کئی دنوںسے کررہے ہیں۔ اسی نواز شریف کی ایک اور بات بھی میں بتاچلوں اور وہ یہ ہے کہاس نے وزیر اعظم بننے کے بعد کراچی میں سندھ گورنر ہاﺅس میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی اور انہیں یہ کہا تھاکہ میں ان کی بیٹی کو امریکی سے جلد رہائی دلواکر وطن واپس لے آﺅنگا۔

آپ جانتے ہو کہ یہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کون ہے ؟ راقم نے ہلکا سا سر ہلا کر کہا کہ جی میں جانتا ہوں ۔ اس کے بعد بابا نے مزید کہاکہ نواز شریف نے آج تلکوہ وعدہ پورا نہیں کیا، کیوں ؟ وہ اللہ کو کیا جواب دے گا ؟ جبکہ مین یہ بات جانتا ہوں کہ وہ مظلوم ہے اور اس نے کوئی ایساجرم نہیںکیا کہ جس کے بل پر انہیں اس قدر طویل سزا دی گئی ہے۔ وہ اک ماہر تعلیم تھیں اوراس ملک میں وہ اس ملک کیلئے بہت کچھ کرنا چاہتی تھیں لیکن ایسا نہیں ہوا اور انہیں منظم منصوبہ بندی کے ذریعے 86برسوں کی سزا سنادی گئی ۔ اب ایسا لگ رہاہے کہ اس ملک کی سیاسی ، مذہبی اور دیگر سب جماعتیں سو گئیں ہیں کسی کو بھی ان کا خیال نہیں ہے۔

بہرحال اس بات کو بھی ایک جانب رکھیں آپ یہ دیکھیں کہ اس ملک کو جس سائنسدان نے ایٹمی قوت بنایا اس کے ساتھ ہماری حکومت نے کیا سلوک کیا اور وہ آج بھی کس حال میں ہے۔ جبکہ یہ دیکھا جانا چاہئے کہ پڑوسی ملک بھارت میں انہوں نے اپنے اس سیاستدان کے ساتھ کیسا سلوک کیا اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیا اور یہاں ہمارے ہاں کیا ہورہا ہے؟ اس کے بعد ایک اور خاتون کا بھی میں ذکر ضرور کرنا چاہوںگا ، وہ خاتون کہ جس کے شوہر کو اس سے بچھڑے 12برس ہوگئے ہیں اور وہ اس شوہر کی تلاس میں گھر سے نکلیں ۔ اس کا نام امنہ مسعود جنجوعہ ہے اور وہ اس کی جدوجہد کے نتیجے میں اب تلک 800سے زائد لاپتہ افراد اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں لیکن اس کا شوہر ابھی تک لاپتہ ہے ۔ وہ آج بھی یہ بات کرتی ہیںکہ اگر ان کے شوہر نے کوئی بھی غلط کام کیا ہے تو اسے عدالت میںلایاجائے اور انہیں اس غلطی کی سزا دی جائے لیکن انہیں لاپتہ تو نہ رکھا جائے نا۔۔۔میں اور کس کی بات کروں ۔ اس ملک میں غلطیاں ، کوتاہیاں سب کو نظر آتی ہیں اور ہوتا یہ ہے کہ کوئی اس پر بات نہیں کرتا ہے ۔ کوئی بھی اس کی نشاندہی نہیں کرتاہے ۔ اس کے ساتھ اچھائیاں کسی کو بھی نظر نہیں آتی ہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس ملک کا میڈیا دیکھو ، یہ لوگ عوام کو کن راستوں پر لے کر جارہے ہیں ؟ کشمیر کی صورتحال دیکھو ، وہاں وہ لوگ برسوں سے آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور ہمارا یہ میڈیا اس بھارت کے ڈرامے اور فلمیں اپنے چینلزپر دیکھاتا رہا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ اشتہارات تک میں ان کے لوگوں کو دیکھایا جاتا ہے ۔ ایسا کیوں کرتے ہیں یہ لوگ انہیں اپنے کشمیری بھائیوں کا ، بہنوں کا کوئی ہوش نہیں کوئی احساس نہیں ، کیوں ، آخر کیوں ؟ اور تو اور یہ دیکھو کہ جو بندہ کشمیر کی آزادی کی بات کرتا ہے اس کیلئے آواز اٹھاتا ہے اسے انہوںنے 180سے زائد دنوںسے گھر میں بند کیا ہوا ہے ۔ کیوں ؟ پھر کشمیر کمیٹی ایک بنی ہوئی اور اس کمیٹی کا سربراہ ایک مذہبی جماعت کا سربراہ ہے جسے کشمیر کا کوئی احساس نہیں ہے۔
بابا ، چند لمحوں کیلئے خاموش ہوئے اور ایک بار پھر آسمان کی جانب دیکھا اور کہنے لگے کہ دیکھو میرا سینا اس ملک کی محبت سے بھرا پڑا ہے ۔ میں اس ملک کا بے رودی والا سپاہی ہوں ، جو کچھ میں اس ملک کیلئے کر سکتا ہوں کر تاہوں ۔ شدید محنت کرتاہوں اور اپنے بچوں کو پڑھاتا ہوں ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس اسکول میں میرے بچے پڑھتے ہیں بسا اوقات میں وہیں پر یہ پھل بیچتے ہوئے پہنچ جاتا ہوں ۔ اپنے بچے کو پڑھا کر اس ملک کی خدمت کیلئے انہیں تیارکر رہا ہوں ۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا وقت آئے گا کہ جب وہ اس ملک کیلئے مجھ سے زیادہ محنت کریں گے اور اس ملک نام روشن کریں گے ۔ آپ دیکھیں اس ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ، کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے کہ جس میں ہمارے باصلاحیت نوجوان موجود نہ ہوں ، ہمارا ملک صلاحیتوں سے بھرا ہوا ہے ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان کی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں نہ صرف استعمال کیا جائے بلکہ ان کی منا سب رہنمائی کی جائے ۔ ایسا کریں گے تو آپ دیکھئے گا کہ یہ ملک جس مقصد کیلئے حاصل ہوا تھا وہ مقاصد حاصل ہوجائینگے۔ ان شاءاللہ بس اب آپ بھی جائیں اور مجھے بھی جانے دیں۔

