Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

تاریک تاریخ کی سیاہی سے نکل کر دیکھیں

December 18, 2021December 18, 2021 0 1 min read
Fall of Dhaka
Fall of Dhaka
Fall of Dhaka

تحریر : روبینہ فیصل

16 دسمبر ہماری شکست کی نہیں شکست کے اعتراف کی کہانی، اسی لئے اس قدر تکلیف دہ ہے۔جب ہمارے جوان لڑنا چاہتے تھے اور انہیں لڑنے کے آرڈر نہیں مل رہے تھے۔ ہار کو تسلیم کر لیا گیا تھا، ہتھیاروں کو پھینک دیا تھا۔۔ اور اس سے بھی بڑی شکست جو ہم نے مان لی وہ تھی، انڈین پر اپیگنڈہ کے آگے اسی طرح گھٹنے ٹیک دئیے جیسے میدان جنگ میں جنرل نیازی نے ہتھیار جنرل اروڑا کی جھولی میں ڈال دئیے تھے۔تاریخ ہمیشہ فاتح لکھتے ہیں مفتوح صرف سر پیٹتے رہ جاتے ہیں مگر ہم نے سر پیٹنا بھی گوارا نہیں کیا اور دنیا کے آگے اپنا حکومتی موقف اور سچ رکھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔۔انفرادی طور پرکچھ لوگ اس شرمناک حقیقت کی سیاہی کم کر نے کی خاطر ان دنوں کا سچ سامنے لانے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔۔ ایک کتاب کا ذکر کر نا چاہوں گی۔۔ میاں افراسیاب مہدی ہاشمی قریشی (پاکستان کے فارن آفیسر) اور وہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلہ میں ہائی کمشنر آف پاکستان بنگلہ دیش بھی رہ چکے ہیں۔ وہ اپنی کتاب1971:facts and fiction میں لکھتے ہیں؛

“ایک دفعہ ڈھاکہ میں مجھے بہت اداس کر دینے والا تجربہ ہوا۔ ہمارا قونصلر آفیسر میرے کمرے میں آیا اور مجھے بتانے لگا کہ صبح ایک بنگلہ دیشی لاہور کا ویزہ لینے آیا تھا تو ا س نے ایک دماغ چکرا دینے والی بات سنائی ہے ۔ ہمارے قونصلیٹ نے اس کو ویزہ اسی وقت دے دیا تھا۔ اس بنگلہ دیشی نے بتایا کہ” وہ کچھ دن پہلے انڈین ہائی کمشن کے دفتر ممبئی کا ویزہ لینے گیا تھا۔ انڈین افسر نے اس کا بنگلہ دیشی پاسپورٹ اس کے منہ پر مارا اور انڈین ویزہ دینے سے انکار کر دیا۔ اور ساتھ میں اسے بڑی غلیظ باتیں بھی سنائیں۔وہ تمسخر اور طنز سے مجھے کہہ رہا تھا؛ تم بنگلہ دیشی ہمیشہ پاکستان کو کیوں سپورٹ کرتے ہو؟کیا تم اب بھی پاکستان سے محبت کرتے ہو!اور جب بھی پاکستان اور بھارت کا میچ ہو رہا ہو تا ہے تم لوگ پاکستان کی حمایت میں نعرے مارتے ہو۔ کیا ہم نے تمہیں پاکستان سے آزادی لینے میں مدد نہیں کی تھی؟ تم لوگ ناشکرے اور بد معاش ہو۔۔ پاکستانی فوجیوں نے جب تمہاری عورتوں کا ریپ کیا تھا تو لگتا ہے ان عورتوں کو اپنی زندگی کی بہترین سیکس نصیب ہو ئی تھی۔۔اور اسی وجہ سے تم کاکروچ ابھی تک پاکستان سے محبت کرتے ہو۔۔۔؟”

