Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

صحرائی پھولوں کی موت کا ذمہ دار کون

November 23, 2014 0 1 min read
Tharparkar
Tharparkar

تحریر: لالہ ثناء اللہ بھٹی
اندرون سندھ کے علاقے تھرپارکر کو قدرت نے کوئلے کی دولت سے مالا مال کررکھا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تھرمیں زیرِ زمین موجود کوئلے کے ذخائر آئندہ ایک صدی سے بھی زائد عرصے تک پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرسکتے ہیں۔تھر کے علاقے میں اس قدر معدنی دولت کے ذخائر کی موجودگی کے باوجود حکومتِ وقت کا تھر کے علاقے میں کوئی دلچسپی نہ لینا ایک سوالیہ نشان ہے اور اسکے علاوہ تھر پارکر میں بسنے والے انسانوں کو مسلسل نظرانداز کرتے ہوئے حکومت اپنی نااہلی کا ثبوت بھی دے رہی ہیں۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن سے جب میڈیا نے اس بارے میں سوال کیا تو موصوف کا کہنا تھا کہ تھر میں دونوں مرتبہ قحط سالی کے دوران ایم کیو ایم ، حکومت کا حصہ نہیں تھی۔ حکومت بلیم گیم کی آڑ میں اپنی کوتاہیاں چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ لیکن موصوف یہ بھول گئے تھے کہ وہ خود بھی بلیم گیم (Blame Game)ہی کھیل رہے ہیں۔یہی ہوتا آیا ہے ‘جمہوریہ پاکستان’ میں۔ نئے آنے والے حکمران بلیم گیم (Blame Game)کا سہارا لیکر اپنا دامن چھڑوا لیتے ہیں اور عوام انہی پرانے مسائل میں پِستی چلی جاتی ہے، جن کو حل کرنے کے لیے یہ حکمران سالہا سال سے عوام کے ہی دیئے گئے ووٹ کی مدد نئی مدت کے لیے اقتدار کے ایوانوںمیں جا پہنچتے ہیں۔

قارئین! ایک عرصے سے تھر میں بھوک اور غذائی افلاس سے سینکڑوں معصوم بچے ہلاک ہورہے ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ تھر واسیوں کی عمریں بیت گئیں مگر ان کی زندگی سے غذائی قلت نہیں نکلی، ان کی بھوک نہیں مٹی اوردوسری طرف حکمران اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں۔ تھر کے لیے ملنے والی امداد ادویات پڑی پڑی خراب ہوگئیں لیکن عیاش حکمرانوں نے بھوکے اور بیمار ، موت کے منہ میں جاتے معصوموں کو ادویات اور غذا کی فراہمی نہ کرکے بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ آج ایک نجی ٹی وی چینل پر چلنے والی خبر نے مجھے رلا دیا۔ خبر میں بتایا گیا کہ آج کے دن ، تھر میں غذائی قلت کے شکار، جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد 10 ہوگئی۔

اورغذائی قلت کے شکار اس صحرائی علاقے میں آج مئورخہ 24نومبر 2014ء تک گذشتہ 54 دنوں میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کی تعداد 121ہوگئی۔ اس وقت بھی تھر کے علاقے مٹھی کے سول ہسپتال میں درجنوں معصوم پھول زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ تھر میں بھوک اور بیماریوں کے ڈیرے ہیںاور ہر نئے دن کا سورج موت کا پیغام لیکر طلوع ہوتا ہے۔ قحط کا ستم ایسا ہے کہ معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے پر مائوں کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوئوں کے دریا بھی خشک ہوچکے ہیں۔لیکن موت کا رقص تھمنے میں نہیں آرہا۔

Tharparkar
Tharparkar

تھرپارکر میں مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دسمبر 2013ء سے تاحال غذائی قلت اور بیماریوں سے ابدی نیند سونے والے معصوموں کی تعداد500سے زائد ہوچکی ہے جبکہ سرکاری حکامِ یہ تعداد 293بتاتے ہیں۔ سندھ کے صوبائی وزیر منظور وسان نے بھی تسلیم کیا ہے کہ تھر کے باسیوں کا خیال نہیں رکھاگیا۔ لیکن چند ماہ قبل، جعلی شراب پی کر مرنے والے شرابیوں کو ”شہید ” قرار دینے والے وزیرِ اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا میڈیا سے کہنا تھا کہ تھر میں بچوں کی ہلاکت غربت کی وجہ سے ہوئی ہوگی، بھوک کی وجہ سے تھر میں ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی۔ تھر میں بھوک کی وجہ سے مرنے والے کسی ایک شخص کا نام بتادیں۔ تھر میں کوئی بچہ بھوک سے نہیں مرا۔ اگر حکومتی کوتاہی ثابت ہوئی تو وہ معافی مانگیں گے۔

