Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

”سلپ آف ٹنگ”

February 8, 2015 0 1 min read
PML-N
PML-N
PML-N

تحریر: نجیم شاہ
تاریخ 7 فروری ، سال 2015ء اور دن ہفتہ کا تھا۔ ایک بڑی تعداد میں سیاسی جماعت کے کارکنان الیکشن ٹربیونل آفس کے سامنے جمع ہو کر ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈال رہے تھے۔ اسی دوران ایک پُرجوش خاتون نے مجمع میں موجود کارکنان پر نظر دوڑائی اور سب کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کیا وہ اپنے لیڈر کیساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئے تیار ہیں؟ کارکنان نے جیسے ہی باآواز ”تیار ہیں” کا نعرۂ بلند کیا تو مذکورہ خاتون نے جوش بھرے انداز میں ”گو نواز گو” کے نعرے لگانا شروع کر دیئے۔ یہ نہ ہی تحریک انصاف اور نہ حکومت مخالف کسی دیگر سیاسی جماعت کے کارکنان تھے بلکہ انکا تعلق حکمران مسلم لیگ (ن) سے تھا جو الیکشن ٹربیونل لاہور میں انتخابی حلقہ 122 میں ہونے والی مبینہ دھاندلی بارے بیان قلمبند کروانے کیلئے آنیوالے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا دفاع کرنے اور انہیں سپورٹ کرنے آئے تھے۔

متوالی اتنی پرجوش تھیں کہ انہیں سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کیا نعرۂ لگا رہی ہیں۔ ابھی صرف دو ہی نعرے لگائے تھے کہ اسکے ساتھیوں کو غلطی کا احساس ہو گیا، ایک نے آگے بڑھ کر خاتون کو خاموش کرایا، جس کے بعد مذکورہ خاتون کارکن غلطی کا احساس ہونے پر سوری بولتی رہیں اور بتایا کہ وہ دراصل ”رو عمران رو” کا نعرۂ لگانا چاہتی تھی لیکن زبان پھسلنے کے باعث ”گو نواز گو” کا نعرۂ لگ گیا۔ سلپ آف ٹنگ یا زبان کا پھسل جانا ایک قابل نظرانداز غلطی سمجھی جاتی ہے لیکن جب یہ غلطی سیاست دان اور حکومتی یا پارٹی سربراہان کی جانب سے ہو تو وہ پریشان حال افراد کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ پاکستانی سیاست میں ایسی چیزیں بہت عام ہیں۔ سیاست دان تو کیمرے کے سامنے پتا نہیں کیا کچھ اول فول بک جاتے ہیں

یہاں تو صرف زبان پھسلی ہے۔ اس پر شرمندہ ہونے کی چنداں ضرورت نہیں، کیونکہ اس سے عوام کو تفریح اور مسکراہٹ کا ایک بہانہ مل جاتا ہے۔ جوشِ خطابت کے دوران زبان پھسلنے کے معاملے میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی تاحال سرفہرست ہیں۔ سیاسی ٹوٹے کہے جانے والے ماضی کے چند واقعات میں ہمارے سیاستدان جوشِ خطاب میں کہنا تو کچھ اور چاہتے تھے مگر کہہ کچھ اور گئے۔ 2013ء میں انتخابی مہم کے دوران شریف برادران بجلی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے رہے۔ شہباز شریف نے علی پور چٹھہ میں جلسہ عام کے دوران جہاں پیپلز پارٹی، ق لیگ اور تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا وہاں جوش میں انہوں نے یہ بھی اعلان کر دیا کہ ”اگر ہمیں موقع ملا تو ہم دو سال میں بجلی ختم کر دینگے”۔ ساتھ اسٹیج پر کھڑے لوگ بھی سوچے سمجھے بغیر اِن شاء اللہ، اِن شاء اللہ کہتے رہے۔

انہوں نے چار مختلف تقریروں میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کیلئے الگ الگ دعوے کئے۔ پہلے چھ ماہ، پھر ڈیڑھ سال، پھر دو سال اور پھر تین سال۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو میرا نام شہباز شریف نہیں۔ ایک اور انتخابی جلسے کے دوران شہباز شریف کا کہنا تھا ”اب وقت آگیا ہے کہ شیر، بلے اور تیر کو توڑ دیا جائے”۔ حکومت میں آنے کے بعد انجینئرنگ یونیورسٹی میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی ایک تقریب میں طلبہ سے خطاب کے دوران بھی وزیراعلیٰ پنجاب کی زبان اچانک پھسل گئی اور جوشِ خطابت میں کہا کہ ”اگر لیپ ٹاپ میں ایک روپے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو آپ کا گریبان اور میرا ہاتھ ہوگا”۔ جس پر طلباء بھی بلاسوچے سمجھے تالیاں بجاتے رہے۔

