Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

لاجواب سروس کے باکمال بڑے

February 6, 2016 0 1 min read
Pilot Project
Pilot Project
Pilot Project

تحریر: سلطان حسین
یہ 23 اکتوبر 1946 کی بات ہے جب ایک پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر نئی ائیر لائن کا وجود سامنے آیاابتدائی طور پر کلکتہ میں اورینٹ ایئرویز لمیٹڈ کے نام سے یہ رجسٹرڈہوئی’ چیئرمین ایم اے اصفہانی بنے جنرل منیجر کے طور پر کارٹرنئی ورک سامنے آئے اور اس کا بیس کو کلکتہ کو بنا دیا گیا آپریٹنگ لائسنس مئی 1947 میں حاصل کیا گیاچار ڈگلس DC-3S طیارے فروری 1947 میں ٹیکساس کے ٹیمپو سے خریدے گئے اور آپریشن کے لیے 4 جون 1947 کا انتخاب کیا گیا اورینٹ ایئر ویز ‘آپریشنل آغاز کے دو ماہ کے بعد پاکستان وجود میں آگیا پاکستانی ہوا بازی کی صنعت اورینٹ ایئر ویز سے شروع ہوئی جسے بعد میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کار پوریشن کے ساتھ ضم کر دیا گیا۔

یہ کہانی اتنی سادہ بھی نہیں ہے ۔اورینٹ ایئر ویز، جس کو حکومت پاکستان کی طرف سے چارٹر گیا تھا BOACطیاروں کی مدد کے ساتھ ساتھ، امدادی کاموں اور دہلی اور کراچی، دونوں دارالحکومتوں کے درمیان لوگوں کی نقل و حمل کے لئے شروع کر دیاگیاصرف دو DC-3S ، جہازاور اس کے عملہ کے تین اراکین، اور بارہ میکینکس کیساتھاس کنکال بیڑے کا آغاز کیا گیا اورینٹ ایئرویز ایک پریوں کی کہانی کی طرح ہے اس کے شیڈول کی کارروائیوں کا آغازہوا ”ابتدائی راستے کراچی لاہور پشاور، کراچی، کوئٹہ، لاہور اور کراچی سے دہلی کلکتہ ڈھاکہ تھییہ سلسلہ 1949 کے آخر تک جاری رہا 1950 میںینٹ ایئر ویزنے DC-3S دس اور Convair 240s کے تین مزید طیارے خریدے تاکہ اس اضافی صلاحیت سے برصغیر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جاسکے اور ینٹ ایئر ویز محدود سرمائے اور وسائل کے ساتھ، ایک نجی ملکیتی کمپنی تھی۔

PIA
PIA

اس سے توسیع کی توقع نہیں کی جا سکی تھی جس کی وجہ سے حکومت پاکستان نے ایک سرکاری ایئر لائن بنانے کا فیصلہ کیا اور نئی پاکستانی ائیر لائن کے ساتھ اورینٹ ایئر ویز کو ضم کرنے کی دعوت دی اس صورتحال کے پیش نظر 10 جنوری 1955 کو پی آئی اے سی( پاکستان ائیر لائن کارپوریشن) کا آرڈیننس جاری کیا گیا آپریشنل سرگرمیوں کے علاوہ اورینٹ ایئر ویز نے اور ہالنگ اور مرمت کی سہولیات کا مرکز قائم کیا اور پائلٹوں، انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کی کھپ تیار کی جانے لگی اس ابتدائی مرحلے کے دوران یہ پی آئی اے کے لیے ایک عظیم اثاثہ ثابت ہوئے اور1955 میں پاکستان ائیر لائن نے مقابلے کے دوڑ میں شامل ہونے کے لیے بین الاقوامی پروازیں قاہرہ ‘روم اور لندن کے لیے شروع کیںمسٹرا یم اے اصفہانی اس وقت کی اس متحرک ایئر لائن کے پہلے چیئرمین اور پہلے منیجنگ ڈائریکٹر، ظفر الحق احسن تھے جنہوں نے اپنے 4 سالہ دور میں اس ائیر لائن کو ترقی دی کے بام عروج تک پہنچایا 1959 میں حکومت نے پی آئی اے کے منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر ایئر کموڈور نور خان کو مقرر کیاان کی بصیرت افزا قیادت کے ساتھ، پی آئی اے ‘چھٹی بڑی ائیرلائن بن گئی اور چھ سال کے مختصر عرصے کے اندر اندر، دنیا کی صف اول کیریئرز میں سے ایک قد آور حیثیت حاصل کر لی۔

