
ایم پی کرسٹین توبیرہ نے فرانس پارلیمنٹ میں 2001 میں توبیرہ قانون پیش کیا جس کے مطابق غلامی کو انسانیت کے خلاف ایک بڑا جرم قرار دیا گیا اسی قانون میں مذید توسیع کرتے ہوئے 2013 میں ہم جنس شادیوں کا قانون پیش کیا گیا
جس کے مطابق ہم جنس آپس میں قانون کے مطابق شادی کر سکتے ہیں بچے ایڈاپ کر سکتے ہیں۔
ہم جنس جوڑوں کو وہ تمام سہولیات میسر ہونگی جو نارمل میاں بیوی اور بچوں کو ملتی ہیں فرانس کی نیشنل انسٹیٹوٹ INSEE کے ایک محدود اندازے کے مطابق فرانس میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد ہم جنس جوڑے موجود ہیں اور ان ہم جنس جوڑوں کے تقریبا بیس ہزار بچے ہیں۔
یوں تو قدرت کے نظام کے خلاف اس مکروہ قانون کی مخالفت چند عیسائی مذہبی حلقوں نے کی اور جو اب تک جاری بھی ہے کچھ انسانی حقوق کی علمبردار ایسوسی ایشنز بھی شور مچا کر خاموش ہو گئیں فرانسیسیوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس قانون کے خلاف نظر آتی ہے۔
علاوہ ازیں کچھ مسلم حلقوں نے بھی اس قانون کی شدید مذمت کی مگر اس مخالفت میں وہ آواز نہیں جو انسانیت کے خلاف اس قانون کی دھجیاں اڑا دیتی ہمیشہ کی طرح ہم آج بھی اس مجرمانہ خاموشی کا شکار ہیں جس نے ہمیں تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا اور ہماری آنے والی نسلوں کو بھی تباہ کر دے گی۔
اس قانون کے پاس ہونے کے بعد سب سے خوفناک اور المناک پہلو یہ ہے کہ اب فرانس نیشنل ایجوکیشن اسے اپنے تعلیمی نصاب میں شامل کرنے جا رہی ہے۔
فرانس کے ایک بڑے اخبار فگارو میں شایع ایک کالم کے مطابق ہم جنس پرستی کو فرانس نیشنل ایجوکیشن میں باقاعدہ شامل کیا جا رہا ہے۔ ہم جنس پرستی کی تعلیم میٹرنل سے ٹرمینل یعنی نرسری سے میٹرک تک لازمی ہو گی۔
سال میں تین مرتبہ پرائمری اسکولز کالجز اور لیسز میں اس پر مذید آگاہی کے لیے لیکچر دئیے جائیں گے اس مکروہ قانون پر عمل کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے
pas les Princes \’aime n qui \’Princesse اور J\’ai deux papas qui s\’aiment نام کی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔
ہم جنس پرستی کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے نصاب میں شامل کی جا رہی ہیں فرانس میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کے بچوں کی ایک بڑی تعداد فرانس میں تعلیم حاصل کر رہی ہے سوچنا یہ ہے کہ ہم مسلمان اللہ کے احکامات کی سخت توہین اور خلاف ورزی کرنے والے اس انسانیت سوز قانون کی ذد سے اپنے بچوں کو کیسے بچائیں ہمیں آج اور ابھی سے اس خبیث فعل کے خلاف جہاد کرنا ہو گا۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اسی مکروہ اور خبیث فعل کے باعث اللہ نے قوم لوط کو کڑے عذاب سے دوچار کیا تھا ہمیں اپنی آنکھیں کھلی رکھنی ہونگی اور اپنے بچوں پر انتہا کی توجہ دینی ہو گی۔
آج ایک ماں کو دین اسلام کی بقا کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا آج ایک ماں کو وہ ذمہ داری نبھانی ہو گی جو ایک سخت امتحان کی صورت اس کے سامنے موجود ہے۔
ہر مسلمان ماں کو ہر روز اپنے بچوں کی کتابیں کاپیاں اور ہوم ورک چیک کرنا ہو گاہر باپ کو بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھنی ہو گی روزگار کے مسائل میں الجھے مسلمانوں کو اس با ت کا خیال بھی رکھنا چاہیے کہ ان کی آنے والی نسلیں کس طرف جا رہی ہیں اور کیا وہ ان کی تعلیم و تربیت میں اپنے فرائض احسن طریقے سے پورے کر رہے ہیں وقت کا زیاں کرنے والی کبھی سیاسی اور کبھی سوشل اور کبھی نمائشی میٹنگز میں اپنے دن کا ایک بڑا حصہ برباد کرنے والوں کو بھی چاہیے کو اایسے موضوعات کو زیر بحث لائیں۔
خود نمائی اور شو بازی کے علاوہ سیاسی پارٹیوں میں بے دریغ خرچ کرنے والوں کو یہ احساس نہیں ہے یہ سب وقتی منظر ہیں لاحاصل اقدام ہیں اور سراسر نقصان ہیں خدارا اپنے منصب کو پہچانیں اپنے فرایض کو سمجھیں اپنے بچوں کو ان کافر قوتوں سے بچائیے اپنے پیسے کو اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے خرچ کیجیے انکے لیے ادارے مساجد اور اسکولز بنائیے اپنے گھروں میں کچھ وقت اپنے بچوں کے لیے وقف کیجیے ان کی دینی تربیت کیجیے۔
اپنے بچوں کے سوالوں کو اہمیت دینی ہو گی ان پر دھیان رکھنا ہو گا اسکول سے واپسی پر بچوں سے سوال جواب کو اپنی عادت بنا لیجیے۔
لمحہ لمحہ اپنے بچوں کی تعلیم پر نظر رکھیے اور ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو اسلام اور اللہ کے احکامات کے بارے میں آگاہی دیتے رہیے فرانس میں چند مسلم پرایویٹ اسکولز موجود ہیں ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم یہاں مسلم اسکولز بنائیں۔
بچوں کے اندر دینی شعور پیدا کرنے کے لیے اداروں اور مسجدوں میں تقاریب منعقد کی جائیں اس سے پہلے کہ باطل کی یہ قوتیں ہمارے بچوں کو ایک ایسے معاشرے کا حصہ بنا ڈالیں جو اللہ کے نافرمان کہلاتے ہیں اور جن پر دنیا اور آخرت میں سخت عذاب ہو گا اپنے فرائض کو سمجھیں۔ یاد رکھیے ہر لمحہ ہر دن آپکے بچے کی تعلیم و تربیت میں یہ مکروہ مواد شامل کیا جا رہا ہے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے آج سے ہی اپنی ذمہ داریاں نبھانی شروع کر دیں بے شک اللہ کے دین کی حفاظت کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی مدد شامل ہوتی ہے۔
تحریر : سمن شاہ
