Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پھولوں کی آرزو میں بڑے زخم کھائے ہیں

April 13, 2020 0 1 min read
Imran Khan
Imran Khan
Imran Khan

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

تاریخِ پاکستان میں قائدِاعظم اور لیاقت علی خاں کے بعد شاید ہی کوئی ایسا لیڈر سامنے آیا ہو جس نے عوام کی بھلائی کا سوچا ہو۔ ایوب خاں سے عمران خاں تک کی سیاسی تاریخ سب کے سامنے ۔ایوب خاں کو ڈیڈی کہنے والے ذوالفقار علی بھٹو کو جب موقع ملا تو وہ اپنے ”ڈیڈی”کے خلاف ہی سڑکوں پر نکل آئے۔ وہ ایوب خاں کے دَور میں ابھرنے والے صنعتی و تجارتی گروپوں کو ملک کی غربت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے 22 خاندانوں پر معاشی استحصال کا الزام لگاتے رہے۔ اُنہوں نے مغربی پاکستان میں ”روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ لگا کر تاریخی کامیابی حاصل کی۔ اُس وقت بھی عقیل وفہیم اصحاب کہا کرتے تھے کہ بھٹو کا یہ نعرہ کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو تو دنیا سے گئے عشرے بیت چکے لیکن پیپلزپارٹی آج بھی اِسی نعرے کو سینے سے لگائے پھرتی ہے۔ ہمارے ”خانِ اعظم” نے بھی اپنی سیاست کا آغاز بھٹو کی پیروی میں کیا۔ اُنہوں نے ”نیاپاکستان” بنانے کا نعرہ بلند کرتے ہوئے 100 دنوں میں ملک کی تقدیر بدلنے کا اعلان کیا۔ ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر بھی اُن کے اعلان کا حصہ ہیں۔ صاحبانِ عقل وفہم یہ جانتے تھے کہ یہ ناممکن ہے لیکن ”زورآوروں” نے پھر بھی اُنہیں ”شیروانی” کا حقدار ٹھہرا دیا۔ آج پونے دو سال ہونے کو آئے، ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر تو کجا، بے روزگاروں کی تعداد میں 25 لاکھ کا اضافہ ہو چکا، مہنگائی کا عفریت اور معاشی بربادی اِس کے علاوہ۔

ذوالفقار علی بھٹو منتقم مزاج تھے۔ وہ ادنیٰ سا اختلاف بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ جے اے رحیم پیپلزپارٹی کے بانی رکن اور جنرل سیکرٹری تھے۔ ایک میٹنگ میں ذوالفقار علی بھٹو بہت دیر کے بعد تشریف لائے تو جے اے رحیم نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین سمیت تمام ممبران کو وقت پر آنا چاہیے۔ بھٹو کو یہ بات بہت ناگوار گزری۔ اُسی رات ایف ایس ایف (بھٹو کی اپنی تشکیل کردہ فورس) نے جے اے رحیم کو گھر سے اُٹھا لیا اور بُرے طریقے سے پیٹا۔ بھٹو کی اناپرستی اُن کی ذہانت پر ہمیشہ حاوی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے دیرینہ ساتھی ،غلام مصطفےٰ کھر، خورشید حسن میر، جے اے رحیم، حنیف رامے، معراج محمد خاں، مختار اعوان، محمودعلی قصوری اور احمدرضا قصوری یکے بعد دیگرے اُن کا ساتھ چھوڑ گئے۔ بھٹو کے دَور میں پسِ دیوارِ زنداںاپوزیشن لیڈروں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا گیا۔ اُنہوں نے ایف ایس ایف کے ذریعے اپنے کئی مخالفین کو اپنے راستے سے ہٹایا۔ ڈاکٹر نذیر شہید، خواجہ رفیق شہید اور نواب احمد خاں قصوری ایف ایس ایف کا ہی نشانہ بنے۔

ہمارے خانِ اعظم کے منتقم مزاج ہونے میں بھی کوئی کلام نہیں۔ ”نہیں چھوڑوںگا” اُن کا تکیہ کلام بن چکا۔ بھٹو جو کام ایف ایس ایف سے لیا کرتے تھے، خانِ اعظم آجکل وہی کام نیب سے لے رہے ہیں۔ منتقم مزاج ہونے کا یہ عالم کہ واشنگٹن ڈی سی کے جلسۂ عام میں تقریر کرتے ہوئے میاں نوازشریف کے بارے میں فرمایا کہ واپس جاتے ہی جیل میں اُس کا اے سی اُتروا لوں گا، گھر کا کھانا بند کروا دوں گا۔حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ میاں صاحب کے دل کے دو آپریشن ہو چکے ہیں اور دِل کی شریانوں میں چھ ”سٹنٹ” پڑے ہیں۔ اپنے دیرینہ ساتھیوں کے ساتھ اُن کا یہ سلوک کہ پرانی تحریکِ انصاف خواب وخیال ہوگئی۔

