Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اب سو سال بعد

December 14, 2013December 14, 2013 0 1 min read
Ghulam Murtaza Bajwa
Iftikhar Mohammad Chaudhry
Iftikhar Mohammad Chaudhry

گیارہ، بارہ، تیرہ وہ تاریخ ہے جو،اب سو سال بعد ہی آئے گی، چیف جسٹس آف پاکستان بھی اسی تاریخ ساز تاریخ کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری 11دسمبر 2013ء کو اپنے منصب سے ریٹائر ہو ئے۔ یہ عدد بنتے ہیں گیارہ، بارہ، تیرہ، آئندہ اس تاریخ کا مشاہدہ ایک صدی یعنی سو سال بعد 11 دسمبر 2113ء کو ہی کیا جائے گا۔ علم الاعداد میں دلچسپی رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ گیارہ، بارہ اور تیرہ کے اعداد کی مجموعی جمع 9 ہے جو صفر تا 9 ہندسوں کا آخری ہندسہ ہے جو ایک دور کے خاتمے کی نشاندہی کرتا ہے۔

دیکھا جائے تو افتخار محمد چوہدری پاکستان کے اٹھارویں چیف جسٹس تھے اگر اٹھارہ کے ہندسوں ایک اور 8 کو جمع کیا جائے تو یہ 9 ہی بنتا ہے، یہ سو سال پہلے گیارہ دسمبر 1913ء وہی دن تھا جب لیونارڈو ڈاونچی کے مصوری کا شاہکار مونا لیزا پورٹریٹ پیرس کے میوزیم سے چوری ہونے کے دو سال بعد ملاتھا۔ اسی تاریخ 11 دسمبر کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری، بھارت کے صد ر پرناب مکھر جی اور معروف اداکار دلیپ کمار اپنی سالگرہ منایا۔

بہت سے لوگوں کو ان سے بے شمار گلے شکوے ہیں تاہم جب وہ اپنے آخری مقدمہ کی سماعت کرنے کے بعد اپنے گھر گے ہونگے تو انہیں یہ اطمینان ضرور نصیب ہو گا کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی کا معاملہ ایجنڈے پر لائے ہیں۔یہ کہنا ابھی پیش از وقت ہے کہ آئندہ چیف جسٹس کی سرکردگی میں سامنے آنے والی عدالت عظمیٰ کیسی ہو گی۔ وہ کس حد تک ان اصولوں اور معیاروں کو پیش نظر رکھے گی جو افتخار محمد چوہدری نے بطور جج قائم کئے ہیں۔ ایوان ہائے حکومت اور متعدد سیاسی حلقوں میں بجا طور پر یہ امید کی جا رہی ہو گی کہ اب سپریم کورٹ اپنا جوڈیشل فعالیت کا رول کم کرے گی اور معاملات کو حسب سابق روایتی انداز میں طے کیا جائے گا۔ تاہم جانے والے چیف جسٹس نے جو روایت قائم کی ہے اسے مسترد کرنا آسان نہیں ہو گا۔

افتخار محمد چوہدری نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کئی کامیابیوں کا ذکر کیا ہے جو ان کی قیادت میں سپریم کورٹ نے حاصل کی ہیں۔ انہوں نے عام آدمی کے حق زندگی، بدعوانی کے تحت اٹھائے جانے والے فوائد، سرکاری معاملات میں حکومتوں کی ناکامی اور قانون کی بالادستی کے اصول کا بطور خاص ذکر کیا ہے۔ انہوں نے اپنی طویل تقریر میں یہ بات بھی زور دے کر کہی ہے کہ عدالت نے جس گرمجوشی اور دیانت داری سے مختلف اہم معاملات پر فیصلے کئے ہیں ان پر عملدرآمد میں حکومتی اداروں نے کسی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

اس حوالے سے گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران زیر سماعت رہنے والے لاپتہ افراد کے مقدمہ کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ بار بار مہلت دینے کے باوجود حکومت نے 35 میں سے صرف 7 افراد عدالت کے سامنے پیش کئے۔ کوئی سرکاری ادارہ یہ ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ یہ لوگ کس کی حراست میں ہیں اور کہاں رکھے گئے ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے کل اپنے فیصلہ میں وزیراعظم کو ذاتی طور پر اس اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اب ایک فعال، مستعد، چوکس اور محنت کش چیف جسٹس کے جانے کے بعد کیا وزیراعظم کو اس ذمہ داری کو پورا کرنے پر مجبور کیا جا سکے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا درست جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا تاہم یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ حکومت اپنی ڈگر بدلنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ اس لئے اگر سپریم کورٹ نے نئی قیادت کے تحت زچ آ کر اپنا رویہ تبدیل کر لیا تو اس پر کسی کو حیرت نہیں ہو گی۔

