Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

خادم اعلی ایک نظر ادھر بھی

August 1, 2016 0 1 min read
Child Kidnapped
Shahbaz Sharif
Shahbaz Sharif

تحریر : رقیہ غزل
نوے کی دہائی میں جب بچوں کا اغوا ایک معمہ بن چکا تھاتو ایسے میں ایک روز30دسمبر 1999 میں جاوید اقبال نامی ایک شخص نے اردو اخبار کے دفتر میں جا کر کہا کہ ”میں جاوید اقبال ہوں ،سو بچوں کا قاتل ہوں،مجھے نفرت ہے اس دنیا سے ،مجھے اپنے کئے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے اور میں مرنے کے لیے تیار ہوں ،مجھے سو بچوں کو قتل کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہے ”۔ اس کے مطابق وہ پہلے بچوں کو زیادتی کا نشانہ بناتا تھا اور پھر لاش کو تلف کرنے کے لیے تیزاب میں ڈال کر دریائے راوی میں بہا دیتا تھا۔اس کی درندگی کا نشانہ بننے والے بچوں کی عمریں 6 سے 16سال کے درمیان تھیں۔ مزید تفتیش کے دوران بدنام زمانہ جاوید اقبال نے اپنے اس جرم کی وجہ پولیس دشمنی بتائی کہ پولیس نے اس کو بچے سے زیادتی کے جرم میں زدوکوب کیا تھااور بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس میں وہ معذور بھی ہو گیا تھا۔ جبکہ اس کا کوئی قصور نہیں تھا اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ سو بچوں کی مائوں کو رلائے گا کیونکہ اس کی ماںبھی روئی تھی اس لیے وعدہ پورہ ہوتے ہی آج میں نے خود کو پیش کر دیا ہے۔

جبکہ میں مزید بچوں کو مار سکتا تھا ملکی تاریخ کے اس سفاک قاتل پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے جج نے اسے ویسے ہی سزا دینے کا حکم دیا تھا جیسے وہ بچوں کو مارتا تھا مگر یہ حکم عدالت کے خلاف قانون ہونے کیوجہ سے اس ملزم کو سزائے موت سنائی گئی تھی جس کے ایک سال بعد اس سفاک بے رحم قاتل اور اس کے مبینہ ساتھی نے جیل میں خودکشی کر لی تھی۔اس شخص کی اغواکاری کے طریقوں پرتحقیقات کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ اس نے بچوں کو راغب کرنے کے لیے ایسے پیشے اختیار کئے جو کہ بچوں کے لیے کشش رکھتے تھے جیساکہ پہلے ویڈیو گیمز کی دوکان کھولی پھر فش ایکیوریم اور جم بھی کھولا تھاجس میں یہ مختلف ہتھکنڈوں اور پینتروں سے بچوں کو پھنساتا اور پھر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتا تھا جب یہ اعتراف جرم منظر عام پر آیا تودنیا ششدر رہ گئی ویسے حیران کن تو ہے کہ ایک انسان سفاکی میں اس حد تک پہنچ چکا تھا مگر کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی آخر کیا وجہ ہے کہ پولیس اور انتظامیہ کی ناک کے نیچے سب ہوتا ہے مگر پتہ تب چلتا ہے جب پانی سر سے اونچا ہو جاتا ہے۔

قارئین کرام! آپ سوچ رہے ہونگے کہ میں نوے کی دہائی میں ہی گھوم رہی ہوں تو عرض یہ ہے کہ پاکستان کا وقت اور سال بدلے ہیں مگرحالات نہیں بدلے ہیں دوسرے مسائل تو اپنی جگہ ہیں مگر ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق صوبائی دارلحکومت سمیت پورے پنجاب میں بچوں اور بچیوں کے اغوا میں خوفناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے اس رپورٹ کے مطابق6ماہ کے دوران تقریبا700بچے اغوا ہوچکے ہیں جو کہ مذکورہ عرصہ میں ماضی میں اغوا ہونے والے بچوں کی شرح سے تین گنا زیادہ ہے جو کہ نہ صرف پولیس کی ناقص کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں بلکہ پنجاب حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے جبکہ یہ اعدادو شمار اس صوبے کے ہیں جس کے خادم اعلیٰ کے بارے میں یہ اعلانیہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک انقلابی اور مثالی منتظم ہیںاور اگرچہ ملکی سطح پر مجموعی کار کردگی کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب حکومت کی کارکردگی بعض شعبوں میں بلاشبہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میںبہتر ہے۔