جبکہ دوسری طرف تھر کے ڈپٹی کمشنر نے تصدیق کردی ہے کہ17نومبر کو ہلاک ہونے والے 10میں سے 7بچوں کی ہلاکت غذائی قلت کی وجہ سے ہوئی ہے جبکی اس سے قبل بھی ہلاک ہونے والے بچوں کی اکثریت کا سبب غذائی قلت بنی ۔12نومبر کو سائیں قائم علی شاہ نے میڈیا کے سامنے ایک نئی منطق گھڑی۔ موصوف کا کہنا تھا کہ تھر میں بھوک کا نہیں بلکہ ”زچگی” کا مسئلہ ہے اور اسی وجہ سے تھر میں بچے ہلاک ہورہے ہیں ۔ موصوف کے مطابق حکومت کا زچگی سے کچھ لینا دینا ہی نہیں ہے۔مزید ایک سوال کے جواب میں قائم علی شاہ نے بلیم گیم (Blame Game) کا سہارا لیتے ہوئے اپنی دانست میں میڈیا کو ”چارتے” ہوئے کہا کہ محکمہ صحت نے 20 سال سے تھر کو نظر انداز کئے رکھا ہے

میرا سوال تو ایم کیو ایم کے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد سے ہے کیونکہ وہ پچھلے تین سال سے تھر کے علاقے میں گئے ہی نہیں۔ شاہ صاحب کے اس بیان پر صرف اتنا سا تبصرہ ہی کیا جاسکتا ہے کہ ” سائیں تو سائیں، سائیں کا بیان بھی سائیں۔ اگر اس سے زیادہ کچھ لکھا تو شاہ صاحب کی شان میں یقیناََ گستاخی ہوجائے گی، حالانکہ موصوف اس بھی زیادہ کے حقدار ٹھہرے ہیں۔
تھر کے محکمہ صحت کے ضلعی افسر ڈاکٹر عبدالجلیل بھرگڑی کے بیان کے مطابق بچوں کی ہلاکت کی چار وجوہات ہیں۔ جن میں سرِ فہرست کم وزن، وقت سے پہلے پیدائش، برتھ اے سفیکزیا(اس بیماری میں بچے کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے) اور چوتھی وجہ سپیس (Space) ہے

جس میں دائی بچے کی پیدائش کے وقت صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھتی۔ ڈاکٹر عبد الجلیل نے بھی تھر میں غذائی قلت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ جب ماں کی صحت اچھی نہیں ہوگی تو یقیناََ بچہ کمزور پیدا ہوگا۔ بقول ڈاکٹر عبدالجلیل، جب بارشیں نہ ہوں اور قحط کی صورتحال ہو تو مناسب غذا نہیں میسر ہوتی جسکی وجہ سے ماں کمزور ہوتی ہے۔ حکومت کے پاس صرف ہسپتالوں میں ہلاک شدہ بچوں کی تعداد دستیاب ہے جبکہ گھروں میں فوت ہونے والے بچوں کی تعدادکا کوئی اندازہ نہیں ہے۔

ایک حکومتی عہدیدار کے بیان کے مطابق حکومت کی جانب سے تھر میں گندم کی مفت تقسیم کا چوتھا مرحلہ جاری ہے جس میں دو لاکھ اٹھاون ہزار خاندانوں میں سے دو لاکھ چوالیس ہزار خاندانوں میں 50کلوگرام فی خاندان کے حساب سے گندم تقسیم کردی گئی ہے۔ جبکہ سندھ کے وزیر جیل خانہ جات منظور وسان کا ماننا تھا کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ تھر کے علاقے چھاچھرو میں زیادہ اموات واقع ہوئی ہیں اور وہاں لوگوں کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اسکے علاوہ گندم کی تقسیم میں بھی خرد برد ہوئی ہے جس میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ حکومتی ارکان بھی ملوث ہیں۔

قارئین! وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ دار پاک فوج نے ہمیشہ سرحدوں کے ساتھ ساتھ عوام کی جانوں کی حفاظت کا بھی بہت خیال رکھا ہے اور جب بھی وطنِ عزیز کے کسی کونے میں عوام پرمصائب و آفتیں ٹوٹی ہیں، پاک فوج نے ہمیشہ عوام کو تحفظ کا احساس دلاتے ہوئے کامیاب اور کرپشن فری ریلیف کیمپس لگائے ہیں۔

