Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

غیرت ہے بڑی چیز

January 30, 2014 0 1 min read
Safder Hydri
Honour
Honour

ہاں وہ مجرم ہے بہت بڑا مجرم اس سمندر سے بھی کہیں بڑا خطا کار، جو ناجانے کب سے اس شہرِ ظلمت میں پڑا سانسیں لیتا اور سن کچھ دیکھتا رہتا ہے کبھی نہیں بپھرتا کہ اس شہر میں بلاؤں کی کوئی کمی ہے نہ طوفانوں کی اور وہ ٹھہرا سدا کا رضائے الہی کا پابند کئی چھوٹے بڑے سونامی جس کی تہوں میں رلتے پھرتے ہیں ایسے کہ رہائی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اس کا ایک قصور تو یہی ہے کہ اس نے ایک ایسے ملک میں آنکھ کھولی کہ جہاں مردہ پرستوں کا بسیرا ہی نہیں قبضہ بھی ہے۔ اور پھر وہ تو اس شہر کا باسی تھا کہ جہاں انسان کی اہمیت کسی خارش زدہ کتے جتنی بھی نہیں ہے۔ جہاں درندے راج کر تے ہیں۔ ہوس پرست، شہرت، اختیار ، طاقت اور اقتدار کے بھوکے انسان نما بھیڑئیے انسانی گوشت پر پلنے والے زندہ خور گدھ لاشوں کی سیاست اور خریدو فروخت کر نے والے نفس کے ٹٹو چنگیز، ہلاکو اور ہٹلر جیسے ظالم بھی جن کے آگے پانی بھرتے دکھائی دیں قابیل سے لیکر موجودہ عہد تک جنم لینے والے ہر قاتل سے زیادہ بے رحم، سفاک اور سنگدل جنکی سفاکی کے لئے کسی بھی زبان کی لغت میں درج الفاظ کم پڑ گئے ہیں۔

نفس کے غلام، غیروں کے ہاتھ ضمیر گروی رکھنے والے بے ضمیر”دوپائے”دشمن کے اشاروں پر ناچتے، کافروں کا اگُلا کھاتے، یہود و نصاری کے جوتے چاٹتے یہ بے ضمیر درندے، جو انسانیت سے اتنا دور ہیں جتنا شیطان رب کی رحمت سے ہو سکتا ہے۔ ابلیس کے ایسے چیلے کہ خباثت میں اسکے بھی کان کاٹتے ہیں وہ بھی جانے کب سے یہ اعتراف کر چکا کہ یہ تو اسکے بھی استاد نکلے۔ ایسے سفاک قاتل کہ بچے یتیم کرنے، ماؤں کی کوکھ اجاڑنے، بہنوں کے بھائی چھیننے، بھائیوں سے دودھ شریک جدا کرنے، دوستوں کو یاروں سے محروم کرنے، اور بیویوں کے سروں کا تاج چھیننے سے جنہیں قلبی سکون ملتا ہے۔ سو یہی انکادین ہے یہی مسلک، یہی انکی زبان ہے یہی قومیت، یہی مطمع نظر ہے یہی اولین مقصد، یہی واحدکارنامہ ہے یہی توشہ آخرت۔ بندوں کے روپ میں یہ درندے اور کسی پر ترس کھائیں بھی تو کیسے کہ انہیں خود اپنی جانوں پر بھی کبھی ترس نہیں آتا۔ ایسا لگتا ہے یہ کسی گود کے پالے نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو کسی کی گود، کسی کی کو کھ، کسی کامان، کسی کی آخری امید، واحد کمائی ہتھیانے کے لئے ہتھیار اٹھاتے کبھی تو توقف کرتے، کبھی تو کچھ سوچتے۔ یہ آزاد لوگ کاش کسی ذاتی بندھن کا تو پاس کرتے۔ کوئی نہ کوئی تعلق کوئی نہ کوئی رشتہ تو راہ کی دیوار ہوتا۔جو ان کے بڑھتے قدموں کو کبھی تو احساس کی زنجیر سے جکڑ کر روک لیتا احساس نہیں کچھ پاس نہیں کے حامل یہ لوگ ہر رشتے سے عاری ہیں جبھی توانکے دم قدم سے انسانیت قدم قدم پر بال بکھرائے ہر دم بین کرتی ہے۔

