Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

انقلاب آفریں اور آہنی قیادت شیر خدا حضرت علی کرم اﷲ وجہ

February 22, 2021 0 1 min read
Hazrat Ali
Hazrat Ali
Hazrat Ali

تحریر : ڈاکٹر ساجد خاکوانی

شیر خدا حضرت علی کرم اﷲ وجہ اسلام لانے والے اولین لوگوں میں سے ہیں ،آپ کی عمر مبارک نو سال کی تھی جب محسن انسانیت ۖ کے دست مبارک پر مشرف بہ ایمان ہوئے۔مکی زندگی کے نشیب و فراز میں آپ دم بہ دم نبی اکرم ۖ کے ہمراہ رہے ۔مدینہ میں داماد نبی ۖ کا شرف حاصل ہوا،متعدد معرکوں میں داد شجاعت کے باعث ”شیر خدا” کا لقب پایا۔خیبر کی فتح اﷲ تعالی نے آپ کے ہاتھ پر عطا کی۔خلفائے راشدین کے دست راست رہے اور امت کے چوتھے خلیفہ کے طور پر قیامت تک مسلمان آپ کو یاد کرتے رہیں گے۔شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ کی ولادت باسعادت 603ء بمطابق 13رجب32میلادی کو حرم کعبہ میں ہوئی،یہ مدت ہجرت مدینہ سے کم و بیش اکیس سال بیشتر بنتی ہے۔ ”علی” نام رکھا گیا ”ابوالحسن” اور ”ابوتراب ”کنیتیں تھیں۔والدہ”حیدر(شیر)”کہ کر پکارتی تھیں ”مرتضی ”اور ”اسداﷲ”کے القابات اﷲ تعالی اور اسکے رسولۖ کی طرف سے عطا ہوئے جبکہ امت آپ کو ”امیرالمومنین” کے خطاب سے یاد کرتی ہے۔شیر خدا حضرت علی کرم اﷲ وجہ نجیب الطرفین قریشی وہاشمی تھے۔

آپ ۖ کے سگے چچا زاد تھے۔آپ کی پرورش ونگہداشت وتربیت براہ راست نبی ۖ کی زیر نگرانی ہوئی۔آپ کے والدابوطالب بن عبدالمطلب کثیر العیال اور معاشی طور پر مفلوک الحال تھے،چنانچہ آپ ۖ نے حضرت عباس کو مشورہ دیا کہ جعفر طیار کی پرورش آپ کریں اور علی کی کفالت میں ۖ کرتا ہوں،اس وقت شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ کی عمر مبارک تین سال تھی۔اس طرح آپ کا دامن صحبت نبوی ۖ کے باعث بچپن ہی سے جہالت و مفسدات کی آلودگیوں سے پاک رہا۔ٍ بڑے ہوئے تو سفر و حضر میں آپ ۖ کے ساتھ رہنے لگے،گھر کے جملہ معاملات میں ہاتھ بٹاتے اور اپنی عمر کے اعتبار سے ذمہ داریوں کی ادائگی میں بھی معاونت کرتے۔اسی وجہ سے آپ کے اخلاق و عادات پر اخلاق نبوی ۖ کی گہری چھاپ تھی۔بعثت کے بعد جب رشتہ داروں کو دعوت دینے کا حکم ہوا تو آپ ۖ نے سب آل بنی ہاشم کو کھانے پر بلایا اور انہیں اپنی نبوت پر ایمان لانے کا کہا تواس وقت شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ نے فرمایا ”گو میں عمر میں چھوٹا ہوں ،میری ٹانگیں کمزور ہیں اور آشوب چشم میں مبتلا ہوں مگر میں آپ کا مددگار بنوں گا”۔اس وقت آپ کی عمر مبارک صرف آٹھ سال تھی۔

