Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

حیدر آباد میں اردو ذرائع ترسیل و ابلاغ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں

March 8, 2017 0 1 min read
Dr Aslam Faroqui
Dr Aslam Faroqui
Dr Aslam Faroqui

حیدرآباد: ابلاغیات اپنی بات دوسروں تک پہچانے کا عمل ہے اور موجودہ زمانے میں اس کئے لئے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا انٹرنیٹ اور سوشیل میڈیا کو استعمال کا جا رہا ہے۔ ابلاغیات کا اہم ذریعہ صحافت بھی ہے۔ صحافت ملک کا چوتھا ستون ملک کی عوام کی ذہن ساز ہوتی ہے۔ ایک ایسے دور میں جب کہ صحافت پر الزام ہے کہ وہ کاروباری ہوتی جارہی ہے اور اپنے اصل مقصد خبروں کی ترسیل کی راہ سے بھٹکتی جارہی ہے حیدرآبادی اردو صحافت کو ہم اس لحاظ سے عالمی سطح کی معیاری اور مقبول صحافت قرار دے سکتے ہیں کہ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں یہاں سے عالمی سطح کے مقبول عام اردو اخبارات نکلتے ہیں۔ ان اخباروں میں سیاست کو میر کارواں کی حیثیت حاصل ہے۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد صحافت کے افق پر یہ ستارہ نمودار ہوا تھا محبوب حسین جگر’ عابد علی خان اور اب زاہد علی خان اور عامر علی خان کے زیر نگرانی نکلنے والے اس اخبار کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے دور کے مسائل کو نہ صرف اجاگر کرتا ہے بلکہ ان مسائل کا حل بھی پیش کرتا ہے روزنامہ سیاست میں نئے دور میں ہر اتوار اپنا کالم لکھنے والے نئی نسل کے صحافی اور مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے وابستہ فعال استاد مصطفی علی سروری اسوسیٹ پروفیسر ہیں۔ سروری صاحب حیدرآباد کی نئی نسل کہ وہ صحافی ہیں جنہیں زمانہ طالب علمی سے ہی اردو صحافت سے دلچسپی رہی ۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے بی سی جے ایم سی جے کی تعلیم حاصل کی۔ نامور استاد صحافت رحیم خان صاحب کے شاگرد رہے۔سیاست اخبار نے انہیں اظہار خیال کا موقع فراہم کیا۔ اور ہر اتوار سماجی سیاسی اور حالات حاضرہ کے موضوعات پر بے لاگ تبصروں کے ساتھ شائع ہونے والے ان کے مضامین اردو اخبار کے قارئین میں بے حد مقبول ہیں۔ گزشتہ کئی سال سے انہوں نے عید میلاد النبی ۖ کے موقع پر خون کا عطیہ کیمپ کا کامیابی سے انعقاد عمل میںلایا۔ وہ حیدرآباد کے ٹی ٹی وی خانگی چینل پر مختلف ماہرین سے کیریر گائڈنس لیکچرز اور براہ راست سوال و جواب کے پروگرام منعقد کرتے ہیں۔ انہوں نے پروفیسرافضل الدین اقبال مرحوم عثمانیہ یونیورسٹی کے زیر نگرانی ایم فل اردو کے لئے تحقیقی مقالہ ” حیدرآباد میں اردو ذرائع ترسیل و ابلاغ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں” کے عنوان سے تحریر کیا۔ جو بعد میںترمیم و اضافہ کے ساتھ نوبل انفوٹیک حیدرآباد کے زیر اہتمام کتابی صورت میں شائع ہوا۔سروری صاحب کے مضامین کی طرح اردو حلقوں اور خاص طور سے اردو صحافتی حلقوں میں اس کتاب کی بے حد پذیرائی ہوئی اورحیدرآباد کی اردو صحافت کی تاریخ پر یہ کتاب اہمیت اختیار کر گئی۔ زیر تبصرہ کتاب میں مختلف ابواب جیسے ترسیل و ابلاغ۔ترسیل و ابلاغ کے ذرائع اور ان کی ترقی۔ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں حیدرآباد میں اردو صحافت۔ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں حیدرآباد میںریڈیو کی ترقی۔ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں حیدرآباد میںٹیلی ویژن کی ترقی۔ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں حیدرآباد میںذرائع ابلاغ کی ترقی اجمالی جائزہ۔ کے تحت معلومات اور خیالات پیش کئے گئے ہیں۔

