Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

حسین احمد شیرازی کا بابو نگر

April 13, 2016April 13, 2016 0 1 min read
Hussain Ahmd Sherazi ,,, Babu Nagar
Hussain  Ahmd  Sherazi ,,, Babu  Nagar
Hussain Ahmd Sherazi ,,, Babu Nagar

تحریر: اختر سردار چودھری، کسووال
ہم نے بابو نگر کا مطالعہ کر کے تبصرہ کرنے کے لیے پوری طرح سے کمر کس لی۔ کتاب اتنی بھاری بھر کم ہے کہ کئی بار کمر ڈھیلی پڑ گئی ۔ کئی بار خیال آیا کہ پڑھنے کی کیا ضرورت ہے ۔بڑے رائیٹروں کی طرح سونگھ کر ہی دھانسو قسم کا تبصرہ لکھ دیتے ہیں ۔لیکن ہم ٹھہرے چھوٹے لکھاری ابھی اتنی بے ایمانی کے عادی نہیں ہیں ۔اس لیے ایک طرف سے پڑھنا شروع کر دیا ۔اور چند دن میں مکمل کتاب پڑھ ڈالی ۔اب لکھنے کا مرحلہ آیا تو ایک بار پھر کمر ڈھیلی پڑ گئی جس کتاب کی تعریف و توصیف میں عطاء الحق قاسمی، سید ضمیر جعفری مرحوم ، عظیم ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جسٹس میاں محبوب احمد جیسے بڑے ادیب رطب اللسان ہوں اس پر لکھنا آسان نہیں ۔یوں تو مجھے کسی بھی موضوع پر عبور حاصل نہیں لیکن طنز و مزاح میں تو بالکل کورا ہوں ۔مزاح تک تو بات سمجھ آتی ہے لیکن یہ جومزاح سے پہلے طنز کا لفظ ایسے ہے جیسے کوئی شہد میں زہر (تاثر ۔تریاق) دے رہا ہو۔

چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی

ویسے مزاح اور طنز کیا ہے یار لوگ اس پر بھی متفق نہیں ہیں کسی نے کچھ کہا ہے دوسرے نے کچھ اور کہا ہے ۔میرے خیال میں ان کے الگ الگ معنی ہیں، جداگانہ خصوصیات ہیں ۔بلکہ یہ متضاد ہیں ۔اور پڑھا ہے کہ یہ اعزاز صرف اردو زبان کو حاصل ہے کہ ان الفاظ کو یکجا لکھا اور برتا جاتا ہے ۔اصل میں مزاح ، کسی عمل، تقریر یا تحریر کے ذریعے تفریح فراہم کرنا، جسے دیکھ ،سن یا پڑھ کر مسکراہٹ ،ہنسی ، قاری کے چہرے پر رنگ بکھیر دے۔اور طنزمیں کسی فرد، گروہ یا قوم و ملک کی کم زوریوں ، برائیوں اور بد اخلاقیوں کو تضحیک اور تحقیر کا نشانہ بنایا جاتاہے ۔ حسین احمد شیرازی کے55مضامین پر( جن میں تعارف کے پانچ مضامین شامل نہیں ہیں) مشتمل مجموعہ ”بابو نگر” کے نام سے شائع ہو کر ایک وسیع حلقہ احباب سے داد وصول کر رہا ہے۔

اس کتاب کی سب سے اہم خوبی مزاح میں ،طنز میں بین السطور پیغام اصلاح ہے ،جو اقدار کا ماتم بھی ہے ،معاشرے کا آئینہ بھی ہے ،اس کی قدر شناسی ضروری ہے ۔وہ بعض اوقات نشتر سے مرہم لگاتے ہیں ۔ان کی کتاب پر اگر ایک فقرہ میں تبصرہ کرنا ہو تو وہ کتاب کی ابتدا میں ”اْردو ظرافت کا باغیچہء شیراز” کے عنوان سے سید ضمیر جعفری مرحوم نے کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ”یہ تحریریں شائستہ، ذہین اور بشاش ظرافت کی اس سطح کی نمائندگی کرتی ہیں جس سے کسی قوم کی تہذیبی سطح کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر اسے رَوا رَوی میں پڑھو تو ”کامیڈی” معلوم ہوتی ہے اور سوچ کر پڑھو تو ”ٹریجڈی” محسوس ہوتی ہے ”

