Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بے حیائی کا علمبردار ہندئو ازم

December 6, 2018 0 1 min read
Hinduism
Hinduism
Hinduism

تحریر : نسیم الحق زاہدی

ہندئوازم لفظ ”ہندو” سے نکلاہے۔ جس کے معنی چور’کالا اور چوکیدار کے ہیں۔ یہ لفظ جغرافیائی اہمیت رکھتاہے۔ ابتدا میں یہ لفظ ان لوگوں کے لیے استعمال ہوا جو دریائے سندھ کے پاررہتے تھے یاان علاقوں کے رہنے والوں کے لیے جن علاقوں کو دریائے سندھ کاپانی سیراب کرتاتھا۔ انگریز مصنفین نے یہ لفظ 1835ء میں ہندوستان میں رہنے والے تمام لوگوں کے مذہبی عقائد کے لیے استعمال کیا۔سوائے مسلمان اور عیسائی لوگوں کے۔ہندومت متضاد نظریات اور متعدد عقائد کے وسیع مجموعے کا معجون مرکب اور اوہام اورفرضی داستانوں کاوسیع جنگل ہے۔ جس میں توحید’تثلیث ‘شرک اور بت پرستی کی ہرقسم پائی جاتی ہے۔ عملاً ایک ہندوآزادہے۔وہ جوچاہے کرے’ ‘اس کے لیے حلال وحرام کاکوئی تصورموجودنہیں ہے۔ ہندو ازم ایک مذہب نہیں ، بنیادی طور پر بے حیائی کا علمبردار ہے۔ ہندو معاشرہ ازل سے ہی جنسی بے راہ روی کا شکار تھا اور ہے ،مندروں میں عورتیں پنڈتوں اور پوجاریوں کے حوس کا نشانہ بنتیں. بنوھگ کی رسم پر فخر سمجھی جاتی. ایک عورت کئی بھائیوں کی مشترکہ بیوی ہوتی. صحتمند اولاد کے حصول کے لیے سسر کی اجازت سے طاقتور اور صحتمند مرد سے اخلاط کے اجازت تھی۔دھرم شاسترا (مابعدویدک عہد )کے دور میں عورت کی حیثیت نہایت پست تھی۔ کمسنی کی شادی کی حوصلہ افزائی کی گئی اور بیوائوں کی شادی کو نظر انداز کیا جانے لگا۔ لڑکیوں کی پیدائش کو اس حد تک منحوس سمجھا جانے لگا کہ بے شمار والدین ‘ نومولود لڑکیوں کو ہلاک کردیا کرتے تھے۔ بیوائوں کے ساتھ بے انتہا بدسلوکی کے نتیجہ میں ستی کی رسم عام ہوگئی۔سمرتیوں’پرانوں اوررزمیہ داستانوں (رامائن’مہابھارت )کے عہدمیں عورت کی حالت مزید ابتر ہوگئی تھی’اسے تمام تربرائیوں کا مجموعہ سمجھاجانے لگاتھا۔اس عہدمیں منو کے قوانین لوگوں کے لیے ندائے خداوندی کا درجہ رکھتے تھے۔منوکے اصول کے تحت عورت کو شودر کے زمرے میں رکھاگیاتھا اورقتل کے معاملے میں دونوں کی ایک ہی سزامقرر کی گئی تھی۔ہندومذہب میں دھرم شاسترکی بنیاد پرکئی سمرتیاں لکھی گئیں’جن میں منوسمرتی سب سے زیادہ مشہور اوراہمیت کی حامل رہی ہے۔اسی سمرتی کی بنیاد پر ہندو قانون بنایاگیاہے۔منوسمرتی کو ہندو سماج کے معاشرتی وعائلی قوانین کا ماخذ سمجھاجاتاہے۔

آج بھارتی سماج کا جائزہ لیں تو دل ہلا دینے والے واقعات سامنے آتے ہیں ،وہ انسانوں کی بستی نہیں بلکہ وہاں انسان کے روپ میں درندے آباد ہیں، تین ماہ کی بچی سے لیکر ستر برس کی عورت بھی محفوظ نہیں۔ہندوستان اپنی عریاں و فحش فلموں سے پاکستان کے تباہ کرتے کرتے خود اخلاقیات کی پستیوں میں گھر چکا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ انڈیا میں انسانیت تقریباً ناپید ہو چکی ہے، اخلاقیات، آداب اور دوسروں کی عزت و آبرو کا تحفظ شدید خطرے میں ہےـنیو یارک ٹائمز کے مطابق”انڈیا سیاسی و سماجی زندگی میں انسانیت اور اخلاقیات سے مکمل طور پہ محروم ہوتا چلا جا رہا ہے ”ـاخبار ‘ٹیلی گراف’ کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹکا میں مذہب کے نام پر خواتین کا جسمانی استحصال جاری ہے ۔ ایسی عورتوں کی تعداد لاکھوں میں ہیں جنہیں بھگوان کے نام پر جسم فروشی پر لگادیا گیا ۔ ”دیو داسی” کہلانے والی خواتین مذہبی روپ میں نظر آتی ہیں، رنگ برنگے لباس پہنتی ہیں اور زیورات کا استعمال بھی کرتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے گاہکوں کے لئے ان میں اور عام جسم فروش خواتین میں کوئی فرق نہیں۔

