Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

غم کا فسانہ

May 27, 2015 0 1 min read
Grief
Rose
Rose

تحریر: مریم ثمر
عجلہ عروسی کا خوب سجا سجایا کمرہ، گلاب اور موتیوں کے پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ دیواروں کو سرخ، سبز ،سنہری، اور نیلی چمکیلی لڑیوں سے سجا رکھا تھا۔ مصنوعی گلاب ایک قرینے سے ان کے درمیان کہیں کہیں چسپاں کئے گئے تھے۔ ٹینس بال جتنے چھوٹے چھوٹے چمکتے دمکتے بلب بھی کہیں کہیں لٹک رہے تھے۔

ماہ رخ سرخ جوڑے میں دلہن بنی بیٹھی تھی۔ گورے گورے مہندی سے رچے اور سونے کی چوڑیوں سے بھرے ہاتھ اس کی امارت اور خوبصورتی کا پتہ دیتے تھے ۔انیس سال کی نرم و نازک اور حسین دوشیزہ اپنے خوابوں کے شہزادے کے انتظار میں تھی ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دل کی دھڑکن نجانے کیوں تیز ہو رہی تھی ۔ دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز نے جیسے اسے بالکل ہی بے قابو سا کر دیا ۔قدموں کی چاپ آہستہ آہستہ قریب آکر رک گئی ۔ ”آداب عرض ہے ۔ ”نوید کی شوخ اور شرارت سے بھری آواز کمرے میں گونجی ۔ ماہ رخ نے صرف سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔

نویدگورا چٹا دبلا پتلا خوبصورت نوجوان تھا ۔ ۔ سنہری شیروانی اس پر خوب جچ رہی تھی اس نے پگڑی اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی اور نپے تلے قدم اٹھاتا ماہ رخ کی طرف بڑھا ۔ گلاب اور موتیوں کی لڑیوں کو سمیٹ کر ایک طرف کیا اوراس کے کے بالمقابل بیٹھ گیا ۔ نوید نے اس کا نرم نازک ہاتھ تھاما اور ہیرے کی انگوٹھی انگلی میں انتہائی پیار اور چاہت کے ساتھ پہنا دی ۔ ماہ رخ نے شرما کر اپنا ہاتھ دوبٹے میںچھپانے کی ناکام کوشش کی ۔ نوید نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کربوسہ دیا اور اپنی گال کے ساتھ لگا لیا ۔ ماہ رخ کے دل کی دھڑکنیں مزید تیز ہوگئیں ۔ پورے جسم میں سنسی سے دوڑ گئی ۔ پیار کے اس احساس نے اسے خود سے بیگانہ سا کر دیا۔

نوید نے آہستہ آہستہ اس کے دوبٹے کو سرکانا شروع کیا ۔ ماہ رخ جو پہلے ہی چھوئی موئی بنی تھی مزید سمٹ کر رہ گئی ۔ وہ اس کی ایک ایک ادا کو دیکھ کر محظوظ ہو رہا تھا ۔آنکھوں میں پیار کے دیپ روشن تھے ۔مزید صبر کیئے بغیر اب وہ اسے اپنے بازووں کے مضبوط حصار میں لینا چاہتا تھا ۔۔نوید نے بے تابی سے ماہ رخ کا دوبٹااتاردیا ۔ اور ایک لمحہ کو ساکت ہوگیا ۔ آج تو ماہ رخ کا حسن گویا قیامت ڈھا رہا تھا ۔ نرم نازک ہونٹوں پر سرخ لپ اسٹک یو ں لگ رہی تھی جیسے کسی نے کھلتا ہوا گلاب رکھ دیا ہو ۔ پلکیں شرم و حیا کے بوجھ سے مسلسل لرز رہیں تھیں ۔ گورے نازک گالوں پر بلش آن سے بھی زیادہ شرم و حیا کی لالی نمایا ں تھی۔

