Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

میری تاریخ کا وہ باب منور ہے یہ دن

September 15, 2016 0 1 min read
1965 War
1965 War
1965 War

تحریر : اخت سعد الرحمن
”اس قوم کو کون شکست دے سکتا ہے جو موت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنا جانتی ہو ، میں نے پاک آرمی کے جوان سے جرنیل تک کو آگ اور موت کے ساتھ اس طرح کھیلتے دیکھا ہے جس طرح بچے گلیوں میں کانچ کی گولیوں سے کھیلتے ہیں”۔ یہ بیان 1965ء کی جنگ کے دوران امریکہ کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ہفت روزہ جریدے ٹائم کے وقائع نگار ”لوئس کرار” کا ہے۔ روزِ اوّل سے کفر واسلام کی جنگ نشیب وفراز کے ساتھ جاری ہے ۔ یاد رہے ! جنگیں ساز وسامان سے نہیں لڑی جاتیں بلکہ جذبوں سے لڑی اور جیتی جاتی ہیں … اور ان کو جیتنے کے لیے قربانیوں اور خون کی ضرورت ہوتی ہے …

تاریخ لکھا کرتے ہیں جو خون سے اپنے
نام ان کا، نشان ان کا، مٹا ہے نہ مٹے گا
یہی منظر 6 ستمبر 1965 میں بپا ہوا ۔ جب بزدل دشمن نے پاکستان پر رات کی تاریکی میں اچانک حملہ کر دیا … اس نے سمجھا ہو گا کہ قوم سوئی ہوئی ہو گی ، غافل اور بے خبر ہو گی ۔ اس کو کیا خبر کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ
آخری بار اندھیرے کے پجاری سن لیں
میں سحر ہوں، میں اجالا ہوں، حقیقت ہوں میں
میں محبت کا تو دیتا ہوں محبت سے جواب
لیکن اعداء کے لیے قہر وقیامت ہوں میں
میرا دشمن مجھے للکار کے جائے گا کہاں
خاک کا طیش ہوں، افلاک کی دہشت ہوں میں
مختلف سمتوں سے 17دن کے حملہ میں آخر کار اپنی زخمی اور شکست خوردہ فوج لے کر ، اپنے ٹینکوں کا قبرستان بنا کر ، سر پر خاک ڈال کر واپس بھاگ گیا۔اس جنگ میں فوج نے ایسا کردار ادا کیا جس کی مثال تاریخ عالم میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ، لیکن ساتھ ہی پاکستانی قوم کا کردار اپنی مثال آپ تھا۔

٭ ایک بھکاری تھا ، وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا پانی میں خشک روٹی ڈبو ڈبو کر کھا رہا تھا ، ایک شخص نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ آج ان پیسوں کی وطن کو زیادہ ضرورت ہے ، میرا وطن صحیح سلامت رہے گا تو مجھے روزگار ملے گا میں کبھی بھوکا نہیں مر سکتا ۔
٭ خون کا عطیہ دینے والوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں اور ایک قطار میں ایک دبلا سا نوجوان بڑا پرجوش تھا کہ وہ اپنے وطن کے کام آئے گا اور جب اس کا وزن کیا گیا تو وزن کم نکلا اس کا خون نہ لیا گیا اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ باہر نکلا ۔ سامنے دوکان سے دو کلو کا ویٹ مانگا اور وجہ بھی بتا دی۔ وہ ہر حالت میں خون دینا چاہتا تھا ، یہ سن کر دوکاندار نے اسے دو کلو کا ویٹ دے دیا ۔ اور نوجوان دوبارہ لائن میں لگ گیا اور وزن اپنے کپڑوں میں چھپا لیا ۔ اس طرح اس کا وزن پورا نکلا اس نے خون دیا باہر جا کر اس نے دوکاندار کا شکریہ ادا کیا اور اس کا وزن واپس کیا ۔

