Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سانحہ کربلا

October 31, 2014 0 1 min read
Hazrat Imam Hussain
Hazrat Imam Hussain
Hazrat Imam Hussain

تحریر : محمد شعیب تنولی
طبری، بلاذری اور ابن سعد کی روایتیں اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کوفہ کی باغی تحریک زیر زمین چلی گئی تھی۔ انہوں نے حضرت امام حسن اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے اتحاد کو دل سے قبول نہ کیا تھا چنانچہ یہ لوگ حضرت حسن کو ترغیب دلاتے رہتے تھے کہ وہ صلح کے معاہدے کو توڑ کر حضرت معاویہ سے دوبارہ جنگ شروع کریں۔ حضرت حسن انہیں جھڑک دیتے تو یہ آ کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے نقطہ نظر پر قائل کرنے کی کوشش کرتے۔ آپ نے بھی حضرت معاویہ کے زمانے میں ان کی کوئی بات قبول نہ کی اور اپنی بیعت پر قائم رہے۔ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور یزید نے اقتدار سنبھالا تو گورنر مدینہ ولید بن عتبہ بن ابی سفیان نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلا کر انہیں یہ خبر سنائی اور ان سے بیعت طلب کی۔ حضرت حسین نے فرمایا: “انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تعالی معاویہ پر رحمت فرمائے اور آپ کے اجر میں اضافہ کرے۔بیعت کا جو سوال آپ نے کیا ہے تو میں پوشیدہ طور پر بیعت کرنے والا نہیں ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو بھی مجھ سے پوشیدہ بیعت نہیں لینی چاہیے بلکہ اعلانیہ لوگوں کے سامنے بیعت لینی چاہیے۔

ولید نے اس بات کو قبول کیا تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب آپ سب لوگوں سے بیعت لیں گے تو ان کے ساتھ مجھ سے بھی لے لیجیے گا۔” ولید ایک عافیت پسند آدمی تھے اور جھگڑے جدال کو پسند نہ کرتے تھے، اس وجہ سے انہوں نے آپ کو جانے کی اجازت دے دی۔( طبری۔ 4/1-140۔ بلاذری ۔ 5/316۔ ) ابو مخنف نے حضرت حسین کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما سے متعلق دو متضاد الفاظ نقل کیے ہیں۔ ایک میں انہیں اس امت کا فرعون قرار دیا گیا ہے اور دوسرے میں آپ کے لیے رحمت کی دعا کی گئی ہے۔ اس کا اندازہ ہم خود لگا سکتے ہیں کہ کون سی بات حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے شایان شان ہے۔

اس کے بعد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کا سفر کیا۔ آپ کے بھائیوں میں سے حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ نے اس موقع پر آپ کو جو رائے دی، وہ ابو مخنف نے یوں نقل کی ہے: بھائی جان! تمام مخلوق میں آپ سے بڑھ کر مجھے کوئی محبوب نہیں ہے اور آپ سے بڑھ کر دنیا میں کسی کے لیے بھی خیر خواہی کا کلمہ میرے منہ سے نہ نکلے گا۔ آپ اپنے لوگوں کے ساتھ یزید بن معاویہ سے اور سب شہروں سے جہاں تک ہو سکے ، الگ رہیے۔ اپنے قاصدوں کو لوگوں کے پاس بھیجیے اور ان کے سامنے اپنی دعوت پیش کیجیے۔ اگر وہ آپ کی بیعت کر لیں تو اس پر اللہ کا شکر کیجیے اور اگر لوگ آپ کے علاوہ کسی اور پر متفق ہو جائیں تو اس سے آپ کے دین اور عقل میں اللہ کوئی کمی نہ فرمائے گا اور آپ کے احترام اور فضل میں بھی کوئی کمی واقع نہ ہو گی۔ مجھے خطرہ ہے کہ آپ (بالخصوص عراق کے) ان شہروں میں سے کسی شہر میں داخل ہوں ۔ لوگوں کا ایک گروہ آپ کے پاس آ جائے، پھر ان میں اختلاف پڑ جائے اور دوسرا گروہ آپ کے مخالف آ کھڑا ہو۔ کشت و خون کی نوبت آ جائے تو سب سے پہلے آپ کی طرف برچھیوں کا رخ ہو جائے اور آپ جیسے شخص کا، جو ذاتی اور خاندانی اعتبار سے بہترین ہے، آسانی سے خون بہا دیا جائے اور آپ کے سب اہل و عیال تباہی میں مبتلا ہوں۔

