Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

گوانتانامو بے جیل کا آنکھوں دیکھا حال

January 12, 2022 0 1 min read
Guantanamo
Guantanamo
Guantanamo

گوانتانامو (اصل میڈیا ڈیسک) نائن الیون واقعے کے چار ماہ بعد یکم جنوری 2002 کو گوانتانامو جزیرے پر قائم امریکی حراستی مرکز میں پہلی مرتبہ افغانستان سے قیدیوں کو لایا گیا۔ دو دہائی اور جنگ کے خاتمے کے بعد بھی اس کیمپ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔

گیارہ جنوری 2002 کو اتاری گئی درج بالا تصویر گوانتانامو بے میں واقع ایکس رے حراستی مرکز کی ہے۔ اس میں 20 قیدی نارنجی وردی پہنے گھٹنوں کے بل بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ تمام اس کیمپ میں لائے گئے ابتدائی قیدی تھے۔ نائن الیون حملوں کے بعد امریکا کی متنازعہ حراستی پالیسی سے متعلق یہ تصویر سب سے زیادہ مشہور تصویروں میں سے ایک ہے۔

محمدو اولد صالحی کو زندگی کے 14برس اس جیل میں گزارنے پڑے۔ انہیں 70 دنوں تک اذیتیں دی گئیں اور تین برس تک ہر روز مسلسل 18گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ اپنی گرفتاری سے قبل وہ جرمنی میں مقیم تھے۔ ان پر شبہ تھا کہ وہ القاعدہ کے اہم سرگرم کارکنوں میں سے ایک ہیں اور نائن الیون حملے میں ملوث رہے ہیں۔ لیکن یہ تمام الزامات عدالت میں کبھی بھی ثابت نہیں ہوسکے۔

صالحی کو 14 برس تک گوانتانامو بے حراستی مرکز میں رکھا گیا۔ اس دوران ان پر نہ تو فرد جرم عائد کی گئی اور نہ ہی انہیں قصوروار قرار دے کر سزا سنائی گئی۔ موریطانیہ نژاد صالحی اب 50 برس کے ہوچکے ہیں اور رہاکر دیے گئے ہیں لیکن ان کی زندگی کے چرا لیے گئے قیمتی 14 برسوں کا کوئی معاوضہ آج تک نہیں ملا۔

صالحی کی آپبیتی پر مبنی فلم دی موریطانین میں صالحی کا کردار ادا کرنے والے طاہر رحیم
صالحی کی آپبیتی پر مبنی فلم “دی موریطانین” میں صالحی کا کردار ادا کرنے والے طاہر رحیم

امریکی ڈیفنس اٹارنی نینسی ہالینڈر کی زندگی کا سب سے ہائی پروفائل کیس آج بھی انہیں پریشان کرتا ہے۔ صالح کی آپ بیتی پر حال ہی میں ایک فلم بنائی گئی ہے۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے افغانستان میں واقع ایک دہشت گرد تربیتی کیمپ میں حصہ لیا تھا اور اوسامہ بن لادن کے سیٹیلائٹ فون پر آنے والی ایک کال کا جواب دیا تھا۔ گوکہ یہ بات ایسی نہیں تھی کہ اسے نظر انداز کردیا جاتا لیکن ان کے وکلاء کا کہنا تھا کہ صالحی کو قصور وار ٹھہرانے کے لیے یہ کافی نہیں ہے۔

صالحی کی کہانی گوانتانامو بے حراستی مرکز میں قید کردیے جانے والے اس طرح کے بہت سارے قیدیوں کی کہانی ہے۔

گوانتانامو، قانون کے عدم احترام کا امریکی نمونہ
گوانتانامو بے حراستی مرکز سے ایسی بہت ساری آپ بیتیاں جڑی ہوئی ہیں۔ ہالینڈر بتاتی ہیں کہ گوانتانامو کے ذریعہ امریکا کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ ایک ایسے ملک کی ہے جو قانون کی حکمرانی کا ااحترام نہیں کرتا۔ وہ اسے ایک “انتہائی افسوس ناک صورت حال” قرار دیتی ہیں۔

یہ بات صرف ان 13 قیدیوں پر ہی نافذ نہیں ہوتی جو فرد جرم عائد کیے بغیر اب تک وہا ں قید میں ہیں اور برسوں سے اپنی رہائی کے منتظر ہیں بلکہ یہ بات ان مبینہ ملزمین پر بھی نافذ ہوتی ہے جن کے لیے “ہمیشہ کے قیدی” کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور جو نائن الیون حملوں کے 20 برس بعد بھی اپنے خلاف مقدمات شروع کیے جانے کے منتظر ہیں۔