1965 War
1965 War

٭ فوجیوں کو چارپائیوں اور بستروں کی ضرورت پڑی تو مسجد میں اعلان کیا گیا ۔ قوم نے بستروں کی لائن لگا دی ۔ یہ دیکھ کر فوجیوں کے آنسو نکل آئے اور کہا کہ اس قوم کے لوگوں میں ایسا جذبہ ہے تو دنیا کی کوئی قوم اسے شکست نہیں دے سکتی۔ میری تاریخ کا وہ باب منور ہے یہ دن٭جس نے اس قوم کو خود اس کا پتہ بتلایا ٭مصنف ایم آر شاہد نے اپنی کتاب ”شہیدانِ وطن” میں بہت تحقیق کے بعد پاکستانی شہداء کا احوال پیش کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 6 ستمبر کی صبح ٹھیک 3 بج کر 45 منٹ پر ہندوستان کی جانب سے واہگہ پر ایک گولہ آ کر گرا جسے بھارت کی جانب سے پہلا فائر قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر ایس جے سی پی پوسٹ پر موجود پلاٹون کمانڈر محمد شیراز چوکنا ہو گئے اور پوسٹ پر بھارت کی جانب سے مزید فائرنگ شروع ہو گئی۔ محمد شیراز نے جوابی فائرنگ کی اور یوں دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جو ستمبر کی تاریخی جنگ کی ابتدا تھی۔ لڑائی اتنی شدید ہوگئی کہ بھارتی فوجیوں نے قریب آ کر دستی بم بھی پھینکنے شروع کر دئیے ۔ اگرچہ یہ حملہ اچانک تھا لیکن پاکستانی سپاہیوں نے اس کا دلیرانہ مقابلہ کیا ۔ جب پاکستانی دستی بموں کی ضرورت پڑتی تو سپاہی رینگ کر کمک کے پاس آتے اور رینگ کر آگے موجود سپاہیوں کو بم تھماتے تھے۔ اسی اثناء میں محمد شیراز دشمن کی گولیوں سے شہید ہوکر جنگ ستمبر کے پہلے شہید کا اعزاز حاصل کر گئے۔

٭ بھارتی طیارے انتہائی اطمینان سے اپنی برّی فوج کے لیے مدد فراہم کرنے کے لیے روانہ ہوئے اور اپنی ہی فوج کی ایک یونٹ ٢٠ لانسرز کے ٹینکوں پر حملہ آ ور ہو گئے جس سے تین ٹینک، اکلوتی ریکوری گاڑی اور اسلحہ کی گاڑی تباہ ہو گئی۔ زمینی فائر سے بھارت کا ایک ویمپائر تباہ ہوا جو فلائینگ آفیسر پاتھک اڑا رہا تھا ۔ اسی دوران پاک فضائیہ کے شاہین پہنچ چکے تھے جیسے ہی کمانڈر سرفراز رفیقی کی نظر دشمن کے جہازوں پر پڑی انہوں نے بھارت کے دو ویمپائر کو نشانہ لے کر ڈھیر کر دیا ، تیسرا طیارہ امتیاز بھٹی نے مار گرایا ۔ اس طرح بھارت کی اپنی فوج کا نشانہ بننے والے پاتھک کے طیارے کے علاوہ فائیٹ لیفٹیننٹ اے کے بھگ واگر، فلائیٹ لیفٹیننٹ ایم وی جوشی اور فلائٹ لیفٹیننٹ ایس بھرواج اپنے ویمپائر سمیت وہیں ڈھیر ہو گئے۔ یکم ستمبر کے اس فضائی معرکے نے بھارتی فضائیہ کے حوصلے پست کر دئیے ان چار طیاروں کی تباہی کے باعث بھارت نے تقریباً ١٣٠ ویمپائر لڑاکا طیارے اور ٥٠ سے زائد اور ریگن طیاروں کو فوری طور پر محاذ جنگ سے پیچھے ہٹا لیا۔ برگیڈئیر امجد چوہدری نے پاکستان ائیرفورس کو اپنے خط میں لکھا : چھمب میں آپ کی پہلی کار گزاری نے ہم پر یہ ثابت کر دیا کہ ہمیں دشمن کی فضائیہ سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ایک ایسی اعلیٰ مثال قائم ہوئی اور وہ منظر کبھی نہ بھلا سکیں گے اس سے ہمارے حوصلے بلند ہوئے اور ہمیں گویا پر لگ گئے۔

٭ دشمن کے 6 ہنٹر طیارے حملہ کرنے کے لیے سرگودھا کی طرف آ رہے تھے ان کو آتے ہوئے ایم ایم عالم نے دیکھ لیا ، اور اپنی گن سے اٹیک کیا جس سے ایک طیارہ تباہ ہو گیا اور ایک کو نقصان پہنچا ۔ پھر اس کو بھی میزائل مار کر تباہ کر دیا ۔ باقی چار جہاز بھاگ نکلے تو انہوں نے ان کے پیچھے چھلانگ لگائی اور ان کے پیچھے پہنچ گئے۔ یہاں تک کہ وہ بارڈر سے 30میل دور رہ گئے لیکن انہیں پکڑ لیا، دشمن کے جہازوں نے دیکھا کہ پیچھے سے ایک جہاز انہیں شوٹ کرنے والا ہے تو انہوں نے مڑنے کی کوشش کی تاکہ وہ بچ سکیں لیکن ایم ایم عالم نے اپنی f86 گن کے ساتھ فائر کر دیا اس میں سے 6فائر اکٹھے ہوتے ہیں ، تو یہ فائر باری باری ان پر سے گزرتے گئے اورباری باری سب شوٹ گئے انہوں نے 30 سے 35 سیکنڈ میں سارے جہاز تباہ کر دئیے۔