Hussain  Ahmd  Sherazi
Hussain Ahmd Sherazi

اس کتاب کی خاص بات یہ بھی ہے کہ تمام مضامین میں اْردو کے کلاسیکی اشعار کا بَرمحل استعمال کیا گیا ہے ۔یہ اشعار قدیم و جدید شعرا ء کے ہیں ۔جو تحریر کی چاشنی بڑھا دیتے ہیں ۔کچھ اشعار میں مصنف نے ایک آدھا لفظ بڑھا کر یا تحریف کر کے اسے موقع محل کے مطابق بنایا ہے ۔چونکہ یہ کتاب بابونگر حسین احمد شیرازی نے اپنے شائع شدہ مضامین کو یکجا کر کے ترتیب دی ہے شائد اس وجہ سے ایک ہی شعر دو یا تین بار بھی مختلف مضامین میں لکھے گئے ہیں ۔مناسب ہوتا کہ اسی موضوع کا ہر بار کوئی نیا شعر لکھا جاتا ۔کیونکہ اشعارکا خزانہ تو ان کے پاس وسیع ہے ۔اور ہر موقع محل کے مطابق اسے مالا میں موتی کی طرح پرونا بھی آتا ہے ۔
”لوٹ کے بدھو گھر سے آئے”میں انہوں نے اپنا سفر لکھا ہے ۔اس طویل مضمون کے آخر میں ”یہ کام تو اڈے پر بھی ہو سکتا تھا ”پڑھ کر ہنسی روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔لیکن اس مضمون میں بعض فقرے ایسے بھی ہیں جو سوچ کے نئے در کھولتے ہیں ۔مثلا ”لیکن شوکت صاحب کا رویہ (میری) ان تجاویز کے بارے میں وہی تھا جو اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کی قراردادوں کے بارے میں بڑی طاقتوں کا ہے ”یا یہ ”کوئی من چلا گورا جب ”پاکی ””پاکی”کہتا تو ان کو یوں لگتا کہ جیسے کسی نے انہیں گٹر یا سیوریج میں پھینک دیا ہے ۔ان کی آرزو تھی کہ پاکستان واپس چلے جائیں اور وہ حیران تھے کہ لوگ کس بکھیڑے میں پڑنے کے لیے لندن آتے ہیں۔”

جدید قصہ چہار دویش بے تصویر وبے نظیر” میں مصنف نے مشکل اردو کے ثقیل وقدیم الفاظ استعمال کر کے مزاح پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن مشکل زبان کے سبب یہ اپنا رنگ نہ جما سکا ۔اس مضمون کی دوسری خامی اس کی بے جا طوالت بھی ہے ۔اگر یہی مضمون پانچ یا سات صفحات پر لکھا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا ۔لیکن یہ تاثر ”چپل کی کہانی ”پڑھ کر جاتا رہا ۔ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے کڑوے سچ اپنے مقصد اور لالچ کے لیے چاپلوسی سے کیسے کام لیا جاتا ہے ۔بڑے ہی خوبصورت الفاظ ،جاندار انداز بیاں،مزاح کے رنگ میں لکھا ۔ایک اقتباس دیکھیں ”شکر ہے میری بات سمجھنے لگے ہو کہ اپنا کام نکالنا ہو تو انکار نہ کرو ،تکرار نہ کرو ،غلطی نکال کر دوسرے کو شرمسار نہ کرو،اور یہ کہ ترقی کی منزل تک سب سے آسان زینہ منافقت کا ہے ”اسی مضمون میں یہ اشعار بھی قابل داد ہیں ۔

آو مل کر یہ دونوں جہاں بیچ دیں
یہ زمین بیچ دیں ،آسماں بیچ دیں
اور اگر کچھ نہیں ہے تو بھائی مرے
ایک بیوہ سے چھینیں ،مکاں بیچ دیں

