Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

یونانیوں کا دیوتا اپالو اور عمران خان

September 1, 2014 0 1 min read
Imran Khan
Imran Khan
Imran Khan

سیاست میں آنے سے پہلے عمران خان کی شخصیت کی مقناطیسی چمک پاکستانیوں ہی کی نہیں پوری دنیا کے لوگو ں کی آنکھوں کو خیرہ کئے دے رہی تھی، اونچا لمبا قد، گور ا چٹا رنگ، چیتے کی طرح تنا ہوا پھرتیلا جسم،خدوخال انتہائی جازب و پرکشش اور اس پر ستم یہ کہ غرور کی حد تک سنجیدہ ا۔ مشرق تو دور کی بات مغرب کی گوریاں اس کی بے توجہی اور بے رخی سے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کی کوشش میں ہسپتالوں کی غلام گردشوں تک جا پہنچی تھیں ۔ نوے کی دہائی میں عمران خان دولت و شہرت کے اعتبار سے دنیا بھر کا ہیرو بن چکا تھا۔ کامیابیاں اس کے قدم چوم رہی تھیں لیکن وہ اپنی زات میں مست شہرت کی چکا چوند سے چھپتا پھر رہا تھا۔

ما ڈلنگ کی بڑی بڑی آفروں کو اس نے ٹھکرا دیں ، اسکا ایک ہی عشق تھا جو جنون بن کواس کی رگوں میں دوڑ رہا تھا ،اور وہ عشق تھا کرکٹ، اسی جنون کو تعبیر دے کر اس نے ورلڈ کپ کے ناممکن خواب کوشرمندہ تعبیر کر کے پاکستان کے قدموں میں لا کر ڈال دیا۔ اتنی بڑی کامیابیوں کے باوجود بھی وہ ا کھڑا اکھڑا اور لاپر واہ ہی رہا ۔ وہ جدھر سے گزرتا م لڑکے رشک کرتے اور لڑکیا ں دل تھام لیتیں مگر وہ یونانیوں کے خو بصورت دیوتا اپالو کی مانند ہوا کے جھونکے کی طرح اڑتا پھرتا ۔ کر کٹ کی عظیم بلندیوں کے اس دور میں ایک شے اس کی شخصیت اور ماحول سے البتہ میل نہیں کھاتی تھی اور وہ شے تھی اس کے گلے میں لٹکتا ہو لاکٹ جس پر اللہ لکھا ہو اتھا۔ اور اسے وہ کبھی اپنے آپ سے جدا نہیں کرتا تھا۔

کلمہ چوک سے ایک کلو میٹر آگے بائیں جانب قزافی سٹیڈیم کے کلوسیو نما کلچرل ہال میں میوزیکل شو چل رہا تھا ،جیوپٹرز اپنے فن کا مطاہرہ کر کے سٹیج کے پیچھے غائب ہو چکا تھا ،شوختم ہونے میں ابھی دو گھنٹے باقی تھے۔لیکن تماشیوں کے پاؤں اکھڑ چکے تھے، وہ ٹکٹ خرید کر شو میں آئے تھے ، اس لئے ہر سنگر پر سخت ہوٹنگ ہو رہی تھی ، لوگ پہلے بدزبانی پر آئے پھر اٹھ کر آؤٹ ڈور گیٹ کی جانب جانے لگے، اس وقت کسی کرشمے کی ضرورت تھی ، شو کے میزبان معین اختر تھے ،معین اختر موجود ہو اور لوگ اپنی سیٹوں سے کسمسا جائیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ، پھر وہ کرشمہ بھی ہو گیا ، عورتیں بچوں کو اور مرد اپنی اشیا سمیٹ کر جا ہی رہے تھے کہ ایسا لگا جیسے ان کو پاؤں کسی نے زمیں سے باندہ دیئے ہوں۔