افراسیاب آگے چل کر لکھتے ہیں کہ؛” اسی طرح سلہٹ کے دورے کے دوران ان کو ایک ریٹائرڈ بنگلہ دیشی پولیس افسرملا اور اس نے کہا؛” اب ہمیں سمجھ آتی ہے کہ انڈیا نے ہماری مدد کیوں کی تھی، ان کا اردہ ہماری مدد کر نے کا نہیں بلکہ پاکستان کو توڑنے کا تھا۔ اب ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ 71 ء میں کس نے ہماری عورتوں کے ریپ کئے تھے اور لوگوں کو قتل کیا تھا۔یہ سب انڈین پنجابی فوجیوں نے کیا تھا جو پاکستان آرمی کی وردی پہن کر گھومتے تھے۔ کیونکہ ہم بنگالیوں کو پنجابیوں کی زیادہ پہچان نہیں تھی اور ہم یہی سمجھتے تھے کہ تمام پنجابی بس پاکستان میں ہی رہتے ہیں اس لئے ہمیں انڈین آرمی کے پنجابی اور پاکستانی فوج کے پنجابی کا فرق ہی نہیں پتہ چل سکا۔۔” .اس کے بعد وہ مجھے انڈیا اور بنگلہ دیش کے بارڈر کے پاس ایک جگہ گھمانے لے گیا۔ اور پھر مجھے بری حیرت ہو ئی کہ اس نے ایک جنگل کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے بتایا کہ یہاں پر انڈین فوجیوں نے بنگالی عورتوں کا ریپ کیا تھا۔۔

پھر وہ مجھے قریب کے ایک دیہات میں ایک ایسی عورت کی جھونپڑی میں لے گیا جو وہاں پر اپنی بہن اور کزن کے ساتھ رہتی تھی۔ اس پولیس افسر نے مجھے بتایا کہ ان تینوں کو مکتی باہنی اور بھارتی فوجیوں نے گینگ ریپ کیا تھا۔ وہ عورتیں ستر اسی سال کی ہو چکی تھیں.وہ پاکستانی ہائی کمشنر کو دیکھ کر ہکا بکا ہو گئی تھیں۔ ان میں جو سب سے بڑی عمر کی خاتون تھی، وہ آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ 27نومبر 1971 میں ہونے والے اس گھناونے اور مکروہ واقعے کو تفصیل کے ساتھ دہرا رہی تھی۔ وہ بے تکان بولتی جا رہی تھی۔ میں نے اس سے ایک ہی سوال پوچھا کہ اسے یہ کیسے پتہ چلا کہ ان کے زیادتی کر نے والے پاکستانی نہیں بلکہ بھارتی فوجی ہیں۔ وہ لمحہ بھر کو رکی اور پھر بغیر کسی ججھک اور شرم کے بولی؛ ان چھ میں سے کسی کے بھی ختنے نہیں ہو ئے ہوئے تھے اور وہ اپنے۔۔ کے بارے میں بکواس کر رہے تھے اور ہندی نعرے لگا رہے تھے۔۔ باقی دو عورتوں نے بھی اسی قسم کی کہانی سنائی۔ وہ جن الفاظ میں اپنی کہانی دہرا رہی تھیں میں ان الفاظ کو یہاں نہیں دہرا سکتا۔ ”

ایک اور جھوٹ جو تواتر سے بولا جا تا ہے وہ یہ کہ پاکستانی فوجی نوے ہزار تھے۔71 میں پاکستانی فوجیوں (بری، بحری اور فضائی فوج کے سپاہی) کی کل تعداد 34000سے زیادہ نہیں تھی۔ یہی فوجی بھارتی فوج کے ساتھ بھی لڑ رہے تھے اور یہی فوجی مکتی باہنی سے بھی نبرد آزما تھے۔ باقی تو سویلین تھے جن کو جنگی قیدی بنایا گیا اور ان میں خواتین، بچے اور بوڑھے افراد بھی تھے۔

ایک اور الزام بڑے پیمانے پر لگایا جا تا ہے کہ پاکستانی افواج نے بہت زیادہ تعداد میں بنگالی خواتین کی آبر وریزی کی۔ شائید لوگوں کو یہ یاد نہیں رہا کہ نومبر کو1971 رمضان المبارک تھا۔ اس مبارک مہینے میں کتنے مسلمان ہو ں گے جو ایسی نیچ حرکت کے مر تکب ہو ں گے۔ کینیڈا کے بنگلہ دیش میں پہلے ہائی کمشنر جیمز بارٹل مین نے اپنی آپ بیتی میں بنگلہ دیش کی حکومت کی اس مسئلے پر مبالغہ آرائی کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