شہباز شریف کا جوشِ خطاب دیکھ کر نواز شریف کیسے خاموش رہ سکتے تھے اور انتخابی مہم کے دوران میانوالی کے جلسے میں وہ بھی بول پڑے کہ ”بجلی نے آپ کی کمر توڑی ہے، ہم دو سال میں اس کی کمر توڑ دینگے”۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی زبان بھی ایسی پھسلی کہ جوشِ خطابت میں مسلم لیگ (ن) کیلئے ووٹ مانگتے رہے۔ اٹک میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ”گیارہ مئی کو مہربانی کریں اور پولنگ اسٹیشن جا کر شیر کے اوپر مہر لگائیں” تاہم ساتھ کھڑے شخص نے انہیں کہا کہ بَلے پر مہر لگانی ہے جس پر عمران خان نے کہا کہ ”ہاں بالکل بَلے پر مہر لگائیں ، شیر کا تو میں شکاری ہوں۔

Asif Ali Zardari
Asif Ali Zardari

اصل میں کبھی کبھی سچی بات بھی منہ سے نکل ہی جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے خان صاحب نے اپنا ذاتی ووٹ شیر کو ہی ڈالا ہو۔ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں سرکاری ٹی وی نے صدر زرداری کی تقریر ایک بار چلنے کے بعد سنسر کر دی تھی۔ اس تقریر میں آصف علی زرداری نے جوشِ خطابت میں قائداعظم کو نان گریجویٹ کہہ دیا تھا جس کے بعد ساری ایوان صدر کی فوج زرداری صاحب کے دفاع کو نکل آئی کہ صدر کی تقریر تحریر نہیں تھی اور پھر سرکاری ٹی وی سے ان کی تقریر ایڈٹ کرنے کے بعد نشر ہوئی۔ اکتوبر 2014ء میں ایک طویل تقریر کے دوران بلاول بھٹو زرداری کی زبان کئی بار پھسلی، ایک بار تو وہ وزیراعلیٰ پنجاب کو وزیراعظم پنجاب بھی کہہ گئے۔

پیپلز سیکرٹریٹ میں ہونیوالی پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک کی زبان بھی ایسی پھسلی کہ وہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر کو بدستور ”صدر آصف علی زرداری” کہہ کر پکارتے رہے۔ خورشید شاہ نے بھی زبان پھسلن کے باعث بھارت کے قومی پرچم ”ترنگا” کو اپنا جھنڈا قرار دیدیا تھا۔ اسی طرح منظور وسان نے بھی ایک دفعہ زرداری کو پارٹی کا ”کو چیئرمین” کہنے کے بجائے ”چور چیئرمین” کہہ دیا۔ صوبہ پنجاب کے سابق وزیر قانون اور مسلم لیگی رہنمائ رانا ثناء اللہ بھی ماضی میں یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ ”مسلم لیگ (ن) نہ ہی ایک سیاسی جماعت ہے، نہ ہم نے اس کو سیاسی جماعت تسلیم کیا ہے۔ یہ ابن الوقت لوگوں کا گروہ ہے

یہ ایک مفاد پرست لوگوں کا گروہ ہے”۔ رانا ثناء اللہ دراصل (ق) لیگ کو نشانہ بنا رہے تھے مگر زبان پھسلنے کی وجہ سے اپنی ہی پارٹی کو رگڑ ڈالا۔ بلاول ہائوس میں پی پی پی کے یوم تاسیس کے سلسلے میں منعقدہ ایک جلسے میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زبان بھی ایک بار پھسل پڑی جب وہ بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ آپ جب سڑکوں پر نکلیں گے تو عوام کا ہجوم اسی طرح آپ کے پیچھے ہوگا جیسے ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے پیچھے ہوتا تھا۔ قائم علی شاہ نے ذوالفقار بھٹو کی 1971 ء کی مثال دی کہ انہوں نے کراچی کے 15حلقوں میں سے 8 پر کامیابی حاصل کی اور جب ایئرپورٹ پر اترے تو عوام کے ہجوم کی وجہ سے انہیں ”نائن زیرو” پہنچتے چار گھنٹے لگ گئے۔ وزیراعلیٰ سندھ دراصل ”سیون زیرو” کلفٹن کی مثال دینا چاہتے تھے

لیکن ز بان کے پھسلنے سے ”نائن زیرو” کا لفظ ان کی زبان پر آگیا اور اسٹیج کے برابر میں موجود صحافی ہنس کر تبصرے کرتے رہے کہ ”1971ء میں نائن زیرو کا کہاں وجود تھا؟” عمران خان کے لاہور دھرنے میں ایک بار شیخ رشید احمد کی زبان بھی پھسل گئی اور کہہ ڈالا کہ ”ہم وزیراعظم نواز شریف کے حکم پر جاتی امراء کا گھیرائو کرینگے”۔ قومی اسمبلی میں بحث کے دوران ایک بار مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی میاں عبدالمنان کی زبان بھی پھسل گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ”آئیں بلوچستان و سندھ کے زخموں پر نمک رکھیں”، جس پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ ”ان کے نمک کو مرہم پڑھا جائے۔