اب پیپلزپارٹی، نوازلیگ اور تحریکِ انصاف میں کوئی فرق نہیں۔ یہ الیکٹیبلز کی گیم ہے جو اِدھر اُدھر گھومتے رہتے ہیں۔خانِ اعظم کے ”اے ٹی ایم” کے بارے میں معروف لکھاری حامد میر نے اپنے کالم میں لکھا ”عمران خاں جب کبھی جہانگیر ترین کو جیونیوز کے ٹاک شو کیپیٹل ٹاک میں دیکھتے تو مجھ سے پوچھتے، سنا ہے یہ بڑا امیر آدمی ہے، میں کہتا، ہاں سنا ہے بڑا امیر آدمی ہے تو خاں صاحب کہتے کہ یہ ایک مافیا ہے جس نے سیاست پر قبضہ کر رکھا ہے۔ تم اِس مافیا کو اپنے شو پر نہ بلایا کرو، تمہاری ساکھ خراب ہوتی ہے۔ میں جواب دیتا کہ جناب یہ ترین صاحب یا اُن کے کزن ہمایوں اختر کابینہ میں شامل ہیں۔ مجھے حکومتی نقطۂ نظر کے لیے اُن کو بلانا پڑتا ہے۔ عمران خاں اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہتے دیکھنا میں اِس مافیا کو کلین بورڈ کر دوں گا”۔ حامد میر کے مطابق جہانگیر ترین با اثر سیاستدانوں کا ایک گروپ بنا کر تحریکِ انصاف پر قبضے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ جہانگیر ترین نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز میاں شہبازشریف کی ٹاسک فورس کے سربراہ کی حیثیت سے کیا۔ 1999ء میں پرویزمشرف کے حکومت پر غاصبانہ قبضے کے بعد وہ قاف لیگ میں شامل ہوئے اور 2002ء کے انتخابات میں ممبر قومی اسمبلی بنے۔ شوکت عزیز کی وزارتِ عظمیٰ کے دَور میں وہ وزیرِ صنعت تھے۔ اُسی دور میں اُنہوں نے اپنی ایک مِل کے ساتھ 2 اور ملوں کا اضافہ بھی کیا۔ پرویز مشرف کے اقتدار کے خاتمے کے بعد وہ فنکشنل لیگ میں شامل ہو گئے۔ جب اکتوبر 2011ء میں خاں صاحب نے مینارِ پاکستان پر انتہائی کامیاب شو کیا تو ترین صاحب دسمبر 2011ء میں تحریکِ انصاف میں شامل ہو گئے۔ اِس سے پہلے شاہ محمود قریشی بھی تحریکِ انصاف پر قبضے کے چکر میں ہی نومبر 2011ء میں پیپلزپارٹی کو داغِ مفارقت دے کر تحریکِ انصاف میں شامل ہوکر وائس چیئرمین بن چکے تھے۔ شاہ محمودقریشی اور جہانگیر ترین، دونوں ہی بھول گئے کہ سازش کرنے میں خانِ اعظم کا کوئی ثانی نہیں۔ اُنہوں نے کرکٹ سے اپنے کزن ماجد خاں کا پتّا جس طرح صاف کیا، وہ سب کے سامنے ہے۔

دراصل خاںصاحب کو جہانگیر ترین کے پیسوں اور شاہ محمود کی سیاسی ساکھ کی ضرورت تھی اِس لیے پہلے اُنہوں نے جہانگی ترین کی پیٹھ تھپکی اور جی بھر کے اُن کی دولت سے فائدہ اُٹھایا۔ شاہ محمودقریشی اپنی دال نہ گلتی دیکھ کر مناسب وقت کے انتظار میں پیچھے ہٹ گئے اور ترین صاحب معنوی ڈپٹی پرائم منسٹربن کر سیاہ وسفید کے مالک بننے کی کوشش کرنے لگے۔ اگر سپریم کورٹ نے جہانگیرترین کو تاحیات نااہل نہ کیا ہوتا تو یقیناََ وہ یا تو ڈپٹی وزیرِاعظم ہوتے یا پھر پنجاب کے وزیرِاعلیٰ۔ اُدھر خانِ اعظم روزِ اوّل سے ہی جہانگیرترین کو کلین بورڈ کرنے کا فیصلہ کیے بیٹھے تھے۔ جب اُنہوں نے دیکھا کہ اب ترین صاحب کی ضرورت باقی نہیں رہی تو قریشی گروپ کی پیٹھ تھپتھپانا شروع کر دی۔ اب قریشی گروپ کی ساری ٹیم اُن کی پُشت پر ہے۔