شرارتی معین اختر لہک لہک کر اعلان کر رہا تھا کہ بہنوں اور بھائیو اب آج کے شو کا سب سے بڑا سرپرا ئز ، عمران خان پہنچ گئے ہیں اور تھوڑی ہی دیر میں وہ سٹیج پر آنے والے ہیں ۔ تما شائیوں کے قدم جہاں تھے وہیں جم گئے، جہاں جہاں تک جہازی ساؤنڈ سپییکروں کی آواز جس جس کے کانو ں سے ٹکرائی وہ الٹے پاؤں بھاگتا ہو اہوا واپس اپنی سیٹ پو پہنچ کر قابض ہوگیا ۔ شو مین پھر سے جان پڑ گئی۔ موسیقی کی دھنیں فضا میں بکھریں تو پلٹنے والوں کی دھکم پیل میں بھی کمی واقع ہونے لگی ،عمران خان زندہ باد کے نعروں سے کمپلیکس گھونجنے لگا۔ اب حاضرین کیلئے مقبول و غیر مقبول سنگر کی اہمیت ختم ہو چکی تھی۔اب وہ شو کے اختتام تک بیٹھنے کے لئے تیار تھے، وہ اپنے ہیرو کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب تھے۔ وقت گرزتا رہا۔

معین ا ختر کی چا ل تو اپنا کام دکھا گئی تھی لیکن عمران خان نے نہ تو آنے کا وعدہ کیا تھا نہ آئے ۔ شوکے ا ختتام سے کچھ دیر پہلے معین ا ختر سٹیج پر آئے اور نہائت خوسگوار موڈ میں گویا ہوئے ، دوستو، عمران خان اس شومیں نہیں آرہے ،میں نے تومزاق کیا تھا لیکن آپ کے لئے ایک خوشخبری ہے ،مگر میں وعدہ کرتا ہوں کہ جو میں کیہ رہا ہوں وہ مزاق نہیں اور وہ یہ خوشخبری یہ ہے کہ عمران خان نے شادی کرنے کا اعلان کر دیا ہے، حا ضرین میں کیا بچے کیا بڑے ،کیا لڑکے کیا لڑکیاں سب کے چہرے کھل ا ٹھے۔ عمران خان کی جانب سے شادی کیلئے رضامندی کے اظہار کی خبر ہی پاکستا نیوں کو خوش کرنے کے لئے کافی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب عمران خان کی شادی کا معاملہ پاکستان کے قومی معاملات میں سے ایک اہم معاملہ ہو ا کرتا تھا، اس دن کلوسیو نما کلچرل ہال کا میوزیکل شو دیر تک چلتا رہا اور خوشی خوشی اختتام پزیر ہوا۔

کسی پاکستانی لڑکی کی بجا ئے ایک غیر ملکی لڑکی سے شادی کی خبر نے پہلی بار پاکستانیوں کو اپنے ہیرو کے بارے میں مایوس کیا، حالا نکہ عمران کئی بار کیہ چکے تھے میں شادی کے لئے تیار ہوں لیکن میں جس سے بھی شادی کروں آپ نے اعتراض نہیں کرنا۔ جمائما سے شادی نے عمران خان کے دیو مالائی بت کی پرستش میں دڑایں ڈالنی شروع کر دیں ۔ عوام نے پھر بھی اپنی انگریز بہو کا پرتپاک استقبال کیا اور نئے جوڑے کو خوب دعائیں دیں۔ عمران خان کے پاس نہ دولت و شہرت کی پہلے تھی نہ اب۔ اس دوران اس کی والدہ کا انتقال ہوگیا جس سے ا س کا دل بجھ کر رہ گیا۔

