Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ہائیر ایجوکیشن

September 22, 2015 0 1 min read
Pakistan College
Pakistan College
Pakistan College

تحریر : احمد سعید
”ایف اے آنرز” کے سالانہ پیپر ختم ہوئے تو میں ہائیر ایجوکیشن کیلئے فرانس جانے کا سوچنے لگا۔ حالانکہ رزلٹ تک صرف یہ سوچنا چاہیے تھا کہ میں پاس بھی ہوجاؤں گا کہ نہیں۔ اور اگر پاس ہوجاؤں گا تو کیسے؟ ”ایف اے آنرز شروع میں اِس لئے لکھا کہ BA بھی جب تین سال کاہو تو آنرز ہوجاتا ہے۔ ویسے تو ایف اے تین سال کا پاکستان میں نہیں تھا لیکن میں نے سپلیاں لے کر اِسے 3 سال میں کنورٹ (منتقل) کرلیا تھا۔ سب سے پہلے ابا جی کو میں نے اپنے عزائم سے آگاہ کیا کہ میں ہائر ایجوکیشن کیلئے بھائی کے پاس فرانس جانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بہت خوب تم ایم اے کرلو اور پھر ہائیرایجوکیشن کیلئے چلے جانا۔ میں نے کہا جی کہ میں ابھی جانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ انٹرمیڈیٹ کے بعد کونسی ہائیر ایجوکیشن۔ میں نے کہا کہ اپنی اپنی سوچ کی بات ہے۔ انہوں نے مجھے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں کہ پہلے میں تمہاری سوچیں نہ درست کردوں؟ خیر میں نے کہا :، آپ ہائیر کونکال دیں لیکن ایجوکیشن کے لئے تو جانے دیں۔ کہنے لگے ،رزلٹ آنے دو پھر دیکھتے ہیں۔ دِل نے کہا :،پھر کیا دیکھنا فرانس، آپ نے پاکستان نہیں دیکھنے دینا۔ ایک صبح میں اٹھا تو گھر میں امریکہ کی باتیں کانوں میں پڑیں۔ میں نے امی جان سے جا کر پوچھا کہ امریکہ کہاں سے آگیا بیچ میں؟ میں تو سارا دِن فرانس فرانس کرتا ہوں۔ وہ کہنے لگیں، تمہارے چچا اور اُن کی فیملی امریکہ سے آرہے ہیں، اور ان کو تم نے لے کر گھومنا پھرنا ہے۔ میں نے کہا کہ جون ، جولائی کے مہینوں میں پیدل اُن کو لے کر گھومنا پھرنا ہے؟

کہنے لگیں :، اپنے ابو سے باقی باتیں پوچھ لو۔
ابا جی کہنے لگے :، گاڑی کرائے پہ لینی ہے اور تم نے چلانی ہے۔
یہ سن کرکے میں نے چلانی ہے ،مجھے لگا کہ میں فرانس ہی پہنچ گیاہوں۔ بلکہ امریکہ سے گھومتا ہوا فرانس پہنچا۔ گاڑی چلانی مجھے اب آگئی تھی۔ بس پیچھے کرنی اور گھر کے گیراج میں کھڑی کرنی نہیں آتی تھی۔ سیدھی سیدھی میں بہت اچھی چلا لیتا تھا ،بس ذرا ٹریفک زیادہ نہ ہو تو، بلکہ بالکل ہی نہ ہو تو پھر تو میں کیا ڈرائیونگ کرتا تھا۔ بس میں خود کو دیکھتارہ جا تاتھا کہ کیا ہاتھ سیٹ بیٹھا ہے گاڑی پر۔ زیادہ ٹریفک میں بھی میں دیکھتا رہ جاتا تھا کہ ”اے ہو کی رہیااے” گاڑی رینٹ پہ لینے کی ذمہ داری ایک کزن کو سونپی گئی۔ میں گاڑی لے کر آیا ،رستے میں دو تین بار بند ہوئی ایک بار خود ہی چل پڑی تو دوسری بار مکینک کے ہاتھوں چلی ،یعنی مکینک کو بلانا پڑا۔ کزن کو میںنے فون پر بتایا تو وہ کہنے لگے یار! بیٹری ہی صرف خراب ہے نا ۔اور وہ بھی تقریباً یعنی ساری تو نہیں۔ اگر کبھی کبھار تنگ کی تو دھکا لگا لینا ورنہ جابجا میکنک تو ہیں ہی۔ ایسے ہی میں نے ابا جی کو بتادیا کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں گاڑی میں۔ابا جی کہنے لگے کہ اِس مسئلہ (گاڑی) کو گھر نہ لے کر آنا۔ فوری واپس کرکے آؤ۔ میں نے کہا کہ رات کو چچا جان آرہے ہیں صبح اِسے واپس کرکے کوئی اور لے لیں گے۔

