Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

نواز شریف کے عروج و زوال کی کہانی، تاریخی کی زبانی

December 24, 2018 0 1 min read
Nawaz Sharif
Nawaz Sharif
Nawaz Sharif

تحریر : غلام مرتضیٰ باجوہ

اگر ہم تاریخ سے سبق سیکھنے پر آمادہ ہوں تو ہمیں عدالتی اور سیاسی عمل کو مصنوعی طور پر متاثر کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ عدالت کو ایک فیصلہ دینا ہے۔ یہ ایک قانونی عمل ہے جسے اپنے فطری بہاو کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ عدالت کے فیصلے سے کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ملک کی سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا۔ سیاسی فریق اس سے اگر سیاسی فوائد کشید کرنا چاہیں تو انہیں بھی روکا نہیں جا سکتا۔ اسے عوام پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ عدالتی فیصلے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ عدالت میں ایک طرف پاناما کا مقدمہ ہے اور دوسری طرف تحریکِ انصاف کے پارٹی فنڈز کا۔ دونوں بہت اہم ہیں۔ یہ فیصلے عدالت کی ساکھ، سیاسی راہنماوں کے مستقبل اور قومی اداروں کی شہرت پر غیر معمولی اثرات مرتب کریں گے۔ تاہم سیاسی عمل ان فیصلوں کے باوصف آگے بڑھے گا۔ میرا احساس ہے کہ اس کے فطری بہاوکو مصنوعی طور پر تبدیل کرنے کی کوشش ناکام ہو گی۔

اس وقت ن لیگ کی سیاسی قوت، ان کے مخالفین کو خائف کیے ہوئے ہے۔ ان کا تمام تر انحصارعدالتی فیصلے پر ہے۔ وہ اب عدالت پر اپنا دباو بڑھانا چاہتے ہیں۔ پہلے بھی وہ یہی کہتے ہیں کہ اگر ان کا دباونہ ہوتا تو یہ پیش رفت بھی نہیں ہونی تھی۔ گویا اس میں عدالت کا کوئی حصہ نہیں، یہ احتجاجی سیاست کا کمال ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت وہ عدالت سے اپنی مرضی کا فیصلہ لینا چاہتے۔ جج صاحبان کے یہ ریمارکس حوصلہ افزا ہیں کہ وہ شواہد اور قانون کے تحت فیصلہ کرتے ہیں، ٹی وی کے ٹاک شوز دیکھ کر نہیں۔ میرا خیال ہے کہ جب کوئی سیاسی جماعت یہ کہتی ہے کہ وہ سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کی پشت پر کھڑی ہے تو عدالت عظمیٰ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ انہیں یہ تاثر زائل کرنا چاہیے کہ عدالت اس معاملے میں کوئی فریق ہے۔ سیاست ایک بے رحم کھیل ہے۔ اس میں افراد سے لے کر اداروں تک، سب کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اہل سیاست کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ عدالت کو سیاست میں گھسیٹیں۔ جب عدالتیں انصاف کرتی ہیں تو پوری قوم ان کی پشت پر کھڑی ہو جاتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ 25 دسمبر 1949 کو لاہور میں پیدا ہونے والے نواز شریف، محمد شریف اور ان کی اہلیہ کے سب سے بڑے بیٹے ہیں، ان کے والد ایک دولت مند صنعتکار تھے جنہوں نے اتفاق اور شریف گروپ کی بنیاد رکھی۔’’شریف خاندان ایک پدر شاہی اور قدامت پسند خاندان ہے‘‘۔ 1930 کی دہائی میں صنعتکاری کا رخ کیا، اْس وقت بمشکل چند مسلمان گھرانوں کا صنعتکاری میں نام تھا۔اسٹیل کے کاروبار میں قدم رکھنے کے بعد شریف خاندان نے مستقبل کی طرف دیکھنا شروع کیا، اس وقت صنعتکاری میں ایک گروپ بٹالا تھا جبکہ دوسرے شریف خاندان، اِن کی کہانی مفلسی سے امارت کی جانب سفر کے جیسی ہے، 6 سے 7 بھائی جو جاتی امراء سے لاہور آئے اور سخت محنت سے عروج حاصل کیا’۔سینئر تجزیہ کار ، صحافیوں کا کہنا تھا کہ 1947 تک شریف اپنا نام قائم کرچکے تھے، جہاں تک قدیم لاہور کی بات ہے، 1947 میں بھی شریف خاندان کی پہچان دولت مند، خاندان اور صنعتکاروں کے حوالے سے کی جاتی تھی۔

گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ حاصل کرنے سے قبل نواز شریف نے سینٹ اینتھنز ہائی اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی جس کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اپنی قانون کی ڈگری حاصل کی۔سکول کے دنوں سے ہی نواز شریف کی کوئی گہری دوستیاں نہیں تھی، ان کی رہائش سرکلر روڈ کے علاقے میں موجود محلہ رام گلہ میں تھی۔تقسیم ہند کے کچھ عرصہ پہلے شریف خاندان ماڈل ٹاؤن منتقل ہوگیا، نواز شریف اپنے سکول کے لڑکوں کی نسبت محلے کے لڑکوں کے ساتھ زیادہ گھلا مِلا کرتے، ان کے مشاغل میں کرکٹ کھیلنا، فلمیں دیکھنا اور گاڑی ڈرائیو کرنا شامل تھا۔گورنمنٹ کالج لاہور میں نواز شریف خواجہ آصف کے دوست تھے تاہم ان کے زیادہ تر اچھے دوست زمانہ طالب علمی کے نہیں، اسی سے پدر شاہی خاندانی سیٹ اپ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جب آپ اپنے گھر کے قریب یا خاندان سے قریب رہنے والے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں۔ میاں شریف کی موجودگی میں نواز شریف کا سکول کے لڑکوں سے دوستی کرنا، کلاسیں چھوڑنا اور اس قسم کے غل غپاڑے کا حصہ بننا ممکن نہیں تھا۔بعد ازاں نواز شریف اپنے خاندان کے بااثر اتفاق گروپ کا حصہ بن گئے جو چینی، اسٹیل اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں دلچسپی رکھتا تھا۔

ایک رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز اس دور میں کیا جب شریف خاندان کے اسٹیل کے کاروبار سمیت کئی صنعتوں کو اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قومیا (نیشنلائز) لیا تھا۔1976 میں نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی جو اْس وقت پنجاب میں کافی مقبول سیاسی جماعت تھی۔جب بھٹو نے ان کی صنعت کو نیشنلائز کردیا تو شریف خاندان کا اس پر گہرا اثر پڑا ،سیاست میں اپنا مقام بنانے کا سوچنا شروع کردیا، بھٹو کے خلاف دشمنی پال لی، یہ سننے میں خود غرضی جیسا محسوس ہوتا ہے لیکن نواز شریف کے والد نے انہیں اس لیے سیاست میں دھکیلا کیونکہ انہوں نے ایسا نہیں سوچا تھا کہ وہ کاروبار کریں گے۔جنرل ضیاء الحق کی حکمرانی میں نواز شریف پہلے بطور وزیر خزانہ پنجاب کابینہ کا حصہ بنے اور 1981 میں انہوں نے پنجاب مشاورتی بورڈ میں شمولیت اختیار کی۔نواز شریف کے ایک دور کے ماموں، جن کا نام حسن تھا، نے سیاست میں نواز شریف کی رہنمائی کرنے اور انہیں مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

غلام جیلانی خان نے نواز شریف کو پنجاب حکومت کا وزیر خزانہ بنایا اور اپنے ایک خدمت گار، بریگیڈیئر قیوم کو ہدایت دی کہ وہ نواز شریف کو اپنی نگرانی میں رکھیں۔جس کے بعد 1985 میں نواز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے جبکہ 1988 میں مارشل لاء کے اختتام پر وہ دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب بنے، اگست 1988 میں ضیاء الحق کی موت کے بعد پاکستان مسلم لیگ دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی اور پاکستان مسلم لیگ کا چارج نواز شریف نے سنبھال لیا ۔ ماہر ین کا کہنا ہے کہ نواز شریف فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار تھے، 1984 میں انہیں اچانک ہی پنجاب کی صوبائی حکومت کا حصہ بنادیا گیا۔ضیاء کی فوجی حکومت کا بنیادی مقصد بینظیر بھٹو کے مقابلے کے لیے متبادل قیادت کو سہارا دینا تھا، نواز شریف کو بعد ازاں پاکستان کے سب سے طاقتور صوبے پنجاب کا وزیراعلیٰ بنادیا گیا، پنجاب کے کاروباری اور تجارتی طبقے کی نمائندگی کی اور پنجاب کی سول اسٹیبلشمنٹ، جس میں بیوروکریسی اور عدلیہ شامل تھی، کی مدد سے سیاسی عروج پر گئے۔