Child Kidnapped
Child Kidnapped

اب سنگین جرائم کی بازگشت یہاں بھی سنائی دینے لگی ہے جن کا تصورپہلے پہل دیہی علاقوں تک ہی محدود تھا جیسے غیرت کے نام پر قتل ،خواتین سے غیر انسانی سلوک ،سر عام قانون کی خلاف ورزیاں ،ڈکیتی ،چوری ،قتل وغارت گری اور بچوں سے زیادتی اور اغوا کے واقعات تشویش ناک ہیںاور ایسا نہیں ہے کہ یہ اعدادو شمار پہلی مرتبہ منظر عام پر آئے ہیں بلکہ بچوں کے استحصال اوراغوا کے واقعات میںصرف پاکستان میں ہی نہیں اب توپوری دنیا میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور اس ضمن میں کوئی مضبوط لائحہ عمل یا ایسی حکمت عملی بھی تیار نہیں کی گئی جس سے ان جرائم کی روک تھام اور قلع قمع میں مدد مل سکے حتی کہ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ اغوا کاروں کا سراغ بھی مل جاتا ہے مگر کوئی قابل قدر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے عام آدمی کے بچے کی لاش ہی ملتی ہے ایسے میں بلاشبہ حالیہ رپورٹس کے مطابق پنجاب میں اغوا کاروں کاسر گم ہونا قابل فکر ہے جبکہ بچوں سے بد فعلی کے واقعات بھی مذکورہ تشویش رکھتے ہیں۔ جیسے ماڈل ٹائون ،قصور اور کوٹ ادو میں جنسی زیادتی کے واقعات مایوس کن کار کردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ باقی مسائل حکومتوں کی نا اہلی کی وجہ سے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ سلجھانے میںکافی وقت درکار ہے تو بھی بچوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے تھی۔

مگر گذشتہ کئی برس سے یہ صورتحال ابتر رہی اور اب اس میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد جہاں ادبی،صحافتی،سماجی اور سیاسی حلقوں میں بحث چھڑنے کے بعدا ب تحریری طور پر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اس پر نوٹس بھی جمع کروا دئیے گئے ہیں مسئلہ یہ ہے کہ اس رپورٹ پر اعلیٰ حکام کی تشویش اہم نہیں ہے بلکہ اس پر ترجیحی بنیادوں پر قانون سازی اور ایکشن لینے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ جرائم جن کا تذکرہ افراد معاشرہ کی کم علمی ، جہالت اور دیہی رسم و رواج کو بنیاد بنا کر کیا جاتا تھا وہ اب شہروں کا رخ کر رہے ہیںخاص طور پر لاہور ان کی زد میں آرہا ہے یعنی کہ رواں سال میں قریباً700 بچوں کا اغوا کیا گیا جن میں سے اغوا ہونے والے 312 بچے لاہور سے اغوا ہوئے ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آج صوبائی دارلحکومت میں بچوں کا اغوا سنگین معاملہ بن چکا ہے مگر افسوسناک پہلو تو یہ ہے کہ اس بارے انتظامیہ مسلسل خاموش ہے یہ اسی خاموشی کا نتیجہ ہے کہ حالات اس نہج پر آگئے ہیں کہ پورے پاکستان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ان حقائق کے منظر عام پر آنے کے بعد پولیس کی طرف سے عدالت عالیہ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق 2015 سے جولائی 2016 تک 1808بچے پنجاب سے اغوا ہوئے جن میں 1093بازیاب کروا لئے گئے اور بقیہ بچوں کی بازیابی کے لیے تفتیشی عمل جاری ہے جبکہ حقائق تلخ ہیں کیونکہ بچوں کے ورثا سراپا احتجاج ہیں اور ان کے مطابق پولیس FIRدرج نہیں کرتی ہے اور اس پر سپریم کورٹ نے بھی اظہار برہمی کیا ہے کہ بچے مسلسل اغوا ہو رہے ہیں اور پولیس مقدمات درج نہیں کرتی۔