انھوں نے ایک نہ سنی بلکہ مجھے اچھی خاصی سنا دیں۔ میں نے گاڑی واپس کی اور گاڑی خود ڈھونڈنے کا ارادہ کرلیا ،کیونکہ مجھے نظر آرہا تھاکہ ڈرائیونگ میرے ہاتھ سے جارہی ہے۔ایک رینٹ اے کار والا کچھ جاننے والا محسوس ہوتا تھا۔ اُسنے چھوٹی سی گاڑی دے دی کہ گیس کم کھائے گی۔ میرے لیے چھوٹی کار زیادہ کار آمد تھی۔ڈرائیونگ کا ایکسپرٹ جو بہت تھا( اپنی نظروں میں)۔ انکل اپنی فیملی کیساتھ رات کو آئے۔ رات تک میں نے بھی اُس گاڑی پہ اچھے خاصے ہاتھ صاف (سیدھے) کرلیے تھے۔ انکل گاڑی کو دیکھ کر کہنے لگے کہ اِس سے چھوٹی گاڑی نہیں ملی؟ میں نے کہا انکل اِس سے چھوٹی گاڑی پاکستان میں ابھی آئی نہیں۔ حیرانگی سے مجھے دیکھا اور کہنے لگے کہ یعنی اگر ہوتی تو تم نے لے آنی تھی، اِس کی جگہ وہ۔ میںنے کہا کہ انکل یہ گاڑی ”کم خرچ بالانشیں ہے” ہنس کر کہنے لگے کہ چلو صبح دیکھتے ہیں کیا کرتی ہے یہ گاڑی ہمارے ساتھ؟ یقینا اُن کا مطلب یہی تھا کہ تم ہمارے ساتھ کیا کرتے ہو؟ جون کا مہینہ تھا۔ اُس سال گرمی نے دس سالہ گرمیوں کا ریکارڈ توڑ دیا تھا۔ صبح ہوتے ہی آنٹی نے مجھ سے پوچھا کہ اِس کا اے سی (ائیر کنڈیشنر) بھی صحیح کام کرتا ہے کہ نہیں؟