اکیسویں صدی بلا شبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے غلبے والی صدی ہے۔ اس دور میں ساری دنیا اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ کس طرح لوگوں کی توجہ اپنی جانب کرائی جائے۔ اپنے کاروبار کی تشہیر ہو ۔ لوگوں کی ذہن سازی سے انتخابات جیتے جائیں اور اپنا فائدہ ہو۔ پہلے خبریں ہوتی تھیں اب لوگ خبر تیار کر رہے ہیں اور اسے اپنے انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ یہ سب سلسلہ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں تیز ہوا اور دنیا میں کیبل نشریات کے ذریعے ابلاغیات کی دنیا میں انقلاب برپا کیا گیا۔خیال کے کامیاب اظہار کی ترسیل قرار دیتے ہوئے صاحب کتاب مصطفی علی سروری لکھتے ہیں کہ” اگر انسانوں کے درمیان ترسیل کے عمل پر پابندی عائد کردی جائے اور انہیں ترسیل کے ذرائع اختیار کرنے سے روک دیا جائے تو معاشرے کا نظام ٹھپ ہوجائے”۔اس کی اہمیت کے پیش نظر انہوں نے لکھا کہ اقوام متحدہ نے ترسیل کو قانونی حیثیت عطا کی ہے اور خود اظہار خیال کی آزادی والے ملک ہندوستان میں فریڈم آف انفارمیشن بل1997ء کے ذریعے ترسیل کو قانونی درجہ دیا گیا ہے۔ترسیل اور ابلاغیات کے تعارف کے باب میں انہوں نے تکینیکی طور پر ابلاغیات کی سائنس کو پیش کیا جس میں مرسل مرسل الیہ واسطہ باہمی ترسیل گروہی ترسیل اور عوامی ترسیل کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔اس کی بعد ابلاغیات کی ترقی اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیاکے وسائل کا تعارف بیان کیا گیا ہے۔ذرائع ابلاغ اور نظریات کی ترویج کے ضمن میں فاضل مصنف نے لکھا کہ ہندوستان جیسے تکثیری سماج میں قومی یکجہتی اہم پہلو ہے اور اس کی برقراری کے لئے میڈیا کے رول کی ہر زمانے میں ضرورت محسوس کی گئی ہے۔

زیر تبصرہ کتاب کے دوسرے باب میں ابلاغیات کے تین ذرائع صحافت پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی ترقی کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ مصنف نے وہ تمام حالات پیش کئے جب کہ ہندوستان میں بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی میں دوردرشن سے ٹیلی ویژن نشریات شروع ہوئیں اور 1990ء کی دہائی میں سٹلائٹ چینلوں خاص طور سے اسٹار زی سونی وغیرہ کے غلبے کے ہندوستانیوں پر اثرات کو اجاگر کیا گیا۔ٹیلی ویژن کی تجارتی اہمیت کے بارے میں مصطفی علی سروری لکھتے ہیں” ہندوستان ایک اہم تجارتی منڈی ہے جہاں اشیاء کی فروخت کے لئے کمپنیاں اہم فلمی ستاروں ‘نامور کھلاڑیوں اور خوبصورت ماڈلس کو اشتہارات کے لئے کروڑوں روپئے لیتے ہیں وہیں با صلاحیت نوجوان اشتہارات کے خوبصورت دلچسپ فقرے لکھ کر سرمایہ کما سکتے ہیں۔ اس طرح ٹیلی ویژن کی صنعت فراہمی روزگار کا اہم ذریعہ ہے”۔کتاب کے اصل تین ابواب میں پہلا باب حیدرآباد میں بیسویں صدی کی آخری دہائی میں صحافت کی ترقی سے متعلق ہے جس کی ابتدا حیدرآباد میں رسالہ طبابت حیدرآبادکی اشاعت سے ہوا۔ اس کے بعد آزادی سے قبل جاری ہونے والے مشہور اردو اخبار رہنمائے دکن’ اور آزادی کے بعد جاری ہونے والے اردو اخبارات سیاست منصف اور ہمارا عوام کی خدمات کی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے اردو اخبارا ت کس طرح کتابت کے دور سے کمپیوٹر کتابت کے دور اور سیاہ و سفید سے رنگین اشاعت میں داخل ہوئے اس کی تفصیلات بھی اس باب کا حصہ ہیں اردو اخبارت میں شائع ہونے والے مختلف معلوماتی سپلمنٹ اور مختلف ایام میں شائع ہونے والے مختلف خصوصی کالموں اور خبروں اداریوں کے علاوہ دیگر اہم معلومات سے متعلق تفصیلات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اردو اخبار جب انٹرنیٹ پر دیکھے جانے لگے تو ان کے قارئین کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اس ضمن میں مصطفی علی سروری جی ڈی ٹنڈن کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ” عالمی سطح پر انٹرنیٹ کے ذریعے اردو اخبارات کی پہنچ دیگر زبانوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔” اردو صحافت کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ سرکیولیشن کی کمی ‘کاغذ کی مہنگائی اور اشتہارات کے حصول میں دشواری سے اردو صحافت کی ترقی سست رہی ہے اور صحافیوں کو کم یافت دینے سے بھی معیاری صحافی اردو صحافت سے وابستہ نہیں ہو پائے۔باب کے آخر میں اردو صحافت میں شخصی کردار کشی کو انہوں نے نقصان دہ قرار دیا۔ کتاب کا اگلا باب میں حیدرآباد میں ریڈیو کی ترقی سے متعلق ہے۔ بیسویں صدی میں حیدرآباد میں دکن ریڈیو کی مقبولیت رہی اور آزادی کے بعد آل انڈیا ریڈیو سے اردو پروگرام نیرنگ کے مقبولیت کا ذکر کیا گیا۔

