Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

فحاشی کے فروغ میں میڈیا کی حصہ داری

August 11, 2014August 11, 2014 0 1 min read
News Channels
Drugs
Drugs

ملک عزیز میں جس طرح منشیات کا کاروبار حکومت کی سر پرستی میں جاری ہے ٹھیک اسی طرح فحاشی و عریانیت بھی عروج پر ہے۔ اس کے باوجود نہ اہل اقتدار اور نہ ہی سرکردہ حضرات اس ناسور کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔

رہے وہ بے یارومددگار افراد و گروہ جو اس کے خلاف آواز اٹھاتے بھی ہیں تو ایک طرف میڈیا ان کی زبانوں پر تالے لگادیتی ہے وہیں”مہذب افراد و گروہ”بھی ان کی کبھی کھلے تو کبھی ڈھکے چھپے انداز سے مخالفت ہی کرتے نظر آتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میڈیا جو عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتی ہے۔

رائے عامہ ہموار کرنے اور کرانے میں اپنا موثر کردار ادا کرتی ہے، سرمایہ داروں کے غلط رویوں پر لگام کستی ہے، ملک اور معاشرہ کو صحیح بنیادوں پر استحکام بخشتی ہے،وہی میڈیاتعاون کی شکلیںاختیار کرتے ہوئے فحاشی و عریانیت کے خلاف آواز اٹھانے والے کمیاب افراد کو سہارادیتی تو یہ آواز نہ صرف دیگر لوگوں کو بھی متوجہ کرتی بلکہ ان غیر اخلاقی وغیر قانونی کاموں میں ملوث رہنے والوں پر بھی شکنجہ کستی جو اس سیلاب کے پھیلائو کاذریعہ بنتے ہیں۔

برخلاف اس کے حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف میڈیا سماج میں پھیلتے اس ناسور کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی مطلوبہ حد تک مدد نہیں کرتی وہیں دوسری طرف اس غیر اخلاقی عمل کے فروغ میں وہ بھی خود شریک ہے ۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ فحاشی و عریانیت کے بڑھتے سیلاب پر روک لگائی جا سکے گی؟ساتھ ہی قابل توجہ اور عبرتناک پہلو یہ بھی ہے کہ آج اس غیر اخلاقی،غیر سماجی اور غیر انسانی عمل کو وہ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا تعاون فراہم کر رہا ہے جہاں نہ صرف قوم پرست ، سوشلسٹ،کمیونسٹ اورعام آدمی بلکہ ملک کے تقریباً تمام ہی افکار و نظریات کے حاملین وابستہ ہیں،نیز یہ میڈیا نہ صرف ملک کا رجسٹرد بلکہ لائسنس یافتہ بھی ہے۔ہماری مراد ملک کے انگلش اور ہندی زبانوں میں شائع ہونے والے روزناموں سے ہے ساتھ ہی وہ دیگر علاقائی زبانوں کے اخبارات ، جرائد،رسائل اور نیوز و انٹر ٹینمنٹ چینلس ہیں جواعمال فاحشہ کے فروغ میں سرکرداں ہیں اور جنہیں ملک عزیز ہند میں لائسنس یافتہ کی حیثیت سے قانونی بھی جواز حاصل ہے۔

Media
Media

فحاشی و عریانیت کے پھیلتے ناسور کے نتیجہ میں عموماً سماج کا ہر طبقہ اورخصوصاً سماجی اور اقتصادی لحاظ سے کمزور طبقہ بری طرح متاثر ہے۔ہر دن اعمال بدکے مظاہرہ سامنے آتے ہیں۔چھوٹی بچیوں،جوان بہنوں اور ملک و معاشرہ کی مائوں کے ساتھ گھنائونا فعل انجام دیا جاتا ہے۔نتیجتاً ان کی عزت و وقار مجروح ہوتا ہے،ذہنی جسمانی اور معاشرتی سطح پر انہیں مختلف طرح کی اذیتیوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے،یہاں تک متاثرین کو زندگی گزارنا دشوار ہو جاتا ہے،ان کی خوشیاں غارت اور ان کا مستقبل دائو پر لگ جاتا ہے۔اس پس منظر میں میڈیا جو کبھی مضامین، تبصرے، جائزے تو کبھی ٹی وی پر بحث و مباحثہ میں سرکاری و نیم سرکاری ذمہ داران سے ان کی ناکامی پر سوال اٹھاتا ہے،اگر وہ خود اس برائی کے فروغ میں حصہ دار ہو تو کیونکر اس بے باکانہ انداز میں سوال کرنے کا جواز حقدار ہے؟معاملہ یہیں میڈیا پر ہونے والی بحثوں تک نہیں رکتا بلکہ جہاں ایک حکومت دوسری حکومت کو(ریاستی حکومتیں تو کبھی مرکزی حکومت)کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے وہیں سرکردہ حضرات اور عوام بھی ایک دوسرے پر لعن طعن میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔اس پس منظر میں تصور فرمائیں کہ برائی کے خلاف فکری و نظریاتی اور عملی ذہن سازی کرنے والے (رائے عامہ ہموار کرنے والے )ادارے اگر خود ہی برائی کے فروغ کا ذریعہ بنیں تو پھر کون صحیح نہج پر معاشرہ اور عوام کی رہنمائی کر سکے گا؟۔