پاکستانی افواج پر ایک اور الزام یہ بھی ہے کہ انہوں نے تیس لاکھ معصوم بنگا لیوں کا قتل عام کیا۔ بھارتی سکالر سرمیلا بوس،اپنی کتاب Bangladesh war dead reckoning: Memories of the 1971جو 2011 میں شائع ہو ئی,اس میں لکھتی ہیں؛ “اس امر کا وثو ق سے انداز ہ لگایا جا سکتا ہے کہ 1971میں کم از کم پچاس ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان افراد ہلا ک ہوئے، جن میں فوجی جوان، سویلین، بنگالی، غیر بنگالی، ہندو، مسلم، بھارتی اور پاکستانی سب شامل ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز تو کر سکتی ہے لیکن اس سے آگے بیہودہ قیاس آرائیوں کی ایک اور ہی دنیا شروع ہو جاتی ہے۔ ”

ہمارے اس وقت کے نااہل فوجی حکمرانوں نے انٹرنیشنل میڈیا کو رپورٹنگ سے روکنے کے لئے ان کو ڈھاکہ سے بوئنگ میں بٹھا کر کرا چی روانہ کر دیا گیا تھا اور وہاں بڑے ہتک آمیز انداز میں صحافیوں کی تلاشیاں لے کر ان سے فلمز، ٹیپ اور ان کے نوٹس قبضے میں کر رہے تھے۔ اور اس کے بعد” ریڈیو فری بنگلہ دیش” دنیا تک خبریں پہنچانے کا واحد ذریعہ رہ گیا اور پھر جلد ہی پتہ چل گیا کہ یہ ریڈیو” کلکتہ سٹیشن آف آل انڈیا ریڈیو “ہی ہے۔ لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی اور یہ ریڈیو سٹیشن باہر کی دنیا کے ذہن اپنی مر ضی کے حساب سے بنا چکا تھا۔

ایک بنگالی ہندو جر نلسٹ ساستھی براتا مشرقی پاکستان میں اندر تک چلا گیا اور پھر اس کو اپنی سچی رپورٹ لکھنے کے لئے انڈیا سے بھاگنا پڑا۔ گارڈین اخبار نے اس کی رپورٹ چھاپتے ہو ئے ساتھ میں یہ بھی لکھا کہ” اگر وہ یہ رپورٹ انڈیا سے لکھتا تو اب تک گرفتار ہو چکا ہو تا۔” براتا نے صاف صاف لکھا کہ مکتی باہنی اصل میں انڈیا کے فوجی ہی ہیں، یہاں تک کہ انڈیا کی ائیر فورس بھی ایکشن میں آچکی ہے اور مشرقی پاکستان کے شہروں کو تباہ کر رہی ہے۔ افراسیاب لکھتے ہیں؛ تو اس وقت انڈیا میں صحافت کی یہ آزادی تھی۔ انڈیا کی مداخلت کے بارے میں
سچ لکھنا ایک جر م بن چکا تھا۔ اور ساری دنیا انڈیا کے پراپگنڈہ کو سچ مان رہی تھی۔ جب کچھ باضمیر غیر ملکی صحافیوں کو اندازہ ہوا کہ جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے تو وہ اس علاقے میں خود جا نا شروع ہو گئے تاکہ اصلی صورتحال کا اندازہ ہو سکے۔جیسے ہی انڈیا کو یہ خبر ہو ئی کہ اب رپورٹنگ ان کے خلاف ہونے کا امکان ہے تو غیر ملکی صحافیوں پر انڈیا سے باہر جانے کی پابندی لگا دی گئی۔ ان صحافیوں کو دہلی اور کلکتہ کے افسران خود پریس بر یفنگ دیتے۔ اگر صحافی بذات خود ان مقامات پر جانا چاہتے تو انہیں پرمٹ یا دخواست کے ایسے چکر وں میں پھنسا دیا جاتا کہ وہ انڈیا کی ریڈ ٹیپ ازم میں ہی گم ہو جاتے۔کیونکہ محتر مہ اندر گاندھی نہیں چاہتی تھیں کہ غیر ملکی صحافیوں کو ان ٹریننگ کیمپس(جو تقریبا 83 تھے)کا پتہ چل جائے جہاں پاکستانی افواج کے خلاف مکتی باہنی کو تیار کیا جا رہا تھا۔محترمہ اندرا گاندھی مسلسل یہی منترا جپتی رہیں کہ ہم صرف انسانی بنیادوں پر مشرقی پاکستان سے آنے والے پناہ گزینوں کی مد کر رہے ہیں۔ حالانکہ بھارتی شہریوں کے اس سے بھی زیادہ بدتر حالات مغربی بنگال اور انڈیا کے دوسرے صوبوں میں تھے مگر ان کی ہمدردی سرحد پار رہنے والوں سے تھی۔۔