Championship
Championship

میں نے کہا ،اِس کا ہیٹر بھی چلتا ہے۔ کہنے لگیں:” ہیٹر کہاںسے آگیا بیچ میں۔ ” میں نے کہا، ایسے ہی گاڑی کے کار ہائے نمایاں بیان کررہا ہوں۔ کہنے لگیں، گاڑی کیا کوئی ریسنگ چیمپئن شپ جیت کے آئی ہے۔ میں نے دِل میں سوچا کہ میں نے کل سارا دِن چلائی ہے اور یہ پوری صحیح سلامت بچ کے آئی ہے، اور کیا چیمپئن شپ جیتے گی؟ خیر انکل آنٹی کو رشتہ داروں کی طرف لے کر نکل پڑا۔ فوری طور پر اے سی چلایا اور بتایا کہ اس کا اے سی بہت اچھا ہے۔ رات بڑی ٹھنڈی ہوا دے رہا تھا۔ انکل کہنے لگے کہ رات کو چھت پہ پنکھا بھی ٹھنڈی ہوا دیتا ہے۔ میں نے سوچا انکل شاید امریکہ سے محکمہ موسمیات کا کورس کرکے آئیں ہیں۔ آنٹی کہنے لگیں، ابھی تک ٹھنڈ نہیں ہوئی گاڑی میں، میں نے کہا کہ بڑی روڈ پر چڑھیں گے تو ٹھنڈ کریگی۔ کہنے لگیں ، چھوٹی روڈ پہ کیا کِیا کرے گی؟ میں نے کہا، جی تھوڑی تھوڑی ٹھنڈ، خیر بڑی روڈ بھی آگئی پر ٹھنڈ نہیں آئی۔ کہنے لگیں کہ اس گاڑی کو فوری واپس کرو۔ مجھے یقین ہوگیا کہ گاڑی تو گئی سو گئی پر ڈرائیور بھی گیا اب کے۔آہستہ سے ڈرتے ڈرتے میں نے پوچھا کہ گاڑی میں بڑی لے آتا ہوں۔ کہنے لگیں ، ہاں بالکل جلدی سے کوئی اچھی گاڑی کا بندوبست کرو۔
میری جان میں جان آئی کہ ڈرائیونگ ابھی بھی داؤ پہ ہے، پر بچ گئی ہے۔

اب کے میں نئی اور بڑی گاڑی لانے میں کامیاب ہوگیا تھا ،پر ابھی صحیح چلانے میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔ دو تین دن گاڑی سلو سپیڈ پہ ہی چلاتا رہا، بھئی اپنی عزت اور گاڑی اپنے ہاتھ میں ہی اچھی لگتی ہے۔ ایک دِن آنئی ابو کو کہنے لگیں:، بھائی جی ، احمد گاڑی بہت اچھی چلاتا ہے۔ اب میں خوشی کی بجائے پریشان ہوگیا کہ ابا جی یہ نہ فرما دیں کہ ابھی تو یہ چلانا سیکھ رہا ہے اور آپ نے بہت اچھی چلانے کا سرٹیفکیٹ بھی دے دیا۔ تھوڑا سا مسکرانے کے بعد ابا جی خاموش ہی رہے، خیر پندرہ دن اِسی طرح آہستہ آہستہ چلا کر اپنی عزت اور ڈرائیونگ بچاتا رہا اور وہ واپس امریکہ چلے گئے یہ کہتے ہوئے کہ ایسی ڈرائیونگ ہم نے کہیں نہیں دیکھی۔ اور مجھے لگا کہ مجھے پندرہ دِنوں میں امریکہ کا ڈرائیونگ لائسنس مِل گیا ہے۔ فرانس میں ہائیرایجوکیشن کیلئے میں اِسلام آباد نکل گیا۔ وہاں” الیاں دے فانس” جا رکر اپنا مدعا بیان کیاکہ میں نے تین ماہ کا فرنچ کورس ایگرکلچرز یونیورسٹی سیمکمل طور پہ مکمل کرلیا ہے اور انٹرمیڈنٹ بھی بس ہوا ہی سمجھیں۔

