
تیرے غم کی بحالی ہو نہ جائے
زمیں کی کوکھ خالی ہو نہ جائے
نظر پھِر سے سوالی ہو نہ جائے
میرے ماتھے پہ سورج اگ رہا ہے
تمہاری رات کالی ہو نہ جائے
خوشی کی اور نہ غم کی ہے پرواہ
طبیعت لا ابالی ہو نہ جائے
فقیہہِ شہر کی فتویٰ گری سے
میری شہرت مثالی ہو نہ جائے
مجھے تو شام سے خدشہ ہے ساحل
تیرے غم کی بحالی ہو نہ جائے
ساحل منیر