ممتاز قانون دان اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر نے ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس کو سیاسی جج قرار دیا ہے اور توقع کی ہے کہ آئندہ جو جج آئیں گے وہ آئینی اور قانونی ہوں گے۔ بحالء عدلیہ تحریک کے پرجوش مقرر علی احمد کرد کا مؤقف ہے کہ چیف جسٹس کو غریب عوام نے بحال کروایا تھا لیکن عہدہ واپس لینے کے بعد انہوں نے مڑ کر عوام کی طرف نہیں دیکھا۔ پرویز مشرف کے وکیل اور سیاست دان احمد رضا قصوری کا کہنا ہے کہ افتخار چوہدری نے عدالتی تاریخ میں یہ روایت قائم کی ہے کہ ججوں کی زبان بولتی ہے۔ اس سے پہلے ہم یہ سنتے تھے کہ ججوں کے فیصلے بولتے ہیں۔

ان انتہائی جارحانہ الزامات اور آراء سے قطع نظر کوئی شخص اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتا کہ افتخار محمد چوہدری کی بدولت ملک کے سیاسی جمود میں ایک تحریک پیدا ہوئی تھی۔ ایک مضبوط آمر ہر طرح سے اقتدار کو اپنے قابو میں کئے ہوئے تھا اور جسے بوجوہ اقوام عالم اور خاص طور سے مغربی ممالک کی مکمل سرپرستی اور اعانت حاصل تھی۔ ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی قوتیں یا تو اس آمریت کے ساتھ تھیں یا عوام سے دور تھیں۔ ان میں سے کوئی پارٹی بھی عوام کو متحرک کرنے، سڑکوں پر لانے اور جمہوریت بحال کروانے کے لئے جدوجہد کرنے پر آمادہ نہیں کر سکی تھی۔ تاہم افتخار چوہدری کی ایک نہ اور عزم مصمم نے اس آمریت کو چاروں شانے چت گرا دیا۔ انہوں نے عوام میں ایک نئی روح پھونک دی اور یہ باور کروایا کہ اگر ارادہ کر لیا جائے تو مضبوط ترین حکومت کا مقابلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

Pervez Musharraf
Pervez Musharraf

افتخار محمد چوہدری نے فل کورٹ میں بطور چیف جسٹس اپنے آخری خطاب میں بجا طور پر ملک کے وکلائ، دانشوروں ، ججوں اور میڈیا کو بحالء عدالت کی تحریک چلانے اور کامیاب کرنے پر مبارک باد دی۔ تاہم یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ اس تحریک کا آغاز اقتدار پر قابض جرنیلوں کے جھرمٹ کے سامنے نہ کہنے کی وجہ سے ہی ممکن ہؤا تھا۔ پرویز مشرف چیف جسٹس کے طور پر افتخار محمد چوہدری کی بے باکی اور جراتمندی سے ناراض تھے۔ خاص طور سے 2006ء میں اسٹیل مل کی نجکاری کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر انہیں زک اٹھانی پڑی تھی۔ وہ اقتدار کے نشے میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ایک جج جسے انہوں نے خود چیف جسٹس بنایا تھا اور ایک ایسی عدالت جو ہمیشہ فوجی فیصلوں کی تابع رہی تھی ، اب ان کی ایک خواہش سے بغاوت پر آمادہ ہو جائے گی۔ اس تحریک کا آغاز کرنے والے بلا شبہ افتخار چوہدری ہی تھے۔ تمام تر اختلافات کے باوجود ان سے کوئی یہ اعزاز نہیں چھین سکے گا۔