Hussain  Ahmd  Sherazi ,,Ata ul Haq Qasmi ,,Dr Sughra Sadaf ,,Arif Nazami
Hussain Ahmd Sherazi ,,Ata ul Haq Qasmi ,,Dr Sughra Sadaf ,,Arif Nazami

”کھیر ،چرخہ ،کتا اور ڈھول” واقعاتی مزاح کی اعلی مثال ہے ۔یہ صولت صاحب کے بارے میںہلکا پھلکا مضمون ہے ۔ایک بار صولت صاحب سے ان کے پروفیسر صاحب نے ازراہ تفنن پوچھا کہ ”آپ کی کلاس عمومی غیر حاضری کی وجہ کوئی خاص ناپسندیدگی ہے ”تو صولت گویا ہوئے کہ مجھے یہ کالج پسند نہیں ،اس کی عمارت پسند نہیں ،استاد پسند نہیں اور ساتھی طالب علم پسند نہیں ۔
”منزل کے بغیر مسافتیں”ایک سماجی طنز پر لکھا گیا پوری کتاب میں مجھے سب سے زیادہ پسند آنے والا مضمون ہے ۔(ویسے پسند اپنی اپنی ہوتی ہے )آٹھ کردار پر مشتمل یہ ڈراما نما مضمون نہ صرف مزاحیہ ہے بلکہ طنز کی بھی کاٹ لیے ہوئے ہے ۔اس تحریر میں ایک ایک سطر پر محنت کی گئی ہے ۔ آپ زیادہ پڑھا کریں ۔دو روپے خر چ کر کے آپ ”کے ۔ٹو” کا سگریٹ پی سکتے ہیں ۔کے ٹو کی چوٹی سر نہیں کر سکتے فرحان ۔استاد کی عزت کیوں کرنی چاہئے ؟ اعظم ۔وہ فیل کر سکتا ہے انعام ۔ہر بڑے مقصدکے لیے قوم کو قربانی دینی پڑتی ہے۔ہمیں بھی اس کے لیے تیار رہنا چاہئے۔

مرزا۔تم لوگ کیا قربانی دیتے ہو انعام ۔ہم ہر عید الاضحی پر دو دنبے ذبح کرتے ہیں۔
انعام ۔(رشتے داروں کے بارے میں بتاتے ہوئے ) ان کو متعدی مرض ہے
فرحان ۔کون سا ؟
انعام ۔غربت کا
فرحان ۔آج کل بڑی مہنگائی ہے۔
اعظم ۔ہاں ہمارے نوکر بہت شور مچاتے رہتے ہیں
فرحان ۔تم لوگ بہت زیادہ خوش کب ہوتے ہو
اعظم ۔ہمیں خوش ہونے کی فرصت ہی نہیں ہے

حسین احمد شیرازی نے دیگر مضامین (بر ادر خوردظلم کی داستان ۔مہمان بلائے جان ۔آب حیات اور گٹر کے ڈھکنے ۔مرحوم ۔میں ایک ممبر ہوں ۔ وغیرہ ) میں بھی ایسے ہی چن چن کر الفاظ لکھے ہیں ۔ اور طنزومزاح کے کی مدد سے بہت سے لطیفے تخلیق کیے ہیں ۔”مسٹر ،معاشرہ اور منافقتیں”جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے ایک طنز سے بھرپور مزاح کے رنگ میں ،ہماری معاشرے میں جو منافقت ہے اس کی عکاسی کرتا سوچ کے نئے در کھولتا مضمون ہے۔