1965 War
1965 War

٭ یونس خان شہید نے پٹھان کوٹ بھارت کے فضائی اڈے پر حملہ کیا اور اپنی مہارت سے بھارتی فضائیہ کے 15 طیارے تباہ کر دئیے جن میں کینبرا اور دوسرے طیارے شامل تھے ، اس طرح کہ جب وہ بھارتی حدود میں داخل ہوئے تو ان کے طیارے پر بھارتی طیاروں کی جانب سے فائرنگ ہوئی اور طیارے کو نقصان پہنچا لیکن انہوں نے بھارتی پٹھان کوٹ کے پاس فضائی اڈے پر موجود پاکستانی حملہ کے لیے کھڑے طیاروں سے اپنا طیارہ ٹکرا دیا جس سے بھارت کے 15 طیارے جل کر راکھ ہو گئے اور دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

٭ اس جنگ میں بہت کم دنوں میں تقریباً 600 ٹینکوں نے حصہ لیا تھا ۔ جس میں بھارت کے سنچورین ٹینک بھی شامل تھے، عددی برتری کے لحاظ سے بھارت کے پاس بہت اسلحہ تھا ۔ اس مقام پر بھارت اپنے ٹینک لے کر پہنچ گیا ، اس جگہ کو پاکستان کی معمولی نفری نے کنٹرول کیا ہوا تھا، ابھی بھارت کی طرف سے بھرپور حملہ کی تیاری ہو رہی تھی کہ پاکستان کی فوج نے پیش قدمی کر دی ، اور ان کے دو یا تین ٹینک تباہ کر دئیے ، دشمن نے وقت سے پہلے حملہ کرنے کی ٹھان لی جبکہ پاکستانی فوج کو ابھی کمک پہنچنے میں دیر تھی ، اس موقع پر پاکستانی فوج کے افسر نے اپنے جوانوں سے پوچھا کہ کون ہے جو ٹینک کے آگے لیٹ سکتا ہے، جس کے جواب میں کم از کم 200 جوانوں نے جذبہ شہادت سے سرشار ہو کر اپنے آپ کو پیش کر دیا ، ان میں چند جوانوں نے اپنے سینے پر ٹینک شکن مائنز باندھ کر ان کو تباہ کیا تھا ۔ ان چند ٹینکوں کے تباہ ہونے سے بھارت کی فوج کا راستہ اپنے ہی تباہ شدہ ٹینکوں کی وجہ سے رک گیا تھا ۔اور مزے کی بات یہ کہ پاکستان کی اس وقت کی مشہور توپ ”رانی” کا فائر بھی گھوم پھر کر انہی ٹینکوں پر آ رہا تھا ، بھارتی فضائیہ نے اس توپ کو تلاش کرتے کرتے سیالکوٹ کے قلعہ پر 1000 پونڈ وزنی بم گرا دیا ، مسلسل تلاش کرنے کے باوجود وہ اسے تلاش نہ کر سکے بلکہ اپنے ٹینکوں سے ہاتھ دھوتے رہے۔بھارت میں چاونڈا کا یہ مقام اب بھی ٹینکوں کا قبرستان کے نام سے مشہور ہے۔میجر عزیز بھٹی اپنے ساتھیوں کے ساتھ بی آر بی نہر کے پاس ڈٹے تھے جس پر بھارتی افواج قبضہ کرنا چاہتی تھی۔

7ستمبر کو بھارت نے پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کیا اور میجر عزیز بھٹی اور میجر شفقت بلوچ نے صرف 110 سپاہیوں کی مدد سے بھارت کی پوری بریگیڈ کو 10 گھنٹوں تک روک کر رکھا اور دن رات مورچے پر ڈٹے رہے۔ یہ اعصاب شکن معرکہ جب 12ستمبر کو پانچویں روز میں داخل ہوا تو اس وقت تک میجر عزیز بھٹی بھارت کے چھ حملے روک چکے تھے آگے جانے والے پاکستانی سپاہی اور ٹینک ایک مقام پر پھنس گئے تھے جنہیں واپس لانا ضروری تھا ، اس پر انہوں نے اپنی فوج کو منظم کر کے کئی اطراف سے حملہ کیا اور پاکستانی فوجی گاڑیوں اور سپاہیوں کو واپس لانے میں کامیاب ہو گئے لیکن اندھا دھند گولہ باری اور فائرنگ کے دوران ایک شل نے ان کے کندھے کو شدید زخمی کر دیا اور وہ صرف 42سال کی عمر میں جام شہادت نوش کر گئے۔

