
ایتھنز (جیوڈیسک) یونان میں آئی ایم ایف سے قر ضے کے حصو ل کے لئے اصلاحات کا قانون منظور کر لیا گیا۔یونان کی پارلیمان نے سرکاری شعبے میں اصلاحات کے لئے ایک نئے قانون کی منظوری دی ہے جس سے ملک میں ہزاروں افراد کی ملازمت ختم ہو جائے گی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطا بق اصلاحات کے قانون کی منظوری سے یونان کو بیل آئوٹ پروگرام کے تحت 6 ارب 80 کروڑ ڈالر کا قرض ملے گا۔
قانون کے حق میں 140 ووٹ جبکہ اس کی مخالفت میں 153 ووٹ پڑے۔ ایوان میں قانون پر بحث کے دوران ہزاروں افراد نے پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر احتجاج کیا جبکہ وزیراعظم اینٹونئیس سمارس نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لئے ان کے پاس اخراجات میں کمی سے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ نئے قانون کے تحت تقریبا چار ہزار سے زائد ملازمتیں ختم ہوں گی۔
جبکہ سال کے اختتام تک مزید پچیس ہزار ملازمین کو موبیلٹی پول میں ڈال دیا گیا۔ یونان میں اکثریت کا کہنا ہے کہ ان پچیس ہزار افراد کی ملازمتیں بھی ختم ہو جائیں گی۔ یورپی یونین، پورپی سنٹرل بینک اور بین الااقوامی مالیاتی فنڈ کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے 2014 تک یونان کو گیارہ ہزار ملازمتیں ختم کرنا ہوں گی۔ اس سے قبل کفایت شعاری کے اقدامات کے نتیجے میں تنخواہوں میں کمی کی گئی تھی۔
ادھر بی بی سی کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات کے باوجود بھی یونان کا قرض ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یونان کو قرض چکانے کے لیے مزید قرض لینا ہو گا۔ یونان میں بے روزگاری کی شرح 27 فیصد ہے اور حکومت کے خلاف لوگوں میں پائے جانے والے غصے کے سبب گزشتہ چند برسوں میں چار حکومتیں تبدیل ہوئی ہیں۔ مئی 2010 سے یونان کی معیشت کا انحصار یورپی یونین اور آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضوں پر ہے۔ یونان میں مالیاتی بحران کی بڑی وجہ ٹیکس چوری ہے۔