” ماہ رخ ”۔ نوید نے بے تابی سے پکارا ۔
” جج جی ”.. ۔ وہ بس اتنا ہی کہہ پائی ۔
”بہت پیاری لگ رہی ہو۔” وہ مسکرا کر بولا ۔
ماہ رخ گھبراہٹ میں یونہی چوڑیوں کو گھمانے لگی ۔

” اچھا ایسا کرو تم کپڑے تبدیل کر لو تھک بھی گئی ہوگی ۔ اور ہاں زرا جلدی آجانا مجھ سے اب اور انتظار نہیں ہوتا ۔” اس نے ماہ رخ کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں کہا ۔ اس کی آواز میں خوشی صاف محسوس کی جاسکتی تھی ۔ ماہ رخ سر ہلا کے رہ گئی ۔اور اپنا بھاری بھرکم شادی کا جوڑا اتار نے وش روم میں چلی گئی۔ نوید بھی اس دوران شب خوابی کا لباس تبدیل کرچکا تھا ۔ ماہ رخ جونہی باہر آئی وہ اسے دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا ۔ لمبے گھنے بالوں سے شبنم کی طرح ٹپکتے پانی کے قطروں اور ماتھے پر پڑی گیلی لٹ نے تو جیسے اس کے حسن کو اور بھی نکھار دیا تھا ۔ ۔ وہ بے تابی سے آگے بڑھا ۔ اور اسے اپنے ساتھ لپٹائے ہوئے بیڈ تک لے آیا نوجوانی کی محبت کا نشہ اپنے پورے جوبن پر تھا۔

Grief
Grief

” ماہ رخ آج ہماری زندگی کا سب سے قیمتی اور یاد گار دن ہے ۔ میں اس دن کو اور بھی یاد گار بنانا چاہتا ہوں اپنی تمام تر محبت اور چاہتوں کا بھر پور اظہار کرکے ۔ کیا تم مجھے اسکی اجازت دو گی’ ‘۔ نوید نے اس کی تھوڑی نرمی سے اٹھاتے ہوئے کہا ۔ ماہ رخ نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا نوید کی آنکھوں میں پیار کی والہانہ چمک دیکھ کر شرما گئی ۔ نوید اٹھا اور اسے آرام سے بیڈ پر لٹا دیا ۔خود دوسری طرف سے آکے اس کے پہلو میں لیٹ گیا ۔
” ماہ رخ مجھے تمہاری یہ نیلی آنکھیں بہت پسند ہیں ۔”اس نے اپنا ہاتھ اس کی آنکھوں پر رکھ دیا اور آہستہ آہستہ انگلیوں کو حرکت دینے لگا ۔ ”مجھے تمہارے یہ ہونٹ بھی بہت پسند ہیں ۔ ایسا لگتا ہے سار ا شہد ان میں گھول دیا ہو” ۔اب وہ ماہ رخ کے ایک ایک لمس کو محسوس کرتے ہوئے واہلانہ محبت کا اظہا ر کر رہا تھا ۔ اس کی تشنگی اس کی پیاس کم ہونے میں نہیں آرہی تھی ۔ ماہ رخ بھی اس کے پیار میں مکمل طور پر ڈوب چکی تھی۔