تھر پارکر میں موجودہ تشویشناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاک فوج نے ہمیشہ کی طرح عوام کی خاطر ریلیف کیمپس لگائے ہیں۔ اس وقت تھر میں راشن کی تقسیم کے لیے پاک فوج کے 37 مراکز اور29 میڈیکل کیمپس میں علاج کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ پاک فوج کی طرف سے جاری ریلیف آپریشن میں تھر کے علاقوں دھانی، چھاچھرو، کھنسر، ڈالی اور مٹھی میں سہولیات فراہم کی جارہی ہیںاور متاثرہ علاقوں کے 14 ہزار 130 خاندانوں میں 150 ٹن راشن بھی تقسیم کردیا گیا ہے۔ پاکستانی شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرنے کی ذمہ داری پاک فوج کی نہیں ہے بلکہ یہ حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے، جس سے وہ بہت آرام سے اپنا دامن چھڑواتی نظر آرہی ہے۔

گذشتہ دنوں سندھ اسمبلی کے اسپیکر کی نسبت سے سی فوڈ پارٹی (Sea Food Party)کا ذکر بھی سننے میں آیا۔ مجھے یقین ہوچکا کہ ان عیاش حکمرانوں کو عوام کی قیمتی جانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہیں۔ بس ان کے شوق سلامت رہیں، پورے ہوتے رہیں، باقی لوگ جائیں بھاڑ میں۔ ایک طرف سند ھ کے تھرپارکر میں معصوم بچے تک بھوک سے بلک بلک کر موت کے آغوش میں ابدی نیند سوتے جارہے ہیں اور دوسرے طرف ان عیاش حکمرانوں کے چونچلے او ر دعوتیں ہی ختم نہیں ہورہے۔

لیکن یہ کس قدر المناک ہے کہ وطنِ عزیز میںتمام سیاسی پارٹیاں اقتدار کی دوڑ میں ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی ضد میں روزانہ کروڑوں روپے جلسے جلوسوں، دوروں، تقریبات اور محفلوں میں اڑا رہی ہیں اور ان تقریبات میں پیش کیا جانے والا کھانا ، جو صرف اور صرف ضیاع اور فضول خرچہ کے ذمرے میں آتا ہے۔ ان تقریبات میں پانی کے ضیاع کا تو کوئی حساب ہی نہیں۔ لیکن کیا کبھی ان لوگوں نے، یا ایسی تقریبات میں شامل ہونے والوں نے سوچا ہے کہ روٹی کے ایک ٹکڑے اور پانی کی ایک بوند کی ، تھرپاکرکے علاقے میں کیا اہمیت ہے۔ ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہے

ہم اپنے مفادات سے ہٹ کر کسی دوسرے کے لیے کچھ سوچیں۔ سندھ کے اربابِ اختیار فرماتے ہیں کہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی تو بچے مرتے ہیں لیکن آپ کو صرف ”تھر” ہی کیوں نظر آتا ہے۔تھر میں بسنے والے بھوک اور افلاس کے مارے لوگ بس یہ خواب ہی دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے بچے زندہ ہیں۔ ج کے دور میں، جب ہر کسی کی آس ہوتی ہے کہ اسکا بچہ بڑا ہوکر کوئی ڈاکٹر یا انجینئر بنے گا، تھر واسی یہ آس رکھتے ہیں ایک نہ ایک دن تازہ روٹی ان کے بچوں کا مقدر ہوگی، تھر کی تپتی مٹی سے اناج اگے گا، کبھی نہ کبھی وہ اپنے بچوں کو روٹی کا نوالہ اور پانی کی بوندیں دیکر موت کا شکار ہونے سے بچالیں گے۔جب تک یہ نا اہل حکمران ” زندہ ہے بھٹو زندہ ہے ” کے نعرے لگا کر برسوں پہلے اللہ کی رحمت میںجانے والے بھٹو صاحب کو ہی زندہ کرنے پر لگے رہیں گے

اس وقت تک عوام مرتی رہے گی۔انہیں اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ آج دنیا بہت آگے چلی گئی ہے اور اپنی فرسودہ سوچ کے مالک حکمرانوں کی وجہ ہم ابھی تک کولہو کے بیل کی مانند اسی جگہ پہ گھوم رہے ہیں۔ آج صرف تھر میں بچے غذائی قلت سے مر رہے ہیں۔ اگر عوام نے آج بھی اپنے مستقبل کو نہ سوچا اور ان عیاش اور نسل در نسل چلنے والے حکمرانوں کے پٹھو بنے رہے تو یہ طے ہے کہ ہمارا مستقبل تھر کے عوام کی موجودہ صورتحال سے مختلف نہ ہوگا۔

Lala Sanaullah Bhatti
Lala Sanaullah Bhatti

تحریر: لالہ ثناء اللہ بھٹی

Share this:
Tags:
Coordination Committee Death flowers humans responsible انسانوں پھولوں ذمہ دار رابطہ کمیٹی موت
Previous Post میاں مٹھو نے ہالی وڈ اداکاروں کو بھی مات دے دی
Next Post جبرالٹرایئرپورٹ کا دلچسپ و عجیب رن وے جو عام ٹریفک کی سڑک کے درمیان سے راستہ بناتا ہے

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close