
آج اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ امریکا نے پاکستان کی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے حکیم اللہ محسود کو دیدہ دانستہ ہلاک کیا اور چند دن وائٹ ہاؤس میں جشن منانے کے بعد امریکیوں کو جب ہوش آیا کہ یہ اِنہوں نے کیا کر دیا ہے ..؟ تو اُلٹا اَب اِس کے بعد ایک طرف یہ خود ہی پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے کشیدہ ہوتی صورتحال پر اپنی سُپر پاور ہونے کا غرور بھی دکھا رہا ہے تو وہیں اپنا دفاع بھی کرتا نظر آ رہا ہے۔
اِن دونوں کیفیات میں مبتلا امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں میڈیا اور واشنگٹن سے وزیراعظم نواز شریف سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ایک موقع پر جس ڈھٹائی سے یہ کہا ہے کہ”طالبان رہنما پر ڈرون حملہ جائز تھا تاہم پاکستان کے تحفظات کا احساس ہے اور اِسی کے ساتھ ہی کیری کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ٹھیک ہے کہ طالبان سے امن مذاکرات پاکستان کا اپنا اندرونی معاملہ تھا، طالبان رہنما حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے پاکستان سے تعلقات میں کشیدگی اور غلط فہمیاں ضرور پیدا ہو گئیں، مگر امریکا طالبان رہنما کے مرنے کی تصدیق یا اِس پر تبصرہ نہیں کر سکتا ہے، حکیم اللہ محسود کے ہاتھ کئی امریکیوں، پاکستانیوں اور افغانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔
یوں اَب جان کیری کے متذکرہ لگے بندھے جملوں سے یہ اندازہ لگانا اور زیادہ آسان اور سلیس ہو گیا ہے کہ امریکا کو ایک طرف اپنی اِس کامیابی پر فخر ہو رہا ہے تو دوسری جانب اِسے یہ خوف بھی کھائے جارہاہے کہ اِس نے طالبان رہنما کو نشانہ بنا کر کہیں کوئی سنگین غلطی تونہیں کر دی ہے ..؟ اور کہیں جس سے اِس کی سلامتی کو بھی مزید خطرات لاحق نہیں ہو جائیں گے..؟، اور وہ دس گیارہ سال کی محنت خاک میں نہ مل جائے جو اِس نے نائن الیون کے بعد شروع کی تھی اور یہ وہیں نائن الیون والی پوزیشن پر پھر نہ لوٹ جائے ..؟ اور کہیں اِس کے ہاتھ اتنا کچھ کر کے بھی کچھ نہ آئے ..؟ یوں آج امریکا کا اِن ملی جھلی کیفیات میں مبتلا ہونا اِس کی بوکھلاہٹ اور پریشانی کا بھی ضرور ثبوت دے رہا ہے، یعنی آج اِسے یہ اندیشہ بھی مارے جارہاہے کہ کہیں طالبان رہنماکی ہلاکت کا معاملہ اِس کے گلے میں پھنسی وہ ہڈی بھی بن سکتا ہے، جو اِس کی پریشانیوں میں اضافے کا باعثبنسکتی ہے۔ آج تب ہی امریکا اپنی اِس سُبکی کو مٹانے کے لئے کبھی کچھ تو کبھی کچھ کہہ رہا ہے، اِس لئے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے امریکا تحریک طالبان کو یہ بتانے اور جتانے کی بھی سرتوڑ اور جان چھوڑ کوششیں کر رہا ہے کہ اور طالبان رہنما کی ہلاکت محض اتفاقیہ تھی، اَب جو ہوا سو ہوا، پاکستان چاہئے تو طالبان سے امن مذاکرات جاری رکھ سکتا ہے، اِس سے جہاں پاکستان میں قیام امن کو تقویت ملے گی تو وہیں امریکا اور امریکی شہریوں کی بھی جان بخشی ہوگی۔
اَب ایسے میں ذرا سوچیئے..! پہلے تو امریکا نے دیدہ دانستہ پاکستان کی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر ڈالا اور اَب جب چاروں جانب سے اِسے ہدفِ تنقید بنایا جا رہا ہے تو امریکی اِس معاملے سے خود کو یوں نکالنا چاہ رہی ہیں کہ جیسے دودھ میں سے مکھی نکل جاتی ہے، اور یوں یہ اِس سارے معاملے میں قصور وار پاکستانیوں کو ٹھیرانا چاہتا ہے، جبکہ اِس امریکی دورخی کا شکار پاکستان ایک طرف امریکی اور دوسری جانب طالبان سے ملنے والی بدلے کی دھمکیوں پر شدید دباؤ کا شکار ہے۔