حضرت حسین نے پوچھا: “بھائی! پھر میں کہاں جاؤں؟” محمد نے عرض کیا: “آپ مکہ چلے جائیے۔ وہاں اطمینان حاصل ہو جائے تو ٹھیک ورنہ پھر ریگستانوں اور پہاڑوں میں چلے جائیے۔ ایک مقام کو چھوڑ کر دوسرے پر منتقل ہو جائیے۔ دیکھتے رہیے کہ اونٹ کس طرف بیٹھتا ہے۔ اس وقت آپ رائے قائم کرتے ہوئے تمام امور کو براہ راست دیکھیے اور جو بات عقل کے تقاضوں پر پورا اترے، اسے اختیار کر لیجیے۔ اس سے بڑھ کر مشکل کا سامنا کسی صورت میں نہ ہو گا کہ معاملات کو ٹیڑھے رخ سے آپ کو دکھایا جائے۔” آپ نے فرمایا: “میرے بھائی! آپ نے خیر خواہی اور محبت کی بات کہی ہے۔ امید یہی ہے کہ آپ کی رائے درست اور موافق ہو گی۔ ( ایضاً۔ 4/1-142۔ بلاذری 5/317۔ ) واقدی کی روایت کے مطابق حضرت حسین کے علاوہ ابن زبیر رضی اللہ عنہم بھی مدینہ سے نکل آئے تھے۔ راستے میں ان کی ملاقات ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے ہوئی۔ یہ پوچھنے لگے: “کیا خبر ہے۔” انہوں نے جواب دیا: “معاویہ فوت ہو گئے اور یزید کی بیعت لی جا رہی ہے۔” ابن عمر نے ان دونوں سے کہا: “آپ دونوں اللہ سے ڈریے اور مسلمانوں کی اجتماعیت سے علیحدہ نہ ہوں۔” پھر ابن عمر مدینہ چلے آئے اور وہیں ٹھہرے رہے۔ کچھ دن انتظار کیا اور جب تمام شہروں کی بیعت کا حال انہیں معلوم ہوا تو ولید بن عتبہ کے پاس آ کر انہوں نے بھی بیعت کر لی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی۔ ( ایضاً ۔ 4/1-144) تاریخ طبری میں ایک ایسی روایت ملتی ہے جو ہشام کلبی، ابو مخنف اور واقدی تینوں کی سند سے خالی ہے۔ ہم یہی روایت یہاں درج کر رہے ہیں۔ اس کے راوی عمار بن معاویہ الدہنی (d. 133/750) ہیں جو کہ اہل تشیع میں سے اعتدال پسند گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ( ذہبی۔ میزان الاعتدال 5/206۔ راوی نمبر 6011)۔ انہوں نے یہ روایت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے محمد باقر رحمہ اللہ سے نقل کی ہے۔

حدثني زكرياء بن يحيى الضرير، قال: حدثنا أحمد بن جناب المصيصي – ويكنى أبا الوليد – قال: حدثنا خالد بن يزيد بن أسد بن عبد الله القسري، قال: حدثنا عمار الدهني: عمار الدہنی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر (محمد باقر) سے عرض کیا: “مجھے حسین کی شہادت کا واقعہ اس طرح تفصیل سے سنائیے کہ مجھے محسوس ہو کہ گویا کہ میں وہاں خود موجود ہوں۔ ” انہوں نے فرمایا۔
جب معاویہ فوت ہوئے تو ولید بن عتبہ بن ابی سفیان مدینہ کے گورنر تھے۔ انہوں نے حسین کو بیعت لینے کے لیے پیغام بھیجا۔ انہوں نے فرمایا: “مجھے کچھ مہلت دیجیے۔” ولید نے ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا اور انہیں مہلت دی۔ اب آپ نکل کر مکہ تشریف لے گئے۔ وہاں اہل کوفہ (کے کچھ لوگ) اور ان کے قاصد یہ پیغام لے کر آئے کہ ہم لوگ آپ پر بھروسہ کیے بیٹھے ہیں اور نماز جمعہ میں کوفہ کے گورنر کے ساتھ شریک نہیں ہوتے۔ آپ ہمارے پاس آ جائیے۔ اس زمانہ میں نعمان بن بشیر کوفہ کے گورنر تھے۔ حسین نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو بلوایا اور ان سے کہا: “آپ کوفہ روانہ ہو جائیے اور یہ دیکھیے کہ یہ لوگ مجھے کیا لکھ رہے ہیں۔ اگر وہ سچ لکھ رہے ہیں تو پھر میں ان کی طرف چلا جاؤں؟”
مسلم وہاں سے روانہ ہو کر مدینہ میں آئے اور یہاں سے دو راہبروں کو ساتھ لے کر کوفہ کی جانب روانہ ہوئے۔ دونوں راہبر صحرا کی طرف سے چلے ۔ راستے میں ان میں سے ایک پیاس کے مارے فوت ہو گیا۔ مسلم نے حسین کو لکھا: “اس سفر سے مجھے معاف رکھیے۔” حسین نے یہی لکھا کہ آپ کوفہ جائیے۔ مسلم آگے بڑھے اور آخر کار کوفہ پہنچ گئے۔ یہاں انہوں نے ایک شخص ، جس کا نام ابن عوسجہ تھا، کے گھر قیام کیا۔ ان کے آنے کی شہرت اہل کوفہ میں پھیل گئی اور لوگ آ آ کر بیعت کرنے لگے۔ بارہ ہزار آدمیوں نے ان کی بیعت کی۔ یزید کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر (گورنر کوفہ) نعمان بن بشیر سے کہا: “یا تو آپ کمزور ہیں یا پھر کمزور بنتے ہیں۔ شہر میں فساد پھیل رہا ہے (اور آپ کچھ نہیں کرتے۔) نعمان نے فرمایا: “اگر اللہ کی اطاعت میں میں کمزور سمجھا جاؤں تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں صاحب قوت کہلاؤں۔ میں ایسا شخص نہیں ہوں کہ جس بات پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا ہے، اس کا پردہ فاش کروں۔” اس شخص نے ان کی یہ بات یزید کو لکھ بھیجی۔

