Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

من کے سچے لوگ

December 29, 2015 0 1 min read
Hazrat Muhammad PBUH
Hazrat Muhammad PBUH
Hazrat Muhammad PBUH

تحریر : خواجہ وجاہت صدیقی
دنیا عالم کو نور علم و نور ایمان سے فیضیاب ہوئے چودہ صدیاں بیت چکی ہیں وقت نے بڑے بڑے علم کے سمندر پیدا کیے،نبی آخر زمان ۖ کے دور کے بعد چاروں خلفائے راشدین اور اس کے بعد سے آج تک ہمیں بے پناہ علمی و قابل شخصیات میسر آئی ہیں مگر ان چودہ سو سالوں میں تاریخ کے مدو جزر سے ہم نے کچھ سیکھنے کی زحمت نہیں کی نجانے ہم کیوں بھلا بیٹھے کہ خطہ عرب سے امت مسلمہ کی ریاست یورپ کے قلب تک جا پہنچی اور غرناطہ کے بازار آج بھی اسلامی تہذیب کی عظمت رفتہ کے عکاس ہیں،خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق زیر انتظام ملت اسلامیہ کے علاقے آج بھی قرونِ اولٰی کے کردار کی داستانیں سناتے اور سلطنت عثمانیہ، عباسی خاندان اور مغلیہ ادوار کی تہذیبیں تاریخ دانوں کو حکمرانی کے اصولوں سے روشناس کراتی ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اپنے اسلاف کی تاریخ پر نظر ڈالنے کی کوشش کی؟ جواب ہمیں نہیں میں ملے گا کیونکہ اگر ہم نے کوشش کی ہوتی تو یہ بات ہم پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی کہ وہ مسلمان جنھوں نے عظیم سلطنتوں کی داغ بیل ڈالی وہ درحقیقت کردار کے غازی تھے، ااج ہم فرقوں،گروہوں اور گروپوںمیںتقسیم زبانی جمع خرچ تک محدود ہیں فلسطین، برما اور کشمیر سمیت دنیا بھر میں مسلم امہ اازمائش سے دوچار اور ہم ان کی حالتِ زار پر تقریریں تو جھاڑتے ہیں

مگر اپنے ملک میں قانون کا احترام کرنا بھی ہتک سمجھتے ہیں، یہی نہیں صحت،تعلیم اور سماجی انصاف کی ترویج کے لیے بھی ہم ذاتی حیثیت میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں، اپنی نا اہلی اور بے عملی کو حکمرانوں کی بدعنوانی سے تعبیر کرنا اب ایک فیشن بن چکا ہے،ہم اپنے ملک میں لاقانونیت کا رونا تو روتے ہیں مگر خود ٹریفک ایک سگنل پر رکنا بھی گوارہ نہیں کرتے، ہمارا پڑھا لکھا نوجوان اپنے ملک میں جہالت کا شکوہ توکرتا ہے مگر اپنی تعلیم سے نا خواندہ افراد کو بہرہ مند کرنا شاید اپنے لائف سٹائل کے منافی تصور کرتا ہو،ستم تو یہ ہے کہ اپنے آپ کو تعلیم یافتہ کہلانے والے جب اپنی بے بسی کا رونا روتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ جہالت کے ہاتھوں یرغمال ہیں، مختصر یہ کہ قوموں کو ترقی کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور ترقی قربانیاں بھی مانگتی ہیں اور پھر قربانیاں دینی بھی پڑتی ہیں،اشفاق احمد اور سب کے بابا جی زاویہ میں اپنی ایک خوبصورت تحریر کیساتھ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی سلطنت کا کوئی بادشاہ ، اچھا،نیک بادشاہ صلح کل لیکن طبیعت میں بڑا ڈسپلنڈ تھا ۔ اور اس کو اپنے ملک کی صحت و صفائی کا بڑا خیال تھا۔