وہ کہنے لگے کہ ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
میں نے کہا :، آپ میرا کسی فرنچ یونیورسٹی میں ایڈمیشن کروا دیں۔
ریسیپشن پہ کھڑی لڑکا نما لڑکی کہنے لگی کہ فرانس میں تو انگلش میں ایجوکیشن نہیں ہوتی۔ میںنے کہا کہ یہ جو تین ماہ کا فرنچ کورس کیا ہے۔ کہنے لگی: ،اب تین ماہ کی بنیاد پر آپ کو ایڈمیشن نہیں مِل سکتا۔ میرا مشورہ ہے کہ پہلے بی اے ، بی ایس سی کریں کم از کم اور ساتھ ایک سال کا فرنچ کورس۔میں بس تھوڑی دیر خاموشی سے اسے تکتا رہا اور پھر ”بڑے بے آبرو ہو کرتیرے کوچے سے ہم نکلے” خیر یہ بات میں نے کسی کو نہیں بتائی۔ وہ کہتے ہیں نا”بد سے بدنام بُرا ” اب میں نے کہنا شروع کردیا کہ ہایئر ایجوکیشن پاکستان رہ کر ہی کرنی ہے۔ لاہور یا اسلام آباد جاؤں گا۔ بلکہ اسلام آباد جاؤں گا۔ اپنے دوست محمد ملی کے پاس جو” نمل ”یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کررہا ہے۔ اس نے مجھے فون پر بتایا کہ ”بی اے” ماڈرن لینگویجز میں ہورہا ہے اس نے کہا پر ہے چار سال کا۔ میںنے کہا یار چار سال میں تو بندہ تقریباً انجینئر یا ڈاکٹر بن جاتا ہے۔ یہ چار سال میں صرف بی اے کرائیںگے۔ کہنے لگا یار! دنیا میں انجینئر اور ڈاکٹری کے شعبے ہی نہیں ہیں صرف، اور باہر کے ممالک کے سٹوڈنٹس تو جانے کس کس شعبے میں کیا کیا کررہے ہیں؟ میں نے کہا یعنی”اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا” مسئلہ چار سال کا نہیں تھا ،مسئلہ تو یہ تھا کہ میں چار سال پاکستان ہی رہوں گا۔ خیر ”بی اے” اِن ماڈرن لینگویجز سننے میں بھی ذرا کمال کا ہی لگتا تھا۔

Islamabad
Islamabad

بس میں نے پکا ارادہ کرلیا کہ کرنا ہے تو ”بیچلر اِن ماڈرن لینگویجز” اور محمد علی کو کہہ دیا کہ داخلہ نہ ہاتھ سے جائے۔ اُس نے کہا کہ مسئلہ ہی کوئی نہیں داخلہ ہاتھ سے نہ جانے دیں گے۔ داخلہ ہاتھ سے کیا نکلنا تھا؟ ڈیٹ ہی ہاتھ سے نکل گئی۔ ڈیٹ وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں ۔میرا مطلب کہ داخلے کی ڈیٹ ہی ہاتھ سے نکل گئی۔ہوا یوں کہ محمد علی نے کہا کہ بس تو آجا اگلے ہفتے داخلہ ہوجائے گا۔ میں اپنے سازوسامان سمیت اگلے ہفتے آگیا اسلام آباد۔ ہاسٹلز کی طرف گیا تو جابجا چینی دکھائی دیں ۔میں نے سوچا:، کبھی امریکہ اور کبھی چین یہ یورپ کہاں رہ گیا ہے؟ خیر محمد علی کے پاس پہنچا۔ تو وہ اپنے دوست کے ساتھ کمپیوٹر کو خراب کرنے پہ تُلا ہوا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی محمد علی کے دوست نے کہا : بھائی آپ یہ کمپیوٹر تو دیکھیں ٹھیک ہی نہیں ہورہا۔میں نے کہا : بھائی میں کمپیوٹروں والا نہیں، علی کا دوست ہوں۔ خیر علی نے کہا :اوئے اسے بیٹھنے تو دے پہلے۔میں نے کہا: پہلے سے کیا مطلب آپکا بھئی بعد میں میرے سے کام ہی کروانے ہیںکیا؟ کہنے لگا کہ صفائی نہیں کرانی یار یہ کمپیوٹر تو دیکھو آواز ہی نہیں آرہی۔ میں نے کہا ، کمپیوٹر تو مسئلہ ہی کوئی نہیں، اگر آج کمپیوٹر ایجاد نہ ہوا ہوتا تو میں نے ہی کرنا تھا۔اُسکا دوست کہنے لگا کہ بس ٹھیک کرد یں۔ میں نے کہا کہ یار بسیں میں ٹھیک نہیں کرتا آپ نے کیا مجھے مکینک سمجھا ہوا ہے؟