Hussain  Ahmd  Sherazi ,, Book Fear
Hussain Ahmd Sherazi ,, Book Fear

کتاب کا ایک حصہ ،بابو نگر ”پر مشتمل ہے ۔اس میں صاحب کتاب نے زندگی بھر کا مشاہدہ مختلف عنوانات سے اپنے مخصوص انداز بیاںمیں تحریر کیا ہے ۔یعنی کسٹم، ایکسائز اور سیلز ٹیکس سے متعلق گورنمنٹ سے ایوارڈ یافتہ مصنف حسین احمد شیرازی نے اپنے شعبے سے متعلقہ ،اپنے مشاہدے میں آنے والے تلخ و شیریں واقعات ،جو اپنے ارد گرد دیکھا ،سنا ،سمجھا اسے بیان کیا ہے ۔
وہ بابو نگر کے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں ”اس مضمون میں بہت سے پرانے قصے لکھے گئے ہیں چنانچہ یہ امکان موجودہے کہ یاداشت کے ضعف کی وجہ سے ہم نے اپنے کارنامے دوسروں کے کھاتے میں ڈال دیئے ہوں ۔

بڑے پاک طینت،بڑے صاف باطن
ریاض ۔آپ کو کچھ ہمیں جانتے ہیں

لفظ بابو کی وضاحت کرنے کے بعد انہوں نے اس کی بنیاد اور تاریخ بھی مفصل بیان کی ہے ۔جو ایک جیسی سوچ اور انداز فکر رکھنے والے افراد پر روشنی ڈالتی ہے ۔وہ لکھتے ہیں ”اعمال سے عادت ،عادت سے کرداراور کردارسے مزاج اور سرشت تعمیر ہوتے ہیں ۔منفی نقطہ نظر سے بھی دیکھیں تو لباس پر پہلا پیوند ہی بدنما لگتا ہے ۔زندگی میں پہلا جھوٹ ،پہلی بے ایمانی ،پہلی بے حیائی ،پہلی بے غیرتی کافی مشکل ہوتے ہیں ۔ان اعمال کی۔۔۔۔ تکرار سے یہ انسانی فطرت کا جزو بن جاتے ہیں اور پھر ان کا ارتکاب نہ دشوار لگتا ہے نہ ناروا۔

شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو
جہاں تلوار کو دیکھا جھکا دیتا ہوں گردن کو

بابوئوں کا پس منظر ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں ”اپنے خمیر کے حوالے سے یہ بابو لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کی پیدا وار ہیں ۔جس نے اپنی پالیسی کا مطمح نظر ایک ایسے طبقے کا فروغ بنایا تھا جو اپنے خون اور رنگ کے اعتبار سے تو ہندوستانی لیکن اپنے ذوق ،عقیدے ،اصول ،عمل اور فہم و فراست کے اعتبار سے انگریز ہوگا ۔”لیکن دست بستہ یہاں مجھے حسین احمد شیرازی صاحب سے اختلاف ہے انہیں انگریز کی بجائے انگریز کا ذہنی غلام لکھنا چاہئے تھا ۔

دل کو کرتے ہیں بتاں تھوڑے سے مطلب پہ خراب
اینٹ کے واسطے مسجد ہیں یہ ڈھانے والے

ڈنگ ٹپائو حکمت عملی۔اختیارات کی مرکزیت اور ماحول کا جبر۔بصیرت سے نفرت ۔رائی کا پہاڑ ۔جیسے مضامین پڑھتے ہوئے آپ ہلکی سی ہنسی چہرے پر سجائے۔ شرم سار سے ہوکر ،اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے مطالعہ فرمائیں گے ۔یہ ہی حسین احمد شیرازی کی تحریر کا خاصہ ا ور وصف ہے ۔”ایک دفتر میں آگ لگ گئی ۔شعلے آسمان سے باتیں کر رہے تھے ۔چند لوگ ایک درخت کے نیچے آرام سے بیٹھے تھے ۔ان سے کسی گزرنے والے شخص نے پوچھا ”بھائی صاحب آپ اس دفتر میں کام کرتے ہیں ۔”جواب ملا ”جی ہاں”پھر مشورہ دیا گیا۔”تو اس آگ کو بجھانے کے لیے کچھ کریں’تو وہ بولے ”وہی تو کر رہے ہیں ۔یہاں بارش ہونے کی دعا ہو رہی ہے ”

راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہے
فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا

Akhtar Sardar Chaudhary Columnist Kassowal
Akhtar Sardar Chaudhary Columnist Kassowal

خبطی بابو میں لکھتے ہیں ۔بیس سال پرانا واقعہ ہے ۔ہم کسٹم کے کسی بڑے بابو کے دفتر میں موجود تھے ۔وہاں کسی نے تجویز پیش کی کہ انسداد اسمگلنگ مینول چھاپناچاہئے ۔تو بڑے بابو بولے ”ہم نے ٹیرف اصلاحات کر دی ہیں جس کے بعد اسمگلنگ ختم ہو جائے گی اور پھر ایسی کسی کتاب کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ بابو اور دربار۔خوشامد اور چمچہ گیری۔میں نہ مانوں ۔کام کے بغیر دفتر۔بڑی زبردست تحریریں ہیں ۔آخرا لاذکر کے آخر میں ”کہتے ہیں کہ دفتر کے باس کے سر میں کوئی پیچیدہ تکلیف نمودار ہوئی تو اس کا بیرون ملک علاج تجویز ہوا ۔وہاں سرجن نے آپریشن کے بعد بتایا کہ اس کے دماغ میں کوئی خرابی نہیں تھی البتہ بے حد زنگ آلود تھا۔

”سفارش ”نامی مضمون میں لکھتے ہیں ۔سفارش ہماری زندگی کا چلن ہے ۔سفارش انشورنش ہے ۔سفارش بارٹر سسٹم بھی ہے ۔سفارش ایک بہت بڑا آرٹ ہے ۔سفارشی کے ساتھ میرٹ کی بحث میں پڑنا فضول ہے ۔”کرپشن”نامی آرٹیکل میں ایک شعر کا عنوان کے حساب سے استعمال دیکھیں ۔ایسے ہی انہوں نے ہر مضمون میں شعروں کا تڑکا لگایا ہے۔

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

بابو نگر کتاب کا آخری حصہ بابوئوں کی اقسام پر مشتمل ہے ۔جس میں سیاسی ،خاکی ،کاروباری،عدالتی ،وکیل ،عالمی،روحانی،طبی ،ادبی،آرٹسٹ،میڈیا ،خواتین بابوئوں کا تفصیلی ذکر ہے ۔اور ان کے طریقہ وار دات پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے ۔”روحانی بابو ” میں سے چند فقرات دیکھیں ۔لوگ اسلام کے لیے زندگی قربان کرنے کے لیے تو تیار ہے ۔اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ہمارے روحانی بابوئوں میں نناوے فیصد لیڈر پائے جاتے ہیں ۔روحانی بابوئوں نے ہمارے آزادی کے تینوں ہیروز یعنی سرسید ،اقبال اور قائد اعظم کو کافر قرار دیا تھا ۔ان روحانی بابوئوں کا اسلام ہمیشہ خطرے میں رہتا ہے ۔روحانی بابوئوں نے کفر کے دائرے کی جو حدود متعین کی ہیں ۔۔۔ان تصریحات کے پیش نظر یہ سب بذات خو د بھی اسی دائرے میں آ جاتے ہیں۔

یہی شیخ حرم ہے جو چرا کے بیچ کھاتا ہے
کلیم بوذرو دلق اویس و چادر زہرا

Hussain  Ahmd  Sherazi ,,Haseena Moin ,,,Altaf Hussain Qureshi
Hussain Ahmd Sherazi ,,Haseena Moin ,,,Altaf Hussain Qureshi