موجودہ دور میں “خدمت “کے کاموں نے کاروبار کی شکل اختیار کر لی ہے۔شایدیہی وجہ ہے کہ میڈیا جو کل تک خبر یعنی واقعہ کو غلط بیانی سے پاک کرتے ہوئے لوگوں کو حقیقت سے روشناس کرانے کی اہم ترین خدمت انجام دیتا تھا۔آج اسی خدمت نے جب کاروبار کی شکل اختیار کر لی تو پھر اس کے زوال کی انتہا بھی نہ رہی۔یہاں تک کہ آج برائیوں کے فروغ میں جن لوگوں کا سب سے بڑا حصہ کہا جا سکتا ہے ،یہ وہی ہیں جو”خدمت “کو پیشہ کے طور پر انجام دینے والے سرکردہ ،بااختیار،اور صحیح و غلط کے فیصلہ صادرکرنے والے میڈیا مالکان کہلاتے ہیں۔باالفاظ دیگر یہ وہ سرمایہ دار ہیں جنہیں ہر خدمت خوبصورت ناموں سے فروخت کرنا آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ انگلش زبان میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اخبار”دی ٹائمس آف انڈیا”جب برائیوں کو بھی خبر کی شکل میں شائع کرنے لگے تویہ برائیاںگھروں میں پہنچ کر،معصوم بچوں و بچیوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کی کسر نہیں چھوڑتا۔نوجوانوں کے جذبات کو مشتعل کرتا ہے۔ جس کے نتائج سماج میں پھیلنے والی غیر اخلاقی و غیر قانونی سرگرمیوں کی شکل میں جلد ہی ہمارے سامنے آتے ہیں۔اگر آپ صرف اس ایک اخبار کی ویب سائٹ کا جائزہ لیں تو محسوس کریں گے کہ وہ تمام تصاویر،اسٹوریز،ویڈیوزیہاں موجود ہیں،جو معاشرہ کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔اس کے علاوہ “دی ہندوستان ٹائمس” اور دیگر رجسٹرڈ انگلش اخبارات بھی کچھ کم نہیں۔ دوسری جانب ملک کی سرکاری زبان “ہندی”میں شائع ہونے والے اخبارات کے ذریعہ بے لگام ہوتی برائیاں جو پروان چڑھ رہی ہیں ان پر بھی کوئی پابندی عائد نہیں کرتا۔لہذا وہ بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں،یہاں تک کہ انگلش وریاستی زبانوںکے میڈیاسے بھی کچھ آگے ہی نظر آتے ہیں۔

فیشن،انٹرٹینمنٹ، فوٹوز، بالی ووڈ اور اسی طرز کے دیگر صفحات میں وہ جس بے توجہی کے ساتھ تصاویر اور اسٹوریز لوڈ کرتے ہیں ،اس سے محسوس ہی نہیں ہوتا کہ اِن اخبارات کی کوئی اخلاقی حدود بھی ہیںیا اخبارات کے مالکان نے اپنے اخبار کے لیے کوئی اخلاقی ضابطہ بھی طے کیا ہے۔ملک عزیز ہند میں زبان کی قید سے باہرجو اخبارات بھی شائع ہوتے ہیں،اس سے ایک قدم آگے جب وہ اپنی ویب سائٹس بناتے ہیںاور متعلقہ صفحات پرچیزیں محفوظ بھی کرتے جاتے ہیں،اس مرحلے میں ویب سائٹس کے یہ صفحات کسی قدر زیادہ ستم قاتل بنتے ہیں جو شائع شدہ اخبار کی شکل میں نہیں ہوتے۔اور اگر شائع ہونے اخبارات کے مقابلہ آن لائن زیادہ دیکھے اور پڑھے جاتے ہوں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان برائیوں کا دائرہ کس قدر وسیع ہو جا ئے گا۔