محمد علی کے دوست نے محمد علی کو ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو: ”اوبھائی یہدوست کہاں سے پکڑ کے لائے ہو”میں نے بھی کمپیوٹر ٹھیک کرنے کیلئے ہر قسم کے ”تُکّے” لگائے۔ بقول خالد مسعود ہم تُکا لگاتے ہیں تو تُکا نہیں چلتااور تیر چلاتے ہیں تو اُکّا نہیں چلتامیرٹ پہ سو بار ٹرائی کیا تو جانایہاں میرٹ بھی تو سُکّا نہیں چلتا پر آج ہمارا تُکّا چل گیا تھا وہ بھی ” سُکّا” وہ مجھے دیکھ کر حیران ،میں انھیں دیکھ کے پریشان، خیر محمد علی کے دوست نے فٹا فٹ کمپیوٹر پہ گانا لگایا، ”اِک پھل مویتے دا مار کے جگا سوہنیے” اور مسلسل دو گھنٹے یہی گانا سنتا رہا اور جبراً سناتا رہا۔ رات کو اس کے ساتھ ٹہلنے باہر نکل پڑے۔ مجھے کہنے لگا : اور کیا مصروفیات ہیں پڑھائی کے علاوہ آپکی؟”شاعری کرتاہوں”۔چونک کے کہنے لگا: اوئے یہ کیا کرتے ہیں آپ؟ ”شاعری کا کہا ہے۔ یہ نہیں کہا کہ گندی باتیں کرتا ہوں جو آپ اتنا چونک گئے”۔ کہنے لگا :،بہرحال کوئی اور مناسب سا شغل تلاش کریں۔ مجھے اب بلکا سا غصہ چڑھ گیا۔

میں نے کہا :،آپ انگلش میں ایم اے کر رہے ہیں؟ ”جی” ”فیصل آباد گھر بار چھوڑ کر صرف انگلش سیکھنے آگئے ،آپ وہیں کوئی پانچ چھ ماہ کا کورس کرلیتے انگلش کا۔ فیس کتنی ہے آپ کی ”؟ ”کوئی ایک سمیسٹر کی آٹھ، نو ہزار”۔ ”اتنے میں تو چائنا کی دو سائیکل آجاتی ہیں۔ ایک خود چلانا تھا ایک چھوٹے بھائی کو دیتے۔ پھر بھی جیب میں دو تین ہزار بچ ہی جانے تھے۔ اُن پیسوں کی فیصل آباد میں انگلش کی ٹیوشن رکھتے۔ سائیکل پہ مزے پہ جاتے مزے سے آتے۔ زبان سیکھنے کے چکروں میں اسلام آباد ہی آگئے۔ اگر زبان سیکھنے کا اتنا شوق تھا تو پھر امریکہ ہی چلے جاتے۔ پہ اسلام آباد ہے لندن شہر نہیں جہاں ہر کوئی انگلش میں بات کررہا ہوگا اور آپ فر فر انگلش بولنا سیکھ جائیں گے”۔ بس پھر اگلے دو تین دِن اُس نے میرے سے کوئی بات نہیں کی۔ میں نے بھی کہا کہ یہ بات ہے تو پھر کوئی بات نہیں۔