مکی زندگی کے پر آشوب دور میں آپ نبی پاک ۖ کے ساتھ ساتھ رہے،خود فرماتے ہیں کہ ”میں محسن انسانیت ۖ کے پیچھے پیچھے ایسے چلتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اس کے پیچھے چلتا ہے”تبلیغی اسفار میں باالعموم آپ ہی رفیق نبویۖ ہوتے۔تین سالہ شعب ابی طالب کے جاں گسل دورمیں بھی نبی ۖ کے ہم رکاب رہے۔ہجرت کے موقع پر آخری رات آپ ہی بسترنبویۖ پرمحو استراحت ہوئے یہ گویا موت کا بستر تھا اور آپ نے حکم نبویۖ کے سامنے جان کی پروا بھی نہ کی۔اگلے دن امانتیں لوٹا کر عازم مدینہ ہوئے۔آپ ۖ ابھی قبا کے مقام پر ہی قیام پزیر تھے کہ حضرت علی اس حال میں آپ سے ملے کہ دونوں پاؤں آبلوں سے بھرے تھے۔مواخات کے موقع پر آپ ۖ نے اپنے آپ کو انصار میں شامل فرما کر تو مہاجرین میں سے شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ کو اپنا مواخاتی بھائی قرار دیااور فرمایا تم دنیاوآخرت میں میرے بھائی ہو۔جب آپ کی عمر مبارک23,24سال کی ہوئی تو آپ ۖ نے اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرا کا نکاح آپ سے فرمادیا اس طرح آپ داماد نبیۖ بن کرعز و شرف میں پہلے سے اور آگے نکل گئے۔یہ 2 ہجری کا واقعہ ہے ۔

مدنی زندگی کے تمام غزوات میں شیر خدا حضرت علی کرم اﷲ وجہ نبی ۖ کے دست راست رہے۔بدر،احد اور خندق کے معرکوں میں آپ نے عزم و ہمت اور شجاعت و جوانمردی کی عظیم الشان تاریخ رقم کی،صلح حدیبیہ کا معاہدہ آپ ہی نے تحریر کیا۔معرکہ خیبر میں تو مرحب جیسے بدمعاش پہلوان سے نپٹنا صرف آپ کا ہی خاصہ تھا،آپ نے اسکے وار کے جواب میں ایسا وار کیا کہ جبڑوں تک اسکا سر پھٹتا چلاگیا۔آخری قلعہ کا دروازہ آپ نے اپنے دست ایمانی سے اکھاڑ پھینکا تھا۔مکہ پر چڑھائی کے وقت جاسوسی کا خط لے جانے والی عورت کو بھی آپ نے پکڑاتھااور اس سے خط برآمد کیا ۔شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ صرف غزوہ تبوک میں شامل نہ ہوئے تھے کیونکہ آپۖ نے بطور جانشین آپ کو مدینہ رہنے کا حکم فرمایا تھا۔حجة الوداع سے واپسی پر غدیدخم نامی ایک جگہ آپ ۖنے قیام فرمایااور وہاں موجود مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے حضرت علی کرم اللہ وجہ کے فضائل و مناقب بیان فرمائے ۔آپ ۖ نے ایک موقع پرفرمایاکہ ”میں علم کاشہرہوں اور علی اس کادروازہ ہیں”۔وصال نبوی ۖ کے وقت آپ نے ہی آپۖ کوغسل اور آپ ۖ کی تجہیز و تکفین کا کام سرانجام دیا۔یہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہ کاحجرہ مبارک تھا جس میں حضرت علی نے چند دیگر اصحاب رسول ۖ کے ساتھ مل کر آپ ۖ کی آخری رسومات ادا کیں۔وصال نبوی ۖ اہل بیت کے لیے کسی سانحے سے کم نہ تھا لیکن شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ نے بڑے حوصلے،صبر اور ہمت سے اس مرحلے خود کواور اہل بیت نبوی کو بخوبی نکالا۔آل بنی ہاشم ،خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے لیکن حضرت علی کی دوراندیشی ہمیشہ کام آئی۔ابوسفیان اور دیگر اکابرین قریش اکثر حضرت علی کو خلافت پر قابض ہونے کا مشورہ دیتے لیکن حرص حکومت و حوص اقتدار کسی مومن کو عام طور پر اور شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ کو خاص طور پر زیب نہیں دیتا۔تاہم آپ خلفائے ثلثہ یعنی حضرت ابوبکر،حضرت عمر اور حضرت عثمان کے زمانوں میں انکے دست راست رہے۔ایران پر چڑھائی کے موقع پر یہ شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ ہی تھے جنہوں نے حضرت عمر کو کسی طور بھی مرکزخلافت ,مدینہ منورہ, نہ چھوڑنے کا صائب مشورہ دیا تھا۔ایک موقع پر آپ نے خود اس کا اعتراف کیا جب ایک شخص نے سابق خلفاء کے دور میں پرامن حالات اورآپ کے دور خلافت میں حالات کی خرابی اورکاشکوہ کیاتو آپ نے فرمایا ہمیں مشورہ دینے والے تم ہو اور انہیں مشورہ دینے والے ہم تھے۔

