Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

افتخار چوہدری نے مسند انصاف کی حرمت برقرار رکھنے کیلئے ہر صعوبت اٹھانے کا عزم

December 11, 2013 0 1 min read

دنیا میں کسی کو بھی دوام نہیں اور نہ ہی کوئی چیز ابدی وجود کی حامل ہے لیکن انسان کا کردار ‘ عزم ‘ حوصلہ ‘ افعال اور جدوجہد اسے تاریخ کے ابواب میں سنہری حروف میں سجادے تو پھر اس انسان کو رہتی دنیا تک یاد کئے جانے کا یقین اَمر ہونے کے احساس کی لذت سے آشنائی عطا کرتا ہے مگر یہ آشنائی جسموں پر حکومت کے ذریعے کبھی حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کیلئے تخت و تاج ٹھکرانے اور پڑتے ہیں اور فقیری اپناکر حق کیلئے میدان کارزار میں اترنا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج حکومت و تخت اور فوج طاقت کا مالک یزید ملعون مطعون ہے اور فقر کی راہ پر حق کی جدو جہد میں سر کٹادینے والا حسین رہتی دنیا تک اَمر قابل احترام و تقلید او ر باعث حوصلہ و استقامت ہے۔

جسموں اور دلوں پر حکمرانی میں یہی فرق ہوتا ہے کہ جسم پر حکمرانی طاقت کے سہارے ہوتی ہے جو مشرف نے کرنی چاہی اور دلوں پر حکمرانی رب کی عطا ہے رب جسے چاہتا ہے اس حکمرانی کا حوصلہ عطا کرتا ہے اور پھر اس حوصلے کے سہارے راہ کی تکالیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرکے کسی عظیم مقصد کی جانب بڑھنے والا جب منزل پر پہنچتا ہے تو حقیقتاً دیدہ ¿ و دل اس کیلئے فرش راہ ہوتے ہیں اور انصاف و عدلیہ کے ساتھ آئین و حقوق عوام کے تحفظ کیلئے افتخار محمد چوہدری نے پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدامات و خواہشات کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرکے اس حوصلے کا ثبوت دیا جو رب نے انہیں بخشا اور مشرف کی ریاستی قوت کے سامنے سینہ سپر ہوکراپنے اس عظیم مقصد سے خلوص کے ثبوت نے انہیں وہ کامیابی و اعزاز عطا کیا کہ وہ پاکستان میں آزاد و غیر جانبدار عدلیہ کے بانی کہلائے اور انصاف و قانون سے لیکر ہر شعبہ زندگی کے عوام و خواص میں مقبویت و پذیرائی کے حامل ٹہرے۔ مگر افتخار چوہدری نے یہیںسفر کو محدود کرکے مسند انصاف کو اپنا مطلب ومقصود ثابت کرنے کی بجائے انصاف کی حقیقی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے جوطویل‘ صبر آزم اور اعصاب شکن جنگ لڑی اس نے ثابت کیا کہ ان کے وہ تمام ناقدین غلط تھے جو انہیں عہدے کا طالب جانتے اور مانتے تھے افتخار چوہدری نے حکومتی کرپشن ‘ عوامی مفادات کے خلاف فیصلوں اور ازخود نوٹسز کے ذریعے ثابت کردیا کہ وہ پاکستان میں عدل و انصاف کی روایت کے قیام کے متمنی ہیں اور یقینا جو ورثہ وہ عوام کے ساتھ مل کر آزاد کرائی جانے والی عدلیہ کے سپرد کرکے جارہے ہیںعدلیہ کی رہبری ورہنمائی کرتے ہوئے اسے اصطراب و لغزش سے محفوظ رکھے گا اور نئے چیف جسٹس تصدق جیلانی سمیت ان کی رہبری میںکام کرنے والی پوری کی پوری عدلیہ تحفظ آئین و قانون کے ساتھ عوامی حقوق کے تحفظ اور فراہمی انصاف کی افتخار محمد چوہدری کی تربیت کا حق ادا کرتے ہوئے اس روایت کو آگے بڑھائے گی اور پاکستان میں انشاءاللہ وہ عدل و انصاف کا وہ معاشرہ قائم ہوجائے گا جس کاتمنا وتحفظ میں افتخار محمد چوہدری نے آمر وقت کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا اور عوا م نے افتخار محمد چوہدری کا بھرپور ساتھ دیا لیکن وقت تنگ پڑگیا اور افتخار محمد چوہدری کی مدت ملازمت کااختتام ہوا مگر ہمیں یقین ہے کہ افتخار محمد چوہدری چونکہ کسی شخصیت نہیں بلکہ ایک عزم کا نام ہے اور یہ عزم موجود رہے گا اور عدلیہ افتخار محمد چوہدری کے بعد بھی ان کی دکھائی گئی سمت انہی کی جلائی گئی شمع کی روشنی میں اپنا سفر جاری رکھے گی ۔