مجھے صفائی کی بات کر تے ہوئے یاد آیا کہ اپنی رعایا کی صحت برقرار رکھنے کے لئے ، چونکہ وہ صفائی کا بڑا دیوانہ تھا اس لئے اپنی مملکت میں بھی اس نے صفائی کاخاصہ انتظام کر رکھا تھا ۔ اور ظاہر ہے گھر کا بھی ، محل کے اندر بھی صفائی کا انتظام بطور خاص دیکھا جاتا تھا ۔ قریب ہی اس کے ایک چھوٹی سی کالونی تھی بہت اچھے لوگوں پر مشتمل ، صفائی کا وہ بھی خاص خیال رکھتے تھے ، تو ایک اماں بوڑھی جو کہ صفائی کے معاملہ میں بادشاہ کی ، ملکہ کی ، اور شہزادی کی بڑی قابل اعتبار بھنگن تھی اس کا بڑا مقام تھا ۔ وہ آکے محل کے اندر زنان خانے میں صفائی کر تی تھی اور ان کی مرضی کے مطابق کام کرتی تھی اور اسکا احترام تھا ۔ بڑے آدمی کا احترام ہوتا ہے۔ اچھا ام کر نے والے کا احترام ہوتا ہے۔ کام چاہے کوئی بھی ہو تو کہانی بیان کر نے والے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ اماں بڑی بیمار پڑگئی اور شاہی خاندان کا کام کیا جانا ضروری تھا۔ تو اس نے اپنے نوجوان بیٹے سے جوبڑا خوبصورت اچھا نوجوان تھا اس سے کہا میں نہیں جاسکتی محل میں تو جاکر میری جگہ کام کر ، چنانچہ وہ اپنا جھاڑو لے کر ، ٹاکی لے کر، جس طرح کا سامان اسے چاہئے تھا وہاں چلا گیا۔

Princess House
Princess House

اس نے جاکر برآمدے میں جھاڑو ، ٹاکی لگائی ، پھر دوسرے کمرے میں لگائی ، وہ جب تیسرے کمرے میں جھاڑو لگا کر نکل رہا تھا تو شہزادی غسل خانے سے نہا کر کھلے بال آرہی تھی ، اور اس نے زندگی میں پہلی مرتبہ شہزادی کو دیکھا تھا ۔ وہ شہزادی جس کا ذکر کہانیوں میں ہوتا ہے۔ اور بے چارہ کھڑے کا کھڑا بت بنا رہ گیا ۔ اور شہزادی اپنا منہ لپیٹ کر وہاں سے بھاگی ۔ دوسرے کمرے میں چلی گئی ، جب وہ گھر آیا تو اس نے اپنی ماں سے کہا ، پیاری ماں یہ کیا مخلوق ہے تو اس نے کہا بیٹے کیا ہوا؟ اس نے کہا ماں وہاں تو ایک لڑکی نکلی ، لیکن جیسے آسمانوں سے اتری ہوئی لگتی تھی ۔ کبھی ہم نے بازار میں ، شہر میں تو ایسی مخلوق دیکھی نہیں ۔ اس نے کہا اوہ تیرا بھلا ہو جائے ، تو نے شہزادی کو دیکھ لیا ۔ کہنے لگا ماں میں نے اسے دیکھ تو آیا ہوں ۔ لیکن میری آرزو ہے میں اسے ایک بار پھر دیکھوں اور قریب سے دیکھوں ۔ اس نے کہا بیٹا اس بات کی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونی چاہئے ۔ کیونکہ ابھی جلاد بلا کر ہم ماں بیٹے کا سر تن سے جدا کر دیا جائے گا۔ اس نے کہا ماں میری زندگی کی آرزو ہے۔ کہ اس حسن مجسم کو قریب سے دیکھوں میں بالکل بھونچکا ہو گیا ،(بوکھلا گیا تھا) میرے ذہن پرا سکے نقوش ٹھیک طرح سے نہیں آئے ۔ اسنے کہا بھئی ایسا نہ کر یہ نہیں ہو سکتا۔ وہ بیمار پڑگیا۔ جان کے لالے پڑگئے ۔ اب ماں ماں ہوتی ہے تو اس نے حوصلہ کیا سیدھی شہزادی کے پاس گئی ، چونکہ شہزادی اس کا احترام کر تی تھی ۔ سارے گھر والے کر تے تھے۔