نظام قانون کی منظم انداز میں معطلی
ڈافنے ایوی ایٹر ایمنسٹی انٹرنیشنل سے وابستہ اور گوانتانامو امور کی ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قانون کی حکمرانی کا فقدان کوئی حادثاتی معاملہ نہیں تھا بلکہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دورحکومت میں امریکی انتظامیہ کا مقصد ہی یہی تھا۔ ایوی ایٹر کہتی ہیں، “بش انتظامیہ نے بیرونی ملکوں میں جیل بنوائی ہی اس لیے تھی تاکہ وہاں امریکا کے نظام قانون سے بچا جا سکے۔”

ڈافنے نے ایمنسٹی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں گوانتانامو بے میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی تھی۔ اس رپورٹ میں فرد جرم عائد کیے بغیر غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھے جانے والے کیسز کے علاوہ قیدیو ں کے ساتھ کی جانے والی غیر انسانی سلوک اور زیادتیوں کی تفصیلات درج ہیں۔

ڈافنے کہتی ہیں کہ حالانکہ ان الزامات کی تصدیق کے لیے عوامی طورپر کوئی ثبوت دستیاب نہیں ہیں لیکن امریکی سینیٹ کی انٹلی جنس کمیٹی کے ذریعہ کی جانے والی انکوائری سمیت دیگر انکوائریوں میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ گوانتا نامو جیل میں قیدیوں کو کس طرح انتہائی بے رحمی کے ساتھ اذیتیں دی گئیں۔

کیوبا کے گوانتانامو بے میں واقع امریکی بحریہ کا اڈہ 100 برس سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ لیکن نائن الیون کے حملوں کے چند ماہ بعد اسے ایک حراستی مرکز میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ مرکز کافی بدنام ہے۔ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ایک ملزم عبدالرحیم النشیری کے وکیل انتھونی نتالے گوانتانامو بے حراستی مرکز کی صورت حال پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں، ” ہم شرمندہ ہیں کہ وہ تمام اصول جن کی بنیاد پر ہم نے ایک ایسے ملک کی تعمیر کی جسے ہم آزاد ملک کہہ سکتے ہیں، جہاں ہر شخص انصاف کا یکساں حقدار ہے۔ اسی ملک نے ان اصولوں کو ترک کر دیا۔”

ڈی ڈبلیو نے گوانتانامو بے میں کیا دیکھا؟
گوانتانامو بے حراستی مرکز کو دیکھنا آسان نہیں ہے۔ اس کو دیکھنے کے خواہش مند صحافیوں کو اس کے لیے ناکوں چنے چبانے پڑتے ہیں۔ انہیں کئی مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ مثلا ً واشنگٹن سے پرواز کرنے والے ہفت روزہ چارٹرڈ طیاروں کو کیوبا کے فضائی حدود سے ہوکر گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔ طیاروں کو پہلے مشرق کی طرف کیوبا کا چکر لگانا پڑتا ہے۔ جب تک طیارہ نیچے اترنے کے لیے ٹھیک رن وے کی جانب نہ بڑھے اس وقت تک اسے ملٹری بیس کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

ڈی ڈبلیو کو کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی سیکورٹی چیک کے بعد بہت مختصر نوٹس پر گوانتانامو جانے کی اجازت ملی۔ روانہ ہونے سے قبل کئی “ضابطوں ” پر دستخط کرائے گئے۔ اس سے صحافیوں کو گوانتانامو کی صورت حال کا کچھ اندازہ ہوسکتا ہے۔ وہاں اپنی مرضی سے کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی پریس کی آزادی ہے۔

ہمیں جیل کو باہر سے دیکھنے تک کی اجازت نہیں دی گئی۔ حراستی مرکز کے اندر کی تمام معلومات انتہائی راز میں رکھی جاتی ہیں۔ یہ طریقہ کار قیدیوں کے وکلاء کے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔

منصوبے، منصوبے، منصوبے
گیارہ جنوری کو گوانتانامو بے حراستی مرکز کے قیام کی تکلیف دہ سالگرہ ہے۔ یہ دن یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ اس قید خانے میں انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی واضح خلاف ورزیوں کے باوجود اسے آج تک برقرار کیوں رکھا گیا ہے؟ اور سب سے بڑا سوال یہ بھی ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ بھی اب ختم ہوچکی ہے، امریکی افواج افغانستان سے واپس لوٹ چکی ہیں۔ ایسے میں اس حراستی مرکز کو برقرار رکھنے کا جواز کیا ہے؟

