Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

حمزہ عباسی کے نام۔۔۔اے چاند یہاں نہ نکلا کر

June 22, 2016June 22, 2016 0 1 min read
Muhammad Husnain
Hamza Abbasi
Hamza Abbasi

تحریر : محمد حسنین اشرف
دنیا میں زوال پذیر قوموں کی نشانیاں اتنی واضح ہوا کرتی ہیں کہ کسی مورخ کو زیادہ کریدنا نہی پڑتا۔ کسی بھی قوم کی حالت کا اندازہ اگر لگانا ہوتو اس قوم میں بڑوں سے چھوٹوں تک اخلاقی قدروں کا جائزہ لے لیا جائے تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ قوم دنیا میں کیا مقام رکھتی ہے۔ ہماری اخلاقی حالت ہماری پستی اور گراوٹ کا صاف پتہ دیتی ہے۔

ایک وقت تھا کہ چرچ بلکل اسی مقام پہ کھڑا تھا۔ جس مقام پہ آج ہم کھڑے ہیں۔ ایک خاص مذہبی نقطہ نظر رکھنے والے جنونی، عیسائیت میں اتنی تعداد میں پیدا ہو گئے کہ انہوں نے ریاست اور ریاست کے ذمہ داران کو اس انداز میں اپنا گرویدہ کرلیا کہ ریاست چرچ کے سامنے ایک باندی کی حثیت اختیار کرگئی۔ اور پھر ہوا یوں کہ عیسائی قوم کی قسمت کا فیصلہ ایوان کی بجائے چرچ میں ہونے لگا۔ اور پھر علوم جدید و قدیم کا جو حال عیسائیت نے کیا اور انسانیت کا تمسخر جس انداز میں اڑایا گیا۔ پھر تاریخ نے وہ وقت دیکھا جب، بیت المقدس کے در و دیوار معصوموں کے خون سے رنگ دئیے گئے۔ پھر تاریخ نےوہ وقت دیکھا کہ نئی سوچ رکھنے والوں اور چرچ کے خلاف بات کرنےوالوں کو یا تو ملک بدر کردیا گیا یا زندہ جلا دیا گیا۔ کوئی بھی نیا مذہب اور کوئی بھی نئی بات قابل قبول نہ ہوئی سوائے چرچ کے۔ چرچ حرف آخر بن کر ابھرا اور عیسائیت کی تاریخ کا سیاہ ترین باب رقم کر گیا۔

وہی عیسائی قوم جو آج سڑک پر گرے کتے کے بارے میں بھی محتاط معلوم ہوتی ہے۔ وہی قوم اتنی بے حس ہو گئی کہ انہوں نے صلیبی جنگوں میں اپنے عیسائی بھائیوں کو صرف اس جرم کی سزا دی کہ وہ سچے عیسائی نہی ہیں۔ اور پھر عیسائیوں کا چڑھتا سورج مسلمانوں کے ہاتھوں ایسے غروب ہوا کہ اسکا نام و نشان بھی باقی نہ رہا۔ اور پھر مسلمانوں کا وہ سنہری دور آیا جسکی مثالیں شائد ہی کبھی ملتی ہوں لیکن پھر وہی ہوا۔ جو ہوا کرتا ہے۔ہم نے بھی وہی کیا، ہر نئی سوچ رکھنے والا کافر کھلایا، یہ کندی، یہ سینا، یہ رازی، یہ تمام لوگ اپنے وقت کے کافر اعظم کہلائے۔ ہر نئی سوچ کی راہیں مسدود اور بند کردی گئیں سوائے ایک چھوٹے سے طبقے کے جو واحد طبقہ تھا جس نے دلیل کا جواب دلیل سے دیا جس نے تہافۃ الفلاسفہ، الرد الفلاسفہ جیسے شہکار تصانیف سپرد قلم کیں۔

