پاکستان تحریک انصاف سے ناراض جاوید ہاشمی نے پارلیمنٹ کے سامنے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے بتایا تھا کہ ’وہ‘ کہتے ہیں کہ قادری صاحب کے ساتھ چلو۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں جائیں گے یا نہیں اس کا فیصلہ بعد میں ہوگا تاہم وہ پارلیمنٹ کی حفاظت کے لیے اپنی جان دے دیں گے۔ انھوں نے شکوہ کیا کہ ’کاش عمران خان نے پی ٹی آئی کے آئین کو پڑھا ہوتا وہ کل بھی صدر تھے اور آج بھی پارٹی کے صدر ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اختلافات ہو سکتے ہیں کشمیر کے معاملے پر سندھ اور بلوچستان کے حوالے سے اعتراضات ہو سکتے ہیں لیکن ہم مل کر بات کرتے ہیں۔
جاوید ہاشمی نے کہا کہ وہ کل بھی پی ٹی آئی کے صدر تھے اور آج بھی صدر ہیں عمران خان نے انھیں نکالنے کے لیے آئینی طریقہ اختیار نہیں کیا۔ ’کبھی پڑھتے تو صحیح اس آئین کو جو وہ اپنے صدر کے ساتھ جو وہ سلوک فرما رہے ہیں وہ نہ تو ان کی شان کے مطابق ہے اور نہ ہی قانون کے مطابق۔‘
پاکستان کی تاریخ پر اشارہ کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا کہ ’ہم نے ہمیشہ بندوق کی طاقت کو تسلیم کیا ووٹ کی طاقت کو تسلیم نہیں کیا‘۔