مسند انصاف کی حرمت برقرار رکھنے کیلئے ہر صعوبت اٹھانے کا عزم وحوصلہ لیکر آمر و حاکم وقت کے سامنے بیعت یزیدی سے انکار کے حسینی کردار کی تقلید کے ذریعے قانون کو بالادستی اور عوام کو سر بلندی عطا کرنے والے پاکستان کے اٹھارھویں منصف اعلیٰ ( چیف جسٹس ) پاکستان افتخار محمد چوہدری 12 دسمبر 1948ءکو بلوچستان میں پیداہوئے ۔بزدلی اور رشوت خوری سے نفرت کرنے والے فاضل فنیات او ر فاضل قانون افتخار محمد چوہدری 1976ءمیں لاہور عدالت عالیہ کے وکیل اور 1985ءمیں عدالت عظمٰی کے وکیل بنے۔ 1989ءمیں انہیں بلوچستان کیلیے وکیل جامِع متعین کیا گیا جہاں سے بعد میں ترقی کر کے چیف جسٹس بلوچستان بن گئے۔ اس عہدے پر 6 نومبر، 1990ءسے 21 اپریل، 1999ءتک متعین رہے۔ اپنی خدمات اور تجربے کی بنیاد پر 4 فروری، 2000ءکو انہیں عدالت عظمٰی میں ترقی دے دی گئی۔ 30 جون، 2005ءکو جنرل پرویز مشرف نے منصف اعظم پاکستان نامزد کیااور رخصت ہونے والے منصف اعظم ناظم حسین صدیقی کے بعد چیف جسٹس کا حلف اٹھاکر افتخار چوہدری پاکستان کے اٹھارھویں چیف جسٹس بن گئے اور بلوچستا ن سے تعلق رکھنے والے پہلے چیف جسٹس کا اعزاز بھی ان کے حصے میںآیا اور انہوں نے 2013ءتک منصف اعلیٰ کی حیثیت سے انصاف کی فراہمی و آئین کے تحفظ کی ذمہ داری سنبھال لی مگر عدالت عالیہ سے مشرف کے آمرانہ اقدامات کے توثیق نہ کئے جانے پر خفا پرویز مشرف نے 9 مارچ، 2007ء، جمعہ کے دن، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو صدر جنرل پرویز مشرف نے اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت معطل کر کے ان خلاف کے سپریم کورٹ میں ریفرنس داخل کر دیااور اعلان کیا کہ ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کا ٹرائیل خفیہ ہوگا مگر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ مقدمہ کھلی عدالت میں چلایا جائے تاکہ عوام کو حقیقت کا پتہ چل سکے۔
جمعہ 20 جولائی کو 41 دن کی سماعت کے بعد منصف خلیل الرّحمن رمدے نے شام چار بجے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے جناب افتخار چودھری کو اپنے عہدے پر بحال کر دیا، اور یہ بحالی 9 مارچ 2007ء سے سمجھی جائے گی (جس دن انھیں “معطل” کیا گیا تھا)۔ متفقہ فیصلہ میں عدالت نے صدر کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔ ریفرنس کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ 10 کے مقابلے میں 3 کی اکثریت سے دیا گیا۔

