
دبئی (جیوڈیسک) آلودہ ہاتھوں کو کرپشن کے سمندر کی ’’صفائی‘‘ پر مامور کرنے کا پلان سامنے آ گیا۔ آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کی غیرجانبداری بھی داؤ پر لگ گئی، بگ تھری نے اسے تختہ مشق بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ کسی بھی معاملے کی رپورٹ اب چیف ایگزیکٹیو کے بجائے براہ راست آئی سی سی چیئرمین کو پیش کی جائے گی، یہ عہدہ بھارت کے سری نواسن سنبھالنے والے ہیں جو خود فکسنگ الزامات کی زد میں اپنے بورڈ سے معطل ہیں، اے سی ایس یوکا حجم بھی کم کیا جائے گا، جائزے کیلیے بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کے نمائندوں سمیت چیف ایگزیکٹیوڈیوڈ رچرڈسن پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی گئی، آفیشلز کے مطابق صورتحال اب کافی بدل چکی اس لیے اینٹی کرپشن یونٹ میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔
تفصیلات کے مطابق کرکٹ کے خودمختار محافظ اینٹی کرپشن و سیکیورٹی یونٹ کے طریقہ کار کا بگ تھری یعنی آسٹریلیا، انگلینڈ اور بھارت کی جانب سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جس میں سب سے اہم تبدیلی یہ ہوگی کہ اب اے سی ایس یو کسی بھی معاملے پر رپورٹ چیف ایگزیکٹیو کے بجائے چیئرمین کو پیش کرے گا، اس بارے میں یہ دلیل دی جارہی ہے کہ جس وقت یونٹ کا قیام عمل میں آیا تب سے اب تک صورتحال کافی بدل چکی ہے، درحقیقت نئی تبدیلیوں سے یونٹ مکمل طور پر بگ تھری کے تابع ہوجائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس یونٹ کی جانب سے اہم اور حساس ترین رپورٹس براہ راست چیئرمین کو دی جائیں گی جو ممکنہ طور پر سری نواسن ہوں گے۔
انھیں خود آئی پی ایل فکسنگ کیس میں بھارتی سپریم کورٹ بی سی سی آئی کی صدارت سے معطل کر چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق اپریل میں دبئی میں ہونے والی آئی سی سی میٹنگز کے دوران اے سی ایس یو کا جائزہ لینے کے لیے کمیشن قائم کیا گیا تھا، اس میں بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے نمائندوں سمیت آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن بھی شامل ہیں، رپورٹ کی تیاری اور اس حوالے سے ڈیڈ لائن کے بارے میں ابھی تک کوئی بات طے نہیں ہوئی۔ آئی سی سی اور آئی ڈی آئی کے اجلاس کے موقع پر اس تجویز کا جائزہ لیا گیا تھا، اس میں سینٹرل اے سی ایس یو کے حجم میں بھی کمی اور اسے دیگر ممالک کے ڈومیسٹک اینٹی کرپشن یونٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے دینے کی تجاویز سامنے آ گئی، اس حوالے سے کئی ممالک کی مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