اور پھر موسیٰ بن ابی غسان کی زوردادر تقریریں، ٹیپو کی چمکتی تلوار اور سید احمد بریلی جیسے جری بھی مسلمانوں کا سویا ضمیر نہ جگا سکے اور ذلت و رسوئی اور محتاجی و بے نوائی ہمارے ساتھ چمٹا دی گئی۔

تاریخ کا ایک ایک ورق اٹھائیے اور آجکے ہمارے حالات پہ رکھتے جائیے۔ تاریخ اپنے آپکو دہراتی ہوئی محسوس ہوگی۔

آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم خود پسندی کے جام کو منہ سے لگائے، آنکھیں، کان، دل اور دماغ کو بند کرکے مدہوش پڑے ہیں۔ ہم دیکھنا، سننا، سوچنا اور سمجھنا نہی چاہتے کیونکہ سچائی ہمارے ان محلوں کو برباد کرکے رکھ دے گی جو ہمارے دماغوں میں ہماری عظمت کے بن چکے ہیں۔ ہم اس چودہ سو سالہ تاریخ کی زندہ دلی، نرم خوئی، علم، عمل اور عظمت میں ایسے ڈوبے ہیں کہ اب دنیا کا محور صرف مسلمان معلوم ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں بسنے والا ہر انسان اور اس کائنات کے خالق کی توجہ اور ہر عمل کا محور ہم اپنے آپکو محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں ہر آسمانی آفت خدا کا عذاب محسوس ہوتی ہے۔او بھائی، اتنے اہم تم کب سے ہو گئے؟

خدا نے بڑے واشگاف الفاظ میں کتاب مقدس میں فرما دیا ہے جسکا مفہوم ہے کہ خدا کبھی اس قوم کی حالت نہی بدلتا، جو اپنی حالت خود نہ بدلنا چاہے۔ خدا کو کیا ضرورت آن پڑی کے تم پہ عذاب لا لا کر تمہیں جگائے بھئی کامیاب ہو جاؤ؟

دنیا میں ہزاروں اقوام، اربوں لوگ، وہ سب ہم سے بہتر، بلکہ بہت بہتر، انکا عدل، انکے معاملہ جات سب ہم سے بہتر۔ ہم کب سے خدا کے چہیتے ہو گئے؟

پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ

اگر دنیا میں بھی کوئی معاملہ ہو تو ہم کرید کرید کر اس میں سے کوئی نہ کوئی سازش نکال ہی لیتے ہیں۔ امریکہ میں یا یورپی ممالک میں کوئی معاملہ ہو تو ہم اس میں بھی کچھ نہ کچھ لازمی ڈھونڈ نکالتے ہیں کہ یہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف سازش کی ہے۔ او بھائی، نہ تو آپ کوئی اہمیت کے حامل ہو، اور نہ ہی کوئی علم و عقل ہے آپکے پاس۔ پچھلی تین چار صدیوں میں مسلمانوں نے کیا ایسا خاص اس دنیا کو دیا ہے کہ چین، جاپان، امریکہ یہ سمجھے کہ یہ تو ہمارے مد مقابل آ گئے ہیں؟ صنعت، زراعت، سائنس، بیالوجی، کوئی ایک علم؟ ہمارے تو بچہ پیدا ہونے سے لے کر ایک بوڑھے کی چلتی سانسیں انہی سازشیوں کی مشینیوں کی بدولت ہیں۔ ہسپتال میں دوڑ دوڑ کر اپنے باپ کو سازیشیوں کی دوائیاں پلاتے وقت مولوی صاحب کو اسلام اور ملک سے وفا یاد نہی رہتی لیکن منبر پہ آتے ہی وہ ایمان کی چنگاری پھوٹتی ہے کہ کیا کہنے۔

