
تحریر: وقارانساء
دل کے دورے کا شماربڑے امراض میں ہوتا ہے جو فورا موت کا سبب بن جاتا ہے –صحت کے معاملے کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے –اگر کبھی سانس زيادہ پھول رہی ہو سينے میں اکثر درد رہنے لگے اور دل کی دھڑکن تيز ہو بازؤں میں درد رہنے لگے سر چکرائے يا بے ہوشی کی کیفیت ہو پاؤں پر ورم آنے لگے تو اس بات کو نظر انداز نہ کریں یہ علامات آپ کو آگاہ کر رہی ہیں کہ آپ فورا اپنے معالج سے رجوع کریں۔
سب سے پہلے یہ بات یاد رکھیں کہ ضروری نہیں کہ ہر دل کے دورے کی علامت بائیں بازو میں درد ھو، جبڑے میں شدید درد بھی دل کے دورے کی ایک علامت ھے۔ کبھی کبھار ایسا بھی ھوتا ھے، ھارٹ اٹیک کے وقت سینے میں بالکل بھی درد نہ ھو۔یا کبھی سينے کی درميانی ہڈی کے اوپر حصے میں محسوس ہو جویينے کے گرد پھیل جاتا ہے متلی اور بہت زیادہ پسینہ بہنا بھی عام علامات ھیں۔ جبڑوں کے علاوہ يہ درد گردن کندھوں اور بازؤں کو بھی اپنی گرفت میں لے ليتا ہے –اور بعض اوقات ٹیس کے علاوہ دکھن کا احساس بھی ہوتا ہے 60 فیصد لوگوں کو سوتے ھوئے ھارٹ اٹیک ھو جاتا ھے اور پھر وہ کبھی نہیں جاگتے۔ جبڑے میں درد کی وجہ سے انسان گہری سے گہری نیند سے بھی بیدار ھو جاتا ھے۔ اس لئے ھمیشہ خیال رکھیں، کیونکہ آپ کو جتنی زیادہ معلومات ھونگی، دل کے دورے کے بعد بچ جانے کے چانسز اتنے ھی زیادہ ہوں گے دل کا دورہ اس وقت میں زیادہ تر اموات کا سبب بن رہا ہے بلند فشار خون بھی دل کے دورے کا باعث ہوتا ہے۔
شریانوں کی تنگی اور دوران خون میں رکاوٹ دل کے دورے کا موجب ہے غذائی بد احتیاطی سے فاسد اور چربیلے مادے جم جاتےہیں جس سے شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں جوبتدریج رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں دل کو مطلوبہ مقدار میں خون نہیں ملتا –اس طرح دل کے جس پٹھے کو رسد رک جاتی ہے وہ اس کا اظہار کرتا ہے اور دل کے دورے کا سبب بن جاتا ہے خون کی مقدار اور اس کے دباؤ میں عدم توازن سے دل کی دھڑکن کی رفتار میں تبدیلی آجاتی ہے خون کی سست روی کی وجہ سے وہ دل کے خانوں میں صحیح طرح سے بھر نہیں پاتا

-اس طرح سے دل کے پھيیاؤ اور سکڑاؤ کی کیفیات میں عدم توازن خفقان قلب کا مرض ظاہر کرتا ہے دل بہت زرو سے دھڑکتا ہے کہ اس سے ہتھوڑا چلنے کی آوازیں مریض خود سن سکتا ہے –آنکھون کے سامنے اندھیرا چھانے لگتا ہے اور گھبراہٹ اور بے چینی کے ساتھ کبھی مریض بے ہوش بھی ہو جاتا ہے۔
اس طرح انجائنا میں مریض کو سردی کا بہت احساس ہوتا ہے پیينے بھی چھوٹ جاتے ہیں اور مریض دم گھٹنے کی کیفیت محسوس کرنے لگتا ہے – کی بجائے نیم گرم پانی پیتے ھیں چینی اور جاپانی لوگ اپنے کھانے کے ساتھ ٹھنڈا پانی یینے اس وجہ سے وھاں دل کی بیماریاں نہ ھونے کے برابر ھیں۔ شاید اب وقت آ چکا ھے، کہ ھم بھی کھانے کے ساتھ ٹھنڈا پانی پینے کی بجائے نیم گرم پانی پینا شروع کر دیں۔ بلاشبہ کھانے کے ساتھ ٹھنڈا پانی پینا اچھا لگتا ھے، لیکن ٹھنڈا پانی یینے سے کھانے میں موجود چکنائی جم جاتی ھے، جسکی وجہ سے کھانا ھضم کرنے کا عمل سُست ھو اور یہ چکنائی جسم میں موجود ایسڈ کے ساتھ ملنے کے بعد انٹسٹائن کس ساتھ جم جاتی ھے۔ اور پھر آخر کاردل کے دورے یا سرطان کی صورت اختیار کر لیتی ھے۔ لہذا کھانے کے ساتھ گرم پانی اور سوپ پینا بہتر ھے۔

کھانے کے بعد گرم پانی کے علاوہ شہد اوردار چينی کے پاؤڈر کی پیسٹ کسی جیم مکھن کو استعمال کرنے کی بجائے ڈبل روٹی کے ٹوسٹ پراستعمال کریں یہ شریانوں میں جمنے والے کولیسٹرول کو نکال باہر کرے گا وہ لوگ جو ایک بار اس دورے سے متاثر ہوچکے ہیں ان کے لئے بھی یہ بہترين نسخہ ہے جو ان کو اگلے دورے سے محفوظ رکھے گا غذا میں زیتون کا تیل کسی بھی گھی اور مکھن کے استعمال سے بہتر ہے ايک رپورٹ کے مطابق روزانہ بیس گرام اخروٹ کی گریوں کا آٹھ ہفتوں تک استعمال مفید کولیسٹرول کی سطع بڑھا دیتا ہے جو دل کی بیماری سے محفوظ رکھتا ہے۔
تحریر: وقارانساء