دیو داسی کا مطلب ہے بھگوان کی رکھیل۔ دسمبر2015ء اور جنوری 2016ء میں بھارتی سپریم کورٹ نے اس نظام پر قدغن لگانے کی ناکام کوشش کی تھی۔ ایک رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ کئی ریاستوں میں طاقتور پنڈتوں اور پجاریوں کی سرپرستی میں یہ گھناؤنا نظام پھل پھول رہاہے۔ صرف ریاست کرناٹکا میں ہی ایسی خواتین کی تعداد 23 ہزار سے زائد ہے، جنہیں ان کے اپنے گھر والوں نے ہی دیوداسیاں بنانے کے لئے مندروں اور پروہتوں کو بیچ دیا تھا، جو ان سے شرمناک دھندہ کرواتے ہں۔ اگر ہندوستان کی قدیم تاریخ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ شرمناک روایت 14 سے 15 سو سال پرانی ہے جب قدیم بھارت میں لوگ اپنی نوعمر لڑکیوں کو افزائش نسل کی دیوی ‘یلاما’ سے منسوب کرکے مندروں میں چھوڑ دیا کرتے تھے۔

ابتدائی دور میں یہ دیوداسیاں عموماً مندروں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھیں اور مذہبی رسومات میں شرکت کیا کرتی تھیں۔ بعدازاں ان میں گانے بجانے اور امراء و نوابوں کی تفریح طبع کا اہتمام کرنے کا رواج بھی عام ہونے لگا۔ چند صدیاں بعد یہ مذہبی روایت اس قدر زوال پذیر ہوگئی کہ دیوداسیوں کا ہندو مت کی عبادات و رسومات سے تعلق تقریباً ختم ہوگیا اور یہ محض جسم فروش خواتین بن کررہ گئیں۔آج بھی بھارت کے طول و عرض میں غریب خاندان جانتے بوجھتے ہوئے اپنی بچیوں کو دیوداسیاں بنانے کے لئے فروخت کردیتے ہیںاور پھر ان کی تمام عمر ہوس پرستوں کی تفریح طبع کا سامان بنتے ہوئے گزرجاتی ہے، اور ستم ظریفی دیکھئے کہ ان بچیوں کو بیچنے والے ان کے اپنے والدین سے لے کر ان کے جسموں کے ساتھ ہوس کی بھوک مٹانے والے گاہکوں تک ہر کوئی اس شرمناک کام کو مذہب کے لبادے میں کر رہا ہے۔ہندوستان ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہندوستان کے کئی علاقوں ، بالخصوص جنوبی ہند کی بعض ریاستوں کے مندروں میں 50 ہزار سے زائد بھگوان کی دلہنیں موجود ہیں ،جن کی تعداد میں ہر سال کم از کم ایک ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے۔یہ ایک احتیاطی اعدادوشمار ہیں۔

ورنہ حقائق کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دھرم کے نام پر دیوداسی بنائی جانے والی کمسن لڑکیوں کو پجاری اور بااثر شخصیات زیادتی کا نشانہ بناتی ہیں۔ یہ سلسلہ برسوں جاری رہتا ہے اور جب پجاریوں کا دل کسی بھگوان کی دلہن سے بھر جاتا ہے تو اسے دیوداسی کے منصب سے ریٹائرڈ کرکے ممبئی، کولکتہ اور دہلی سمیت دیگر شہروں کے قحبہ خانوں میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ہندوستانی محقق اشیتا گپتا نے ایک ریسرچ پیپر میں بتایا ہے کہ جنوبی ہند کے مندروں اور فحاشی کے اڈوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ریسرچر کے مطابق اس نے جنوبی ریاستوں میں گھناونے دھندے سے منسلک عورتوں کے انٹرویوز میں یہ حقیقت معلوم کی کہ ان میں سے 20 فیصد عورتیں ماضی میں دیوداسی رہ چکی ہیں۔مغربی یوپی کا مقبول مذہبی شہر، مہابھارت کے کردار شری کرشن کے عہد طفولیت کا وطن متھرا سے 10کلومیٹر دور ورنداون قائم ہے۔