اس کی ماں کینسر تھا جس کے علاج کا کوئی مو ثر ہسپتال پاکستان میں موجود نہیں تھا، کامیابیوں کی اانتہائی بلندیوں کو چھونے کے بعد اب اس کی زندگی کا کوئی خاص مْقصد رہا نہیں تھا لہذا پہلے اس نے فلاح و بہبود اور بعد میں اچانک سیاست کے خار زار میں قدم رکنے کا اعلان کردیا ۔ شوکت خانم ہسپتال اور نمل یو نیوسٹی کے پراجیکٹس کی تکمیل کے دوران اسے اندازہ ہو کہ ریاست کا نظام اور اسکا تقریبا ہر شعبہ کرپشن کی زد میں ہے اور اسکی وجہ مفاد پرست حکمران ہیں ۔ یوں عمران خان نے نئی پارٹی بنا کر نئے انداز میں کرپٹ نظام کو جڑ سے ا کھا ڑ پھینکنے کی جدوجہد کا اعلان کردیا ، یہیں سے اسکی مشکلات کا آغاز ہو ا ،ملک پر مسلط روائتی سیاستدان ، جاگیر دار ،او ربعض دینی رہنما ؤں نے اس پر دو طرفہ حملہ کیا ،پہلے اس کی زاتی زندگی کو نشانہ بنایا اور بعد میں یہودیوں کا ایجنٹ قرار دے دیا۔

دور حا ضر کے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے انہیں اپنی پارٹی میں لانے کیلئے بھرپور کو ششیں کیں لیکن عمران خان کو خدشہ تھا کی اس طرح وہ جاری نظام کا حصہ بن کر رہ جائیں گے اور کچھ بھی نہیں بدلے گا لہذا انھوں نے مسلم لیگ نون میں شامل ہو نے سے انکار کردیا، انہی دنوں سابق صدر پروز مشرف نے آزاد کشمیر جاکر بھاریتوں کو مکے دکھائے اور کالا باغ ڈیم کو بزور قوت بنانے کا اعلان کیا تو عمران خان ان کی طرف متوجہ ہوئے ۔ تاہم وہ جتنا عرصہ بھی مشرف کے قریب رہے ، ان کے ساتھ شامل ہونے کی بجائے ایک متوازی لائین اختیار کر کے آگے بڑھتے رہے۔

PTI
PTI

پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے پہلے الیکشن جو انھوں لڑے اس میں انھیں بری طرح شکست ہوئی ، اس ہار کی وجہ بھی وہی پراپیگنڈا بنا ، یعنی زاتی زندگی اور یہودو نصاری کا ایجنٹ ہونے کا الزام ۔ لیکن حیرت ہے یہ الزام آج تک ثابت نہ کیا جاسکا ۔ دو ہزار بارہ کے انتخابات میں یہ گھسا پٹا کارڈ کھیلنے کی پھر کوشش کی گئی لیکن اس بار یہ چال بار آور نہ ہو سکی ، اس کی وجہ یہ تھی عمران خان خود اعتراف کر چکے تھے ہر انسان سے ز ندگی میں خطائیں سرزد ہوتی ہیں ، وہ انسان ہیں فرشتہ نہیں ۔ لیکن انھوں پاکستان کو کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور نہ کبھی ایسا کرنے کا سوچ سکتے ہیں ، انھوں بتایا کہ کس طرح وہ پینسٹھ اور ا کہتر کی جنگوں پاکستانی پرچم ا ٹھا کر اپنے خاندان اور محلے داروں کے ساتھ ملکر سڑکوں پر مارچ کیا کرتے تھے۔

گزشتہ دنوں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے صاھبزادے ارسلان افتخار نے عمران خان کی ذاتی زندگی کے گھڑے مردے ایک بار پھر اکھاڑنے کی کوشش کی لیکن عمران اور ان کے ورکروں کو مشتعل نہ کرشروع ہوچکا ہے ، عمران کی شخصیت کو مسخ کرنے کا عمل جاری ہے لیکن عمران خان کے دیوانے ایک ہفتے سے اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈتے ہوئے ہیں انہیں آج بھی اپنے لیڈر پر اتنا ہی یقین ہے جتنا کل تھا۔ وہ جانتے ہیں کہ عمران خان کبھی بھی اصولوں پر سودہ بازی نہیں کرے گا ، ماصولوں کی بنیاد پر ماضی بعید میں اپنے کزن ماجد خان اور حال قریب میں اپنے دوسرے کزن انعام اللہ نیازی کی مثالوں سے اس نے ثابت کردیا وہ اقربا پرور نہیں۔