شاہ محمود قریشی کا سیاسی سفر بھی بہت دلچسپ ہے۔ اُن کے والد مخدوم سجاد حسین قریشی ضیاء الحق کے دَور میں 1985ء سے 1988ء تک پنجاب کے گورنر رہے۔ بھٹو کے سپاہی اور ضیاء کے دوست شاہ محمود قریشی میاں نوازشریف کی کابینہ کے وزیر بھی رہے۔ پھر پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اور 2002ء کے انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی کے اُمیدوار کے طور پر وزارتِ عظمیٰ کا انتخاب بھی لڑا۔ زرداری دَور میں وہ پیپلزپارٹی کے وزیرِ خارجہ تھے اور آجکل تحریکِ انصاف کے وزیرِخارجہ۔ جس زمانے میں شاہ محمود قریشی نے پیپلزپارٹی چھوڑی، اُس وقت فردوس عاشق اعوان پیپلزپارٹی کی وزیرِاطلاعات تھیں۔ اُنہوں نے کہا ”شاہ محمودقریشی سیاسی طور پر دیوالیہ ہو چکے ہیں۔ اُن کی تقریر کا سکرپٹ کسی اور نے لکھا۔ اُن کی تربیت ضیاء الحق کے دَور میں ہوئی۔ وہ جسمانی طور پر پیپلزپارٹی میں رہے لیکن ضیاء کے پیروکار ثابت ہوئے۔ پیپلزپارٹی کے سمندر سے اِس طرح کے ندی نالے نکلتے رہتے ہیں”۔ آجکل فردوس عاشق تحریکِ انصاف کی مشیرِاطلاعات ہے۔ محترمہ کی سیاسی قلابازیاں بھی بہت دلچسپ لیکن پھر کبھی ۔

”گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے” کے مصداق جب شوگر مافیا میں جہانگیر ترین کا نام اُبھر کر سامنے آیا تو اُنہوں نے بھی کمر کَس لی۔ ایک انٹرویو میں انکشاف کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ 2013ء کا انتخاب اُن کی جماعت بُری طرح ہاری تھی۔ اُنہوں نے کہا ”میں خاںصاحب کے پاس گیا اور کہا کہ ہم نے اگلا الیکشن جیتنا ہے لیکن جس طرح ہم نے پچھلا الیکشن لڑا ہے اور ٹکٹ دیئے ہیں، ہم نہیں جیت سکتے۔ اُنہوں نے کہا اِس کا مطلب کیا ہے؟۔ میں نے کہا 50 فیصد سیٹیں جو 2013ء میں ہم ہارے، اُن میں ہم سیکنڈ بھی نہیں آئے۔ ہم ٹیبل پر نہیں تھے، تھرڈ، فورتھ، ففتھ تھے۔ 66 فیصد ایسے تھے جہاں ہمیں 20 فیصد بھی نہیں ملا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اُمیدوار غلط تھے۔ جب تک ہم سیاسی فیملیوں کو لے کر نہیں آئیں گے، آپ وزیرِاعظم نہیں بن سکتے۔ پنجاب میں 60 فیصد وہ لوگ ہیں جو سیاسی فیملیوں کے ہیںجو 2013ء میں ہمارے ساتھ نہیں تھے”۔ خاںصاحب نے جہانگیر ترین ہی سے کہاکہ وہ ”الیکٹیبلز کو گھیرگھار کے تحریکِ انصاف میں لائیں۔ ۔۔۔۔ سوال مگر یہ ہے کہ اگر جہانگیر ترین کا یہ انکشاف سچ پر مبنی ہے (یقیناََ یہ سچ ہی ہوگاکیونکہ اُس زمانے میں اعتراض کرنے والوں سے خاں صاحب کہا کرتے تھے ”اگر الیکٹیبلز نہیںہوں گے تو میں کیسے جیتوںگا؟” )۔ تو پھر ڈی چوک اسلام آباد میں 126 روزہ دھرنا کیوں دیا گیا؟۔ خانِ اعظم کے اِس دھرنے کے دوران وزیرِاعظم ہاؤس پر حملہ کیا گیا، پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ توڑے گئے، پی ٹی وی پر قبضہ کیا گیا، شاہراہِ دستور پر قبریں کھودی گئیں، سول نافرمانی کا اعلان کیا گیا، سرِعام یوٹیلیٹی بِلز جلائے گئے، بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو ہُنڈی کے ذریعے رقوم بھیجنے کے لیے کہا گیا، چینی صدر کا پاکستان کا دورہ منسوخ ہوا جس کی بنا پر اقتصادی راہداری معاہدے میں تاخیر ہوئی اور لگ بھگ ساڑھے پانچ سو کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ آج وہی خانِ اعظم ہمارے وزیرِاعظم ہیں۔اِس لیے کہنا ہی پڑتا ہے کہ

کانٹوں سے دِل لگائیں نہ اب ہم تو کیا کریں
پھولوں کی آرزو میں بڑے زخم کھائے ہیں

Prof Riffat Mazhar
Prof Riffat Mazhar

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

Share this:
Tags:
Economic History Inflation pakistan people politics Prof Riffat Mazhar پاکستان تاریخ سیاست عوام معاشی مہنگائی
KARACHI VOLUNTEER WELFARE ASSOCIATION
Previous Post کراچی والنٹیئر ویلفیئر ایسوسی ایشن میڈیکل ونگ کے تحت راشن کی تقسیم
Next Post ڈاؤیونیورسٹی کے ماہرین کا کورونا کے علاج کیلیے ویکیسن تیار کرنے کا دعویٰ
Vaccine

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close