گوانتانامو بے حراستی مرکز کو بند کرنے کا ابتدائی منصوبہ جارج بش انتظامیہ کے آخری دنوں میں تیار کیا گیا۔ براک اوبامہ نے اسے بند کرنے کا کئی بار وعدہ کیا۔ لیکن امریکی کانگریس میں ان کی ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت ختم ہوگئی۔ ریپبلیکن اکثریت نے ایک قانون منظور کرایا۔ اس کی تشریح کرتے ہوئے نینسی ہالینڈر کہتی ہے کہ اس قانون کے مطابق، “ایسا کوئی فرد جو گوانتاناموبے میں قیدرہا ہو، کسی بھی سبب سے امریکا میں داخل نہیں ہو سکتا ہے۔ خواہ مقدمہ کے لیے یا پھر کسی طبی ضرورت کے تحت۔” نینسی کہتی ہیں کہ اس قانون کی وجہ سے گوانتانامو بے کے قیدیوں کو امریکا لانا قانونی طورپر ناممکن ہوجاتا ہے۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ گوانتانامو حراستی مرکز کھلا رہے گا۔ ری پبلیکن پارٹی کے مطابق گوانتانامو دہشت گردانہ حملوں کے خطرات سے امریکا کی حفاظت کرتا ہے۔ یہاں قیدلوگوں کو امریکا میں منتقل کرنا بہت خطرناک ہوگا۔ دوسری طرف گوانتانامو کے مخالفین کی دلیل ہے کہ اس حراستی مرکز کی موجودگی بھی مسلم نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کررہی ہے۔

گوانتانامو بے سے متعلق نئی تبدیلی موجودہ صدر جو بائیڈن کے دور میں آئی ہے۔ بائیڈن نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی ترجمان کے ذریعہ یہ اعلان کروایا کہ وہ عہدہ صدارت پر رہتے ہوئے اس مرکز کو بند کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ لیکن جب امریکی سینیٹ کی انٹلیجنس کمیٹی کی حالیہ میٹنگ ہوئی تو اس میں بائیڈن انتظامیہ کا کوئی فرد موجود نہیں تھا۔اس سے حکومت کی ترجیحات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ نینسی کہتی ہیں کہ حکومت ابھی تک اپنے قول پر عمل کرتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

صورت حال اب بھی غیریقینی
ایسے میں جب کہ بائیڈن انتظامیہ کا انفرااسٹرکچر پروگرام ناکام رہا ہے اور وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں، موجودہ حکومت کے سامنے گوانتانامو سے بھی کہیں زیادہ بڑے مسائل ہیں۔ اس لیے گوانتانامو بے حراستی مرکز کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ قیدیوں کو رہا کردیا جائے جبکہ بقیہ قیدیوں کو ان کے وطن واپس بھیجا جاسکتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ڈافنے ایوی ایٹر کہتی ہیں، “جیسے جیسے قیدیوں کی تعداد کم ہوتی جائے گی یہ واضح ہوتا جائے گا کہ یہ سب کتنا غیر منطقی اور بے سود تھا۔”

یہ بھی واضح ہے کہ اس معاملے میں معروف اخلاقی اسباب کے علاوہ اقتصادی پہلو بھی شامل ہیں۔ گوانتاناموبے میں بند ہر ایک قیدی پر امریکی ٹیکس دہندگان کا سالانہ تقریباً 13ملین ڈالر خرچ ہوتا ہے۔ اگر انہیں امریکا میں قید رکھا جائے تو خرچ کم آئے گا۔ لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہیں۔

نینسی ہالینڈر کا مطالبہ ہے کہ گوانتانامو حراستی مرکز میں بند قیدیوں کو فوراً رہا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا، “ہم فرد جرم عائد کیے بغیر لوگوں کو بیس بیس برس تک قید میں نہیں رکھ سکتے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ان قیدیوں پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے خاطر خواہ ثبوت موجود نہیں ہیں البتہ اسے اتنا معلوم ہے کہ یہ لوگ خطرناک ہیں۔”

گوانتانامو بے حراستی مرکز کے مستقبل کا سوال اب صرف دلیل کی کسوٹی پر حل نہیں ہوسکتا۔ امریکا کی طرح ہی دیگر ملکوں میں بھی یہ مسئلہ ایک سیاسی مہرا بن گیا ہے اور اس کی وجہ سے “ہمیشہ کے قیدی” گزشتہ بیس برس سے اپنے مقدمے کی سماعت شروع ہونے کے منتظر ہیں۔

Share this:
Tags:
afghanistan camps guantanamo bay prison prisoners افغانستان جیل قیدیوں کیمپ گوانتانامو بے
Bashir Memon
Previous Post بنا ثبوت شریف فیملی پر کیسز بنانے کا کہا گیا: سابق ڈی جی ایف آئی اے
Next Post شہباز شریف کی بیٹی اور داماد اشتہاری قرار، وارنٹ گرفتاری جاری
Shahbaz Sharif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close