اس نے کہا بیٹی یہ بات ہوگئی ۔ اگرچہ بڑی ناقابل بیان تھی میں بیان کردی۔ ناقابل برداشت تھی وہ تو نے برداشت کر لی ۔ مہربانی ہے مشکل آپڑی تو اس کا حل نکال۔ اس نے کہا کوئی بات نہیں اماں آمنا سامنہ ہو گیا غلطی سے ۔ اس نے کہا مشکل یہ آپڑی ہے کہ وہ تجھے دوبارہ دیکھنا چاہتا ہے۔ تو بہ نعوذ باللہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ تو ہمارے ہاں ہوتا ہی نہیں ۔ لیکن میرا اکلوتا بیٹا ہے ، مر جائے گا۔ شہزادی نے کہا میں کیا کر سکتی ہوں مرتا ہے تو ٹھیک ہے۔ اللہ کی یہی رضا ہے۔ وہ بڑھیا رونے لگی گھر چلی گئی ۔ گھر بیٹھی بیمار بیٹے کو دیکھا جاں بہ لب بیٹے کو ماں تھی صبر نہ ہوا۔ پھر لوٹ کر آئی اور منتیں کر نے لگی ۔ شہزادی نے ترس کھا کر کہا اماں تو ایسا کر اس کو ایک جھوٹا پیر بنا دے کوئی بزرگ بنا دے ۔ اس کوکہو ، اللہ کی عبادت کیاکرے حق ہو کا نعرہ مارا کر ے اور جنگل میں بیابانوں کی سیر کرے ۔ میرے والد جو ہیں وہ پیروں ، فقیروں کو بڑا مانتے ہیں ۔ بزرگوں پر بادشاہ سلامت کا اعتقاد تھا ۔ تو میں سمجھتی ہوں کہ ایک وقت ایسا ضرور آسکتا ہے کہ اگر اس کا نام بہت دور دور تک پہنچ گیا کہ بڑا کمال کا فقیر ہے۔ تو شاہد میرے والد اس سے متاثر ہوں ۔ اور متاثر ہو نے کے بعد مجھ کو بھی کہیں بیٹی جا ان کی زیارت کر آ۔ اس نے کہا اللہ تیرا بھلا کر ے ۔ وہ گھر آگئی ۔ اس نے کہا بیٹا اٹھ یہ لمبا پینڈا ہے۔ لیکن طے کرنا ہے۔ اس مسافت کو تو نہا دھو پگڑی باندھ کے نیک بن جا۔ اللہ کا پیارا، اس نے کہا اللہ کا پیارا کیسے بنا جاتا ہے اس نے کہا یہ تو مجھے بھی نہیں پتا، تجھے بھی نہیں پتا ۔ اب جنگل میں جاکے بیٹھ کر اللہ سے کہہ۔