یزید نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام کو بلایا ، جس کا نام سرجون تھا اور وہ اس سے مشورہ کیا کرتا تھا۔ اس نے سرجون کو ساری بات بتلائی۔ اس نے کہا: “اگر معاویہ زندہ ہوتے تو کیا آپ ان کی بات مان لیتے؟” یزید نے کہا: “ہاں۔” اس نے کہا: “پھر میری بات مانیے ۔ کوفہ کے لیے (موجودہ گورنر بصرہ) عبیداللہ بن زیاد سے بہتر کوئی شخص نہیں ہے۔ اسی کو وہاں کی حکومت دے دیجیے۔” اس سے پہلے یزید، ابن زیاد سے ناراض تھا اور اسے بصرہ کی گورنری سے بھی معزول کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اسے لکھ بھیجا: “میں آپ سے خوش ہوں۔ میں نے بصرہ کے ساتھ کوفہ کی گورنری بھی آپ کے سپرد کی۔” ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ مسلم بن عقیل کا پتہ چلایے اور وہ ہاتھ آ جائیں تو انہیں بھی قتل کر دیجیے۔ عبیداللہ بصرہ کے سرکردہ لوگوں کو لے کر سر اور منہ کو لپیٹے کوفہ میں آ پہنچا۔ وہ جس مجمع سے گزرتا تھا، انہیں “السلام علیکم” کہتا تھا۔ جواب میں لوگ اسے “وعلیک السلام اے رسول اللہ کے نواسے” کہتے تھے۔ ان لوگوں کو شبہ تھا کہ تھا کہ یہ حسین بن علی ہیں۔ عبیداللہ گورنر کے محل میں آ پہنچا اور اپنے ایک آزاد کردہ غلام کو بلا کر تین ہزار درہم دیے اور کہا: “جاؤ، اس شخص کا پتہ چلاؤ جس سے اہل کوفہ بیعت کر رہے ہیں۔ اس سے یہی کہنا کہ میں حمص (شام) سے اسی بیعت کے لیے آیا ہوں اور یہ مال اسے دے دینا کہ اس سے اپنی طاقت میں اضافہ کیجیے۔” وہ شخص اسی طرح (مختلف لوگوں کے ذریعے) نرمی سے بات کر کے (باغی تحریک) کا سراغ چلانے کی کوشش کی۔ آخر کار اہل کوفہ میں سے ایک ایسے بوڑھے شخص کے پاس اسے کسی نے پہنچا دیا ، جو بیعت لیا کرتا تھا۔یہ غلام اب اس شخص سے ملا اور ساری بات کہہ دی۔ وہ بوڑھا کہنے لگا: “تمہارے ملنے سے میں خوش بھی ہوا ہوں اور مجھے تکلیف بھی ہوئی ہے۔ میں خوش اس بات سے ہوا ہوں کہ اللہ نے تمہیں ہدایت دی مگر غمگین اس لیے ہوا ہوں کہ ہماری تحریک ابھی مستحکم نہیں ہوئی ہے۔” یہ کہہ کر وہ بوڑھا اس غلام کو اندر لے گیا اور اس سے مال لے لیا اور اس سے بیعت لے لی۔ غلام نے آ کر عبیداللہ کو ساری تفصیل بیان کر دی۔