جہاں ہندوستان کی مظلوم ہندوبیوہ عورتوں ، اپنوں سے دھتکاری ہوئی بد قسمتوں کی آہوں اور سسکیوں سے بھرا ہوا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق وہاں 4000ہندو خواتین ایسی رہتی ہیں جنہوں نے اپنے شوہروں سے علحیدگی اختیار کرلی ہے خود ان کے خاندان کے افراد نے انہیں برداشت نہیں کیا اور برنداون کا سنہرا خواب دکھاکر وہاں پھینک دیاہے۔ جی ہاں یہ خواتین اسی معاشرہ کا حصہ ہیں جہاں عورت کو کالی، درگا، لکشمی کی شکل میں پوجاجاتاہے۔ جہاں ماں کی مختلف شکلوں میں دیوی ماں کر پرستش ہوتی ہے، جس کی تہذیب وتمدن پر ہندوستانیوں کو فخر ہے۔ مذہب کے نام پر ان پر مظالم کو روا رکھا جاتا ہے ۔ برہمن سماج میں نوجوان سے جوان لڑکی جب بیوہ ہوجاتی ہے تو دوسری شادی ممنوع ہونے کی وجہ سے وہ ایک لاچار عورت بن کر رہ جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ میں یہ دکھایا گیا کہ ایک ٹی وی چینل کا رپورٹر ورنداون اولڈ ہاؤسزکے ذمہ دار سے باتیں کررہاہے ایک سوال کے جواب میں اس ذمہ دار نے دل دہلانے والی بات کہی ”ان خواتین کو جب بیماری لگ جاتی ہے (بیماری سے مراد مہلک مرض ایڈز وغیرہ ہے) تو ہم ان کو کاٹ کر بوری میں بند کرکے پھینک دیتے ہیں۔”یہی نہیں ورنداون میں قائم اولڈ ہاؤسز میں خواتین کے لئے معقول رہائش وطعام کا انتظام یکسر معدوم ہے۔

وہاں پناہ گزین خواتین روزی روٹی کے لئے گلیوں میں بھیک مانگنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ اسی ویڈیو کلپ میں جب رپورٹر نے سوال کیا کہ مجھے معلوم ہواکہ ان خواتین سے جسم فروشی کا دھندہ کروایا جاتا ہے تو اس ذمہ دار نے بلاجھجھک کہاکہ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے وہ تو ہوتا ہی ہے۔ یہ وہ اعلیٰ خاندان کی خواتین ہیں جن کو اپنے معاشرتی نظام پر فخر ہے۔ ایک اور رپورٹر نے بتایاکہ ورنداون کا علاقہ اب ایسی خواتین سے بھر چکا ہے یہاں نووارد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔دوسری جانب بھارتی سپریم کورٹ نے بھی اپنے حالیہ فیصلوں سے ملک میں بڑھتی ہوئی جنسی بے راہ روی اور بے حیائی پر اپنی مہر لگاتے ہوئے اسے جائز قرار دیدیا ہے ۔ شادی شدہ مرد اور خاتون کے درمیان رضامندی کے ساتھ غیر ازدواجی تعلقات استوار ہوتے ہیں تو اسے جرم نہیں مانا جاسکتا۔سپریم کورٹ کی 5 رکنی بینچ میں ایک خاتون جج بھی شامل تھیں۔بینچ نے اپنے فیصلے میں تعزیرات ہند کی دفعہ 497 کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دفعہ 14 اور 21 کے خلاف ہے۔چیف جسٹس دیپک مشرا کا کہنا تھا کہ اگرچہ شادی شدہ مرد و خواتین کی جانب سے غیر ازدواجی تعلقات استوار کرنا جرم نہیں، تاہم اگر ان سے کوئی تیسرا شخص یعنی اگر تعلقات استوار کرنے والی خاتون کا شوہر یا پھر مرد کی بیوی متاثر ہوکر خودکشی جیسا سنگین قدم اٹھاتے ہیں تو تعلقات قائم کرنے والے افراد کے خلاف خودکشی کے قوانین کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔سپریم کورٹ کی بینچ نے دفعہ 497 کو خواتین کے خلاف امتیازی سلوک بھی قرار دیا۔ساتھ ہی عدالت نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ غیر ازدواجی تعلقات شادی کے لیے اچھے ثابت نہیں ہوں گے۔خیال رہے کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 497 کے تحت کسی بھی شادی شدہ مرد اور خاتون کے درمیان غیر ازدواجی تعلقات جرم تھے،تاہم اس میں سزا صرف مرد کو دی جاتی تھی اور خاتون اس سے بری الذمہ تھی۔اس دفعہ کے تحت اگر کوئی بھی شادی شدہ مرد کسی ایسی خاتون سے جنسی تعلقات قائم کرتا ہے،جس متعلق اسے شبہ یا پتہ ہو کے وہ کسی اور کی بیوی ہے، وہ قانونی طور پر مجرم ہوگا اور اسے قید یا جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔ ہندوستان میں ہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت دیدی گئی تھی ،اور مرد و عورت کے نا جائز تعلقات کو بھی قانونی لبادہ پہنا دیا گیا ہے یعنی اب فحاشی اور بے حیائی کا گھنائونا کھیل گھر کی چہاردیواری کے اندر علی الاعلان کھیلا جارہا ہے۔