پیار و محبت کا ایک سال کیسے گزرا پتہ ہی نہیں چلا ۔ اسی دوران ماہ رخ نے ایک بہت ہی پیاری بیٹی کو جنم دیا جو بالکل اسکی فوٹو کاپی معلوم ہوتی تھی ۔ اسی کی طرح حسین و خوبصورت ۔ایک دن طوفان اور تیزبارش کا خوب زور تھا ۔ ہوا سے کھڑکیاں دروازے بج رہے تھے ۔جنہیں بند کرنے کے بعدماہ رخ اپنے کمرے میں آئی اور ڈیک آن کر دیا ۔ موسم کی مناسبت سے گانا کمرے میں گونجنے لگا ۔ موسم ہے عاشقانہ اے دل کہیں سے ان کو ایسے میں ڈھونڈ ھ لانا ۔ وہ ساتھ ساتھ خود بھی گنگناتی جارہی تھی اور کچھ سوچ کر کبھی مسکراتی تو کبھی شرما جاتی ۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ مگر نوید ابھی تک گھر نہیں پہنچا تھا ۔ ماہ رخ کی تشویش بڑھتی جارہی تھی ۔ پانی لینے کچن میں گئی فرج کھولا ۔ نجانے کس طرح گلاس اس کے ہاتھ سے پھسلا اور فرش پر گر گیا ۔ یا اللہ خیر ! بے اختیار اس کے منہ سے نکلا ۔وہ اور بھی پریشان ہوگئی ۔ آخر اس سے رہا نا گیا اور اپنے بابا کو فون ملایا ۔”بابا نوید ابھی تک نہیں آئے” وہ روہانسی ہوگئی۔

” آجائیںگے بیٹا فکر نا کرو دیر سویر ہوہی جاتی ہے ۔ ” بابا نے تسلی دیتے ہوئے کہا ”جی بابا جانی مگر انہوں نے آج تک اتنی دیر نہیں کی ۔ اگر دیر ہوبھی جائے تو فون پہ بتا دیتے ہیں ۔ مگر ابھی تک کوئی فون بھی نہیں آیا ۔” اور پھر ان کا فون بھی بند جارہا ہے۔ ”ماہ رخ کے لہجے میں فکر اور تشویش کے آثار نمایا ں ہوتے جارہے تھے ۔ اماوس کی اس رات کے علاوہ انتظار دکھ اور کرب کی اور بھی کئی راتیں یونہی گزر گئیں ۔نوید کو بچھڑے سترہ سال ہورہے تھے اس کا کہیں کوئی اتا پتہ نہیں تھا ۔زمین کھا گئی کہ آسمان کہیں سے کوئی خبر نا ملی ۔ ماہ رخ ابھی بھی جوانی کی دہلیز پر تھی ماں باپ کو اس کی شادی کی فکر ستانے لگی ۔ نوید کے انتظار میں اس کی نیلی آنکھوں میں اب مایوسی اور ناامیدی اتر آئی تھی ۔ وہ دوسری شادی کے لئے تیار نہیں تھی ۔ مگر گھر والوں نے کسی نا کسی طرح شادی پر رضا مند کر لیا ۔ ایک شادی شدہ عورت اور بیٹی کا ساتھ ۔ ایسے میں اچھے رشتوں کا کال پڑ جاتا ہے ۔ پھر ”جہاں ہے جیسا ہے” کہ بنیاد پر بس بیٹی کو ایک سہارا مل جائے یہی والدین کے نزدیک غنیمت ہوتا ہے۔ بہت سے رشتے آئے مگر سب بال بچوں والے غربت کے مارے یا پھر کوئی چٹا ان پڑھ ۔ آخر بہت کوششوں کے بعد ایک جگہ رشتہ طے پاگیا ۔ ناناابو نے ماہ رخ کی بیٹی کو اپنے پاس رکھ کر اسے پالنے کی زمہ داری لے لی تھی جو خوب اچھی طرح نبھائی۔

