
تحریر : وقار انساء
عبدالستار ایدھی فخر پاکستان اور محسن انسانیت آج زندگی کا باب تو بند کر گئے ليکن رہتی دنیا تک تاریخ ميں اپنا نام امر کر گئے – اس مقام پر پہنچنا آسان نہیں تھا اس کے لئے انہوں نے اپنی زندگی وقف کر دی- اپنی زندگی کے ماہ وسال انسانیت کی بھلائی کی نذر کئے –اور نيک جذبات اور سچی لگن سے اپنا مشن جاری رکھا۔
ايسے عظيم انسان کبھی پيدا ہوتے ہيں – اس ماں کو بھی سلام جن کے بطن سے اتنا عظيم شخص پيدا ہوا اور ان کی کيسے تربيت کی اس ماں نے کہ انسانيت کی بھلائی کو اپنا شعار بنا ليا کیونکہ ماں نے دوآنےديکر يہی سبق ديا کہ ايک اپنی ذات پر اور دوسرا کسی کی ضرورت پر لگانا – ان کے پاس دنيا کی تو بڑی ڈگری نہ تھی ليکن انسانيت کی ڈگری اور مخلوق خدا کی خدمت کی بہت بڑی ڈگری ان کے پاس تھی اور انہوں نے اپنی ذات سے ايسا سبق لوگوں کو بھی پڑھايا جو کوئی کتابی تعليم سے بھی نہ سيکھ سکے۔
انہوں نے بلا تخصيص مذھب نسل اور ذات پات لوگوں کی خدمت کی- زلزلوں کی تباہ کاری ہو يا سيلاب کی آفت ان کی ايدھی ايمبولينس فورا مدد کے لئے آپہنچتی ہسپتالوں تک زخمی پہنچانے ہوں تو ايدھی ايمبولينس برق رفتاری سے اپنے کام پر رواں دواں حادثات ميں مسخ شدہ لاشوں کو نکالتے اور جب ايسے لوگون کی تدفين کی پريشانی ديکھی تو لاوارثوں کے لئے قبرستان بنا ديا اور ان کی فاؤنڈيشن تجہيزو تکفين کا انتظام کرتی – کراچی کے ابتر حالات ميں اکثر حادثات ميں ايمبولينس کے ڈرائيوروں کو گولياں بھی لگتيں ليکن ان کا خدمت خلق کا مشن جاری رہا۔
آج بھی دکھ کی اس گھڑی ميں ايدھی فاؤنڈيشن کی تمام سروسز کام کر رہی ہيں- کيونکہ ايدھی صاحب نے اپنی زندگی بھرآرام اور چھٹی کو ترجيح نہيں دی اور ان کی خواہش کے عين مطابق ايدھی فاؤنڈیشن کے تمام تر خدمتگار غم سے نڈھال مگر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہيں اتنی سادہ زندگی اور اتنی عاجزی ديکھنے کو نہيں ملتی اپنی ذات سے لوگوں کو فيض پہنچايا –اپنی جوانی اپنی تمام عمر سب ہی تو لوگوں کی بہتری پر لگايا –ديا تو بہت کچھ اور لے کر لوگوں کی دعائيں محبتیں لے کر گئے انہوں نے وہی کچھ کمايا جس کی ضرورت ان کو آخروی زندگی ميں پڑنی تھی۔
يہ وہ سبق ہے جو ھمارے حکمرانوں کو پڑھنا ہے-جن کے پاس املاک بھی ہيں اور روپيہ پيسہ بھی ليکن دنيا کی حرص ان کے دلوں سے نہيں نکلتی-اگر ايک ايدھی لوگوں کے اتنے کام آسکتا ہے اور بھيک مانگ کر اپنے اداروں کو چلا سکتا ہے تو ان ميں سے کيوں کوئی عبدالستار ايدھی کے نقش قدم پرنہيں چل سکتا ان کے مال و اسباب کيوں لوگوں کی بہبود پر لگ سکتے ؟
اج ايدھی اولڈ ہوم کے مکين بھی بلک بلک کر روئے وہ لاکھوں یتيم اور بے سہارا بچے جن کا يہ سہارا بنے تھے وہ فرط غم سے نڈھال ہيں وقت کے ھاتھوں دربدر ہونے والی بچياں ايدھی سکول کے بچے سب اپنے مسيحا کے جدا ہونے پر بے حال ہيں۔
درويش صفت انسان جنہوں نے اپنی زندگی کا رنگ ڈھنگ نہيں بدلا زمين پر بيٹھ کر کھانا کھاتے- اور غريبوں اور لاوارثوں کو گلے لگاتے جھولے ميں پڑے بچے ان کے زير سايہ جوان ہو جاتے
ايدھی صاحب نے انسانيت سے محبت کا سبق ديا – اس سبق کو پڑھنے کی ضرورت ہے – ان کی خدمات يہ تقاضا کرتی ہيں کہ نصابی کتب ميں ان کی زندگی اور ان کے کام کو شامل کيا جائے ہو سکتا ہے کہ کوئی ايدھی جيسا ہونے کی کوشش کرے کيونکہ ايدھی اپنی ذات ميں ايک ہی تھے ان جيسا انسان شائد ہی پيدا ہو سکے۔
ان کی فاؤنڈيشن کے تمام اداروں کی مدد کی جائے تاکہ ان کا کام چلتا رہے اور انسانيت کی فلاح ہو سکے – اپنے صدقات خيرات اور زکوۃ کو ان بے سہارا لوگوں تک پہنچانا ہم سب کا بھی کام ہے –اللہ کرے ان کے کاموں کا سلسلہ جاری اور ساری رہے۔
تحرير : وقار انساء