ماں باپ ،بھائی اور شوہر کو یہ حق حاصل نہیں ہوکہ وہ اپنی بہو ،بیٹی یا بیوی کو اپنی آنکھوں کے سامنے کسی غیر مرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے سے قانوناََ روک سکیں۔ایسا کرنے پر انکے خلاف ہی قانونی کاروائی کا حق محفوظ ہوگا۔ حقیقت حال یہ ہے بھارتی عدلیہ نے ہندوستان میں زنا اور ہم جنس پرستی کی راہیں کھول دی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ بھارت میں مشرقی اقدار دم توڑ چکے ہیں اور مغربی تہذیب و تمدن بری طرح غالب ہے۔ اس غیر فطری تمدن کو فرد کی ازادی اور اسکے فطری حقوق کے نام پر فروغ دیاجارہاہے تاکہ کسی کو مخالفت کا جواز نہ مل سکے۔ تھامسن ریوٹرز فاونڈیشن کی تحقیقی رپورٹ میں نام نہاد سیکولر عظیم جمہوریت کے دارالحکومت ”دہلی”کو انڈیا کا ”ریپ کیپیٹل” قرار دیا گیا جو کہ انڈیا ابھی تک اپنے نام کے ساتھ سے نہیں ہٹا پایا۔بھارتی حکومت کی بین الاقوامی دنیا سے آنے والی خواتین کو کپڑوں کے متعلق خبر دار کرنے، ان معاملات میں لاپرواہی برتنے، مجرموں کی مدد کرنے اور ایسے دیگر کئی واقعات بھارت کی عالمی دنیا میں یہ صرف جگ ہنسائی کا باعث بنے بلکہ بہت سے تحقیقی اداروں، صحافیوں، اخباری ایجنسیوں سمیت دیگر دنیا کے حکمرانوں سے شدید مذمت کا سامنا بھی کرنا پڑاـ انڈیا میں اقوامِ متحدہ کی نمائندہ برائے خواتین ریبیکا ریچ مین کا کہنا ہے کہ:”میں انڈیا میں عصمت دری (کے واقعات )کے نتائج دیکھ کر حیران نہیں ہوئی کیونکہ یہ سب متوقعہ تھاـ پچھلے چند سالوں میں انڈیا اور برازیل کے میڈیا نے جنسی حراساں کیے جانے کے واقعات کو خاصی توجہ دی ہے”ـٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں 2018ء میں 2017ء کی نسبت جرائم میں کافی اضافہ ہوا ہےـ رپورٹ میں بتایا گیا کہ قتل، اغواء برائے تاوان، جہیز نہ لانے پر عورت کا قتل اور زنا بالجبر کی جرائم میں اضافہ تشویش ناک حد تک بڑھ سکتا ہے جبکہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومت کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے ـاسی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر دودن میں ایک عورت کو جہیز نہ لانے پر قتل کر دیا جاتا ہےـرپورٹ کے مطابق قتل کے مقدما ت اور زنابالجبر کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہےـ

Naseem Ul Haq Zahidi
Naseem Ul Haq Zahidi

تحریر : نسیم الحق زاہدی

Share this:
Tags:
Hindu laws Muslim Naseem-ul-Haq-Zahidi Society women عورت قوانین مسلمان معاشرہ ہندو
Hum Log
Previous Post ہم لوگ
Next Post پاکستان میں اردو ہائیکو کے بانی ڈاکٹر محمد امین
Dr. Muhammad Amin

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close