ایک زمانہ تھا جب حیدرآباد کے ہر گھر سے نیرنگ پروگراموں کی آواز آتی تھی۔ نیرنگ سے وابستہ فنکاروں میں اظہر افسر’قمر جمالی’اسلم فرشوری’جعفر علی خان’شبینہ فرشوری’معراج الدین’اکبر علی خان اور ریڈیو پر پابندی سے خط بھیجنے والے سامع ماسٹر نسیم الدین نسیم کا ذکر نیرنگ کی پرانی یادوں کو تازہ کرتا ہے۔ نیرنگ میں چھوٹی چھوٹی باتیں ‘ ڈھولک کے گیت اور ہر اتوار کی شب پیش ہونے ولا ریڈیائی ڈرامہ اور حرف تابندہ مقبول پروگرام تھے۔نیرنگ کے علاوہ حیدرآباد ریڈیو سے صبح اور شام میں یواوانی پروگرام اور شا م میں اردو خبریں بھی نشر ہوتی تھیں جن کی تفصیلات اس باب میں پیش کی گئی ہیں۔اردو پروگراموں کے علاوہ دیگر زبانوں کے پروگراموں کی تفصیلات بھی اس باب کا حصہ ہیں ۔کتاب کے تیسرے اور آخری باب میں حیدرآباد میں بیسویں صدی کی آخری دہائی میں ابلاغیات کے اہم ذریعہ ٹیلی ویژن کی ترقی کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ اردو پروگرام انجمن’مختلف مواقع پر پیش ہونے والے خصوصی پروگرام اور اردو خبروں کی نشریات کا ذکر کیا گیا ہے۔

فاضل مصنف نے لکھا کہ حیدرآباد دوردرشن کو ترقی دینے میں امتیاز علی تاج نے اہم رول ادا کیا اور نئی منزلیں اوراردو میگزین جیسے پروگراموں کے آغاز کی تفصیلات پیش کیں۔کتاب کے آخر میں مصنف کتاب مصطفی علی سروری نے ابلاغیات کے اہم ستون صحافت ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نئے زمانے کے اثرات کا جائزہ لیا۔ اردو اخبارات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی صحافت کے بجائے ترجمے کی صحافت کا رجحان اردو صحافت کے لئے اچھا نہیں ہے اور اردو اخبارات میں بے تحاشہ انگریزی الفاظ کے استعمال سے اردو زبان کا نقصان ہوگا۔ انہوں نے ریڈیو کے شاندار ماضی کے احیا اور ٹیلی ویژن پر نظریات سازی سے زیادہ حقائق کی پیشکشی اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں صحت مند ذرائع ابلاغ پر زور دیا۔

مجموعی طور پر مصطفی علی سروری کی اردو کتاب ” حیدرآباد میں اردو ذرائع ترسیل و ابلاغ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں”اردو صحافت پر لکھی جانے والی کتابوں میں اہم اضافہ ہے اور ابلاغیات کی سائنس کو سمجھنے اور حیدرآباد میں ابلاغیات کے ارتقا سے واقفیت کے لئے اہمیت رکھتی ہے ۔ پیشہ صحافت سے وابستہ ہر صحافی کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ ایک ایسے دور میں جب کہ کتابوں کی خریداری ایک اہم مسئلہ ہے میں مصنف کو مشورہ دینا چاہوں گا کہ وہ اس کتاب کا مواد انٹرنیٹ پر آن لائن مفت کردیں۔ ویسے یہ کتاب خریدنے کے لئے امیزان انڈیا اور امریکہ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے اور مصنف سے حیدرآباد میں رابطہ کرتے ہوئے حاصل کی جا سکتی ہے۔ای میلsarwari829@yahoo,com

نام کتاب : حیدر آباد میں اردو ذرائع ترسیل و ابلاغ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں
نام مصنف : مصطفی علی سروری
نام مبصر : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

Share this:
Tags:
communication Hyderabad ترسیل حیدر آباد
Census
Previous Post مردم شماری میں دھاندلی مستقبل کی جمہوریت کو کمزور بنائے گی۔ ایم آر پی‎
Next Post پیرمحل کی خبریں 8/3/2017
Pirmahal

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close