2007ء میں چلنے والی بحالء عدلیہ تحریک اور اس کے بعد سامنے آنے والے حالات سے یہ بھی واضح ہؤا ہے کہ یہ معاملہ محض آئین کی بالادستی یا ججوں کی ناجائز برطرفی کا نہیں تھا۔ ملک کے عوام بری حکمرانی، کساد بازاری ، بد عنوانی اور سیاسی محرومی سے تنگ آ چکے تھے۔ اسی لئے 2009ء کے بعد سامنے آنے والی عدلیہ سے بہت سے توقعات وابستہ کی گئی تھیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ عدلیہ ان امیدوں پر پوری نہیں اتری۔ تاہم اس موقع پر یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ ایک بگڑے ہوئے نظام میں جہاں اداروں کا وجود ختم ہو رہا ہے اور سیاست دان و بیورو کریسی یکساں طور پر اقربا پروری اور بدعنوانی کا شکار ہیں محض عدالتوں سے تبدیلء احوال کی امید کرنا بھی غیر ضروری طور سے بہت بڑی توقع وابستہ کرنے کے مترادف ہے۔سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس پر یہ الزام بھی عائد ہے کہ انہوں نے بھی 1999ء میں پرویز مشرف کے ”پی سی او ”پر حلف لے کر ایک آمر کی وفاداری کا اعلان کیا تھا اس لئے بعد میں مؤقف کی تبدیلی محض ذاتی جاہ پسندی کا شاخسانہ تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بحث ایک گنجلک معاملہ ہے جس پر تاریخ ہی اپنا کوئی فیصلہ صادر کرے گی۔ تاہم بات کو سمجھنے کے لئے یہ کہنے میں کوئی ہرج نہیں ہے کہ ظلم کے خلاف تحریک کسی ایک شخص کی ذاتی مجبوری یا محرومی کی بنیاد پر ہی شروع ہوتی ہے۔ اس لئے اگر افتخار چوہدری نے محض اپنے عہدے کو بچانے کے لئے استعفیٰ دینے سے انکار کیا تھا پھر بھی ان کے اس اقدام سے ملک میں ایک نئی سیاسی اور عدالتی تاریخ نے جنم لیا ہے۔ اس نئے عہد کی اہمیت کو کسی ایک فرد کے ماضی کے داغوں کی وجہ سے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

افتخار محمد چوہدری پر ان کے صاحبزادے ارسلان افتخار کے مالی معاملات کے حوالے سے بھی لے دے ہوتی رہی ہے۔ یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ ارسلان ایک معمولی ڈاکٹر سے کروڑ پتی بزنس مین کیسے بن گیا۔ اس حوالے سے کھرب پتی ملک ریاض کے الزامات اور ان کے نتیجے میں ہونے والی مقدمے بازی کا کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آ سکا ہے۔ سپریم کورٹ کے بنچ نے یہ معاملہ دو افراد کا باہمی معاملہ قرار دے کر خارج کر دیا ہے۔ ملک ریاض نے بھی اس معاملہ سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے بعد اس بارے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ اس معاملہ کے کئی افسوسناک پہلو ہیں اور ارسلان افتخار کا معاملہ چیف جسٹس کے کیریئر پر بہرطور ایک دھبے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

ان پہلووں سے قطع نظر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ایک ایسے جج کے طور پر یاد رکھا جانا چاہئے جنہوں نے مسلسل قانون کی حکمرانی کی بات کی اور اس حوالے سے متعدد اہم معاملات میں حکم صادر کئے۔ انہوں نے ریاست کے اہم ستونوں کو جھنجھوڑنے اور متحرک ہونے کے لئے رول ادا کیا۔ اور خاص طور سے سپریم کورٹ کو نئی قوت اور تحریک عطا کی۔ ان کے کردار، فیصلوں، رویوں اور طریقہ کار سے اختلاف کے باوجود اس اصول سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں آئین کی بالا دستی ہونی چاہئے اور تمام فرد اور ادارے اس کے تابع ہونے چاہئیں۔ اور نہ ہی اس تاریخی واقعہ سے انکار ممکن ہو گا کہ افتخار چوہدری کی ایک نہ نے ملک میں چھایا ہوا سیاسی جمود توڑ دیا تھا۔

 Ghulam Murtaza Bajwa
Ghulam Murtaza Bajwa

تحریر : غلام مرتضیٰ باجوہ

Share this:
Tags:
hearing Iftikhar Mohammad Chaudhry pakistan pervez musharraf Trial افتخار محمد چوہدری پاکستان پرویز مشرف سماعت مقدمہ
Qaim Ali Shah
Previous Post وزیراعلی سندھ کی زیر صدارت کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر اجلاس
Next Post صوابی اور خیبر ایجنسی میں پولیو مہم کے دوران موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد
Polio

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close