خلیفہ دوئم حضرت عمر کی قائم کردہ کمیٹی جو حضرت عثمان،حضرت علی،حضرت طلحہ،حضرت زبیر،حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت سعدبن ابی وقاص پرمشتنل تھی ،اس کمیٹی نے اپنے فیصلے میںجو ترتیب مقرر کی تھی اس میں حضرت عثمان کے بعددوسرا نمبر آپ حجرت علی کرم اللہ وجہ کا ہی تھا۔چنانچہ شہادت عثمان کے بعد تین دن تک منصب خلافت خالی رہا ۔مدینہ پر بلوائیوں کا قبضہ تھا اور کوئی بھی نامور شخصیت بار خلافت اٹھانے کو تیار نہ تھی۔ان حالات میں انصار و مہاجرین کے بزرگ جمع ہو کر حضرت علی کے پاس تشریف لائے اور انہیں اس منصب کے قبول کرنے کی دعوت دی،ابتداََ آپ نے انکار کیا اور فرمایا کہ مجھے امیر کی نسبت وزیر بننا پسند ہے۔لیکن حالات کے بگاڑ کا حل اور امت کا اجماع دونوں امور آپ کی ذات پر ہی جمع ہو رہے تھے تب آپ کی ہمت عالیہ تھی جس نے اس نازک اور کڑے وقت میں 24ذوالحجہ35ھجری کو امت کی باگ دوڑ سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔ شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ نے عنان اقتدار سنبھالتے ہی گزشتہ خلفائے راشدین کی سنت کے مطابق اجتماع مسلمین کے سامنے ایک خطبہ دیا،آپ نے فرمایا”اﷲ تبارک وتعالی نے انسانوں کی ہدایت و راہنمائی کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا ہے ،اس میں خیر وشر سب کھول کھول کر بیان کر دیا گیا ہے ۔تم اﷲ تعالی کے عائد کردہ فرائض اداکرو،تمہیں جنت ملے گی۔اﷲ تعالی نے حرم پاک کو محترم ٹہرایا ہے۔مسلمانوں کی جان کو ہر چیز سے زیادہ قیمتی قرار دیاہے اور مسلمانوں کو خلوص واتحاد کی تلقین کی ہے۔مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ماسوائے جس کسی پر کوئی حد شرعی واجب ہو۔خدا کے بندوں سے معاملہ کرتے ہوئے خدا سے ڈرو،قیامت کے روز زمینوں اور مویشیوں کی بابت تم سے باز پرس ہو گی۔اﷲ تعالی کی اطاعت کرو اور اسکے احکامات کی خلاف ورزی سے بچو۔جہاں کہیں بھلائی کی بات دیکھو اسے قبول کرواور جہاں بدی نظر آئے اس سے پرہیز کرو”۔

عنان اقتدار سنبھالتے ہی سب سے پہلے جو مسئلہ درپیش ہوا وہ حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کا قصاص تھا۔تمام بزرگوں کا اورامت کا مطالبہ تھا کہ قاتلوں کو فی الفور سزا دی جائے، شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ پرجیسے جیسے دباؤ بڑھتا گیا آپ کی مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا کیونکہ خلیفہ ثالث ایک بلوے میں شہید کیے گئے تھے اور بلوے میں اصل قاتل کی تلاش کوئی آسان کام نہیں ہوتااور خاص طور پر جب سب بلوائی ایکہ کر لیں تو یہ ناممکن ہوجاتا ہے۔حضرت علی کا کہنا تھا کہ امن و امان قائم ہونے پراور حالات معمول پرآنے تک ہی قاتلین عثمان سے قصاص لینا ممکن ہوسکے گا، جبکہ دوسری طرف مدینہ بری طرح بدامنی کاشکار تھا۔ شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ کے باربار کہنے کے باوجود بلوائی مدینہ طیبہ چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔ان حالات میں شام کے گورنرحضرت امیرمعاویہ نے جو حضرت عثمان کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے،شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ کی بیعت کرنے سے انکار کر دیااور قاتلین عثمان کو انکے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔امیرالمومنین حضر ت علی کرم اﷲ وجہ نے مفاہمت کی بہت کوشش کی لیکن امیر معاویہ نے قصاص عثمان کو سیاسی رنگ دے کر اس کے ذریعے امیرالمومنین کے خلاف عوام الناس کو بھڑکانا شروع کر دیا اور انکے قاصد نے مدینہ آکرواضع طور پر انصار و مہاجرین کے بزرگوں کے سامنے کہا کہ ہم قتل عثمان کا بدلہ شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ سے لینا چاہتے ہیں۔حالات بڑی تیزی سے جنگ کی طرف جارہے تھے۔

شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ ابھی امیر معاویہ سے معاملہ کرنے کی کوشش میں تھے کہ دوسری طرف ام المومنین حضرت عائشہ نے قصاص کانعرہ بلند کر کے توبصرہ پر قبضہ کر لیا ۔حضرت علی نے اپنی سپاہ کے ساتھ بصرہ کا رخ کیا مصالحت کی کوششیں کئی دنوں تک چلتی رہیں اور دونوں لشکر آمنے سامنے خیمہ زن رہے۔ایک رات گئے صلح جوئی کی کوششیں بارآور ثابت ہوئیں تمام شرائط طے پا گئیں اور فیصلہ ہوا کہ چونکہ رات بہت بیت چکی ہے اس لیے صبح کو معاہدہ لکھ لیا جائے گا اور افواج اپنے اپنے علاقوں کو لوٹ جائیں گی۔قاتلین عثمان جو دراصل دونوں طرف کی افواج میں پھیلے ہوئے تھے انہیں یہ صلح کسی طور بھی راس نہیں تھی کیونکہ جس دن امن قائم ہوتا اسی دن سے انکی گرفتاری اور قصاص کا عمل شروع ہو جاتا۔چنانچہ ایک طے شدہ پروگرام کے تحت اگلے دن دونوں طرف کے بلوائیوں نے جنگ شروع کر دی۔قائدین سمجھتے رہے کہ فریق مخالف نے رات کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے لیکن حقیقت بہت مختلف تھی۔ام المومنین حضرت عائشہ اونٹ پر سوار تھیں اسی لیے اس جنگ کو جنگ جمل کہتے ہیں۔شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ نے اپنی افواج کو حکم دیا کہ اونٹ کی ٹانگیں کاٹ دی جائیں،اونٹ کے بیٹھتے ہی بصری افواج تتر بتر ہو گئیں،انکا پیچھا کرنے،قتل کرنے اور گرفتار کرنے سے شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ نے منع کر دیا اور بصرہ کی چالیس بزرگ خواتین کے ساتھ ام المومنین کو مدینہ منورہ روانہ کر دیا۔

جنگ جمل کے بعد شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ نے کوفہ کو اپنا دارالحکومت بنایا اور امیرمعاویہ کو اطاعت کی دعوت دی اور نہ ماننے پرجنگ کی دھمکی بھی دی۔امیرمعاویہ کی مسلسل ہٹ دھرمی کے باعث مسلمان 36ھجری میں آمنے سامنے صف آرا ہو گئے۔یہ لڑائی جنگ صفین کہلاتی ہے ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ جس کے دوران گاہے گاہے صلح کی کوششیں بھی جاری رہیںلیکن بے سود۔جب شامی افواج شکست سے دوچار ہونے لگیں تو انہوں نے نیزوں پر قرآن اٹھا لیے کہ ہمارا تمہارا فیصلہ کتاب اﷲ کرے گی،اس پر علوی افواج نے لڑنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔دونوں طرف سے دو ثالث مقرر ہوئے دونوں نے فیصلہ کیا کہ شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ اور حضرت امیرمعاویہ ،دونوں کو معزول کر کے تو امت کے لیے نیا خلیفہ مقرر کیا جائے۔اعلان کے وقت حضرت علی کے ثالث ابو موسی اشعری نے طے شدہ فیصلے کا اعلان کیا لیکن ہزاروں مسلمانوں کے سامنے جامع مسجد میں امیرمعاویہ کا ثالث عمرو بن العاص اپنے معاہدے سے روگردانی کر گئے اور امیرمعاویہ کو مسلمانوں کا خلیفہ قرار دے دیا۔اس موقع پر پھر بزرگان امت درمیان میں آگئے اور طے کیا کہ دونوں اپنے اپنے علاقوں پر حکومت کریں کوئی دوسرے کے معاملے میں دخل نہ دے۔چنانچہ دونوں افواج واپس چلی گئیں ۔امیرمعاویہ اس کے بعدبھی شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ کے علاقوں پر فوج کشی کرتے رہے کبھی کامیابی اور کبھی ناکامی ان کا مقدر بنتی رہیں۔یہ کشمکش ابھی جاری تھی کہ خوارج نے خروج کر دیااور شیر خداحضر ت علی کرم اﷲ وجہ کے لیے ایک نیا محاذ کھل گیا۔خارجی بہت دلیر اور مضبوط عقیدے کے مالک تھے اورجنگ سے ٹلتے نہ تھے۔انکی یہی خو ئے شجاعت ہی شہادت حضرت علی کا باعث بنی اورایک خارجی نے آپ پر فجر کی نماز میں حملہ کیا۔وار کاری ثابت ہوا اور21رمضان المبارک40ھجری کو آپ شہادت سے ہم آغوش ہوئے۔امام حسن بن علی نے جنازہ پڑھایا اور لاش کی بے حرمتی کے خوف سے نامعلوم مقام پر دفن کیا۔اس وقت آپ کی عمر مبارک63برس تھی اور مدت خلافت 4سال اور9ماہ ہے۔