Courage
Courage

تین دِن ہوچکے تھے مجھے آئے اور محمد علی مجھے صرف حوصلہ ہی دے رہا تھا کہ فکر نہ کرہو جائے گا داخلہ، پر مجھے یوں محسوس ہورہا تھا کہ مجھے حوصلہ دیتے ہوئے وہ اپنے آپ کوبھی حوصلہ دے رہا تھا کہ ہوہی جائے گا داخلہ۔ چوتھے دِن میں نے اُسے کہا کہ یار صحیح صحیح بتا دال میں کیا کالا پیلا ہے۔ وہ کہنے لگا دال ہی کالی ہوگئی ہے ساری، میں نے کہا کہ میں سمجھا نہیں۔ کہنے لگا :، ”اے کیہڑا کوئی نوی گل اے” میں نے کہا: پہلیاں نہ بُجھا۔ کہنے لگا :، داخلے کا ٹائم نکل گیا۔ ” تو نے تو کہا تھا کہ آجا بس ہوجائے گا” کہنے لگا یار! پتہ ہی نہیں چلا تیرے آنے پہ ہی پتہ کیا۔ میں نے کہا کہ تو نے کیا کِیا۔ ویسے اندر سے میں تھوڑا مطمئن بھی تھا کیونکہ سارے کا سارا ذمہ محمد علی پہ آگیا تھا۔ ورنہ فارم جمع ہوجاتے تو اتنے نمبروں پہ داخلہ کہاں سے ہونا تھا؟ محمد علی ایڈمنسٹریشن کو جتنا مرضی چیخ چیخ کے بتاتا کہ یہ بڑا اچھا مقرر ہے پاکستان لیول کا، پر انھوں نے صاف منہ پہ ہی کہہ دینا تھا کہ اتنے نمبروں پہ پاکستان لیول چھوڑ کر چاہے ورلڈ لیول کا مقرر ہی کیوں نہ آجاتا، ہم نے اُس کو بھی ایڈمیشن نہیں دینا تھا۔

وہ تومیری عزت رہ گئی کہ ڈیٹ ہی گزر گئی۔ محمد علی میرے سے معذرت کرتا پھرے۔ اور میں بھی تھوڑا بہت ”موڈ ”میں پھروں، کیونکہ ایسے موقعوں پے موڈ میں رہنا ہی اچھا ہوتا ہے ورنہ اُس نے سمجھنا تھا کہ اِدھر بھی دال میں کچھ کالا ہے۔ اور اِدھر بھی دال ساری کالی تھی۔ میں واپس فیصل آباد آگیا اور اباجی کو کہنے لگا کہ اپنا شہر اپنا ہی ہے۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے عظیم ادارے جی سی یونیورسٹی سے ہی ہائیر ایجوکیشن میرا مطلب ہے کہ ایجوکیشن پوری کرنی ہے اور پھر ہائیر ایجوکیشن کیلئے یورپ روانہ ہونا ہے۔ اگلے دِن میں جی سی یونیورسٹی اپنی تمام ڈگریوں سمیت یعنی تعلیمی اور تقریری معرکوں کی ڈگریاں لے کر پہنچ گیا۔ تعلیمی ڈگریوں سے تو معمہ حل نہیں ہونے والا تھا۔

Education
Education

اِس لیے سیدھا ڈرا میٹک سو سائٹی کے انچارج علی عثمان صاحب کے پاس پہنچا۔ اُن کو اپنی تمام تقاریری اسناد دکھائیں۔ ساری اسناد دیکھ کے کہنے لگے کہ آپ نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرلیا ہے؟ میں نے ڈرتے ہوئے کہا: ،جی ہوگیا۔ کہنے لگے :،وہ بھی سند ساتھ لگا دیں اور سنائیں تقریر۔خیر سناد ی تقریر، فوری اُٹھے اور مجھے اپنے ڈیپارٹمنٹ سے باہر لے آئے۔ مجھے یقین ہوگیا کہ مجھے یونیورسٹی گیٹ کے باہر چھوڑنے جارہے ہیں۔ اور” گارڈوں ”کو تاکید مزید بھی کر دیں گے کہ دوبارہ یہ سٹوڈنٹ اندر نہ داخل ہونے پائے۔ لیکن شاید انھیں رحم آگیا اور انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ مجھے وہ ایک اور ڈیپارٹمنٹ میں لے گئے اور وہاں میرا فارم جمع کروایا۔ یوں میری ہائیر ایجوکیشن شروع ہوگئی۔

تحریر : احمد سعید

Share this:
Tags:
america Car higher education pakistan result traffic امریکہ پاکستان ٹریفک رزلٹ سالانہ فرانس گاڑی
Zardari
Previous Post پی پی پی حکومت مخالف گرین ڈالائنس بنانے اور احتجاج کا اعلان
Next Post عمران خان کو وزیراعظم بننے کی فکر ہے، عوام کی عدالت میں کامیاب کر دکھائیں گے، ایاز صادق
Ayaz Sadiq

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close