میں تیرا پیا ر ہوں اور وہ تجھے قبول کرے گا۔ وہ چلا گیا ۔ جنگل میں جاکر بیٹھ گیا مزے سے اور وہاں پر جا کر وقت گزارنے لگا،اور اللہ کی تسبیح جیسی بھی اسکو آتی تھی کر نے لگا۔ اور آرزو دل میں رکھنے لگا کہ کبھی شاید اللہ کی زیارت ہو اور میں کبھی اس راہ پر چل سکوں اوراس حسن آرا بھی دیکھ سکوں جس کی آرزو لے کر میں نے یہ سارا ڈرامہ رچایا ہے۔ کچھ عرصہ وہاں بیٹھا رہا ۔ کچھ دیر بعد لوگوں نے اسے دیکھا ایک نوجوان ہے شکل صورت بھی اچھی ہے۔ بات کسی سے نہیں کرتا ۔ آنکھیں بند کر کے لولگا کر بیٹھا ہے۔ تو انہوں نے جب اس کو دن رات وہاں بیٹھے دیکھا ۔ سردی گرمی میں ، دھوپ میں بارش میں تو انہوں نے جھونپڑی ایک بنوادی اور وہ اس جھونپڑی میں رہنے لگا۔ وقت گزرتا رہا تو آہستہ آہستہ اس کا نام کا ڈھنکا بجنے لگا کہ ایک بہت کرنی والا بزرگ ہے۔ اور پہنچے ہوئے بزرگ ہیں ۔ اورلوگ اس کی زیارت کو آنے لگے ۔ ایک سلسلہ چل پڑا کسی نے آکے بادشاہ سے بھی ذکر کیا کہ آپ کی راجہ دہانی کے فلاں علاقے میں ، فلاں جگہ پر گنے میں بڑا بزرگ آیا ہوا ہے۔

Princess
Princess

لمبی داڑھی ہے۔ لمبے بال ہیں اور بڑا حسین آدمی ہے۔ اور بات نہیں کر تا کسی سے تو بادشاہ کو اشتیاق ہوا۔ انہوں نے سواری نکالی پنج ہزاری ، دس ہزاری امیر ، اور وزیر اس کے ساتھ چلے کہ زیارت کرنے چلتے ہیں ۔ جنگل میں پہنچے ، کٹھیا کے پاس کھڑے ہوگئے ۔ بادشاہ نے دیکھا ، اسکو سلام کیا۔ آنکھیں بند کر کے بیٹھا تھا اس کو کیا پروا تھی ۔ اس نے کہا میں وقت کا بادشاہ ہو ں ۔ تجھے سلام کر نے آیا ہوں ۔ اس نے کہا بابا تیری ی مہربانی ہم نے تیرا سلام قبول کیا ۔ اب چلا جا۔ اس نے کہا نہیں میں یہاں بیٹھنے کی اجازت چاہتا ہوں ۔ کہنے لگا بیٹھ جا کھلی جگہ پڑی ہے۔ بادشاہ نے کہا ساتھ میرے سارا لائولشکر بھی ہے۔ اس نے کہا وہ بھی بیٹھ جائے ، فقیر وں کا ٹھکانہ ہے۔ چنانچہ وہاں پر بادشاہ کچھ دیر بیٹھا رہا ۔ اس نے اندر سے محسوس کیا ۔ اس کا( Vibration )جو ہے۔ ارتعاش اس کا روحانی،بہت طاقت ور ہے۔ جس نے بادشاہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چنانچہ خواتین وحضرات وہ بادشاہ وہاں پر آنے جانے لگا۔ ملنے ملانے لگا ۔ اس کی رعایا کے لوگ بھی ظاہر ہے آنے لگے ۔ اس کی دارھی بڑھ چکی تھی۔ بال لمبے تھے کسی نے پہچانا ہی نہیں ۔ تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ بادشاہ نے ایک دن اپنی بیٹی سے کہا کہ پیاری بیٹی ایک بہت بڑے بزرگ ہماری سلطنت میں آئے ہیں اور ہماری خوش قسمتی ہے ہمارے قلم رو میں اپنا بڑا بزرگ آیا ہے۔ تو کسی دن جا اس کی زیارت کر نے تو اس نے کہا بالکل ٹھیک ہے۔