ابتدا میں جس مجرم کا ذکر کیا گیا اسے پہچاننا چنداں مشکل نہیں یہ مجرم میں بھی ہوں اور آپ بھی اس قوم کا ہر وہ فرد بھی جو اس دیس کا پر امن شہری ہے ۔یہ مجرم بارہ کہو مسجد کا گارڈ بھی ہے کہ جو انسانیت کا ڈھال بن کر اسکاسر فخر سے بلند کر گیا۔ اور اعتزاز بھی کی جس نے شجاعت کی انمٹ داستان رقم کی اسلم تنولی اور اس کے ساتھی شہداء بھی کہ جو ظلمت کے آگے سینہ سپر ہوکر قوم کا سینہ چوڑا کر گئے۔ اور وہ سینکڑوں اہلکار اور پر امن شہری بھی کہ جن کا واحد جرم یہ ہے کہ وطن سے پیار اور دہشت گردی سے انکار کرتے تھے۔ اس میں کیا شک ہے کہ آج ہمارے دیس میں دو طرح کے لوگوں آباد ہیں۔ ایک ظالم دوسرے مظلوم ظالم لوگ کون ہیں یہ بھی سب بخوبی جانتے ہیں ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ اس میں کچھ براہِ راست اس جرم میں شریک نہیں انکا جرم انکی ظلمت پرستی، نفس پرستی اور غفلت پرستی ہے۔انہی بے زبان زبان دراز لوگوں کے لئے شاعر نے کہا تھا
چپ رہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعزازِ سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

یہ دراصل وہ صاحبانِ اختیار ہیں کہ جنہیں خوش قسمتی سے(اور ہماری بدقسمتی) یہ اختیار ملا ہے کہ وہ اس قوم کی تقدیر سے کھلواڑ کر سکیں۔ سو یہ منے بھائی اسی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ اعتزاز کا اعزاز صرف یہ نہیں کہ وہ اس منصب کو پا گیا انبیاء بھی جس کی چاہ میں دن رات دعائیں مانگا کرتے تھے۔ اسکی شجاعت نے یہ درس بھی دیاہے کہ حمیت کسی ذاتی مفعت کو دیکھتی نہ غیرتِ ایمانی کسی مصلحت کے آگے سربہ سجود ہوتی ہے۔ وہ بتا گیا ہے کہ غیرت اس لئے بھی بڑی چیز ہے کہ یہ دریش کے سر کو تاج ہوتی ہے اس کا پیغام روشن دن کی طرح واضح ہے کہ کسی ذاتی مصلحت کو مصالحت کا نام دے کر ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے والے ایک دن حسرت و یاس کی تصویر بن کر رہ جاتے ہیں ۔اس نے یہ بھی واضح کر دیا کہ قوم کا بچہ بچہ اپنے دشمن سے آگاہ ہے( سوائے صاحبانِ اختیار کے، جو ہوس اختیار کے زیرِ اثرالہام کو بھی ابہام بنا دیا دیتے ہیں ) سو جو اپنے دشمن کو جان اور پہچان لیتے ہیں وہ اس کی جان ضرور لیتے ہیں نہ لے پائیں تو اپنی ضرور قربان کر دیا کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اس نے کربلا والوں کی تقلید کی ہے خود کو مقصد پر قربان کرتے ہوئے اس نے لمحہ بھر کو نہیں سوچا کہ اس میں جان جانا یقینی ہے۔

Country's Enemy
Country’s Enemy

اسے تو بس یہ یقین تھا کہ اس طرح اس کے وطن کا دشمن ناکام ہو جائیگا۔ سو وہ آگے بڑھا اور ہنس کر موت کو سینے سے لگا لیا پورے اعتماد اور کامل یقین کے ساتھ ڈرے بغیر کہ وہ جانتا تھا کہ مرتے وہی ہیں جو ڈرتے ہیں اور جو حق کی خاطر لڑتے ہیں وہ مر کر بھی نہیں مرتے وہ فنا ہو کے بھی فنا نہیں ہوتے کہ نیستی اک طرح کی ہستی ہے یہ وہ بستی ہے جو اہل ایمان و صاحبانِ یقین کے دم قدم سے بستی ہے اسلم تنولی کی شہادت اس رخ کی طرف واضح اشارہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ایکشن کسی نام نہاد اے پی سی کے کسی متفقہ اعلامیے کا ہرگز محتاج نہیں ہوتا۔ موت کی لے پالک سے جسے پیار ہوجائے وہ اسے ہر ایک قدم پر ڈرا ڈرا اور تڑپا تڑپا کر مارتی ہے۔ اس کی جدوجہد کا حاصل کیا یہ نہیں ہے کہ حملہ بہترین دفاع ہوتاہے اوریہ بھی ڈر ختم کرنا ہے تو اس خوف سے لڑ کر جیو ہر اس دہشت پسند سے جو جیو اور جینے دو کے فلسفے کا منکر ہے۔ زندگی سے پیار جب موت سے انکار بن جائے تو اندیشے سانپ بن کر ڈستے ہیں۔ the killer کی ہیرو کی طرح جو موت سے بھاگتا تھا تو موت اس کے پیچھے لپکتی تھی لیکن جس دن اس نے اپنے اندر کے خوف کو مات دی تووہی موت اس کے سائے سے بھی لرزہ براندام ہوئی۔ مرد چلے جائیں تو گھر یتیم ہو جاتے ہیں اس غازی کا گھر تو اس کی زندگی میں اڑا دیا گیا کہ اسے بقا کا جام پینا تھا جو فنا کی وادی میں اترنے سے ہاتھ آتا ہے۔ اس نے اجڑا گھر اپنی آنکھ سے دیکھا تو شیر کی غضبناک بھی ہوا اور بپھر کر حملہ آور بھی اپنے گھر کے آس پاس اس نے گڑھا دیکھا توقبر اور موت کا سارا خوف ہوا ہو گیا۔