Pak Tanks
Pak Tanks

٭ زخمی فوجیوں کے علاج پر معمور بریگیڈئیر (ریٹائرڈ) ڈاکٹر نصرت جہاں سلیم آئی ایس پی آر کے شمارے میں کچھ ایمان افروز واقعات درج کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :
٭ایک زخمی سپاہی لایا گیا ، توپ کا گولا یا گرنیڈ اس کے قریب پھٹا تھا اس کے جسم کی بوٹیاں باہر آ رہی تھیں، جسم کا کوئی حصہ سلامت نہ تھا تمام زخم گہرے تھے اسے آپریشن ٹیبل پر لایا گیا ۔ میں نے اندازہ کر لیا کہ اس کا بچنا ممکن نہیں ، پھربھی ہم اس کے قیمہ کیے ہوئے جسم میں خون ڈالنے لگے اور خون زخموں کے راستے بہنے لگا کوئی زخم ایسا نہ تھا جسے ہم دو ٹانکے ہی لگا سکتے ۔ اچانک وہ ہوش میں آ گیا اور اچک کر آپریشن ٹیبل سے اٹھ کھڑا ہوا اور باہر کو چل پڑا۔ میں نے اسے روک لیا اور ٹیبل پر لیٹنے کو کہا ۔ اس نے مجھے کندھوں سے پکڑ کر زور سے جھنجھوڑا اور بولا : ”تم مسلمان ہو؟ مسلمان ہو تو کلمہ پڑھو، میں نے کلمہ پڑھا اور اسے آپریشن ٹیبل کی طرف لے جانے لگی تو اس نے غصہ سے کہا تم مسلمان ہو اور مجھے یہاں لیٹ جانے کا کہہ رہی ہو ؟ جانتی ہو محاذ پر قیامت مچی ہوئی ہے؟ میں ٹینکوں اور گاڑیوں کو پٹرول دینے کی ڈیوٹی پر تھا ، معلوم نہیں میری جگہ کوئی پٹرول دینے والا ہے یا نہیں ۔ اللہ کے لیے مجھے جانے دو، ٹینکوں کو پٹرول کون دے گا ؟ ٹینک رک گئے تو دشمن کو کون روکے گا مجھے جانے دو مجھے اپنی ڈیوٹی پر جانے دو ”۔ابھی یہ الفاظ اس کے منہ میں تھے کہ وہ بے ہوش ہو گیا ، ہم نے اسے بچانے کی سرتوڑ کوشش کی لیکن اللہ نے اسے اس دنیا کی ڈیوٹی سے سبکدوش کردیا اور وہ شہید ہو گیا۔

٭ ایک سپاہی جس کی دونوں ٹانگیں کٹ گئی تھیں، خون سارا بہہ گیا تھا لیکن وہ ہوش میں تھا ۔ اسے ڈاکٹرز نے بچا لیا مگر بے چارہ عمر بھر کے اپاہج ہو چکا تھا وہ کہہ رہا تھا ڈاکٹر صاحب زخم جلدی ٹھیک کر دیں میں واپس جائوں گا ۔ میں نے اسے کہا کہ بھائی تمہاری تو دونوں ٹانگیں کٹ گئی ہیں ۔ تو وہ یوں گویا ہوا جیسے اس کی ٹانگیں نہیں ٹوٹیں بلکہ ہلکی سی خراش آئی ہو ، کہنے لگا فکر نہیں میں گن فائر کر سکتا ہوں ، میں ٹینک میں بیٹھ کر گن چلا لوں گا ۔ آپ میرے زخم جلدی ٹھیک کر دیں ۔ وہ اپنے آپ کو ہشاش بشاش رکھنے کی کوشش کرتا تاکہ زخم جلد ٹھیک ہو جائیں۔
ڈاکٹر میجر نصرت بتاتی ہیں کہ میں نے جانباز فوجیوں کو اصلی روپ میں دیکھا ہے یہ بے ہوش سپاہی، زخموں سے چور، نقاہت سے نڈھال، جانے اتنی طاقت کہاں سے لے آتے تھے کہ ان کے نعروں سے وارڈ دہل جاتا تھا ، بعض فوجی بے ہوشی کی حالت میں اپنی رائفلیں ڈھونڈتے تھے۔
کیسی عجیب فوج تھی ، ان کے جذبات کے سامنے شکست کیسے آ سکتی تھی۔ جس کے فوجی زخمی اور بے ہوش ہونے کے باوجود بھی اپنے آپ کو محاذ پر ہی تصور کر رہے ہوں، کافروں کے خلاف لڑنے کو تڑپ رہے ہوں ۔ اور بے تاب ہوں۔