Raped
Raped

اگر ہم گذشتہ سالوں کے اعدادو شمار پر نگاہ دوڑائیں تو 2013میں یہ تعداد سترہ سو چھ تھی 2014 میں یہ بڑھ کر اٹھارہ سو اکتیس ہوگئی اور 2015میں تیرہ سو چھیاسی واقعات رپورٹ ہوئے لیکن اغوا کے واقعات میں جہاں کمی واقع ہوئی وہاں تشدداور جنسی زیادتی کے واقعات میں سات فیصد اضافہ دیکھا گیاجو کہ رواں سال میں اسی تناسب سے بڑھ رہا ہے واضح رہے یہ تمام اعدادو شمار صرف ان کیسسز کے ہیں جو رپورٹ کئے گئے ہیں اور اس پربھی پولیس ان بچوں کو تلاش کرنے یا بازیاب کروانے میں ناکام رہی ہے بس چند لاشیں ملی ہیں بلاشبہ بعد از اغوا بچوں پر ہونیوالا وحشیانہ تشدد بھی ایک الگ بحث رکھتا ہے آ ج جبکہ اتنے انتظامات ہیں اور حالات بدل چکے ہیں پھر بھی ہم مجبور ہیں ؟ ہمارے ہاتھ کیوں بندھے ہوئے ہیں ؟ والدین کے جگر گوشے غائب ہو رہے ہیںمائوں کی سینہ کوبی کسی کو نظر کیوں نہیں آتی؟پولیس بے بس کیوں ہے۔

ایسی کیا قیامت ہے یا ایسا کونسا بھوت یا جاوید اقبال پھر پیدا ہو گیا ہے جو گلشن کو مسلنے اور اجاڑنے کی نیت کر بیٹھا ہے مگر ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے ان کشیدہ اور سنگین حالات میں با آواز بلند یہ دعوی سننے کو مل رہا ہے کہ عوام ہم پر مسلسل اعتماد کر رہے ہیں جو کہ بہترین کار کردگی کا مظہر ہے اس سلسلہ میں کشمیر کی جیت نے حکومت کے عزائم اور پوزیشن کو اور زیادہ مستحکم کر دیاہے مگر مجھے کہنے دیجئے کہ بچے والدین کی ہی نہیں قوم کا بھی اصل سرمایہ ہوتے ہیں اورآج غریب کا سرمایہ لٹ رہا ہے قوم کا مستقبل دائو پر لگا ہے اور یہ طے ہے کہ جس عہد میں لٹ جائے غریبوں کی کمائی ۔۔اس عہد کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے!۔

ایسے میں جوشیلے نعروں اور بیانات کی نہیں دوراندیشی کی ضرورت ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری ہمیشہ سے اسے ووٹ دیتے ہیں جس کی وفاق میں حکومت ہو تاکہ فنڈز کی فراہمی یقینی رہے اور کچھ عوام اس قدر مدہوش ہو چکے ہیں کہ وہ ووٹ سوچ کر نہیں ماحول دیکھ کر دیتے ہیں ایسے میں ”جیت کا جشن ” منانے سے زیادہ بہتر ہے کہ عوم کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے ان کے مسائل کو ترجیحی بنیاوں پر حل کرنے کا سوچا جائے اور حکام بالا سے استدعا ہے کہ ایسے سفاک مجرموں کوفالفورگرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائیں کیونکہ چادر اور چار دیواری کا تحفظ توپہلے ہی پامال ہو چکا ہے اور اب بچوں کا تحفظ بھی دائو پر لگ چکا ہے بے شک پنجاب کے حالیہ مجموعی حالات ایک لمحہ فکریہ ہیں!۔

Roqiya Ghazal
Roqiya Ghazal

تحریر : رقیہ غزل

Share this:
Tags:
hate high kidnapping murder regret servant اغوا افسوس بچوں خادم اعلیٰ قاتل نظر نفرت
Salman bin Abdulaziz Al-Saud
Previous Post اماراتی ولی عہد کی شاہ سلمان سے ملاقات، علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال
Next Post سرحدوں کے دفاع پر آنچ نہیں آنے دیں گے: جنرل عسیری
Ahmed Asiri

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close