اس کے اندر سے بربادی کا دھڑکا ایک دم، دم توڑ گیا کہ اب اسے آباد رکھنے لگی تھی اجڑ جانے کی خواہش بے نیاز سے جڑنا ہو تو اجڑنا ضروری ہو جاتا ہے ناں جبھی تو وہ ڈٹ گیا اور مٹی کے زرات کو ہتھیلی پر سجا کر ایک دن اپنی بیوی سے کہہ اٹھا اس مٹی سے غداری نہیں کروں گا کہ یہ ماں ہوتی ہے بیوی تو چھوڑی جا سکتی ہے ماں ہرگز نہیں اور پھر وہ اسی ماں پر قربان ہو کر اسی کی بانہوں اور ماممتا بھری آغوش میں سو گیا اس کے ایک ساتھی کے بارے میں بتایا گیا کہ اس کے دو بیٹے ہیں ایک پانچ دن کا اور ایک، ایک سال پانچ دن کا۔ شہید کے باپ اور ایک سالہ بیٹے کے تاثرات میں ایک قدر مشترک تھی دونوں کی آنکھ میں آنسوایک سوال بن کر رک سے گئے تھے۔ ایک ایسا سوال جو ناظر کو خاموش کرا دے، ظالم کی گردن جھکادے اور اسکا غرور خاک میں ملا دے۔ اب اسکی آنکھیں ہر چہرے میں اپنے باپ کا عکس کھوجتی اور ناکام ہوتی رہیں گی۔ اس کا دکھ کسی بے رحم کو محسوس ہو گا؟ ماضی کے قصے سنا کر دوسروں کے بچے مروانے والوں تم اس بچے اور اس جیسے سینکڑوں بچوں کے مجرم ہو قدرت ایک دن تم سے ضرور انکا حساب لے گی، ضرور لے گی اس دن تمہیں احساس ہوگا کہ تم نے بہت بری تجارت کی، سراسر گھاٹے کا سودا۔

کاش تمہیں جیتے جی اس کا احساس ہو جاتا۔ اے کاش میرا سلام پہنچے اس کم سن مجاہد اسلام و شہید پاکستان کو کہ جس نے یہ ثابت کر دیا کہ ہم ابھی راکھ کا ڈھیر نہیں بنے نہ ہی غیرت و حمیتِ ایمانی کی لو بجھ پائی ہے۔ کہتے ہیں خوف حد سے بے حد ہو نے لگے تو اس کے ساتھ بے کا سابقہ خوف کو چمٹ کرجڑ کر اسے جَڑ سے اکھاڑ دیا کرتا ہے۔ یہی کچھ اعتزاز کی قربانی کے نتیجے میں ظاہر ہوا اسکے شہادت کے اگلے روز ایک بھی بچہ سکول سے غیرحاضر نہیں تھا۔ اسے حکومت کیا اعزاز دے گی کہ اس نے شہادت کا عظیم رتبہ پا یا لیا ہے۔ پھر بھی دل کرتا ہے اسکی وہ کرسی اس کے لئے مختص کر دی جائے جہاں بیٹھ کر وہ تعلیم حاصل کیا کرتا تھا۔

اعتزاز کوئی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ماضی کے جن مجاہدوں کا تذکرہ زبانِ خاص وعام ہے، وہ بھی نہیں کہ کافروں سے جہاد کرنا، اقتدار کی جنگ لڑنا، ہوسِ ملک گیری، مال غنیمت کے لالچ میں کشور کشائی کرنا اور بات ہے اور منافقوں سے لڑنا کچھ اوربات میری نظر میں تم ہی شہید اسلام اور تمہی شہیدِ پاکستان۔ شنید ہے کہ آپریشن کی تیاری کے لئے پر تولے جا رہے ہیں۔ اس پر سوائے اس کے اور کیا کہاجا سکتا ہے بڑی دیر کر دی ظالماں آتے آتے۔

Safder Hydri
Safder Hydri

تحریر:صفدر علی حیدری۔

Share this:
Tags:
honor hypocrites Operation pakistan thing آپریشن بڑی پاکستان چیز غیرت
Previous Post محکمہ جنگلات ہمارا قومی اثاثہ ہیں ان کی حفاظت کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں: آغا حسین
Next Post ن لیگ کی پالیسی قوم کو متحد اور ملک کو بحرانوں سے نکالنا ہے: عابد شیر علی
Abid Sher Ali

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close