Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

حسن بِن صباح کی جنت اور خود کش حملہ آور

April 16, 2015April 16, 2015 0 1 min read
Hasan Bin Sabah
Islam
Islam

تحریر:سید فیضان رضا
یہ گیارہویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے! اسلام کی سربلندی اور سرفرازی کے لیے سلاطینِ سلجوق دل و جان سے کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ اس زمانے میں مشہور امام موافق کی درسگاہ نے عالمی شہرت پائی کیونکہ یہاں سے وقت کے عظیم لوگ فارغ التحصیل ہوئے یا یوں کہیے کہ امام موافق کے مدرسے سے فارغ ہونے والے بیشتر لوگوں نے تاریخ میں اپنا نام پیدا کیا۔ اِسی مدرسے میں تین طلباء کی دوستی قابلِ رشک سمجھی جاتی تھی جن کا اُٹھنا بیٹھنا کھانا پینا سب کچھ ایک ساتھ تھا۔ دو ہم نام تھے ، جن میں ایک کا نام حسن طوسی اور دوسرے کا نام حسن بن صباح تھا ۔تیسرے دوست کا نام عمر تھا۔ عمر ، جو بعد میں عمر خیام کے نام سے مشہور ہوا نے اپنی علمی دھاک ایسی بٹھائی کہ لوگ آج تک اُس کی علمی باتوں کو بطور حوالہ پیش کرتے ہیں۔عمر خیام وقت کا بہترین شاعر اور علم دان بناجس کی تحقیق اور علمی تدبر سے آنے والے زمانے سیراب ہوتے رہے۔حسن طوسی جنہیں تاریخ نظام الملک خواجہ حسن طوسی کے نام سے جانتی ہے، نے اپنے علم و دانش اور تدبر کے باعث سلجوقیہ سلطنت میں جگہ بنائی اور وزارتِ عظمیٰ کے عہدے تک پہنچے۔

سلاطین نے ہی اُنہیں نظام الملک کا خطاب دیا تھا اور سلطنت کا کوئی کام اِن کے مشورے کے بغیر نہیں کرتے تھے۔ان کا بنایا ہوا مدرسہ نظامیہ آج تک اپنی تاریخی حیثیت کے ساتھ موجود ہے جس نے ایک زمانے کی علمی تشنگی کو سیراب کیا ہے۔تیسرا کردار، حسن بن صباح ، جس نے نہ صرف تاریخ میں جگہ بنائی بلکہ اپنے ذہنی اور ابلیسی کمالات کی ایسی داستان رقم کی کہ آنے والی نسلیں بھی اس کا نام سُن کر کانپتی رہیں۔ وہ کردار جو اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ تھا مگر وقت کے بادشاہ بھی اُس پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتے تھے، اور جو حکمران اس کے خلاف کاروائی کی کوشش بھی کرتا اُسے بے دردی سے قتل کر دیا جاتاتھا۔حسن بن صباح کی پوری تاریخ تو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے مگر میں آپ کو یہاں چیدہ چیدہ واقعات کے ذریعے اُس کی حقیقت بتانے کی کوشش کرتا ہوں۔

حسن بن صباح شروع میں اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھتا تھا اور ایک زمانے تک اپنے آپ کو سُنی ظاہر کرتا رہا، مگر بعد میں اِس نے اپنے ہی نئے فرقے کی بُنیاد رکھ دی، اور خود کو خدا کا ایلچی اور امام بنا کر مذہبِ اسلام کی بیخ کُنی کرنے لگا۔اس نے تا عمر اپنے آپ کو اہلِ اسلام ظاہر کیا اور اپنے پیروکاروں کو گمراہ کرتا رہا۔ عملِ تنویم (ہپناٹزم) کا باقاعدہ استعمال سب سے پہلے حسن بن صباح نے ہی کیا تھا، اس سے پہلے یہ علم ایک نامعلوم حیثیت سے موجود تھا۔اس نے مشہور قلعہ المُوت میں اپنی حکومت قائم کی اور یہیں مشہور اور بدنامِ زمانہ جنت تعمیر کی گئی جہاں حسن بن صباح نے 35 برس تک حکمرانی کی اور نوے سال کی عمر میں طبعی موت مرا کیونکہ کسی کو اس کے قلعہ کے قریب آنے کی جرات بھی نہیں ہوئی۔ حسن بن صباح کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ اِس کے فدائین تھے جو بعد میں حشیشین کے نام سے بھی مشہور ہوئے کیونکہ وہ حشیش (ایک قسم کی بھنگ) کا نشہ کرتے تھے۔ یہ فدائین تھے کیا؟ اس بات کا اندازہ آپ ان واقعات سے لگا سکتے ہیں۔