ہوا بازی کے حلقوں میں اس مدت کو اکثر پی آئی اے کے ”سنہری سال”کے طور پر حوالہ دیاجاتا تھا1962 میںپی ائی اے نے اپنے لیے بین الاقوامی حالات سازگار بنانے کے لیے لندن اور کراچی کے درمیان تیز ترین پرواز کا ریکارڈ توڑااور چھ گھنٹے،43 منٹ 51 سیکنڈ میں مسلسل پرواز کا ایک ریکارڈقائم کیا پی آئی اے وسط ساٹھ کی دہائی میں پاکستان میں ایک گھر کا نام بن گیا 1965 کے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ میںقومی ایئر لائن کا ایک اور تجربہ کیا گیاپی آئی اے کے بوئنگ، سپر برج، اور Viscounts استعمال کرتے ہوئے خصوصی پروازوںسے کام لے کر مسلح افواج کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیاگیااور بابائے قوم کی پاکستان میں خاص حالات میں ایک سول ایئر لائن کی ائیرفورس کی پیشن گوئی درست ثابت کی پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن جب قائم ہوئی تو اس کا سلوگن تھا ”باکمال لوگ لاجواب سروس ” اور اس سروس نے واقعی لاجواب سروس فراہم کی جب تک یہ سیاسی اثرو رسوخ سے آزاد تھی۔

Rulers
Rulers

لیکن جب اس میں سیاست کا عمل دخل شروع ہوا تو اس کی منیجمنٹ ”باکمال ” بن گئی اور حکمرانوں کے ساتھ مل کر اس کی تباہی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جس کی وجہ سے اس ادارے نے تنزلی کا سفر شروع کر دیا باکمال لوگ لاجواب سروس سلوگن پی آئی کا طورہ امتیاز تھا اٹھائیس ممالک میں یہ ملک کا منافع بخش ترین ادارہ اور ملک کی وقار کی علامت تھا لیکن بیس ممالک کی ائیرلائن کو کامیاب بنانی والی یہ ائیرلائن آج خود ناکام ثابت ہورہی ہے اوردلدل میں دھنسی ہوئی ہے یہ اس حالت تک پہنچی کیسے یہ بھی ایک المناک کہانی ہے بام عروج حاصل کرنے والی پی آئی اے جب سے چہتوں کو نوازنے کا ذریعہ بنی تو اس نے اس ادارے کو گنگال کر دیا اس ادارے کی 58 فیصد فلائٹس اندورن ملک اور 42 فیصد فلائٹس بیرون ملک پرواز کرتی ہیںصرف چالیس طیاروں کے لیے چودہ ہزار سے زائد ملازمین بھرتی کئے گئے ہیںستم ظریفی کا عالم یہ ہے۔

کہ ایک ایک پرواز کے لیے 700 ملازمین تعینات ہیںجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ ادارہ آج 320 ارب روپے کا ناہندہ ہے رواں برس اس ادارے کو 27 ارب روپے گذشتہ برس 32 ارب پچاس کروڑروپے اوراس سے قبل ساڑھے 44 ارب روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑا پچھلے دوبرس میں 22 ارب روپے جاری کرنے کے باوجود حکومت اس ڈوبتے ہوئے واپڈا کی طرح سفید ہاتھی کو بچانے میں ناکام رہی سیاسی بھرتیوں ‘اضافہ عملے کی تعیناتیوںاور بدعنونیوں نے اس ادارے کو مالی طور پر محتاج بنادیا بدعنونیوں ‘بے ضابطگیوں اور قرباپروری کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہوگا کہ پی آئی اے اور سی ا ے اے بورڈ آف ڈائریکٹر کے اندر ابھی سیاسی تعیناتیاں کی گئیں ہیں بورڈ آف ڈائریکٹر ز میں ہر شعبے میں اس شعبے کے ماہرین کو تعینات کرنے کی بجائے من پسند لوگوں کو نوازا گیا ہے جس میں کچھ سیاسی افراد کچھ بینکر اور کچھ پراپرٹی مافیا والے ہیں جبکہ اس میں بیوروکریٹس بھی ہیں۔

آڈٹ رپورٹ میں بھی اس ادارے کی ہوش ربا بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے بیرون ملک جس میں مختلف اسٹیشن جس میں پیرس’لندن اور ٹوکیو کے اسٹیشن شامل ہیں ان پر ایک ارب 31 کروڑ روپے بے ضابطگیوں کی نذر ہوگئے 86 کروڑ روپے صرف ایک مانچسٹر کے اسٹیشن پر خلاف ضابطہ خرچ کئے گئے دس کروڑ روپے کا سامان رولز کے خلاف خریدا گیا کارپوریشن کو دوکروڑ روپے محض اس لیے دینا پڑ گئے کہ کارپوریشن کے عملے کی غفلت سے مسافروں کاسامان گم ہوا’ اسی طرح عملے کے لیے پوسٹ پیڈ کنکشن کی خریداری پر ایک کروڑ روپے ساٹھ لاکھ روپے اڑائے گئے اور مسافروں کی تفریح کے لیے خریدی گئی فلموں پر 63 لاکھ روپے اس طرح لٹائے گئے جیسے یہ ان کے دادا جی کا خزانہ ہو ۔۔

