غم محبت ہو یا غم رسوائی ہو
پالا پڑے کسی سے تو شناسی ہو
اجاڑ دیتا ہے عشق محبتوں کے جہاں
تڑپ تب ہو جو آنکھ بھر آئی ہو
شوق دیدار بھی بنجر ہو جاتا ہے
لوگ جب ظالم یار ہو جائیں
یہ دلوں کا اجڑنا تماشہ تو نہیں
ضروری نہیں ہر شے کی رونمائی ہو
وصال یار کا موسم کچھ ایسا ہے ساگر
دور ویرانے میں جیسے بجتی شہنائی ہو
تحریر : ساگر مغل