Islam
Islam

ہر دوسرا بندہ ہمیں یہودی ایجنٹ، اسلام کو نقصان پہنچانے والا محسوس ہوتا ہے۔ ہر دوسرے بندے کو لگتا ہے کہ دین کی حفاظت کا یہ وزنی اور مشقت طلب کام اللہ نے اسے سونپا ہے اور اس سے پوچھا جائے گا کہ تم نے یہودی ایجنٹوں کی اور دیسی لبرلوں کی ڈھونڈ ڈھونڈ کر نشاندہی کیوں نہی کی؟

یہ تمام نشانیاں ایک زوال پذیر قوم کی ہوتیں ہیں۔ اپنے پہ گذرنے والی کا دوسروں پہ تھوپ کہ میٹھی نیند سو جانا۔

مجھے آج تک سمجھ نہی آیا یہ کس نبی کی بات کرتے ہیں؟ کس دین کی بات کرتے ہیں؟ کسی اللہ کی بات کرتے ہیں؟ کونسا کلمہ پڑھتے ہیں؟ یہ انسان بھی ہیں یا جانور ہیں؟

حمزہ علی عباسی صاحب کے معصومانہ سوال کے جواب میں جو طوفان بدتمیزی بپا ہوا ہے۔ اس نے مجھے قلم درازی پہ مجبور کردیا ہے۔ پیمرا نے انہیں بین کردیا ہے اور مولویوں کی زبانیں ڈیڑھ فٹ باہر آ چکی ہیں۔ میں اس انداز میں بات اسلئے کر رہا ہوں کہ یہ ایک اذیت ہے، الزام ہے کسی پہ، کسی کی بات کا غلط مطلب ہے۔ جب کسی کی بات کا غلط مطلب لیا جائے اور اسکی سچائی اور پاکیزگی کا مذاق اڑیا جائے تو میں جانتا ہوں کہ وہ کس اذیت سے گذرتا ہے۔

لیکن اس سارے معاملے سے میں بہت خوش ہوں۔ وہی ملا، جو پہلے آئین اور ریاست کے خلاف کھڑے آوازے کس رہے ہوتے تھے۔ چند دنوں میں انہوں نے ریاست کو اہمیت دینی شروع کردی۔ ہر مولوی اب ریاست یہ کرسکتی ہے، ریاست وہ کرسکتی ہے، ریاست کو یہ کرنے کا حق ہے، ریاست کو یہ کرنے کا حق اللہ کے نبیﷺ نے دیا۔ ریاست کو یہ کرنے کا حق اللہ نے دیا ہے کی مالا چبھ رہا ہے۔

اسمیں میری ذاتی رائے ہے یہ بلکل ٹھیک بات ہے یہ پہلا اور آخری حق ریاست کا ہی ہے کہ گروہوں کی تقسیم کرے اور قادیانی حضرات کے معاملہ میں آئین نے تعریف کرکے دو گروہوں کو علیحدہ کردیا۔ اس نے بتا دیا کہ فلاں گروہ جو اپنے آپکو مسلمان کہتا ہے، وہ فلاں گروہ جو اپنے آپکو قادیانی (احمدی) کہتا ہے اس سے علیحدہ ہیں۔ اور پھر حدود بھی مقرر کردیں۔ اور یہ جمہوریت کا حسن ہے کہ اس نے پورا موقع دیا اپنی بات کی وضاحت کرنے کا، سو قادیانیوں کے اس وقت کے خلیفہ کو پارلیمنٹ میں بلایا گیا اسکی بات سنی گئی پھر فیصلہ کردیا گیا۔ یہ بات ہمارے مولوی حضرات بھی مانتے ہیں۔ اور اسکے لئے انہوں نے قران و سنت کے دلائل دے دئیے۔ لیکن ایک مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔

اب جب ریاست کسی فرد یا کسی گروہ کے مذہب کے بارے میں فیصلہ کرسکتی ہے کہ اسکا مذہب کیا ہے تو حق پھر اب صرف ریاست کو ہے اور اسکا فیصلہ وہ کسی دارلافتاء میں ، کسی مسجد میں یا کسی مسجد کے حجرے میں نہی بلکہ ریاست اسے پارلیمنٹ میں اور آئین کی روشنی میں کرنے کا حق رکھتی ہے۔ اب کوئی مولوی کسی کو کافر کہے گا تو وہ اس ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنا ہوگا۔ اور ریاست اسکے خلاف اقدام کرنے میں حق بجانب ہوگی۔

اب جب ریاست کا حق قران و سنت کی روشنی میں مانا گیا ہے تو ریاست یہ حکم جاری کرنے میں حق بجانب ہوگی کہ مدراس کا آڈٹ کروایا جائے اور مدارس کے ذمہ داران پہ یہ لازم ہوگا کہ وہ اس آڈٹ میں اپنی ہر ممکن مدد پیش کریں۔ تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ہر مدرسے کو اتنا پیسہ کہاں سے آتاہے اور مدرسہ اسے کہاں پہ خرچ کرتا ہے۔

اب ریاست حق بجانب ہے کہ وہ یہ قانون سازی کرے کہ آجکے بعد کوئی بھی چندہ مدارس کو نہی دیا جائے گا۔ بلکہ حکومت اسے عوام سے لے کر مدارس کی ضروریات کے مطابق تقسیم کرے گی۔ اور اگر یہ قانون پارلیمنٹ میں بنتا ہے تو اب وہ خواہ مفتی اعظم ہے یا طالب علم، اسے اس ریاست کے اس حق کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔

ہمارے ایک فاضل دوست ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ جناب حکومت نے اس بجٹ میں بھی، مدارس کے لئے کوئی حصہ مختص نہی کیا۔ میں نے کہا صاحب، مدارس حکومت کو آڈٹ کرنے دیں۔ اور حکوت کو چندہ اکھٹا کرنے دیں۔ مدارس کو اگلے سال بجٹ میں پورا حصہ ملے گا۔ تو پیارے دوست تپ گئے فرمانے لگے الحمدللہ! مدارس پہلے بھی انکی گرانٹ کے بغیر چل رہے تھے اب بھی چلتے رہینگے۔

احمد جاوید صاحب، فرماتے ہیں کہ بھئی سچ بات سلیقے اور احترام سے بھی تو کہی جاسکتی ہے۔ اس اللہ کے بندے ایک سوال کر کیا ڈالاہم نے تو جناب، ایک طوفان بدتمیزی برپا کرکے رکھ دیا ہے۔

ہمارا مسئلہ ہے کہ ہم یہ بات ماننے کو تیار نہی کہ ہم دنیا میں زوال پذیر ہو چکے ہیں اور اب ہماری ٹکے کی اہمیت نہی اقوام عالم میں۔ ہم اپنی غلطیاں ماننے کی بجائے اب ایسی چیزوں کے پیچھے چھپ کر اپنا احساس کمتری کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Pakistan
Pakistan

ایک صاحب مجھے کہتے ہیں کہ دیکھیں تجارت ہم بھی کرتے ہیں۔ ہم بھی تمام چیزیں بناتے ہیں لیکن ترقی امریکہ اور چین وغیرہ ہی کیوں کرتے ہیں۔ پھر اسکی وجہ بھی انہوں نے مجھے بتائی کہ یہ سارا پیرکرنسی کا چکر ہے اور انہوں نے سارا سونا تو اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ اور پھر انہوں نے مشہور زمانہ فیڈرل ریزو بینک کی مثال بھی مجھے سنائی۔ جواباَ جب میں نے چند طالبعلمانہ سوالات کئے تو آپ فرمانے لگے کہ آپ سب کو یہ نصاب میں پڑھایا جاتا ہے اور آپ چپ چاپ مان لیتے ہوں۔حالانکہ پیر کرنسی کیسے بنتی ہے؟ ایشو کیسے ہوتی ہے؟کریڈٹ کے نتیجے میں نئی کرنسی یا نیا پیسہ کیسے وجود میں آتا ہے؟ گولڈ سمتھ بینکس کیا تھے؟