میں اپنا کام کرونگا اور آپ بھی اپنا وقت ضائع نہ کریں اپنا کام کریں اپنے لئے اپنے اس ملک کیلئے ۔ پرچم لگانے یا نہ لگانے سے کوئی فرق نہیں پڑتاہے ۔ پرچم کو بلند کرنا ہے اس عزم کے ساتھ آپ بھی اپنا کام کریں اور مجھے بھی اسی مقصد کیلئے کام کرنے دیں ۔ یہ کہتے ہوئے بابا چل پڑے ۔ راقم ان کے آگے کھڑاہوا اور ان سے پوچھا کہ بس ایک سوال کا اور جواب دیدیں ۔ آپ بار بار آسمان کی جانب کیوں دیکھتے ہیں اور پھر آپ کی آنکھوں میں آنسو بھی آجاتے ہیں ، کیوں ؟
بابا ایک بار پھر کھڑا ہوا اور آسمان کی جانب ہی دیکھتے ہوئے بولے ، آسمان کی جانب میں اس لئے دیکھتا ہوں کہ میں اللہ سے اس لمحے دعا کرتا ہوں ، اس ذات عظیم سے بات کرتا ہوں ، اس سے مانگتا ہوں ، اس کا ذکر کرتا ہوں بس اس لمحے میرا جی چاہتا ہے کہ میں آسمان کی جانب دیکھوں اور یہ سب کروں جس کا میں نے ذکر کیا ۔ اسی دوران میری آنکھوں میں نمی بھی آجاتی ہے اور میرا حوصلہ بھی بڑھتا ہے ۔ میں مایوسی کو کفر سمجھتا ہوں اور اللہ پر یقین رکھتے ہوئے اس سے دعائیں کرتاہوں ، اپنے لئے ، اپنے ملک کیلئے امنہ مسعود جنجوعہ کیلئے ، حافظ سعید کیلئے ، کشمیر کیلئے ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیلئے اور سب سے بڑھ کر اس وطن عزیز کیلئے اس عظیم ملک کیلئے اور اس عظیم ملک کے عظیم پرچم کیلئے ۔۔

تحریر : حفیظ خٹک

Share this:
Tags:
country flag Freedom great pakistan آزادی پاکستان پرچم عظیم ملک
Muhabbat ka Sitara
Previous Post محبت کا ستارہ
Next Post سیاسی کرگس پاکستان و عوام‘ دونوں کو غلام بنانا چاہتے ہیں۔ جی کیو ایم
Pakista

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close