
یہ داستاں ہے میری کوئی دل کشی نہیں
میری ہے آپ بیتی مگر آخری نہیں
دنیا کو شوق تھا کے کہانی سنے مری
ہم نے جو کی شروع کسی نے سنی نہیں
تو بھی اپنے روز بدلے رویے کو دیکھ لے
یہ دل کا معاملہ ہے کوئی دل لگی نہیں
جب سے ملا ہے روگ محبت کا یہ ہمیں
اس دن کے بعد سے کبھی آئی ہنسی نہیں
کچھ ایسی دھول جھونک کے وہ آنکھ میں گئی
ایسی لگا کے آگ گئی پھر بجھی نہیں
کرتا رہا دعائیں مگر بے اثر رہیں
جو بد دعا بھی دی تو کسی کو لگی نہیں
ارشیؔ یہ جانتا ہے ستم کون ڈھائے گا
اتنا یقیں کسی پہ کریں گے کبھی نہیں