Allah
Allah

عبیداللہ جب کوفہ میں آیا تو مسلم (بن عقیل) ابھی جس گھر میں تھے، اسے چھوڑ کر ہانی بن عروہ مرادی کے گھر میں چلے آئے۔ انہوں نے حسین بن علی کو لکھ بھیجا کہ بارہ ہزار کوفیوں نے بیعت کر لی ہے، آپ ضرور تشریف لے آئیے۔ ادھر عبیداللہ نے کوفہ کے سرکردہ لوگوں سے پوچھا: “سب لوگوں کے ساتھ ہانی بن عروہ میرے پاس کیوں نہیں آئے ہیں۔” یہ سن کر محمد بن اشعث اپنی برادری کے لوگوں کے ساتھ ہانی کے پاس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ دروازے کے باہر ہی کھڑے ہیں۔ انہوں نے ان سے کہا: “گورنر نے ابھی آپ کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے آنے میں بہت دیر کر دی ہے۔ آپ کو ان کے پاس جانا چاہیے۔” یہ لوگ اسی طرح اصرار کرتے رہے، آخر ہانی سوار ہو کر ان لوگوں کے ساتھ عبید اللہ کے پاس چلے آئے۔ اس وقت قاضی شریح بھی وہیں موجود تھے۔ ہانی کو دیکھ کر عبیداللہ نے شریح سے کہا: “لیجیے! آنے والا اپنے پاؤں پر چل کر ہمارے پاس آ گیا ہے۔” ہانی نے جب سلام کیا تو عبیداللہ کہنے لگا: “یہ بتائیں کہ مسلم کہاں ہیں؟” ہانی نے کہا: “مجھے کیا معلوم؟” عبیداللہ نے اپنے غلام کو، جو درہم لے کر گیا تھا، بلایا۔ جب وہ ہانی کے سامنے آیا تو یہ اسے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ کہنے لگے: “گورنر کا اللہ بھلا کرے۔ واللہ! مسلم کو میں نے اپنے گھر میں نہیں بلایا، وہ خود سے آئے اور میری ذمہ داری بن گئے۔” عبیداللہ نے کہا: “انہیں میرے پاس لاؤ۔” وہ بولے: “واللہ! اگر وہ میرے پاؤں کے نیچے بھی چھپے ہوتے تو میں وہاں سے قدم نہ سرکاتا۔” عبیداللہ نے حکم دیا کہ اسے میرے قریب لاؤ۔ جب وہ لوگ ہانی کو اس کے قریب لے گئے تو اس نے ان پر ایسی ضرب لگائی کہ ان کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ہانی نے ایک سپاہی کی تلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ اسے میان سے نکالیں لیکن لوگوں نے انہیں روک دیا۔ عبیداللہ نے کہا: “تمہارا قتل اب اللہ نے حلال کر دیا ہے۔” یہ کہہ کر قید کا حکم دیا اور محل ہی کی ایک طرف انہیں قید کر دیا گیا۔ ۔۔۔۔۔ (ا س کےبعد طبری نے بیچ میں بطور جملہ معترضہ ایک اور روایت بیان کی ہے۔ پھر دوبارہ عمار الدہنی کے بیان کی طرف واپس آئے ہیں۔) ہانی اسی حالت میں تھے کہ یہ خبر (ان کے ) قبیلہ مذحج کو پہنچ گئی۔ ابن زیاد کے محل کےد روازے پر ایک شور سا بلند ہوا۔ وہ سن کر پوچھنے لگا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ مذحج کے لوگ ہیں۔ ابن زیاد نے شریح سے کہا: “آپ ان لوگوں کے پاس جائیے اور انہیں بتائیے کہ میں کچھ بات چیت کے لیے ہانی کو صرف قید کیا ہے۔” اس نے اپنے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک کو جاسوسی کے لیے بھیجا کہ دیکھ کر آؤ کہ شریح کیا بات کرتے ہیں؟ شریح کا گزر ہانی کی طر ف سے ہوا تو ہانی نے کہا: “شریح! اللہ سے ڈریے۔ یہ شخص مجھے قتل کرنا چاہتا ہے۔” شریح نے محل کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا: “انہیں نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہے۔ گورنر نے بس کچھ بات چیت کے لیے انہیں روک رکھا ہے۔” سب لوگ کہنے لگے: “شریح صحیح کہہ رہے ہیں۔ تمہارے سردار کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہے۔” یہ سن کر سبھی لوگ بکھر گئے۔