ان میں سے ایک سوال کا وہ جواب نہ دے سکے۔ اور کسی بھی معاملےکے بارے میں ٹکے کا علم نہی تھا۔

حسن نثار صاحب کی بڑی عمدہ بات آج بھی مجھے یاد ہے۔ ایک پروگرام میں انہی سازشوں کےمتعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا بھئی وہ تم سے بہتر دماغ رکھتے ہیں تو سازشیں کرتے ہیں۔ تم بھی کرلو۔

جب دنیا ترقی کر رہی تھی تب ہم نے فتاوی جات کے ڈھیر لگا دئیے اور اپنی بیڑی میں وٹے خود ڈال دئیے اور اب عیسیٰء اور مہدی کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔عباس ابن فرناس جیسا جنونی جو ہوا میں اڑنا چاہتا تھا اڑنے کی کوشش میں مر جاتا ہے تو جناب ہمارے علماء میں بحث چھڑتی ہے کہ یہ عام موت مرا یا خودکشی کی۔ اور یورپ میں بحث چھڑتی ہے کہ کیا واقعی انسان اڑ سکتا ہے یا نہی؟ سپین سے مسلمانوں کی شہرہ آفاق تصانیف کو اتنی کثیر تعداد میں انہوں نے ترجمہ کروایا، ایک کتاب سپین میں عربی میں لکھی جاتی تھی اور ادھر فوراَ اسکا ترجمہ ہوجاتا تھا۔ اور ہمارے محسنوں نے کہا جو لوہے کی سواری کرے وہ حرام، کیمرے سے تصویر بنانا حرام، بلڈ ٹرانسفیوژن حرام، اور ابھی پچھلے دنوں میں سٹرابری کی حرمت کا بھی فتویٰ آیا ہے۔

ڈھکے ہوؤں سے زیادہ انسانیت تو ان برہنہ لوگوں میں ہے جو مذہب اور ذات سے بالاتر ہو کر بے لوث خدمت کرتے ہیں۔ وہ بے لوث کام جو میڈیکل کے فیلڈ میں ہوا، جو ٹیکنالوجی کے فیلڈ میں ہوا، جو بزنس کے فیلڈ میں ہوا، جو موسیقی کے فیلڈ میں ہوا، ڈرامہ، آرٹ، کلچر، فلم یہ تمام شبعہ ہائے زندگی جسکا رخ آج یورپ نے بدل دیا ہے۔ اسکی بدولت آج ہم سکھ سے پنکھے نیچے یا اے سی نیچے بیٹھ کر سخت روزے میں سکون حاصل کرتے ہیں۔ یار وفا کرو، اور چھوڑ ان چیزوں کو، جو سازش کر رہا ہو، اسکی طرف دیکھنا بھی مناسب نہی تم انہی سازیشیوں کے چیزیں استعمال کرتے ہو؟ ذرا گدھے کی سواری کیا کرو، تلواروں سے لڑا کرو، جب کہیں لوگوں کو مشتعل کرنا ہوتا ہے تب تو کالی لینڈ کروزر پہ دوڑے دوڑے چلے جاتے ہو۔

حمزہ علی عباسی صاحب اورانسانیت کا درد رکھنے والے سب سے کہوں گا۔

؎ یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا

اے چاند یہاں نہ نکلا کر۔

Muhammad Husnain
Muhammad Husnain

تحریر : محمد حسنین اشرف

لاہور، پاکستان

Share this:
Tags:
Earth moon name people time چاند دنیا قوم نام وقت
Submerge
Previous Post دلخراش واقعات اور ہماری حسی
Next Post پیرس: برطانیہ کو یورپ کی ضرورت ہے یا نہیں ! فیصلہ کل ہو گا
David Cameron

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close