جاوید ہاشمی کو رخصت کر کے تو اس سب کو حیران ہی کردیا لیکن جاتے جاتے ان کو اتنا ضرور کہا جاوید ہاشمی صاحب مجھے آپ کے رو یئے پر افسوس ہے مجھے آپ سے اس موقع پر یہ ا مید نہیں تھی، یوں عمران خان نے جاوید ہا شمی کو بتا دیا کہ پاکستان میں ان سے بھی بڑا کوئی باغی موجود ہے۔ عمران خان کی حد سے بڑی ہوئی خودی نے انھیں کلام اقبال کا شیدائی بنایا اور نماز کی جانب راغب کیا۔ انھوں نے اپنے کارکنوں کو اپنی زات پر یقین اور خوف سے نجات کے جو دوسبق یاد کروادیئے ہیں وہ ان کی اگلی نسلوں کے بھی کام ائیں گے۔

آزادی مارچ کے شرکا میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جنہیں ممی ڈیڈی کہا جاتا ہے ، ممی ڈیڈی کے ٹرم ان دیہاتیوں نے ایجاد کی ہے جو گاؤں سے شہر پڑھنے آتے ہیں اور وہاں ان کا واسطہ ان امیر اور پڑھی لکھی فیملیز کے ڈفرنٹ نوجوانو ں سے پڑھتا ہے لیکن چونکہ ایک دیہاتی کے زہین سے پینڈو ہونے کا کمپلیکس شہر میں آکر کم از کم ایک نسل تک نہیں جاتا اس لئے یہ اپنے ارد گرد موجود ان لوگوں کے نہ قریب آ پاتے ہیں نہ وہ ہی انھیں کوئی زیادہ لفٹ کرواتے ہیں ، جواب میں ان کو ممی ڈیڈی کا طعنہ دے کر ا پنا کتھارسس کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، عمومی طور پر ان میں سے کچھ پینڈو جب عملی زندگی میں آتے ہیں تو اپنے اختیارات کا استعمال ان کے خلاف کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔

اقربا پروری یہیں سے پروان چڑھتی ہے ا لیکٹرونک و پر نٹ میڈیا میں بیٹھے ہوئے دیہاتی پس منظر کے حامل بعض دانشوور اور کالم نگار آزادی مارچ کے ان شرکا کے لئے یہ ٹرم بطور تضحیک استعمال کر کے ا پنے قلب و جان کو خوب تسکین بخش رہے ہیں دوسری جانب ، شہر کے لوگ ان پاکستانیوں کو علیحدہ مخلوق کے طور پر دیکھتے ہیں اور انہیں شہری سہولتوں اور مراعات کے حصول میں استحصالی گروہ قرار دے کر ان سے الگ تھلگ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ برسوں سے جاری اس معاشرتی کشمکش کے نتیجے میں اور اپنے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کئے جانے کے بعد یہ لوگ بھی دم سادھ کر اپنے آپ میں مست ہو چکے تھے ، عمران خان کی طرز سیاست کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اس طبقے کو پہلی بار ملک کے سیاسی دھارے میں شامل کیا ہے۔ عمران کو علم تھا کہ یہ پڑھی لکھی اور باشعور کلاس روائتی حکمرانو ں کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ثابت ہوگی۔