دوسری طرف مسلم (بن عقیل) کو جب یہ خبر ملی تو انہوں نے اپنے شعار (خاص کوڈ ورڈز) کا اعلان کروا دیا اور اہل کوفہ میں سے چار ہزار آدمی ان کے پاس جمع ہو گئے۔ اب مسلم نے فوج کے مقدمہ (اگلے حصے) کو آگے بڑھایا، میمنہ و میسرہ (دایاں اور بایاں بازو) کو درست کیا اور خود قلب (درمیانہ حصہ) میں آ کر عبیداللہ کا رخ کیا۔ ادھر عبیداللہ نے اہل کوفہ کے سرکردہ لوگوں کو بلا کر اپنے خاص محل میں جمع کیا۔ مسلم جب محل کے دروازے پر پہنچے تو تمام سردار محل پر چڑھ کر اپنے اپنے برادری والوں کے سامنے آئے اور انہیں سمجھا بجھا کر واپس کرنے لگے۔ اب لوگ مسلم کے پاس سے سرکنے لگے۔ شام ہونے تک پانچ سو آدمی رہ گئے۔ جب رات کا اندھیرا پھیلا تو وہ بھی ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ مسلم اکیلے گلیوں میں گھومتے ہوئے ایک مکان کے دروازہ پر بیٹھ گئے۔ ایک عورت نکلی تو اس سے پانی مانگا۔ اس نے پانی لا کر پلایا اور پھر اندر چلی گئی۔ کچھ دیر کے بعد وہ پھر نکلی تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ کہنے لگی: “اللہ کے بندے! آپ کا بیٹھنا تو مجھے مشکوک لگتا ہے، آپ یہاں سے اٹھ جائیے۔” انہوں نے کہا: “میں مسلم بن عقیل ہوں۔ کیا مجھے پناہ مل سکتی ہے؟” عورت نے کہا: “اندر آ جائیے۔ جگہ ہے۔” اس عورت کا بیٹا محمد بن اشعث کے ساتھیوں میں سے تھا۔ اسے جب علم ہوا تو اس نے ابن اشعث کو حال سنایا اور اس نے جا کر عبیداللہ کو خبر کی۔ عبیداللہ نے اپنے پولیس چیف عمرو بن حریث مخزومی کو روانہ کیا اور ابن اشعث کے بیٹے عبدالرحمن کو ساتھ کر دیا۔ مسلم کو خبر ہوئی کہ گھر کو سپاہیوں نے گھیر لیا ہے۔ انہوں نے تلوار اٹھا لی اور باہر آ کر لڑنا شروع کر دیا۔ عبدالرحمن نے کہا: “آپ کے لیے امان ہے۔” انہوں نے اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیا اور وہ انہیں لے کر عبیداللہ کے پاس آیا۔ عبیداللہ کے حکم سے محل کی چھت پر انہیں لے گئے اور انہیں قتل کر کے ان کی لاش لوگوں کے سامنے پھینک دی۔ پھر اس کے حکم سے لوگ ہانی کو گھسیٹ کر لے گئے اور سولی پر لٹکا دیا۔ ( طبری۔ 4/1-147 to 150 ) (اس کے بعد طبری نے ابو مخنف کی طویل روایتیں بیان کی ہیں اور پھر عمار الدہنی کی روایت کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا ہے۔) اس بیان سے واقعے کی صورت یہ نکلتی ہے: 1۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے جب گورنر مدینہ نے یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا تو انہوں نے مہلت طلب کی اور اس مہلت میں وہ مدینہ سے نکل کر مکہ آ پہنچے۔