ماہ رخ پھر سے ایک نئی دنیا کا خواب سجائے پیا دیس سدھار گئی ۔
اس کا دوسرا شوہر متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا ۔اتنا کما لیتا تھا کہ بمشکل گزارا ہو رہا تھا ۔ ماہ رخ کے جزبات و احساسات سر د ہوچکے تھے اسے اس بات کی بالکل بھی پرواہ نہیں تھی کہ نازو نعم میں پلی اب کس ماحول میں زندگی گزارے گی ۔ ایک سال بعد ہی ماہ رخ کے شوہر کو نشہ کی لت لگ گئی ،۔ اب وہ ماہ رخ پر تشدد کرنے لگا روز اسے مارتا اور نشے کے لئے پیسے طلب کرنا اس کا معمول بنتا جارہا تھا ۔پیسے نا ملنے پر اس کے نرم و نازک جسم کو سگرٹ سے داغ دیتا ۔ وہ کراہتی اور اپنے درد اور دکھ کی تمام تکالیف کو اپنے اندر دفن کر دیتی ۔ اس کے بابا جو اس کی ذرا سی تکلیف برداشت نا کرتے تھے ۔ جہاں نوید کی محبت اور پیار سے اس کا جسم سراپا محبت بنا ہوا تھا ۔ اب سیگرٹ اور لگائی گئی چوٹوںکے نشان چھوڑتا جارہا تھا ۔ ماہ رخ آخر کب تک اس ظلم کو برداشت کرتی ۔ اس کے اندر صبر اور حوصلہ کی طاقت بالکل ہی جواب دے چکی تھی ۔دوسرے شوہر سے اس کے ایک بیٹی اور دو بیٹے تھے جب بچوں کی طرف دیکھتی تو ان کے مستقبل کے بارے میں سوچ کر پریشان ہوجاتی ۔روز روز کی مار کٹائی اور بڑھتے ہوئے نشے کے باعث آخر اس نے دوسرے شوہر سے علحدگی کا فیصلہ کر لیا ۔۔ اور بچوں کو لے کر ایک کرائے کے گھر میں رہائیش اختیار کرلی۔ ماہ رخ کی خوبصورت اور حسین بیٹی اب سولہ سال کی ہوچکی تھی ۔ اس کے رشتے آنے شروع ہوگئے ۔ ایک دن رشتے کروانے والی خالہ ماہ رخ کے پاس کچھ تصویریںلے کر آئی ۔ ماہ رخ نے جب ان تصویروں کو دیکھا تو ٹھٹھک کر رہ گئی اس کے چہرے پرایک رنگ آرہا تھا اور ایک جارہا تھا ۔ خالہ نے اس کی اس بدلتی کیفیت دیکھ کر تشویش سے پوچھا ۔ ”ماہ رخ بیٹی خیریت تو ہے ۔”؟ کیا ہوا ۔؟؟طبیعت تو ٹھیک ہے نا ۔ ؟” آخر کچھ بتاو تو سہی کیا ہوا ۔ خالہ ایک ہی سانس میں سوال کیئے جارہی تھیں ۔ ”آں ہاں” ۔ وہ جیسے اپنے خیالوں سے چونکی ۔

Marriage
Marriage

”خ خااالہ یہ ۔ نن نوید ہیں” ۔ وہ بس اتنا ہی کہہ سکی اور پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔ ”کیا کہہ رہی ہو ?”کیا نوید زندہ ہے ۔ ”خالہ حیرت سے کبھی ماہ رخ کو اور کبھی اس کی گود میں رکھی تصویروں کو دیکھتیں ۔ ماہ رخ کے چچا اور بابا کا مالی تعاون اس کے ساتھ تھا ۔بابا کے انتقال کے بعد چچا نے ماہ رخ کو کسی قسم کی کمی محسوس نا ہونے دی ۔ مگر ایک دن اچانک ہارٹ اٹیک سے ان کی بھی وفات ہوگئی ۔ یہ خبرماہ رخ پر بجلی بن کر گری ۔ ہمت کرکے بچوں کو تیار کیا اور افسو س کے لئے چچا کے گھر آگئی ۔ محلے والوں کے جانے کے بعد وہ باہر صحن میںنکل آئی ۔ جہاںایک کرسی پڑی ہوئی تھی ۔ ماہ رخ ابھی اس کرسی پر بیٹھی بھی نا تھی کہ ایک جانی پہچانی اور مانوس آواز نے اسے چونکا دیا ۔” ماہ رخ ”۔ آواز دوبارہ سنائی دی اس نے پلٹ کر دیکھا تو نوید اپنی تمام حشرسامانیوں کے ساتھ اس کے سامنے موجود تھا ۔ ماہ رخ نے فورا کرسی کا سہارا لیا ”تت تم۔۔۔۔ ” ماہ رخ کے سامنے جیسے سارے گزرے مناظر ایک فلم کی طرح چلنے لگے ۔ نوید بے تابی سے آگے بڑھا ”ماہ رخ میں آگیا ہوں ۔دیکھو میں آگیا ۔” ماہ رخ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا ۔اور کمرے کی طرف پلٹ گئی ۔ ضبط کیئے ہوئے آنسو شدت غم تکلیف اور دکھ سے کسی جھرنے کی طرح بہہ نکلے۔