1990 کے دوران نواز شریف نے اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کے سربراہ کی حیثیت سے عام انتخابات کی مہم چلائی، اس تصویر میں نواز شریف، خاقان عباسی اور شیخ رشید کو مری کے ایک جلسے میں آئی جے آئی کے حامیوں کے نعروں کا جواب دیتے دیکھا جاسکتا ہے۔نواز شریف 1991 میں فوج کے تشکیل کردہ دائیں بازو کے اتحاد، جس کا نام اسلامی جمہوری اتحاد تھا، کے سربراہ کی حیثیت سے پہلی بار وزیراعظم بنے، لیکن جلد ہی صدر غلام اسحٰق خان کے ساتھ ان کے اختلافات کا آغاز ہوگیا کیونکہ وہ تمام طاقت پر قبضہ چاہتے تھے، اختیار کی یہ جنگ ان کے زوال کا سبب بنی اور ایک کمزور بغاوت نے ہی صدر اور وزیراعظم دونوں کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا۔نواز شریف ریاست کے دیگر ستونوں کے سامنے آنے کی وجہ سے دونوں بار اپنی مدت پوری نہ کرسکے، پہلی بار صدر اور دوسری مدت میں فوج کے سامنے، ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ وہی فوج تھی جو ان کے سیاسی عروج کی ذمہ دار تھی’۔’1991 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے خلاف نواز شریف کی کامیابی کی بڑی وجہ انہیں سول اور فوجی قیادت سے حاصل ہونے والی حمایت تھی۔
‘آئی جے آئی کا قیام اور فنڈنگ آئی ایس آئی نے کی تھی، جس کی تصدیق اصغر خان کیس کی رولنگ کے دوران سپریم کورٹ نے کی۔ فوج اس بات کے لیے تیار نہیں تھی کہ ان کی پہلی حکومت کی برطرفی کے بعد پی پی پی کو اقتدار میں واپس آنے کی اجازت دے۔

اپنی مدت ملازمت میں نواز شریف نے جوہری پالیسی کا اعلان کیا جس کا مقصد ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کی ترقی کو جاری رکھنا تھا۔انہوں نے پاکستان کے پہلے ماس روڈ نیٹ ورک، موٹروے کے منصوبوں کا بھی آغاز کیا۔وزیراعظم نواز شریف کی پہلی مدت اْس وقت اچانک ختم ہوئی جب صدر غلام اسحٰق خان نے اپریل 1993 میں قومی اسمبلی کو تحلیل کردیا۔ایک ماہ بعد مئی 1993 میں نواز شریف اقتدار میں اس وقت واپس آئے جب سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا صدارتی حکم غیر آئینی قرار دیا۔1993 میں نئے انتخابات کروا کر نواز شریف، اقتدار پیپلزپارٹی کی بینظیر بھٹو کو کھو بیٹھے اور اپوزیشن کا کردار سنبھال لیا۔’1993کے انتخابات میں بینظیر بھٹو کی اقتدار میں واپسی فوج کی جانب سے نواز شریف کی حمایت کے خاتمے کا نتیجہ تھی، اس کی ایک اور وجہ آئی جے آئی کی علیحدگی تھی۔

دوسری بار پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے نواز شریف کے دور کا آغاز 1997 میں اس وقت ہوا جب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔اپنی دوسری مدت ملازمت میں بھی انہوں نے عدلیہ کے ساتھ کشیدگی کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ نومبر 1997 میں ایک سماعت کے دوران ان کے حامیوں کی بڑی تعداد نے عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کے لیے سپریم کورٹ پر دھاوا بول دیا.اس افراتفری کے دور میں وزیراعظم نواز شریف نے صدر فاروق لغاری کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو معزول کردیا گیا.میوزیکل چیئرز کا یہ کھیل بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کی برطرفی کے بعد بھی جاری رہا جس کی وجہ ان کا صدر اور چیف جسٹس کے مدمقابل آجانا تھا.دکھائی دینے لگا کہ نواز شریف فوج کی حمایت واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، جس کا اثر 1997 کے انتخابات میں نظر آیا جب وہ تاریخی تین چوتھائی اکثریت سے کامیاب ہوئے، لیکن اس اتحاد کی مدت بہت کم تھی۔
دسمبر 1997 میں وزیراعظم نواز شریف نے اعلان کیا کہ پاکستان صرف اس صورت میں جوہری تجربات پر پابندی کے معاہدے (سی ٹی بی ٹی) پر دستخط کرے گا جب بھارت بھی اس پر دستخظ کرتا ہے.بعد ازاں 28 مئی 1998 میں پاکستان نے پہلا کامیاب جوہری تجربہ جبکہ 30 مئی کو دوسرا تجربہ کیا گیا.1999 میں نواز شریف کے فوج کے ساتھ تعلقات پھر خراب ہوگئے، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہیں طے شدہ حملوں سے آگاہ نہیں کیا گیا اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے اکیلے فیصلے کیے. 2ماہ بعد کارگل کے معاملے پر نواز شریف کی حکمت عملی پر آرمی، نیوی اور ایئرفورس تینوں کے ساتھ ان کے تعلقات شدید متاثر ہوئے.