PIA AIRLINE
PIA AIRLINE

بدعنوانیوں کی یہ داستان 57 ارب روپے تک پہنچ رہی ہے اس کارپوریشن میں بدعنوانیوں کی حالت یہ ہے کہ” باکمال” لوگوں کی ان خدمات کی وجہ سے 104 منافع بخش روٹس دوسری ائیرلائنز کو دے دئیے گئے اور اب نجکاری کے لیے فضا ساز گار بنانے کے لیے 59 انٹرنیشنل اور سترہ مقامی روٹس صرف ایک نجی ائیر لائن اتحاد ائیرلائن کے حواے کر دئیے گئیحکومت کے پاس اب ان سرکاری اداروں سے راہ نجات کا آسان فارمولا سبیسڈیز گرانٹس اور قرضے رہ گئے ہیں جس سے ان اداروں کی حالت مزید بگڑگئی اب حکومت اس کی نجکاری میں لگی ہوئی ہے خود قرضوں پر چلنے والے ملک کے سالانہ بجٹ میں 500 ارب روپے صرف ان سرکاری اداروں کی سبسڈی کے لیے رکھا جارہا ہے 2008 سے 2013 تک آٹھ قومی اداروں کا مجموعی خسارہ 25 کھرب روپے تھا حکومتی لوگوں کا دعوی ہے کہ حکومت پی آئی اے کی بہتری کے لیے آخری آپشن کی طرف بڑھ رہی ہے۔

مگر ملازمین اسے معاشی قتل سے قرار دے رہے ہیں ملازمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام احتجاج کر رہے ہیں مطالبہ صرف یہ ہے کہ پی آئی کی نجکاری کسی بھی صورت قبول نہیں ہے چند دن قبل حکومت نے ملازمین سے مذاکرات کے بعد نہ صرف نجکاری چھ ماہ کے لیے موخر کر دی بلکہ ساتھ یہ یقین دہانی بھی کرادی کہ کوئی ملازم بے روزگار نہیں ہوگا مگر ملازمین نے ہڑتال اور آپریشن بند کرنے کی دھمکی دے ڈالی معاملات اس وقت مزید بگڑ گئے جب حکومت نے احتجاج ‘ہڑتال اور تالہ بندی کا حل پی آئی اے لازمی سروس ایکٹ سروس کے ذریعے سلب کر لیاایکٹ کے نفاذ سے ہڑتالی ملازمین کو برطرف کیا جاسکے گا انہیں ایک سال قید بھی دی جاسکے گی جس کے خلاف ملازمین سراپا احتجاج ہوگئے فلائٹس آپریشن کی بندکر دی گئی اور احتجاج میں میں تین افراد جاں بحق ہوگئے ہیں ملازمین کے احتجاج پر گولی چلنے پر جہاں ایک طرف وفاق سے جواب مانگا جارہا ہے وہاںرینجرز اور پولیس کے انکار کے بعد کسی ”دوسرے ”کا کھوج بھی لگایا جارہا ہے۔

اپوزیشن پارٹیز اس ایشو کو کیش کرنے میں لگی ہوئی ہیںاور وہ ملازمین کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی گئی ہیں پیپلز پارٹی پی آئی اے کو اپنی شاہی سواری سمجھ رہی ہے جس کے با عث یہ ادارہ من پسند لوگوں کو نوازنے کا ذریعہ بن رہی ہے جبکہ طرف مسلم لیگ نون کا مزاج سرمایہ دارانہ ہے وہ اس ادارے کو اپنے من پسند سرمایہ داروںکو مزید دار مالدار بنانے کے لیے اسے اونے پونے داموں دینے کی تیاری کر رہی ہے جہاں تک ملازمین اور منیجنٹ کا تعلق ہے وہ اسے اپنی پراپرٹی سمجھ رہے ہیں اور ہر قسم کی مراعات لینے کو اپنا قانونی حق تصور کر رہے ہیں قارئین یہ وہ حالات ہیں جس کی وجہ سے کارپوریشن تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے اس کارپوریشن کو کیسے دوبارہ قومی ادارہ بنایا جاسکتا ہے یہ حکومت بھی جانتی ہے اور سیاست دان بھی پی آئی اے کے ملازمین ہوں یا منیجمنٹ انہیں بھی یہ معلوم ہے لیکن سب اپنے اپنے مفادات کے اسیر ہیں اس لیے اس ادارے کی بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے یہ تب ہی دوبارہ پہلے کی طرح فعال ہوگی جب سب سٹیک ہولڈر اپنا اپنا قومی فرض سمجھ کر اس کو فعال بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Sultan Hussain
Sultan Hussain

تحریر: سلطان حسین

Share this:
Tags:
project بڑے پراجیکٹ سروس لاجواب
Previous Post آرمی چیف اور وزیراعظم کا ایک گاڑی میں بیٹھنا بری بات نہیں، عمران خان
Next Post سمارٹ کارڈ اور 1400 جعلی ونام نہاد وکلائ
Advocates

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close