میاں عبدالمنان کی بات پر ایم کیو ایم کے آصف حسنین نے تبصرہ کیا کہ دل کی بات زبان پر آہی جاتی ہے۔ آصف حسنین کے تبصرے پر ایوان میں قہقہے گونجنے لگے۔جن دنوں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے دھرنے اپنے عروج پر تھے تو پشاور میں مسلم لیگ (ن) کے زیر اہتمام استحکام پاکستان کنونشن میں جوشِ خطابت میں پارٹی کے صوبائی صدر پیر صابر شاہ نے ”گو نواز گو” کے نعرے لگا دیئے تھے۔ بعد میں اپنی اس غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ”گو نواز گو” کے نعرے دراصل نادانستہ طور پر ان کی زبان سے پھسل گئے تھے۔ دھرنے تو ختم ہو گئے مگر عوام کی تفریح ختم نہ ہو سکی، جس کی ایک مثال الیکشن ٹربیونل لاہور کے سامنے مسلم لیگ (ن) کی متوالی کا ”گو نواز گو” کا تازہ نعرۂ ہے۔ ”گو نواز گو” ایک متنازعہ سیاسی نعرہ ہے

جو وزیراعظم نواز شریف کی استعفیٰ کی مہم کے دوران تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی طرف سے پاکستان میں استعمال کیا گیا۔ پچھلے چند مہینوں میں ”گو نواز گو” انتہائی مقبول ہوا اور بہت سے مواقع پر استعمال کیا گیا،جس کے ردعمل میں ”رو عمران رو” کا نعرہ سامنے آیا، جسے نواز شریف کے حامی عمران خان کے خلاف لگاتے ہیں۔اسی طرح پاکستان کے سابق صدر آصف زرداری کے خلاف ”گو زرداری گو” اور بلاول بھٹو زرداری کے خلاف ”گو بلاول گو” کے نعرے لگائے گئے۔ ایک نعرۂ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ پرویز خٹک کے خلاف ”گو خٹک گو” بھی منظرعام پر آیا جو پاکستان تحریک انصاف کے ایک رکن نے متعارف کرایا۔ ”گو نواز گو”نعرۂ ایک مختصر عرصہ میں بہت مقبول ہوا اور اکثر و بیشتر احتجاجوں اور مظاہروں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ایک موقع پر گلو بٹ جو کہ مسلم لیگ (ن) کا حامی سمجھا جاتا ہے نے بھی ”گو نواز گو” کے نعرے لگائے اور اب (ن) لیگ کی متوالی نے بھی پیر صابر شاہ اور گلو بٹ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی ہی پارٹی کے لیڈر اور وزیراعظم کے خلاف نعرۂ بلند کر دیا ہے۔ کہتے ہیں جو دل میں ہوتا ہے آخر زبان پر آہی جاتا ہے۔ الیکشن ٹربیونل کے باہر متوالی کے منہ سے گو نواز گو نکل جانے کے بعد تحریک انصاف کی رہنماء شیریں مزاری نے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکن خود نواز شریف کو جانے کا کہہ رہے ہیں، لہٰذا وزیراعظم کو چلے جانا چاہئے۔ بہرحال یہ ماننا پڑے گا کہ عمران خان نے ”گو نواز گو” کے نعرے کو عوام کے ذہنوں کے ہر ایک گوشے میں پہنچا دیا ہے۔

یہ نعرۂ چونکہ نواز شریف کے جمہوری پارٹنر اور سابق صدر آصف زرداری کو بھی اچھا لگتا ہے ، اس لیے بہتر ہو گا کہ میاں صاحب خود بھی اس نعرے کو اپنا لیں اور جس طرح اولمپکس ریس میں عوام اپنے پسندیدہ کھلاڑی کیلئے ”گو کارلوس گو” جیسے نعرے لگاتے ہیں، میاں صاحب بھی ”گو نواز گو” کو اپنے حق میں سمجھتے ہوئے خود بھی ”گو نواز گو” کہنا شروع کر دیں، ورنہ بقول اعتزاز احسن ”گو نواز گو” نہ جانے کب تک میاں صاحب کا پیچھا کرتا رہے گا۔

Najeem Shah
Najeem Shah

تحریر : نجیم شاہ

Share this:
Tags:
election happiness pakistan party politics Sense Smile احساس الیکشن پارٹی پاکستانی خوشیاں سیاست مسکراہٹ
Karachi
Previous Post غیر قانونی تعمیرات کا فوری خاتمہ اور قبضہ مافیا کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے:شوکت ربانی
Next Post بھمبر کی خبریں 5/02/2015
Bhimbar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close