Hasan Bin Sabah
Hasan Bin Sabah

جب حسن بن صباح کا فتنہ بہت بڑھ چکا تو سلجوقی سلطان ملک شاہ نے اس کے خلاف لشکر کشی کا فیصلہ کیا۔ لشکرکشی سے پہلے ایک قاصد کو یہ پیغام دے کر بھیجا گیا کہ حسن بن صباح خود کو سلطنت کے حوالے کردے اور اپنی منفی سرگرمیاں ختم کردے ورنہ اُس کے قلعہ پر چڑھائی کردی جائیگی۔ ایلچی نے یہ پیغام قلعہ المُوت میں جا کر حسن بن صباح کو سُنایا۔”میں کسی کی اطاعت قبول نہیں کرتا” حسن بن صباح نے کہا، ”اور نظام الملک سے کہنا کہ میں بچپن کی دوستی کے تحت تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ یہاں کا رُخ مت کرنا ورنہ تمہاری فوج کا انجام بہت بُرا ہوگا”۔ایلچی یہ پیغام لے کر جانے لگا تو حسن بن صباح نے اُسے روک لیا۔ ”ٹھہرو شاید تم میری باتوں کا یقین نہ کرو میں تمہیں کچھ دکھانا چاہتا ہوں”۔اس کے بعد حسن بن صباح کے حکم سے کچھ فدائین قطار بنا کر وہاں کھڑے ہوگئے۔اس نے ایک فدائی کو بُلا کر خنجرپکڑایا اور کہا، ”اِسے اپنے سینے میں اُتار لو”۔اُس فدائی نے بلند آواز میں نعرہ لگایا ”یا شیخ الجبل تیرے نام پر” اور خنجر اپنے دل میں اُتار لیا۔اس کے بعد ایک دوسرے فدائی کو بلا کر حکم دیا کہ بلندی پر جا کر سر کے بل چھلانگ لگا دو ۔وہ خاموشی سے گیا اور چھت سے چھلانگ لگادی اور اپنی گردن تڑوا بیٹھا۔

ایسے ہی ایک فدائی کو پانی میں ڈوبنے کو کہا گیا اور اُس نے بخوشی اپنے آپ کو پانی کی تُند و تیز لہروں کے حوالے کردیا۔اس ایلچی نے جا کر یہ تمام واقعات سلطان اور نظام الملک کو گوش گزار کردیے۔نظام الملک خواجہ حسن طوسی یہ سن کر جذبہء ایمانی کے غصے سے لبریز ہوگئے اور سلطان کو فوراً لشکر کشی کا مشورہ دیا جسے سلطان نے قبول کرتے ہوئے اپنے فوجوں کا رُخ قلعہ المُوت کی طرف کرلیا ۔ حسن بن صباح نے یہ سُنا تو زیرِ لب مسکرایا اور کہا، ” حسن طوسی کو قتل کردو” بس اتنا ہی کہنا تھا اور خواجہ حسن طوسی کو قتل کردیا گیا، اور عظیم الشان لشکر راستے سے ہی واپس ہولیا۔بعد میں سلطان ملک شاہ کو بھی قتل کر دیا گیا۔قتل کرنے کا طریقہ بڑا سادہ ہوتا تھا۔فدائی مطلوبہ شخصیت تک کسی بھی طریقے سے پہنچتا تھا اور اس کو قتل کر کے ایک بلند نعرہ لگاتا تھا ”یا امام الجبل حسن بن صباح! تیرے نام پر تیری جنت سے اللہ کی جنت میں جا رہا ہوں”اور اپنے دل میں خنجر اُتار لیتا تھا۔ایسے ہی حسن بن صباح نے اعلیٰ شخصیات اور وقت کے بہترین علماے کرام کو قتل کروایا۔ حتیٰ کہ اپنے آخر دور میں یہ فدائی باقاعدہ کرائے کے قتل بن گئے اور عیسائیوں کے کہنے پر انہوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی پر بھی تین قاتلانہ حملے کیے مگر ایوبی سلامت رہا۔

آخر یہ فدائی خود کش حملہ کیسے کر لیتے تھے؟ اس کے لیے پہلے آپ کو حسن صباح کی جنت کا احوال جاننا ہوگا۔ حسن بن صباح نے قلعہ المُوت میں ایک جنت تعمیر کر کھی تھی۔یہاں جنت کے مذکور تمام سامان آراستہ کرنے کی پوری کوشش کی گئی تھی۔دودھ، شہد اور صاف پانی کے چشمے بنائے گئے۔جنتی حوروں کی مثل لڑکیاں دُنیا بھر سے اکھٹی کر کے یہاں لائیں گئیں۔جہاں یہ جنت بنائی گئی وہ جگہ ویسے ہی قدرتی حسن سے مالا مال تھی۔ سرسبز و شاداب مناظر کسی بھی شخص کا دل موہ لینے کے لیے کافی تھے۔حسن بن صباح کے فدائین حشیش کے نشے کے زیرِ اثر یہاں لائے جاتے تھے۔یہ ایسا نشہ ہوتا تھا کہ انسان ویسے ہی اپنے آپ کو جنت میں محسوس کرنے لگ جاتا اس پر جب اس کو مصنوعی جنت کے نظاروں میں لڑکیوں کی دلفریب ادائوں کی نظر کیا جاتا تو وہ بالکل ہی مدہوش ہو جاتا۔بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔

یہاں جو بھی لایا جاتا وہ کچی عمر میں لایا جاتا تھا۔حشیش کا نشہ ، جنت کے حسین نظاروں اور حوروں کے علاوہ ان پر عملِ تنویم (ہپناٹزم) کیا جاتا تھا جس میں حسن بن صباح نے خاص مہارت حاصل کی تھی۔بارہ سے لے کر سترہ سال تک کے یہ لڑکے جب عمر کی پختگی تک پہنچنے لگتے تو وہ ایسے ہی محسوس کرتے تھے جیسے وہ واقعی جنت میں رہتے ہوں اوراِس کے بغیر ایک لمحہ جینا بھی ان کے لیے محال ہوگا۔اِن سے کہا جاتا کہ فلاں کو قتل کر کے خود کو مار لو گے تو اس سے بڑی اللہ کی جنت میں پہنچ جائو گے۔ان تمام مراحل میں وہ شخص ہمہ وقت ایک خواب کی کیفیت میں رہتا تھاجو حشیش اور ہپناٹزم کا اثر تھا۔وہ شخص جنت کے لیے اس قدر بے چین ہوتا کہ بخوشی اپنی جان حسن بن صباح پر قربان کردیتاتھا۔

Suicide Attack
Suicide Attack

پاکستان میں ہونے والے خودکش حملوں میں بالکل ایسے ہی فدائی استعمال ہوتے ہیں۔یہ سب اٹھارہ سال سے کم ہوتے ہیں۔ان سب کی برین واشنگ کی جاتی ہے جیسے حسن بن صباح اپنے فدائین کی کرتا تھا۔ان سب کو ہپناٹزم اور نشے کے زیرِ اثر لاکر اس کام کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔یہاں بھی ایسی ہی جنتوں کی نشاندہی ہوئی ہے جو ان لڑکوں کی ٹریننگ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔حال میں ہی گرفتار ہونے ہونے والے کچھ نو عمر لڑکوں نے یہ انکشافات کیے ہیں کہ طالبان سکول اور کالجز کی لڑکیوں کو اغوا کر کے اُن سے زیادتی کرتے تھے۔یہ لڑکیاں اُن کو بطور حوریں پیش کی جاتی تھیں۔اور پھر قرآن و حدیث کی روشنی میں بتایا جاتا تھا کہ اگر تم یہ خود کش حملہ کروگے تو جنت میں کثیر تعداد حوریں تمہارا استقبال کریں گی۔ایک گرفتار نو عمر خود کش حملہ آور نے انکشاف کیا کہ حوروں کا اس قدر دلفریب بیان کیا جاتا تھا ہم اُن کے حصول کے لیے پاگل ہو جاتے تھے،اورحور نما لڑکیاں آکر اپنا جسم ان کے ساتھ مَس کر کے ان کے جذبات میں ہیجان پیدا کر دیتی تھیں۔ اس کے علاوہ زیادہ اثر ہپناٹزم اور نشہ آور چیز کا ہوتا ہے۔شعور کمزور کردیا جاتا ہے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کر کے جنت کی ایسی منظر کشی کی جاتی ہے کہ وہ نو عمر لڑکا فوراً خود کش حملے کے لیے تیار ہو جاتاہے۔

اس کے لیے بیرونی طاقتوں نے بڑی طویل منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔یہاں را اور سی آئی اے کے ایجنٹس مساجد کے خطیب اور مفتی بنے ہوئے ہیں۔ ISI کی ایک رپورٹ کے مطابق قریباً چالیس کے قریب ایسے علمائوں کی خبر ہے جو بڑی بڑی مساجد میں خطیب بن کر بیٹھے ہیں اور در حقیقت را کے ایجنٹس ہیں۔ یہاں کچھ سوالات بھی اُٹھتے ہیں۔وہ طالبان جن کو سمارٹ فون کے فنکشنزکا نہیں پتا ہپناٹزم جیسا مشکل عمل کیسے کر لیتے ہیں؟ خودکش جیکٹ کیسے تیار کرلیتے ہیں؟جدید اسلحہ کہاں سے لاتے ہیں؟ ان کی ڈوریں کس کے ہاتھ میں ہیں؟ میرے جو معصوم دوست ان کو اپنا ہم عقیدہ جان کر ان کا دفاع کرتے ہیں اُن سے عرض ہے کہ یہ اب آپکے ہم عقیدہ بھائی نہیں رہے۔یہ فدائین بن چکے ہیں۔۔یہ ہپناٹائزڈ ہیں۔۔یہ اپنے آپ کو حشیشین کی طرح اہلِ اسلام بتاتے ہیں مگر دراصل اسلام کے بدترین دشمن ہیں۔۔۔یہ اب باطل کے پیروکار بن چُکے ہیں۔۔اللہ آپ کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا فرمائے۔آمین!

Syed Faizan Raza
Syed Faizan Raza

تحریر:سید فیضان رضا

Share this:
Tags:
attackers Paradise proud suicide جنت حملہ آور خود کش سربلندی
Madrasas
Previous Post مدارس اور ”اسلامی” جمہوریہ پاکستان
Next Post حجرِ اسود کی ڈکیتی
Al Hajar Al Aswad

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close