
تحریر : نسیم الحق زا ہدی
یہ کہنا ہرگز غلط ہوگا کہ خواتین کا کردار صرف تحر یک پاکستان یا قیام پاکستان کے لئے ہی مثالی رہا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ مسلم خواتین نے زندگی کے ہر میدان میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ان کے کردار اور عزائم فولادی چٹانوں سے بھی زیادہ طاقتور اور مضبوط ہیں جو اپنی عزتوں کو بچانے کیلئے اور اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے موت کو سینے سے لگانا سمندروں کا سینہ چیرنے کا جذبہ رکھتی ہیں ان عظیم خواتین نے ایسے لختائے جگروں کو پیدا کیا جنہوں نے کفر، ظلم کی سلطنتوں کو اپنے گھوڑوں کے پائوں کے نیچے روند ڈالا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر قیام پاکستان کے لئے یہ خواتین اپنا کردار ادا نہ کرتی تو شاید کبھی یہ ارض پاک ہی معرض وجود میں نہ آتی کیونکہ ان عظیم مائوں نے بیٹوں کی تربیتوں اسلام کی سنہری تعلیمات اور اصولوں پر کیں اور مذہب اور وطن کی حرمت پر قربان ہونے کا درس دیا حوصلے بلند کئے ایک عورت ایک عہد کو جنم دیتی ہے چند ناقص العقل دانشور بے جا خواتین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
جو شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا وجود بھی اسی صنف نازک کی مرہون منت ہے مذہب سے لیکر سیاست تک ان خواتین کا کردار اپنی مثال آپ رہا ہے بیگم صفیہ اسحاق کا شمار پاکستان کی ان دس خواتین سیاستدانوں میں ہوتابہے جو سیاست کی اصل تعریف پر سو فیصد پوری اُترتی ہیں سیاست کا مطلب عوام کی خدمت کرنا اور سچ کا ساتھ دینا ہوتا ہے اسلئے سیاست انسان کے اندر سے ڈر اور خوف کو نکال دیتی ہے لیکن موجودہ سیاستدانوں نے اپنے رویوں اور اپنے کرداروں سے سیاست کا اصل چہرہ ہی بیگاڑ کر رکھ دیا ہے آج جو سب سے زیا دہ جھوٹ بولتا ہے دھوکے باز ہے وعدہ کرکے مکر جاتا ہے اور اپنے مفاد کے لئے اپنے ایمان تک کو بیچ دیتا ہے اسے بڑا سیاستدان مانا جاتا ہے مگر صفیہ اسحاق نے اس بازاری سیاستدانوں کی روش سے ہٹ کر اپنی سیاسی شناخت قائم کی اور یہ بتایا کہ سیاست کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ، مظلوں کا ساتھ اور کمزوروں کے کام آنا ہوتا ہے اوصاف حمیدہ کی مالک اس جری بہادر خاتون کی سب بڑی صفت یہ ہے کہ اس نے ہمیشہ کلمہ حق کو بلند کیا صفیہ اسحاق کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے ہے ان کے باپ داد تحر یک پاکستان کے گمنام سپاہوں میں شمار ہوتے ہیں۔

ان کے آبائو اجداد نے جنگ آزادی میں حصہ لیا آپ کے داد حاجی سائیں نواب دین کا سلسلہ قادریہ نقشبندیہ کے ساتھ ملتا ہے جن کی تبلیغ اور دین کی اشاعت میں گراں قدر خدمات ہیں جن کو چاہ کر بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا آپ کے والد الحاج غلام حیدر جانباز ، تایا الحاج غلام نبی جانباز اور چاچا مولانا فضل حسین آل پاکستان بلڈ ڈونر کے بانی اور اسلام کے سچے شیدائی اور سچے عاشق رسول ۖ تھے جنہوں نے بلا امتیاز مذہب و نصب انسانیت کی خدمت کی صفیہ اسحاق نے دور ِ طفل مکتبی میں ہی خدمت انسانیت کا علم بلند کیا انہوں نے سقوط ڈھاکہ پر ڈرامہ لکھا جس میں خود کام کیا ان دنوں یہ ڈرامہ اتنا پاپولر ہو ا کہ کالج کے ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی یہیں سے انہوں نے اپنی باقاعدہ سیاسی زندگی کا آغاز کیا یہ کہنا بالکل غلط نہیں ہوگا کہ آپ پیدائشی مسلم لیگی ہیں۔
اسی وجہ سے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے انہیں سعودی عرب میں مسلم لیگ خواتین کا صدر بنایا سعودی عرب میں ان کے قیام کی وجہ ان کے شریک حیات مایہ ناز سائنسدان ڈاکٹر محمد اسحاق ڈی فل آکسن کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ میں شعبہ تحقیق وتدریس سے منسلک رہے ہیں صفیہ اسحاق وہ ناڈر خاتون ہیں جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کی کارکن ہونے کا صحیح حق ادا کیا 12 اکتو بر 1999ء جب مسلم لیگ (ن) زوال کا شکار ہوئی آمریت کا سورج طلوع ہوا اور شریف فیملی کے لئے کڑا وقت آیا اس وقت جب میاں محمد نواز شریف کے وہ ساتھی جو جان دینے کی باتیں کرتے تھے وہی جب زہر اُگلنے لگے اور کچھ تو دشمنوں کی صفوں میں جا کھڑے ہوئے اور کچھ مناظر سے ہی غائب ہوگئے لیکن اس وقت اس تنہا عورت نے وہ کام کیا جو بڑے بڑے دعویدار اور مضبو ط اعصاب کے مرد نہ کر سکے جب لبوں پر بھی سلاسل تھے جمہوریت کا نام لینے والوں کو سخت سز ائوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

بلخصوص شریف فیملی سے محبت اور رابطہ رکھنا بھی گناہ سمجھا جاتا تھا اس وقت اس صنف نازک نے برملا میاں نواز شریف کی حمایت کا نہ صرف کھل کر اعلان کیا بلکہ زند گی کے آخری سانس تک وفاداری کا ثبوت بھی دیا صفیہ اسحاق کواکثر یہ کہتے سنا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف میرے قائد ہے اور وہ سچے مسلمان اور محب وطن ہیں اور میں مرتے وقت تک یہ الفاظ بانگ دہل کہتی رہوں گی حال ہی میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے ان کی بے پنا ہ قربانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں اپنا معاون خصوصی کے عہدے سے سر فراز کیا ہے امید ہے اب وہ پہلے سے زیا دہ متحرک ہو کر انسانیت کی بھلائی اور فلاح و بہود کے لئے کام کرنے گی یہ بات بہت اہم اور قابل ذکر ہے کہ مختلف ادوار میں پاکستان سے جب بھی کوئی سیاسی یا سماجی شخصیت جدہ تشر یف لیکر گئی ہو تو یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کی میزبانی کاشرف اس خاتون کو حاصل نہ ہوا ہو آپ بیک وقت نظریہ پاکستان فورم جدہ سعودی عرب کی صدر، پاکستان مسلم لیگ (ن) جدہ کی صدر، نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی چیف کوارڈ ینٹر شعبہ خواتین آل پاکستان ایسوسی ایشن جدہ کی صدر، تکمیل پاکستان شعبہ خواتین کی صدر اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ لاہور خواتین کی سیکرٹری اور معاون خصو صی وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عظیم خاتون کو اپنی پنا ہ میں رکھے کیونکہ ایسے لوگ ملک و قوم کا عظیم سرمایہ ہوتے ہیں جن کے افقرات، نظریات اور خیالات سے پورے پورے عہد فیض یاب ہوتے ہیں۔

تحریر : نسیم الحق زاہدی