3 نومبر 2007ءکو پرویز مشرف ایمرجنسی نافذ کردی اور آئین کی معطلی کردیا گیا مگر افتخار چودھری کی سربراہی میں سات رکنی عدالتی بنچ نے ہنگامی حالت کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے معطل کر دیا اور فوج اور انتظامیہ کو حکم دیا کہ آمر کے غیر قانونی حکم کی تعمیل نہ کی جائے مگر ججوںکو ظر بند کردیا گیا مگر افتخار چوہدری نے حکومتی اقدامات کو غیرآئینی قراردیتے ہوئے وکلاءسے قانون کی بالادستی کیلئے جدوجہد کی اپیل کی اور پھر پاکستان میں وکلا¿ کی شروع کردیا تحریک ‘ میڈیا کے بھرے ہوئے رنگوں اور عوام کی شمولیت سے انقلاب کی بنیاد بن گئی اور

2008ءکے انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے 24 مارچ 2008 کو عدلیہ کے زیر حراست ججوں کی رہائی کا اعلان کیا لیکن انہوں نے افتخار محمد چوہدری کو اپنے عہدے پر بحال نہیں کیاجس کی وجہ سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور زرداری نواز اتحاد اپنے اختتام کو پہنچا ۔

عدلیہ کی عدم بحالی پر وکلاءتنظیموں نے 12 تا 16 مارچ 2009 کو عدلیہ کی بحالی کے لئے وفاقی دار الحکومت اسلام آباد تک “لانگ مارچ” کرنے کا اعلان کیا جس کی سربراہی وکلاءرہنماءاور نواز شریف کر رہے تھے۔ حکومت پاکستان نے ججوں کی بحالی سے انکار کرتے ہوئے چار میں سے تین صوبوں میں دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا جس کے تحت “لانگ مارچ” کے لئے جمع ہونا ممنوع قرار پایا۔ اسی طرح مختلف شہراوں کو بند کر دیا گیا تاکہ وکلاءوفاقی دار الحکومت تک نہ پہنچ پائیں۔ نیز بعض وکیل رہنماء، سیاسی تنظیموں کے کچھ کارکن اور سول سوسائٹی کے بعض افراد کو زیر حراست لے لیا گیا۔ ان کوششوں کے باوجود لانگ مارچ کے شرکائ تمام رکاوٹوں کو عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے اور16 مارچ کی صبح و رزیر اعظم پاکستان نے اعلان کیا کہ افتخار محمد چودھری 21 مارچ سے منصف اعظم کے عہدے پر بجال ہو جائیں گے۔ ان کے ساتھ دوسرے منصفین بھی بحال ہوں گے جس کے ساتھ ہی لانگ مارچ ختم کر دیا گیااور21 مارچ 2009ءکو نصف شب افتخار چودھری تیسری مرتبہ منصف اعظم کی کرسی پر برجمان ہوئے۔