آپ نے نظام خلافت کی اصلاح کی اور اسے اسلامی تصور جمہوریت کے قریب تر کیا،عمال کے محاسبے کا فاروقی نظام بحال کیا،رات کو شہروں کا گشت اپنا معمول بنایااور بہت سی فوجی اصلاحات بھی کیں۔لیکن چونکہ آپ کا سارا دور سورشوں اور بغاوتوں سے بھرا ہواتھا اس لیے آپ کو کھل کر اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کا موقع نہ ملا۔علم و فضل،امانت و دیانت اور زہدوتقوی آپ کی پہچان نہیں بلکہ آپ ان سب صفات جمیلہ کی پہچان ہیں۔امت مسلمہ ہمیشہ آپ کی گرویدہ رہی ہے اور کل امت خلیفہ راشد کی حیثیت سے آپ کی پیروکار ہے۔متعدد کتب آپ سے منسوب ہیں،”کتاب جامعہ”یا”کتاب علی”ایک مجموعہ ہے جس میں آپۖ کی مرویات اور متعدد احکام و مسائل جن کی املاء خود آپۖ نے دی تھی جمع ہیں۔”صحیفہ امام علی”میں بھی آپۖ کی زبان مبارک سے سنے ہوئے الفاظ جمع کیے ہیں۔”کتاب جفرواشعار”میں حضرت علی کرم اﷲوجہ کامنظوم کلام درج کیاگیاہے۔”نہج البلاغہ”میں حضرت علی کے خطبات جمع کیے گئے ہیں جوانہوں نے متعددمواقع پر ارشادفرمائے اوراس کے علاوہ آپ کے اقوال و ارشادات کااورنجی و سرکاری خطوط واحکامات کوبہت سی کتب میں جمع کردیاگیاہے۔عربی علماء کے مطابق صرف و نحوکے علم کے بانی حضرت علی کرم اللہ وجہ ہی ہیں،شروع میں یہ ایک ہی علم تھااور حضرت علی کرم اللہ وجہ نے سب سے پہلے اس علم کی مبادیات کاتعین کیاتھا۔حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہ کے ہوتے ہوئے حضرت علی نے مزیدکوئی شادی نہیں کی تھی،بی بی صاحبہ کے بعد پھرآپ نے متعدد نکاح کیے ۔آپ کی کل اولاد کی تعدادباختلاف 27تک پہنچتی ہے،حضرت بی بی پاک کے بطن سے چلنے والی نسل ”فاطمی ”اولاد کہلاتی ہے جب کہ دیگر زوجات والے ”علوی”کہلاتے ہیں۔آپ کی نسل سے بعض نے حکومت بھی کی لیکن زیادہ تر اپنے اجدادسے کسب کرتے ہوئے فقیرانہ زندگی پر قانع رہے چنانچہ تصوف کے کم و بیش تمام سلسلے اولاد علی سے ہوتے ہوئے حضرت علی پر ہی ختم ہوجاتے ہیں اور یہ حضرت کااصل فیض ہے جو تاقیامت جاری رہے گا۔واقعہ کربلامیں آپ کی اولاد مبارکہ ایک بہت بڑے سانحے سے دوچارہوئی لیکن اہلبیت کی یہ قربانیاں دین کی حیات ابدی کا باعث ہیں۔

تحریر : ڈاکٹر ساجد خاکوانی

Share this:
Tags:
hazrat ali Islam life Muslim révolution اسلام انقلاب حضرت علی زندگی مسلمان
Police Officers
Previous Post ڈی ایس پی کے عہدے پر ترقی پانے والے 103 افسران کے تبادلے
Next Post ڈسکہ الیکشن میں جاں بحق پی ٹی آئی کارکن کے ورثا کیلیے مالی امداد کا اعلان
Shibli Faraz and Firdous Ashiq Awan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close