
ہے ہم سے زیادہ محبوب کو خبر ہمارے حالات کی
پہلے ہی سجدہ میں ہماری ہی بخشش کی بات کی
درپہ آیا جو سوالی نہیں گیا کبھی کوئی خالی
ہو جاتے ہیں منگتے غنی شان ہے یہ خیرات کی
کرتے ہیں سب کا بھلا دیتے ہیں دشمنوں کو دعا
معترف ہے ہے یہ دنیا میرے نبی کے اعلیٰ صفات کی
نماز ادا کرتے رہا کرو درود نبی پر پڑھا کرو
ذکر خدا ذکر رسول سے ابتداء ہو تمہارے معمولات کی
دل میں ہے یاد مصطفی سجاتے ہیں محفل میلاد مصطفی
نہیں ہے اس سے بڑی مصروفیت کوئی دن رات کی
آدم تاعیسیٰ انبیاء آئے زیرآسماں ہی معراج پائے
محبوب نے ہی عرش پررب سے ہے ملاقات کی
رب فرمایا پاک کلام میں پورے داخل ہو جائو اسلام میں
یہی دین کرتا ہے راہنمائی تہماری تمہارے معاملات کی
پڑھتے ہیں کلمہ شجرو حجر بھیجتے ہیں درود شام و سحر
نعت خواں پیارے نبی کی ہے ہر چیز کائنات کی
بھائی بھائی جب بنادیاحق اخوت ایسا ادا کیا
نہیں لا سکتی مثال کوئی دنیا اصحاب کے مساوات کی
ہے اس عمل کی اہمیت ہے جس میں حب رسالت
درود نبی پر پڑھنے سے رہتی ہے پاکیزگی خیالات کی
کرتا ہے نظر انداز کوئی دیتا ہے عزت و اعزاز کوئی
اپنا اپنا ظرف ہے صدیق نہیں بات یہاں خیرات کی
کلام : محمد صدیق پرہار