مسند انصاف پر ایکبار پھر جلوہ افروز ہونے کے بعد چیف جسٹس افتخار چوہدری نے آئین و عوامی حقوق کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کی عوامی توقعات پر پورا اترنے کیلئے عزم صمیم کے ساتھ جرا¿تمندانہ کردار کی ادائیگی شروع کردی مگر ان کے بیٹے ارسلان افتخار کے کردار و حرکات کے حوالے سے سامنے آنے والے شواہد ‘ تعمیراتی گروپس سے ارسلان کے تعلقات و معاہدات اور تعمیراتی گروپ کے سیٹھ امجد سے اپنی بیٹی کی منگنی نے افتخار چوہدری کی ساکھ کو نقصان پہنچایا کیونکہ سیٹھ امجد کے مالی بے قاعدگی کے مقدمات میں منصف کا کردار چیف جسٹس افتخار چوہدری کے پاس تھا ۔اسکے علاوہ پاکستان کے عام انتخابات 2013ءمیں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات سے انکار اور کئی ضروری مقدمات کو التوا¿ کے ذریعے فیصلوں سے محروم رکھنے کا الزام بھی چیف جسٹس افتخار چوہدری پر لگایا جاتا ہے ۔
الزامات اور شکوک و شبہات سے قطع نظر آئین و عوامی حقوق کے تحفظ اور فراہمی انصاف کے حوالے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی خدمات کا ہمیشہ ہر سطح پر اعتراف کیا جاتا رہا ہے اور عوام کی جانب سے ازحد احترام و اعتماد کے علاوہ امریکا سے جاری ہونے والے دی نیشنل لاءجرنل نے چیف جسٹس کو لائیر آف دا ایئر دوہزار سات کے ایوارڈ سے نوازا۔10 مئی 2008ءکو قانون کی حکمرانی قائم کرنے پر دی نوا ساو¿تھ ایسٹرن یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف لاءکی اعزازی ڈگری دی۔ 17 نومبردوہزار آٹھ کو دی ایسوسی ایشن آف دی بار آف سٹی آف نیویارک نے انہیں عدلیہ اور وکلاءکی آزادی کا نشان قرار دیتے ہوئے ایسوسی ایشن کی اعزازی ممبر شپ سے نوازا۔ 19 نومبر2008ءکو انہیں عدلیہ کی آزادی میں ثابت قدم رہنے پر ہارورڈ لاءاسکول نے میڈل آف فریڈم دیا۔ افتخار محمد چوہدری پہلے پاکستانی اور تیسرے انسان ہیں جنہیں میڈل آف فریڈم سے نوازا گیا۔ افتخار محمد چوہدری سے پہلے یہ ایوارڈ نیلسن مینڈیلا اور چارلس ایملٹن ہاسٹن کو دیا گیا ہے۔28 مئی2012ءکو افتخار محمد چوہدی کو برطانیہ کی سپریم کورٹ کے صدر لارڈ فلپس نے انٹرنیشنل جسٹس ایوارڈ2012ءپیش کیا۔ جسٹس افتخار کو انٹرنیشنل جسٹس ایوارڈ انٹرنیشنل جیورسٹ کونسل کی جانب سے پاکستان میں تمام تر مشکلات کے باوجود عدلیہ کی سربلندی قائم رکھنے پر پیش کیا گیا۔ بھارتی تنظیم پیٹا نے انہیں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مہلک پتنگ کے مانجھے پر پابندی لگانے پر ہیرو ٹو اینیمل ایوارڈ سے نوازا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مارچ 2009ءمیں بحالی کے بعد جب دوبارہ منصب سنبھالا تو بدعنوانی اوربنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر از خود نوٹس لے کر جتنے فیصلے سنائے، اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔ عدلیہ کی آزادی کے بعد سپریم کورٹ کے کردار میں واضح تبدیلی آئی۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے از خود نوٹس لے کر حکومتی اداروں میں کرپشن پر خوب چیک رکھا۔ صرف متنازع رینٹل پاور پراجیکٹس پر سو موٹو سے کئی ارب روپے قومی خزانے میں واپس آئے۔ چیف جسٹس پاکستان نے این آئی سی ایل اور ای او بی آئی کے لیے اراضی کی خریداری میں مالی بے ضابطگیوں، حج انتظامات میں بد انتظامی اور کرپشن کا بھی از خود نوٹس لیا۔ ان کے سو موٹو پر ہی سی ڈی اے نے عدالتی حکم پر اربوں روپے مالیت کی ہزاروں کنال قیمتی اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کرائی۔

چیف جسٹس پاکستان از خود نوٹس کے اختیار کا استعمال کر کے شہریوں کے بنیادی حقوق کے حقیقی محافظ کے طور پر سامنے آئے۔ لوگوں کا اعلیٰ عدلیہ پر اس حد تک اعتماد بحال ہوا کہ سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل کو روزانہ موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد ڈھائی سو تک پہنچ گئی۔

شاہ زیب کے قتل پر از خود نوٹس لے کر چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے طاقتور ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ نہتے سرفراز شاہ کے رینجر اہلکار کے ہاتھوں قتل پر بھی سو موٹو لیا گیا۔ حکومت کچھ نہ کر سکی تو بلوچستان میں بد امنی، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور لاپتہ افراد کے معاملے پر بھی چیف جسٹس نے از خود نوٹسز لئے اور اہم فیصلے سنائے۔ انتخابی عمل کے دوران پریذائیڈنگ افسر کو تھپڑ رسید کرنے پر وحیدہ شاہ کو چیف جسٹس کے سوموٹو پر ہی نااہلی کا سامنا کرنا پڑا۔ اداکارہ عتیقہ اوڈھو سے ایئرپورٹ پر شراب کی برآمدگی سے لے کر اپنے بیٹے ارسلان افتخار پر کرپشن کے الزامات تک کئی طاقت ور اور اہم شخصیات چیف جسٹس کے از خود نوٹسز کی زد میں آئیں۔پاکستان نے اپنی تاریخ میں پہلی بار آزاد عدلیہ کا مزہ چکھا۔آئینی و قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے عوامی حقوق کے تحفظ اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جس طرح دن رات کام کیا ، وہ آنے والے چیف جسٹس صاحبان کے لیے مشعل راہ ہو گا۔