”خواتین بابو”میں خواتین بابوئوںکے کئی ایک طریقہ واردات بتائے ہیں دو کا ذکر ۔”میں نے باس سے کہا سردو دن سے آپ سے ملاقات نہیں ہوئی ۔آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟تو باس نے جواب دیا ۔”میں آپ کا شوہر نہیں ہوں کہ آپ سے ملاقات لازمی ہو۔” ایک خاتون بابو نے اپنے باس کو دھمکایا کہ” خواہ مخواہ میرے کیس میں نوشیرواں عادل بننے کی کوشش مت کرو ،میں نے کندھے سے قمیض پھاڑ کر شور مچا دیا تو اپنے بیوی بچوں سے بھی منہ چھپاتے پھرو گئے ”مصنف ”بابو نگر” سابق چیف کلکٹر کسٹم حسین احمد شیرازی کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خاں لکھتے ہیں۔حسین احمد شیرازی کے مضامین اردو ادب کے ممتاز جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔اور یہ جرائد اپنے خاص معیار کے لیے بہت مشہور ہیں ۔جیسے اردو ڈائجسٹ ،ادب لطیف۔نیرنگ خیال ۔ المزان وغیرہ ۔ڈاکٹر صاحب مزید کہتے ہیں ۔”میں حسین احمد شیرازی کو ایک چھپے رستم کی حیثیت سے اس بہترین کاوش پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور مزید ترقی کے لیے دعا گو ہوں۔”

ہمارے ہاں عام طور پر طنز و مزاح کا مقصد صرف ہنسنا ،ہنسانا ہی لیا جاتا ہے ۔یار لوگ اس سے زیادہ اسے اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں۔ صرف ہنسی بھی یا خوشی بھی کچھ کم نہیں ہے لیکن اس سے بڑھ کر مقصدیت کو سامنے رکھ کر لکھی گئی کتاب کو صرف مزاح کے کھاتے میں ڈال دینا کھوتا کھوں میں ڈال دینے کے مترادف ہے ۔

یوں پھریں اہل ہنر آشفتہ حال ،افسوس ہے
اے کمال افسوس ہے ،تجھ پر کمال افسوس ہے

بابو نگر پڑھ کر احساس ہوتا ہے ۔وہ صرف ایک بابو نہیں ہیں ۔بلکہ ایک ادیب ،شاعر،ڈرامہ نویس،کہانی کار،سیاح ،فلسفی ،تجزیہ نگار ،معاشرے کے نباض بھی ہیں ۔اور انہیں اپنے خیالات کو الفاظ کی شکل دینے کا فن بھی خوب آتا ہے ۔حسین احمد شیرازی میرے خیال میں ایک معقول آدمی ہیں اورمعقول زندگی بھی گزار رہے ہیں۔ان کی کتاب بھی بڑی معقول ہے ۔آپ میری بات سے متفق ہو جائیں گے ”بابو نگر” کے مطالعہ کے بعد ۔تحریر کے اختتام پر مجھے کہنا ہے کہ ۔یہ کتاب تو خوب تر ہے اور بلاشبہ پڑھنے کے قابل ہے ۔لیکن اس میں ایک خوب ترین اور خاصے کی چیز بھی ہے اور وہ ہے ۔کارٹونسٹ جاوید اقبال کے کارٹون ۔ایک تو اس سے ہر مضمون کو چار چاند لگ گئے ہیں ۔دوم یہ بھی کارٹون دیکھ کر چہرے پر مسکراہٹ سج جاتی ہے ۔نہیں یقین تو بابو نگر میں جا بجا ہر تحریر سے مطابقت رکھتے جاوید اقبال کے بنائے ہوئے کارٹون دیکھ لیں۔کارٹون مصورانہ ہیں ۔ان میں کسی کی تضحیک نہیں کی گئی اور یہ خوبی کم نہیں کہ موضوع کو سامنے رکھ کر بنائے گئے ہیں۔

Akhtar Sardar Ch
Akhtar Sardar Ch

تحریر: اختر سردار چودھری، کسووال

Share this:
Tags:
book Comments Sardar Akhtar Chaudhry study اختر سردار چودھری تبصرہ ڈاکٹر عبدالقدیر کتاب مطالعہ
Gas Cylinders Explosion
Previous Post شہر کی بارونق مارکیٹ 7 بلاک میں ایل پی جی گیس سلنڈر، ری فلنگ کرتے ہوئے دھماکہ
Next Post مردوں اور خواتین کو مل کر تحریکِ آزادی کو کامیابی کی طرف لے جانا ہو گا۔ طاہرہ توقیر
Speech

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close