جبکہ آج یہی وجہ ہے کہ حکمران جماعت نواز لیگ کا ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی کی بندش کے معاملات میں مخمصوں میں مبتلا ہونا صاف طور پر یہ ظاہرکرتاہے کہ کم از کم ن لیگ موجودہ حالات میں یہ نہیں چاہتی ہے کہ ڈرون حملے اور نیٹو سپلائی بندہوں اور اِن میں کہیں سے بھی کوئی رکاوٹ پیداکی جائے ، اِس لئے مُلک میں پیداہونے والے موجودہ حالات اور واقعا ت کے پیش ن لیگ کے وفاقی وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں یہ کہہ دیاہے کہ حکومت کے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات وابستہ ہیں ایک واقعے کی وجہ سے ختم نہیں کرسکتے ہیں اِس لئے حکومت یہ کبھی نہیں چاہئے گی کہ نیٹوسپلائی بندہواورڈرون گرانے کا فیصلہ نہیں کرے گی” حکومتی ذمہ دارکی جانب سے ایسابیان یقینا موجودہ حالات میں مُلکی سیاست میں ہلچل پیدا کر سکتا ہے اور اندرونِ مُلک حکومت کے لئے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے کئے جانے والے احتجاجوں اور مظاہروں کے باعث پریشانیاں بڑھانے کا بھی باعث بن سکتاہے۔
بہرکیف..! موجودہ منظر اور پس منظر میں ن لیگ یہ ضرور سمجھتی ہے کہ ڈرون حملے بھی جاری رہیں اور نیٹو سپلائی کا عمل بھی برق رفتاری سے چلتارہے،اَب یہ ایسا کیوں چاہتی ہے ..؟ اِس لئے یوں لگتا ہے کہ جیسے ن لیگ سے وابستہ ہماری نومولود حکومت کے بیوپاری وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اپنے چار روزہ امریکی دورے میں امریکیوں سے کہیں ایسے ویسے معاہدے تو نہیں کر کے آگئے ہیں کہ چاہئے اِدھر کی دنیا اُدھر کیوں نہ ہو جائے اور کوئی کتنا بڑا بھی نقصان اور خواہ کتنی ہی جانیں ضیائع کیوں نہ ہو جائیں مگر ہمیں ہرحال میں امریکی خوشنودی عزیز ہے، اور اِس کی ہر خواہش کا احترام کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، اِس لئے بھی کہ ہمیں اپنی حکومت چلانے کے لئے یہ سب کچھ کرنا ضروری ہے کہ امریکی خوشنودی اور اِس کے ہماری سر زمینِ پاکستان کے ساتھ حاصل ہونے والے مفادات کا ہر حال میں خیال رکھن امیں (وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف) اور میری حکومت کے ایک ایک وزیر اور اراکین پارلیمنٹ پر لازم ہے کہ ہم سب امریکی مفادات کے حصول تک اپنی سرزمین کو امریکیوں کے لئے کھلا رکھیں اور اِس کے ہر حکم کی تعمیل میں بڑھ چڑھ کر اپنا اپنا حصہ ڈالیں اور ڈالتے رہیں۔
جبکہ مُلک کی اپوزیشن جماعتوں کا ڈرون گرانے اور نیٹو سپلائی بند کئے جانے پر علیحدہ علیحدہ موقف ہے، کچھ کا خام خیال یہ ہے کہ امریکیوں کو سبق سکھانے اور اِنہیں اپنی خودمختاری کا احساس دلانے کے لئے اِس سے اچھا کوئی موقع نہیں ہے کہ ہم اپنے امن مذاکرات کو سبوتاژ کئے جانے پر اِس کے ڈرون گرادیں اور نیٹو سپلائی فوری طور پر بند کر دیں مگر اِس پر بھی بعض سیاسی جماعتوں کا یہ کہنا ہے کہ نہ ڈرون گرائے جائیں اور نہ نیٹو سپلائی بندکی جائے بلکہ سارے معاملات یوں ہی جاری رہیں مگر مذاکراتی عمل بھی نہ رکنے پائیں۔
آج جو جماعتیں ڈرون گرانے اور نیٹو سپلائی کی بندش کی مخالفت کررہی ہیں یقینی طور پر یہ جماعتیں حکومت کی بی جماعتیں ہیں اور امریکا نواز ہیں مگر تحریک انصاف پاکستان اور اِس جیسی جو جماعتیں ڈرون گرانے اور نیٹو سپلائی بند کرنے کا جو مطالبہ کررہی ہیں کیا یہ مُلک اور قوم سے وفادار اور مخلص جماعتیں ہیں…؟ تو اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ بیشک یہی وہ جماعتیں ہیں جو مُلک اور قوم سے…..ہیں۔
اِس سے انکار نہیں ہے کہ جب پاکستانی قوم شدت سے امن کی متلاشی تھی اور اِسے اپنی کوششوں سے امن کی ایک اُمید دِکھائی دی تھی، ایسے وقت میں بس ایک امریکی ڈرون حملے نے قوم کو جس کڑے امتحان سے دوچار کر دیا ہے اور اَب اِس کے بعد یوں لگتا ہے کہ جیسے امن اِس سے روٹھ گیا ہے اور قوم کی امن کی خواہشات چکنا چور ہو کر رہ گئی ہیں۔
تحریر : محمداعظم عظیم اعظم
azamazimazam@gmail.com