کس زعم میں تھے اپنے دشمن شاید یہ انہیں معلوم نہیں
یہ خاکِ وطن ہے جاں اپنی اور جان تو سب کو پیاری ہے
6ستمبر ایک ایسا دن اور تاریخ ہے جس کا ہر لمحہ ، ہر ساعت اپنی علیحدہ شناخت رکھتی ہے ، یہی تو وہ دن ہے جب زندگی کا ہر شعبہ ، ہر گوشہ اتحاد ، یکجہتی اور یگانگت کی علامت بن گیا ۔ ہر قسم کے اختلافات طاق نسیاں پر رکھ دئیے گئے ، سارے دائیں بائیں بازو ایک دوسرے کا دست وبازو بن گئے، غرض جو جہاں تھا وطن کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہو گیا ہر زبان پر ایک ہی نعرہ تھا :
اے دشمن دیں تو نے کس قوم کو للکارا
لے ہم بھی ہیں صف آرائ
یہ دشمن پر عقابوں کی طرح جھپٹنے والے ، بجلیاں بن کر گرنے والے ، جب انہیں آگے بڑھنے سے روکا جاتا یا آرام کرنے کو کہا جاتا تو ہر بار مسکرا کر کہتے: ”تھکے تو نہیں ہیں”۔ہمارے بہادر جوانوں نے ثابت کر دیا کہ :
ہم چٹانیں ہیں کوئی ریت کا ساحل نہیں
شوق سے شہر پناہوں میں لگا دو ہم کو

6ستمبر 2016 کے موقع پر بھارتیوں کو یاد رہے کہ آج بھی پاکستان میں ایسے لاکھوں سپوت موجود ہیں جو ہر وقت بھارت جیسے بزدل دشمن کا مقابلہ کرنے اور ان کو ان کی اوقات یاد دلانے کے لیے تیار ہیں ، ہم سب پاکستانی ہیں چاہے کوئی سندھی ہے، بلوچی ہے ، پٹھان یا پنجابی ۔ پاکستان کل بھی تھا ، پاکستان آج بھی ہے ، پاکستان آئندہ بھی رہے ، پائندہ بھی رھے گا ۔ ان شاء اللہ

6th September 2016
6th September 2016

ہم وطن پاکستانیو! 6 ستمبر 2016 کے موقع پر ہمیں قومی یکجہتی ، باہمی اعتماد ، اتحاد واتفاق اور جذبہ قربانی وشہادت کو بیدار کرنا ہو گا ہم سب کو مل کر مشترکہ دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہو گا ۔ آج ہم خونخوار بزدل اور بے وقوف دشمن سے برسرپیکار ہیں ہمیں اپنے حقیقی دشمن کو پہچاننے اور ابنا اہم کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ جس طرح اس جنگ میں پاکستانی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر دشمن کے آگے کھڑے ہو گئے تھے اسی طرح آج بھی اور آئندہ بھی دشمن کے آگے سینہ تان کر کھڑے ہونے کا وقت ہے اور اللہ کو بھی ایسے بندے ہیں پسند ہیں ۔
نجوم بجھتے رہیں، تیرگی امڈتی رہے
مگر یقین سحر ہے جنہیں وہ اداس نہیں
طلسم شب کا یہی توڑ ہے، قدم نہ رکیں
اندھیرا ٹوٹ کے برسے، مگر یہ سر نہ جھکیں

تحریر : اخت سعد الرحمن

Share this:
Tags:
Death History Loss pakistan people play war پاکستان تاریخ جنگ شکست قوم کھیلنا موت
Minster of Youth Sindh
Previous Post سندھ حکومت نوجوانوں کے مسائل حل کرنے کے لئے موثر یوتھ پالیسی بنائے گی۔ عابد حسین
Next Post نومنتخب صدر پریس کلب رجسٹرڈ جہلم ڈاکٹر تصور حسین مرزا کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں
Tasawar Hussain Mirza-Qari Farooq

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close