
تحریر : منظور احمد فریدی
اللہ جل شانہ کی بارہا حمد وثناء اور تاجدار انبیاء ختم الرسل جناب محمد مصطفی کریم ۖ کی ذات مقدسہ مطہرہ پر لاکھوں بار درود و سلام کے بعد آج کی جو چند سطور راقم نے اپنے قارئین کرام کی خدمت میں پیش کی ہیں وہ اپنی زندگی کا ذاتی مشاہدہ ہے۔
راقم الحروف شعبہ صحافت سے اس وقت سے وابستہ ہے جب صحافت کی قدر عزت تھی یا دوسرے الفاظ میں یہ کہ کاروباری طبقہ صحافت میں داخل نہیں ہوا تھا اسوقت کے صحافی کو آج کے صحافی کی نسبت محنت ذیادہ کرنا ہوتا تھی مگر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اللہ کریم نے اس طبقہ کو انکی محنت کا وہ ثمر دیا جو آج کے کاروباری صحافی طبقہ کے نصیب میں ہی نہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ جس شعبہ میں بھی جب نااہل افراد اکثریت میں آ جائیں اس شعبہ کا بیڑہ غرق ہی ہوتا ہے وہ صحافت ہو یا شعبہ ہائے زندگی سے کوئی اور شعبہ صحافت کے مقدس شعبہ میں بھونچال اس وقت آیا۔
جب مشرف صاحب نے آزادی صحافت کے نام پر ملک میں پرائیویٹ چینلز کی یلغار کر دی اور صحافت میں وہ سرمایہ دار طبقہ بھی شامل ہوگیا جو اسکی ابجد سے واقف نہ تھا ہر چیز جب ایک مناسب حدود وقیود میں چل رہی ہو تو انہیں آزاد کرنا بھی نقصان دہ ہی ثابت ہوتا ہے اور ایسی غلطی اتنی سنگین ہوتی ہے کہ اسکا خمیازہ کئی نسلوں تک بھگتنا پڑتا ہے اپنے اس دعویٰ کی دلیل میں مجاہد ملت مرد حق جناب جنرل ضیاالحق مرحوم کے دوایسے ہی اقدام بیان کرتا ہوں جو انہوں نے اپنی دانست میں بڑے اقدام کیے مگر ہم آج بھی اسکا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
ہماری نسلیں بھی بھگتیں گی دوایسے کام جو بظاہر ایک دوسرے کے بالکل مخالف ہیں ایک میں قید اور دوسرے میں آزادی ہے مگر ان دونوں کا نتیجہ ایک ہی نکلا کہ نتائج ابھی تک معاشرہ پر اثرانداز ہیں نمبر1 وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ایک پاکستان مخالف گروپ کے اکابرین جن میں سے محمود اچکزئی اور اسفند یار ولی جیسے لوگ اب بھی موجود ہیں کو بغاوت کے مقدمات قائم کرکے انہیں جیلوں میں ڈالا مگر ضیا الحق صاحب نے محض بھٹو مخالف لابی بنانے کے لیے انہیں جیلوں سے آزاد کروا کر انہیں باقاعدہ محب پاکستان ہونے کی سندیں بھی دیں بھٹو صاحب بھی گئے اور ضیا صاحب بھی مگر قوم انکی حب الوطنی ابھی تک بھگت رہی ہے محمود اچکزئی اور اسفند یار ولی وہ لوگ ہیں جن کو انکی فیملی غدار قرار دے چکی مگر ہمارے ارباب اقتدار صرف اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے ان لوگوں سے چپکے ہوئے ہیں۔