ماہ رخ اپنے گھر آگئی ۔ اسے اپنا آپ بکھرتا ہوا محسوس ہورہا تھا ۔ سر درد کی گولی لی اور لیٹ گئی ۔ شام دیر تک سونے کی وجہ سے اب وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی ۔ نوید کے ساتھ گزرے پیار و محبت کے لحموں کو یاد کرکے تڑپ کے رہ جاتی ۔ مگر ساتھ ہی دوسرے شوہر کا ظلم اور تشدد اس کے اندر مردوں سے نفرت کو بڑھاوا دے رہا تھا ۔ نوید نے نجانے کس طرح ماہ رخ کا فون نمبر لیا اور اسے فون کیا ۔” ماہ رخ پلیز میں تم سے ملنا چاہتا ہوں ۔ میری بات سنو” ۔ ماہ رخ نے بے رخی سے فون بند کر دیا ۔ اس نے دوبارہ فون کیا اور بولا” اگر تمہیں میری محبت پر ذرا سا بھی یقین ہے تو آج ہی مجھ سے ملو میں تمہیں خود پر گزری داستان سنانا چاہتا ہوں ۔” ماہ رخ غصے سے پھنکاری ۔ مجھے تم سے اور تمہاری کہانی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے تمہاری وجہ سے میری زندگی عذاب بنی اب رہ کیا گیا ہے سنانے کو مجھے کچھ نہیں سننا ۔”ایک دو دن کے بعد ماہ رخ کی خالہ اس کے گھر آئیں اور اسے بتایا کہ کیسے پولیس اس کو پکڑ کر لے گئی ۔ اور اس پر تشدد بھی کرتی رہی ۔ وہ اتنے عرصہ کس طرح تکلیف میں رہا ۔ماہ رخ بیٹی وہ اب بھی تمہیں چاہتا ہے تم سے پیار کرتا ہے ۔ اس کے پیار کو ٹھکراو مت ۔۔۔۔۔۔اس سے شادی کر لو۔۔ ۔ ماہ رخ حیرت سے یہ سب سن رہی تھی ۔ خالہ کے جانے کے بعد وہ کمرے میں آئی ڈیک آن کیا ۔اوربے دم سی ہوکر بستر پر لیٹ گئی ۔ کمرے میں غزل گونجنے لگی ۔۔ غم کا فسانہ تیرا بھی ہے میرا بھی۔ دل دیوانہ تیرا بھی ہے میرا بھی۔

Maryam Samaar
Maryam Samaar

تحریر: مریم ثمر

Share this:
Tags:
beauty flowers grief perfume rose پھولوں خوبصورتی خوشبو غم فسانہ گلاب
Robby Pirzada And Mehreen Syed
Previous Post قومی کھلاڑیوں اور فنکاروں کی جانب سے کرکٹ ٹیم کیلئے نیک خواہشات کا اظہار
Next Post کامران چورنگی تا پی آئی کواپریٹو سوسائٹی تک سڑک کی تعمیر کر کے عوام کو مسائل سے نجات دلائی جائے
Karachi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close