Muharramul Haram
Muharramul Haram

2 جیسے ہی آپ مکہ پہنچے تو اہل کوفہ کا وفد آپ کے پاس آیا اور انہوں نے بہت سے خطوط لکھ کر آپ کو کوفہ آنے کی دعوت دی۔ کوفہ میں اس وقت انارکی کی سی صورت پیدا ہو گئی تھی اور وہ باغی تحریک، جسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دبا دیا تھا، دوبارہ کھڑی ہو رہی تھی۔ 3۔ آپ نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل رحمہ اللہ کو بھیجا کہ وہ کوفہ جا کر حالات کا جائزہ لیں۔ انہوں نے وہاں جا کر بیعت لینا شروع کر دی۔ اس دوران کوفہ پر عبیداللہ بن زیاد نے اپنا اقتدار مستحکم کر لیا۔ مسلم بن عقیل نے ایک فوج تیار کی اور گورنر کے محل کا محاصرہ کر لیا لیکن چند ہی گھنٹوں میں یہ فوج تتر بتر ہو گئی اور مسلم بن عقیل کو چھوڑ گئی۔ ابن زیاد نے انہیں گرفتار کروا کے قتل کر دیا۔ اس روایت کی تفصیلات کو درست مان لیا جائے اور یہ فرض کر لیا جائے کہ کسی راوی نے حضرت محمد باقر رحمہ اللہ کے بیان میں اپنی جانب سے کچھ نہیں ملایا ہو گا تو معلوم ہوتا ہے کہ اقدامات کی ابتدا باغی تحریک کی جانب سے ہوئی تھی جنہوں نے گورنر کے محل پر حملہ کا اقدام کیا۔ حضرت مسلم بن عقیل رحمہ اللہ ان باغیوں کی باتوں میں آ گئے اور انہوں نے قبل از وقت اقدام کر ڈالا۔ باغی تو چاہتے ہی یہ تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خاندان سے کوئی “شہید” انہیں ملے جس کے نام کو لے کر وہ اپنی تحریک میں زور پیدا کریں۔ اس وجہ سے وہ عین موقع پر حضرت مسلم کا ساتھ چھوڑ گئے۔ دوسری طرف ابن زیاد نے ضرورت سے زیادہ سخت ری ایکشن ظاہر کیا اور انہیں قتل کروا دیا۔ پھر اس نے ہانی بن عروہ کو بھی نہایت اذیت ناک طریقے سے سولی دی۔ اس کا یہ عمل ایک طرف ظلم تھا اور دوسری طرف اس کے جذباتی پن کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر وہ اس موقع پر اپنے والد زیاد بن ابی سفیان رحمہ اللہ کی حکمت و دانش سے کام لیتا اور معاملات کو نرمی سے سلجھاتا تو بعد کے سانحات پیش نہ آتے۔ مسلم بن عقیل رحمہ اللہ نے اس موقع پر ابن اشعث، جو کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے برادر نسبتی تھے، کے ہاتھ ایک پیغام حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام بھیجا جو طبری نے ابو مخنف کے حوالے سے نقل کیا ہے: اے اللہ کے بندے! میں سمجھتا ہوں کہ تم مجھے امان تو نہیں دلا سکو گے۔ اتنا سلوک کیا میرے ساتھ کرو گے کہ اپنے کسی آدمی کو میری طرف سے حسین کے پاس بھیج دو۔ وہ آج کل ہی میں تم لوگوں کے پاس آنے کو روانہ ہو چکے ہوں گے اور ان کے اہل بیت بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ تم جو میری بے تابی دیکھ رہے ہو، محض اسی سبب سے ہے۔ میری طرف سے یہ پیغام ان تک پہنچا دینا کہ: مسلم نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ وہ گرفتار ہو چکے ہیں۔ یہ نہیں چاہتے کہ آپ یہاں آئیں اور قتل کیے جائیں۔ آپ اہل بیت کو لے کر پلٹ جائیے، کوفیوں کے دھوکے میں نہ آئیے۔ یہ وہی لوگ ہیں، جن سے چھٹکارا پانے کے لیے آپ کے والد فوت ہو جانے اور قتل ہو جانے کی تمنا رکھتے تھے۔ اہل کوفہ نے آپ سے بھی جھوٹ بولے اور مجھ سے بھی جھوٹ بولے۔ میری رائے کو جھٹلائیے گا نہیں۔ ( ایضاً ۔ 4/1-168) ابو مخنف کی اس گھر کی گواہی سے معلوم ہوتا ہے کہ کوفہ کی باغی تحریک کے مقاصد کیا تھے۔

تحریر : محمد شعیب تنولی

Share this:
Tags:
Hazrat Imam Hussain Muharramul Haram Prayer travel اللہ حضرت امام حسین دعا سفر
Previous Post پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی خصوصی عدالت میں سماعت
Next Post پیرس ماسٹرز ٹینس ٹورنامنٹ، کوارٹر فائنل کیلئے کھلاڑیوں کا انتخاب مکمل
Novak Djokovic And Roger Federer

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close