اسکے بعد بنیادی سہولتوں سے محروم اور سال ہا سال سے تختہ مشق بنے ہو ئے صوبے کے نڈر اور غیور پٹھانوں کو جگا کر اپنے پیچھے لگا لیا ، عمران خان کے پٹھان ہونے کا بھی یقینا کریڈت ملا ۔ آزادی مارچ کے دھرنے کو دس دن سے زیادہ جاری رکھنے میں ممی ڈیڈی کلاس کا رول ناقابل فراموش ہے ، ، دھرنے میں ان نازک مزاجوں کا کھلے آسمان تلے سترہ دن گزارنا اور لاٹھی گولی کو برداشت کرنا اور ڈٹے رہنا کوئی آسان بات نہیں ، عمران خان نے ان لوگوں کو ملک کی محبت میں سرشار کر کے رکھ دیا ہے ۔مڈل اور اپر مڈل کلاس ان کے ساتھ ہے۔ یہ لوگ جنہیں پاکستان سے کوئی خاص مطلب نہیں ہوا کرتا تھا اب ملککی خاطر مرنے مارنے تل گئے ہیں پورے پاکستان میں اب کم ازکم یہ فرق ختم ہو چکا ہے کہ جب ہر پاکستانی ایک سبز پاسپورٹ اور ایک ووٹ کے حامل ہونے کے باعث برابر ہے۔

تو پھر یہ معاشرتی و طبقاتی تقسیم کیوں؟ پی ٹی آئی ان نئے ووٹرز کو پولنگ سٹیشنز تک لے کر آئی انھوں نے ووٹ بھی عمران خان کو ڈالا لیکن ان کا ووٹ کہاں گیا ، تحریک انصاف کا یہ واویلا اور احتجاج پچھلے ڈیڑھ سال سے جاری تھا جسے روا ئتی سیاست کی رعونت نے در خور اعتنا نہ سمجھا با الآخر یہی چنگاری بڑھک کرآج آزادی مارچ کا شعلہ بن گئی ہے۔

زادی مارچ کے دھرنے کے شرکا سے خطاب میں عمران خان نے وہاں سے شروع کیا جہاں ایجی ٹیشن کی تحریکیں آخر پر پہنچتی ہیں ، عمران خان کے طرزتقریر نے کسی نہ کو بخشا لفظوں نے چناؤ نے بڑے بڑوں کو ادھیڑ کر رکھ دیا ، نواز شریف شہباز شریف ، مولانا فضل الر حمن ، محمود اچکزئی توور کی بات ، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی ڈکٹیٹر یا حکومتی عہدیدار نے دنیا کی واحدسپر پارو کو اس طر ح مخاطب نہیں کیا تھا جیسے عمران خان نے کیا ، بھٹوکے بعد عمران خان وہ لیڈر ہے جس نے امریکہ کو للکارا ،عمران خان نے امریکہ پرواضح کردیا کہ کہ نئے پاکستان میں امریکہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ اس لئے امریکہ پاکستان کے معاملات میں مداخلت نہ کرے اور اپنا منہ مند رکھے۔
پاکستانی عوام کے بارے میں دانستہ طور پر یہ غلط فہمی پھیلا ئی گئی ہے کہ پاکستانی عوام کا حافظہ بڑاکمزور ہوتا ہے ، اورع یہ کہ یہ اپنے ہیروز کو پل بھر میں زیرو کر دیتی ہیں۔

Abdul Qadeer Khan
Abdul Qadeer Khan

پاکستانی عوام پر اتنا بڑابہتان کسی جرم سے کم نہین، یہ اس بیہودہ نظام کی کارستانی ہے کہ جو بھی ان مفاد پرستوں کے خلاف ااوازاٹھاتا ہے اسے ایک پلاننگ کاساتھ بدنام کر کے زیرو کرو دیتے ہیں ، جو نظام کے خلاف سر اٹھاتا اے کاٹ دیتے ہیں انھیں ڈر ہوتا ہے کہ کو ئی مقبول رہنما ہر عوام کے ان کخلاف متحد نہ کرلے۔ ڈاکٹر عبدلقدیر خان کو پاکستانی عوام نے پہرو سے زیرو نہیں بنایا، اس کا جواب ان سے طلب کرنا چاہئے جنہوں نے ڈاکٹر ثمر مبارک کو ان سامنے لا کر کھڑا کردیا ، اس سوال کا جواب صڈر مشرف سے لینا چاہئے جو پاکستان کو پتھروں کے دور پہنچانے کے دھمکی کے سامنے گھٹنے ٹیک گئے تھے ، پہلے کہتے تھے داکٹر قدیر میرے ہیروہیں او بعد اپنے اقتدار کی طوالت کی ضمانت ملنے پر ر ڈاکٹڑ خان ٹی وی معافی منگوانے کے لئے پکڑکر لے آئے تھے ْ ڈاکٹر قدیر پر وہ وقت بھی آہا جب گھر کے اندر نظر بندی سے تنگ آگئے توایک دن گھر سے نکلے اور اسلام آباد کے سڑک کے پٹ پاتھ پر احتاجا بیٹھ گئے۔