25مارچ 1971، پاکستانی فوج کے کر یک ڈاؤن سے پہلے ہی قتل و غارت شروع ہو چکی تھی۔۔۔پو رے مشرقی پاکستان میں غیر بنگالیوں کا وسیع پیمانے پر قتل و غارت شروع گئی تھی۔مکتی باہنی نے ہزاروں شہری،محب وطن پاکستانی،اور اسلامک سکالرز کو بے دردی سے مارنا شروع کر دیا تھا۔کینیڈا میں مقیم عظمت اشرف کی کتاب ریفیوجی ایسے ہی ظلم کی داستان سے بھری ہو ئی ہے جو اس وقت غیر بنگالیوں پر کئے گئے تھے۔

Fall of Dhaka
Fall of Dhaka

پنڈت نہرو کی اپنی کتاب میں پاٹیل کے یہ الفاظ درج ہیں کہ پاکستان چند ہفتوں سے زیادہ قائم نہیں رہ سکے گا۔ اور گھٹنے ٹیک کر ہم سے واپس آملیں گے۔ کرشنا مینن جو کہ 1962 میں ڈیفنس منسٹر تھے وہ پاکستان کو مسلم دور کی تجدید کی پہلی قسط سمجھتے تھے۔ یہ خوف ہندو سائکی میں بسا ہوا ہے کہ قطب الدین ایبک کا دور لوٹ آئے گا اور پھر سے مسلمان ان پر راج کر یں گے۔ وہ اکھنڈ بھارت اور ہندو ازم کی تجدید چاہتے ہیں۔۔ کشمیر کو پاکستان کے حوالے نہ کرنا اور کٹا پھٹا پاکستان قائد اعظم کے حوالے کر نا یہ سب ان کی سائکی میں بیٹھے اس خوف کو ظاہر کرتا ہے اور پھر پاکستان کو توڑنا اس کا ایک اور مظاہرہ ہے۔۔ اندرا گاندھی نے کہا میں نے نظریہ پاکستان کو بخیرہ بنگال میں ڈبو دیا۔ شیخ مجیب الر حمان کی بیٹی اور بعد کے حالات و واقعات سب ثابت کر تے ہیں کہ ملک کو توڑنے کی سازش اس وقت بھی ہو رہی تھی جب ان لوگوں کے منہ پرانکار تھا۔۔ لیکن شاباش ہے انڈین ایجنڈے کے متاثرین سے کہ جو آج تک انہی نمبرز اور انہی حالات کو دہراتے ہیں جو انہیں اسے وقت کلکتہ کے ریڈیو نے سنائے تھے۔۔ وہ آج بھی سچ جاننا، یا بولنا نہیں چاہتے۔۔

فاتح کے قلم سے لکھی تاریخ کو بار بار پڑھنے کی بجائے اس زمانے میں موجود عام انسانوں کی نظروں سے بھی تاریخ کو دیکھنے کی جرات پیدا کریں۔۔ پاکستان زندہ باد۔

تحریر : روبینہ فیصل

Share this:
Tags:
Bangladesh dhaka government History pakistan reality بنگلہ دیش پاکستان تاریخ حقیقت حکومت ڈھاکہ
Transparency International Pakistan
Previous Post کفر کے معاشرے اور ٹراسپرنسی رپورٹ
Next Post حماد اظہر نے دن میں 3 بار گیس فراہمی کی یقین دہانی کو ’فیک نیوز‘ قرار دیدیا
Hamad Azhar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close