کیا ایک ماں کا بیان اپنے بیٹے کی گواہی کے لیے کافی نہیں ہوتا جب بیگم نسیم ولی خان یہ علی الاعلان کہہ چکی ہیں کہ اسفند یار ملک کا بھی غدار ہے اور پٹھان فیملی کا بھی تو اب وہ میاں برادران کے حق میں بیانات دیکر ملک سے وفاداری کا ثبوت دے رہا ہے؟مر د مجاہد نے دوسرا کام پابندی لگانے کا کیا منشیات کے ٹھیکے پر پابندی اور قحبہ پر پابندی ان دونوں کاموں کو بند کرنے کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے قحبہ خانوں سے نکالی جانے حوا زادیوں نے شہر کا رخ کیا اور آج کوئی گلی محلہ ان سے پاک نہیں گلی گلی میں کھلے قحبے اور منشیات کے اڈے اسی پابندی کا خمیازہ ہے جو قوم نے پتہ نہیں کتنی نسلوں تک بھگتنا ہے خیر بات ہو رہی تھی کہ جب ایک کام ایک حد میں چل رہا ہو اسے قید میں لانا بھی خطرناک اور آزاد کرنا بھی اس سے خطرناک ثابت ہوتا ہے اور ایک حاکم کی غلطی کا خمیازہ پوری قوم بلکہ نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
اسی طرح جناب پرویز مشرف نے آزادی صحافت کا جو تحفہ قوم کو دیا اس سے بین الاقوامی سطح پر جو امیج پاکستان کا بنا وہ سب کے سامنے ہے اور آج اہل قلم جس عذاب سے دوچار ہیں اس کا ادراک صرف انہیں کو ہی ہے خیر بات کا آغاز تھا ان پڑھ ارکان اسمبلی اور گریجو ایٹ اسمبلی کے وزراء کے فرق کا یہ ان دنوں کی بات ہے جب حالیہ اسمبلی کے وزیر اور سپیکر پنجاب اسمبلی کے بزرگ رانا پھول وزیر مملکت تھے رانا صاحب وزارت سنبھال کر جب گائوں آئے تو میں ادارہ کی طرف سے انکا باقاعدہ انٹرویو لینے گیا انٹرویو کے علاوہ ایک واقعہ ایسا دیکھا جس سے آپ آج کی گریجو ایٹ اسمبلی اور اس ان پڑھ وزیر مملکت کی فراست کا فرق واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں رانا صاحب مرحوم کا علاقہ انڈسٹریل سا علاقہ ہے آج تو پھولنگر سے ہی لاہور کا آغاز ہوجاتا ہے اس وقت ایک گھی ملز کا مالک رانا پھول کے ڈیرہ پر موجود تھا جو رانا صاحب کی بار بار منت سماجت کررہا تھا کہ بازار میں پام آئل مہنگا ہو گیا ہے آپ گھی کا ریٹ ایک روپیہ فی کلو بڑھا دیں جس پر رانا صاحب انہیں سخت کڑوی کسیلی سنا رہے تھے۔
بالآخر رانا صاحب نے ہمیں شامل کرکے بات کی کہ دیکھو اسکی گھی مل ہے اور گھی کا ریٹ سولہ روپے فی کلو ہے ہمارے دیہات کی ذیادہ آبادی مزدور طبقہ ہے جو شام کو ہانڈی کے لیے آدھ پائو چھٹانک گھی لیتی ہے سولہ روپے کلو ہو تو ایک روپیہ کی چھٹانک تو آجاتی ہے اور اگر میں اسکی مان لوں تو ذلیل میری رعایا ہوگی اور پھر واقعی اس مل مالک کو مایوس جانا پڑا۔
آج کی اسمبلی میں شامل ہمارے وزراء اور ممبران نے بی اے کی ڈگری کے بجائے ماسٹر بھی کیا ہو گا مگر عوامی مسائل اور انکا حل شائد وہ ابھی انتا ہی جانتے ہیں جیسے کوئی اپنا نام لکھنا سیکھ لے عوام بھوک سے نڈھال ہے حکومت میٹرو بس چلا رہی ہے اور اسمبلی ہی جب صنعتکاروں کا ڈیرہ ہو تو پھر اپنا اپنا سودا بیچنے کی دوکان بنانے کی ضرورت نہیں لوہا بجری سیمنٹ پتھر وغیرہ سب انہی منصوبوں میں بکے گا اور اس منصوبہ پر کام کرنے والا مزدور راشن بھی خریدیگا پوری قوم کو روزگار مل گیا اور صنعتکار کو غلام قوم جسے جانے کب تک اس غلامی کی چکی میں پسنا ہے اور تب تک شائد ہماری اگلی دو نسلیں بھی انہیں منصوبوں پر مزدوری کرتے کھپ جائیں۔ والسلام
تحریر : منظور احمد فریدی