افتخار چوہدری نے عدلیہ کو اپنے کردار اور فتح سے جو حوصلہ و استقامت اور اپنے ایکشن و فیصلوں کے ذریعے جو تربیت دی ہے وہ اس بات کی نشاندہی کررہی ہے کہ اب ہمارا سفر تادیر درست اور روشن سمت میں جاری رے گا اور اگر ہم مزید کسی طالع آزما کی مہم جوئی کا نشانہ نہ بنے تو جلد ترقی و استحکام کی اس منزل پر پہنچ جائیں گے جہاں پر امن و منصفانہ معاشرہ ترقی و خوشحالی کی نوید لئے ہمارا منتظر ہے لیکن اس امید کے ساتھ ایک خوف بھی ہے کیونکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ریٹائرمنٹ و رخصتی کے ساتھ ہی نہ صرف سپریم کورٹ سے بلوچستان کی نمائندگی کا خاتمہ ہوجائے گا بلکہ چیف جسٹس پاکستان کی ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال کے عرصے میں سات جج صاحبان ریٹائر ہوجائیں گے جبکہ تین جج صاحبان جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس ناصرالملک اور جسٹس جواد ایس خواجہ چیف جسٹس پاکستان کے عہدے پر فرائض انجام دینے کے بعد ریٹائر ہوں گے۔

جسٹس خلجی عارف حسین 12اپریل2014ءکو ، نئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی 5 جولائی2014ءکو اور جسٹس محمد اطہر سعید 28 ستمبر 2014ءکو ریٹائر ہوں گے۔
جسٹس ناصرالملک 16 اگست 2015ء، جسٹس جواد ایس خواجہ 9ستمبر2015ءکو ،جسٹس سرمد جلال عثمانی 14 اکتوبر2015ءکو اور جسٹس اعجاز احمد چوہدری 14 دسمبر 2015ءکوریٹائر ہوجائیں گے۔
جسٹس انور ظہیر جمالی 30دسمبر2016ءکوریٹائر ہوجائیں گے۔

جسٹس امیر ہانی مسلم31 مارچ2017ءکو ریٹائر ہوجائیں گے۔ جسٹس اعجاز افضل خان 7 مئی 2018ءکو ریٹائر ہونگے۔2019 جسٹس میاں ثاقب نثار 17 جنوری 2019ءکو، جسٹس شیخ عظمت سعید 27 اگست 2019ءکو ، جسٹس آصف سعید خان کھوسہ 20دسمبر2019ءکو ریٹائر ہوجائیں گے۔
اس طرح 7سال بعد سن 2020ءوہ سال ہوگا جس میں سپریم کورٹ کاکوئی جج ریٹائر نہیں ہوگا۔2021ءمیں جسٹس اقبال حمید الرحمان اور جسٹس مشیر عالم 17 اگست 2021ءکو ریٹائر ہوجائیں گے۔2022ءمیں جسٹس گلزار احمد یکم فروری 2022ءکو ریٹائر ہوجائیں گے۔

قومی و عالمی ایوارڈاور انصاف و آئین کے تحفظ کی خدمات کے اعتراف کے ساتھ جسٹس افتخار چوہدری پر قانون دانوں کے بین الاقوامی کمیشن (انٹرنیشنل کمیشن فار جیورسٹس)نے الزام لگایا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بطور چیف جسٹس آف پاکستان کے آٹھ سالہ دورمیں متعدد اہم فیصلے تو ضرور کئے گئے لیکن اس عرصے کے دوران آئین کے تحت سپریم کورٹ کو دئیے جانے والے اختیارات یعنی از خود نوٹس لینے کا بھی بہت زیادہ استعمال کیا گیا جس میں بعض معاملات میں شفافیت پر سوالات بھی ا±ٹھ رہے ہیں۔
اسی بارے میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد واقعات سے متعلق از خود نوٹس لینے سے متعلق بعض اوقات شفافیت کو مدنظر نہیں رکھا گیا اور بعض اوقات تو یہ از خود نوٹس مختلف اداروں کے درمیان اختلافات کا بھی باعث بن سکتے تھے۔آئی سی جے نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر از خود نوٹس سے متعلق سپریم کورٹ کو دیئے جانے والے اختیارات کا استعمال زیادہ کیا گیا تو اس کے کچھ نادانستہ نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں جن سے قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