صورتحال اس وقت مزید ابتر ہوگئی جب اکتوبر 1999 میں وزیراعظم نواز شریف نے چیئرمین آف دا جوائنٹ چیفس اور چیف آف آرمی اسٹاف کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی. بغاوت کے ڈر سے وزیراعظم نواز شریف کے احکامات پر ایئرپورٹ بند کرکے جنرل پرویز مشرف کے طیارے کو کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی.تاہم جنرل پرویز مشرف کے نواب شاہ ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ جرنیلز کو ملک سنبھالنے کا حکم دیتے ہوئے نواز شریف کو برطرف کردیا۔

بغاوت کے بعد ‘اغواء ، اقدامِ قتل، ہائی جیکنگ، دہشت گردی اور کرپشن’ کے الزمات میں نواز شریف کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوا جہاں انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی.سعودی عرب کی مدد سے کیے گئے ایک معاہدے کے تحت نواز شریف اگلے 10 سال کے لیے ملک سے جلاوطن ہوگئے.کئی سال کی جلاوطنی کے بعد اگست 2007 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم دیا کہ نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف پاکستان آنے کے لیے آزاد ہیں۔ اگلے ماہ نواز شریف جلاوطنی کاٹ کر اسلام آباد پہنچے مگر انہیں طیارے سے اترنے نہیں دیا گیا اور پھر کچھ دیر بعد جدہ ڈی پورٹ کردیا گیا، جس کے بعد وہ نومبر میں سیاست میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آئے۔2008 سے 2013 کے درمیان نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت قائم کی۔اگست 2008 میں اتحادی حکومت نے مشرف کے احتساب کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ اسی سال مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان ججز کی بحالی سے پیپلز پارٹی کے انکار پر یہ اتحاد بکھرگیا۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے نواز شریف اور شہباز شریف کو فروری 2009 میں عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ نواز شریف کو اپنے گھر پر نظربند کرنے کی زرداری کی کوششوں کے بعد اگلے ماہ نواز شریف نے ’’لانگ مارچ‘‘ شروع کیا تاکہ برطرف ججز کو بحال کروایا جا سکے۔

اپریل 2010 میں اٹھارہویں ترمیم منظور کی گئی جس سے تیسری بار وزیراعظم بننے پر عائد پابندی ختم کر دی گئی، یوں نواز شریف تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔مئی 2013 میں نواز شریف کو تیسری دفعہ وزیر اعظم منتخب کیا گیا، مگر انتخابات میں دھاندلی اور فراڈ کے الزامات لگے۔ شریف حکومت نے کراچی میں پاکستان رینجرز کے تحت آپریشن شروع کیا جس کا مقصد سب سے بڑے شہر سے جرائم اور دہشتگردی کا خاتمہ تھا۔جولائی میں چینی وزیرِاعظم لی کی چیانگ کے دورے کے بعد یہ اعلان کیا گیا تھا کہ چین پاکستان میں ساڑھے 31 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔نومبر 2013 میں وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں 9 اعشاریہ 59 ارب ڈالر کی لاگت سے ایٹمی بجلی گھر کے منصوبے کی تعمیر کا آغاز کیا۔2014 کے اواخر میں نواز شریف نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے 2013 کے انتخابات میں فراڈ کے الزامات پر شدید احتجاج کا سامنا کیا۔4 اپریل 2016 کو پاناما پیپرز لیک میں وزیرِ اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کو دو آف شور کمپنیوں کا بینی فیشل مالک قرار دیا گیا۔اکتوبر 2016 میں پاناما پیپرز کیس سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت آیا تاکہ شریف خاندان پر منی لانڈرنگ اور ٹیکس بچانے کے حوالے سے تحقیقات کی جا سکیں۔فیصلہ سنانے کے بعد سپریم کورٹ نے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کا حکم دیا، جس نے نواز شریف کو کیپیٹل ایف زیڈ ای نامی ایک دبئی میں قائم کمپنی کا چیئرمین پایا اور انہیں نااہل قرار دے دیا۔

Ghulam Murtaza Bajwa
Ghulam Murtaza Bajwa

تحریر : غلام مرتضیٰ باجوہ

Share this:
Tags:
Future Ghulam Murtaza Bajwa guides History justice law stories تاریخ عدالت قانون کہانی مستقبل
Fake Accounts Case
Previous Post جعلی اکاؤنٹس کیس: جے آئی ٹی نے زرداری اور اومنی گروپ کو ذمہ دار قرار دے دیا
Next Post فلیگ شپ ریفرنس میں بری، العزیزیہ میں 7 سال قید، نوازشریف کمرہ عدالت سے گرفتار
Nawaz Sharif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close