ان کے پاؤں میں چپل تھی اور پتلون سے باہ نکلی ہوئی پرانی سء پتلون قمیض میں بیٹھے پوچھ رہے کہ ان کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے، امریکی کس پ منہ سے پتھروں کے دور کی بات کرتے ہپیں کی دنیا کی جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی ا فغا نستان کو مسخر نہیں کرسکے اور واپسی کیلئے سیف راستے میں پریشان پیں۔

ماضی کے ہیرو عمران خان کو سسٹم کے کل پرزوں نے زیرو کرنے سڑ توڑ کاششیں شروع کر رکھی ہیں ، اس پر یہ کہ انہوں نے ا مریکہ کا بھی للکار دیا ہے ، امریکیوں کے بارے مین مشہور ہے کہ وہ اپنے خلاف بولنے والوں کو کبھی نہین بھولتے اور موقع ملتے ہی ا پنے ٹار گٹ کو عبرت کا نشان بنانے سے نہیں چوکتے ، عمران خان دشمنوں اور مخالفوں میں بری طرح گھر چکے ہیں اس وقت میرے سامنے ان کی چھیانوے کی ایک تقریر چل رہی ہے وہ کہیہ رہے ہیں ایاک نعبد و ایا ک نستعین اور امریکہ کو بھی للکار رہے ہیں یونانیوں کا حسین دیوتا عمران خان اپنی اور اپنی خون سے سینچی ہوئی پارٹی کی بقا کی جنگ کے آ خری مرحلے میں ہے، ان کی انداز تقریر نے اب جو رخ اختیار کرلیا ہے۔

اس مقام پر پہنچنے کے بعد کوئی لیڈر صرف اسی صورت میں خاموش ہوتا ہے جب اسے ہمیشہ کے لئے بولنے سے محرو م کردیا جایء اس وقت گھمسان کی جنگ جاری ہے ، متعد د ہلاک اور سات سو کے قریب زخمی ہو چکے ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بدترین شیلنگ سے مضروب کارکنوں سے وہ کیہ رہا ہے کہ اٹھارہ سال کی جدوجہد ایک طرف اور دھرنے کے اٹھارہ دن آپکی جرات ایک طرف ، میرے پاکستانیو دنیا کی کوئی قوت آپ کو شکست نہیں دے سکتی۔ وہ ہارے یا جیتے اب اس سے کوئی فرق پڑتا ،کیونکہ دیوتا مر بھی جائیں تو مر کر بھی چاہنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ! نوٹ: رائٹر کا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ، بائیو گرافی کے انداز میں لکھی گئی یہ محض ایک ہلکی پھلکی تاثراتی تحریر ہے، جو تنقید کیلئے حاضر ہے۔

Wasim Raza
Wasim Raza

تحریر: وسیم رضا

Share this:
Tags:
eyes Hussain imran khan pakistan peoples personality the world آنکھوں پاکستانیوں پوری چمک دنیا شخصیت عمران خان
Tahir ul Qadri
Previous Post ملک کو شریف برادران کی بادشاہت سے واگزار کرانا ہم سب پر واجب ہوگیا، طاہر القادری
Next Post حکومت اور مظاہرین کی ہٹ دھرمی سے جمہوریت کو نقصان ہوگا
Liaquat Baloch

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close