ساڑھے آٹھ برس، پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کا سب سے بڑا جج رہنے کے بعد جسٹس افتخار محمد چوہدری رخصتی ہوچکے ہیں اب ان کے نام کے ساتھ بھی ”ر“ کا لاحقہ لگ جائے گا۔ یہ پاکستان کے آئین و قانون کا تقاضا ہے۔ بے شک انتظار کرنا ہوگا کہ تاریخ کی عدالت عظمیٰ ان کے بارے میں کیا حتمی فیصلہ صادر کرتی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں میں ان کا نام حسین یاد کی طرح مہکتا رہے گا۔ کون بھلا پائے گا کہ انہوں نے وقت کے طاقتور ترین ڈکٹیٹر کے سامنے حرف انکار کی جرا¿ت کی ۔ اس حرف انکار کے افق سے ایک شفق پھوٹی۔ ایک ایسی پرعزم تحریک نے جنم لیا جس میں معاشرے کے سبھی طبقات نے اپنا حصہ ڈالاعدلیہ بحالی کی تحریک ، جمہوریت بحالی کی تحریک بن گئی اور بالآخر مطلع تاریخ سے وہ دن طلوع ہوا، جب نہ خود پرست ڈکٹیٹر رہا، نہ اس کی لے پالک عدلیہ باقی بچی ۔
جسٹس افتخار محمد چوہدری نے عدلیہ کو ایک نیا رنگ و آہنگ دیا۔ ان کی بحالی کے بعد عہد نو کا آغاز ہوا اہل جبر اور زورآور طبقات ان کی فعالیت کا خصوصی ہدف بننے۔ ہمیشہ قانون کی گرفت سے دور رہنے والے وہ چہرے بھی عدالتی کٹہروں میں دکھائی دینے لگے جنہوں نے صدیوں سے ”استثنیٰ“ کی بکل ماری ہوئی تھی۔ چیف جسٹس کا یہ جری کردار، بالعموم عدالتی مزاح کا حصہ بنتا گیا۔ یہ تاثر زائل ہوگیا کہ ہماری عدلیہ ہمیشہ انتظامیہ کے ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی رہی ہے۔ کون تصور کرسکتا تھا کہ کوئی وزیراعظم بھی توہین عدالت کا مرتکب ہو کر گھر جاسکتا ہے۔ جسٹس چوہدری نے انتظامیہ کو نکیل ڈالنے کے باوجود جمہوری نظام کے تسلسل کو یقینی بنایا۔ ہمیشہ کے لئے طے کردیا کہ آئندہ کسی غیرآئینی بندوبست کے تحت ، پی سی او کا حلف اٹھانے والا جج، اپنے منصب پر براجمان نہیں رہے گا۔ بستیوں کو امن آشنا کرنے، لاپتہ افراد کی بازیابی ، انتظامیہ کی خودسری کا پھن کچلنے اور عدلیہ کے رعب و دبدبہ میں اضافہ کرنے کے لئے جسٹس افتخار محمد چوہدری کے کردار کو کبھی بھلایا نہیں جاسکے گا۔ ان کی بے مثل جدوجہد عالمی اعزازات کی مستحق بھی ٹھہری اور اہل وطن کی بے کراں محبتوں کی حق دار بھی۔جسٹس افتخار محمد چوہدری، ایک فرد کے بجائے ایک علامت اور ایک استعارہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے بہرحال قومی تاریخ پر ایک گہرا نقش چھوڑا ہے۔

Share this:
Tags:
continued direction iftikhar chaudhry light lights seen travel افتخار چوہدری جاری جلائی دکھائی روشنی سفر سمت
azam azim azam
Previous Post بن مانس کو اِنسان قرار دینے کی درخواست
Next Post نئی سائنس فکشن ایڈونچر فلم” جیوپٹر ایسینڈنگ” کا پہلا ٹریلر جاری
Jupiter Ascending

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close