ابا جی میں جاتی ہوں ۔ اس کو پتہ تھا کہ یہ کون ہے۔ چنانچہ وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ پالکی میں بیٹھ کر پہنچی اور جاکر کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی دیکھ تیرے دل کی آرزو پوری ہوگئی ۔ میں نے جو بات بتائی تھی اس کے مطابق اتنے سالوں بعد تیرے سامنے آگئی ہوں ۔ تو اب آنکھیں کھول اور جس طرح سے چاہتا ہے میری زیارت کر ،دید کر میں تیرے سامنے کھڑی ہوں ۔وہ کہنے لگا اچھااچھا مہربانی مہربانی تین دفعہ کہا ۔ویسے ہی بیٹھا رہا ، آنکھیں بند کر کے ۔ اس نے کہا بدبخت میںاتنا لمبا سفر طے کر کے آئی ہوں اور تو آنکھیں بند کر کے بیٹھا ہے۔ تو اس نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا ۔ تو لکھنے والے لکھتے ہیں کہ شہزادی نے کھینچ کر ایک تھپڑ اس کے منہ پر ماراتڑاخ سے کہنے لگی آنکھیں کھول جس کے لئے اتنا بڑا ڈرامہ رچایا تھا وہ گوہرمقصود تیرے سامنے موجود ہے۔ تواس نے کہا بی بی اب آنکھیں بند ہی رہنے دو ۔ وہ سچا ہے جس کو لوگ تلاش کرتے ہیں ۔وہ مل جائے گا کبھی نہ کبھی آنکھیں بند کرنے سے اب تجھ میں کیا رکھا ہے۔ اس نے کہا سن بی بی سچا تو کوئی ایسا ہی ہوتا ہے ۔ لیکن اگر جھوٹ کی دھارنا دھارکر بھی آدمی چلے

اس کے سامنے اس کا سفر موجود ہو۔ اور اس کارخ جو ہے ٹھیک ہو ۔ تو وہ سچائی کی طرف جانے لگتا ہے۔ لیکن اگر بدقسمتی سے شروع ہی سے اس کے سفر میں ٹیڑ ھ پڑجائے ۔ جیسے ہمارے معاشرے میں بڑی تکلیف دہ صورت حال پیدا ہونے لگی ہے تو پھر وہ کبھی اس منزل تک نہیں پہنچتا ۔ جس کی آرزو اس نے جھوٹے انداز میں کی ہے۔ چنانچہ وہ آنکھیں بند کئے ہی بیٹھا رہ گیا ۔ اور گوہر مقصود جو تھا وہاں سے واپس آگیا۔ تو باپ نے پوچھا کہ کیسے بزرگ ہیں ، کہنے لگی ابا جی ابھی کچھ کمی ہے۔ یہ اس کا پنا انداز تھا ۔ لیکن ایک وقت آئے گا یہ بہت بڑا بزرگ بنے گا۔ تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ بعض اوقات باہر کی وردی اختیار کر نے سے بھی اندر کے وجود پر اندر کی ذات کے اوپر اس کے اثرات مرتب ہو نے لگتے ہیں ۔یہ محض ایک داستان یا واقعہ ہی نہیں بلکہ وہ مثل ہے ہمارے لیے جس کو اگر ہم پلے باندھ لیں تو اخلاص کیساتھ ہم منزل کو چھو سکتے ہیں،ہم مقصد حیات کو پا سکتے ہیں،بس اخلاص کی چادر کو زیب تن کرنے اور پہلا قدم اٹھانے اور بارش کا پہلا قدم بننے کی ضرورت ہے۔

Khawaja Wajahat
Khawaja Wajahat

تحریر : خواجہ وجاہت صدیقی

Share this:
Tags:
civilization Faith family Heart Islam knowledge people Religion True World اسلام امت ایمان تہذیب خاندان دنیا سچے علم لوگ من
Journalism
Previous Post زاغوں کے تصرف میں ہے عقابوں کا نشیمن
Next Post دہشت گردوں کو پھانسیاں ضرب عضب کی کامیابی
Zarb e Azab

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close