News Channels
News Channels

وہیں دوسری طرف ہمارے وہ نیوز چینلس جو دن رات خبریں دکھاتے ہیں وہ بھی خبروں کے درمیان فحش و عریاں اشتہارات دکھا کر لوگوں کو گمراہ کرنے سے پرہیز نہیں کرتے۔پھر شائع ہونے واخبات ہی کی طرح اگر ان نیوز چینلس کی ویب سائٹس کا جائزہ لیا جائے تو تو معلوم ہوگا کہ وہاں بھی مخصوص صفحات کسی پورنوگرافی ویب سائٹ سے کچھ کم نہیں۔جملہ معترضہ کے طور پر ہم بتاتے چلیں کہ جن اخبارات،رسائل اور نیوز چینلس کے فحاشی و عریانیت کو فروغ دینے والے صفحات کایہاں تذکرہ کیاگیا، مضمون میں ان صفحات کوویب ایڈریس کے ساتھ بطور حوالہ دینے کا ارادہ بھی رکھتے تھے،،لیکن ایک تو یہ محسوس ہوا کہ جن باتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ان سے عموماً لوگ واقف ہیں ،دوسرے یہ کہ وہ مزید برائی کو فروغ دینے کا ذریعہ بن سکتے ہیں،بس اسی خیال سے حوالہ دینے سے پرہیز کیا گیا ہے۔

ملک عزیز ہند سے یہ وہ چند جاری ہونے والے اخبارات، رسائل، ویب پورٹل، نیوز چینلس اور ان کی ویب سائٹس ہیں جو حکومت کی اجازت سے اور باقاعدہ رجسٹرڈ ہونے کی بنا پر تحریر کا ذریعہ بنی ہیں۔برخلاف اس کے ایک جانب انٹرنیٹ کے ذریعہ دنیا کا ہر اخبار،رسالہ اور نیوز چینل یا کم از کم اس کی ویب سائٹس پر موجود مواد تک ہر شخص پہنچنے میں کامیاب ہے تووہیں غیر قانونی میڈیاکے ذریعہ انجام دی جانے والی سرگرمیاں جو لامحدود ہیں ،کا تذکرہ کیا جانا ہی عبث ہے۔لہذا تاریخ کے جس دور سے ہم دوچار ہیں ،اس میں گزشتہ تہذیبوں کا جائزہ لیا جائے یا قرآنی تعلیمات کی روشنی میں گزشتہ اقوام کی بداخلاقیوں وبد اعمالیوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔دونوں ہی صورتوں میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہر دورکے بد اخلاق و بد کردار کارنامہ نہ صرف آج موجود ہیں بلکہ تیز رفتاری کے ساتھ جاری و ساری بھی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ غلاظت سے کراہیت اختیار کی جائے۔نا یہ کہ غلاظت کے ڈھیر پر زندگی بسر کرتے ہوئے خوشبو و بدبو اورگندگی و صفائی میں تمیز کرنا ہی بھول جائیں۔اس تعلق سے تبدیلی کے خواہاں،برائیوں سے بچنے اور زندگی کے ہر شعبہ میں اصلاح پسندوں کے لیے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث کافی ہے جس میں برائی کے قریب بھی نہ جانے کی بات کہی گئی ہے اورجس کا اطلاق آج میڈیا پر بھی ہونا چاہیے۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ دور حاضر میں انجام دی جانے والی بہت سی سرگرمیوں پر اصلاح پسندوں کا یعنی ان لوگوں کا جو برائی کو برائی سمجھتے ہیں،کاکنٹرول نہیں ہے۔اس کے باوجود اپنی ذات پر لازماً ہمارا کنٹرول رہنا چاہیے۔ساتھ ہی اگر ہمیں یہ احساس بھی ہوجائے کہ ایک برائی نہ صرف ہماری ذات کو متاثر کرتی ہے بلکہ گھر،گلی ،محلہ اورسماج بھی اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔تو یہ احساس کافی ہے ان حوصلہ مند اور جرات مندانہ اقدام کرنے والوں کے لیے جو نہ صرف اپنی ذات کے تعلق سے ہر وقت متوجہ رہتے ہیںبلکہ موجودہ قوانین کی مدد سے ان نام نہاد مہذب افراد اور گروہ کے اقدامات پربھی لگام کس سکتے ہیں جو نہ صرف غیر اخلاقی حرکتوں کے نتیجہ میں لگاتار اپنی ذات پر ظلم کرنے میں مصروف ہیں بلکہ سماج کو بھی غلط رخ دینے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

یا د رکھیں سماج میں پھیلنے والا ناسور مذہب کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ بلا مذہب نو ع انسانی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔لہذا فحاشی و عریانیت اور دیگر برائیوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو مذہب اور دیگر سماجی و طبقاتی کشمکش اور اس کی جکڑبندیوں سے اوپر اٹھ کر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا چاہیے۔تب ہی ممکن ہے کہ ہمارے وہ ننے بچے جو نہ صرف ہمارا بلکہ اس ملک کا بھی مستقبل ہیں برائی کو برائی سمجھ سکیںگے۔لیکن اگریہ تذکرے آگے نہ بڑھے توعین ممکن ہے کہ یہ تمیز بھی جاتی رہے کہ برائی کیا ہے اور بھلائی کیا؟اور ایک وقت وہ بھی آئے کہ ہم اپنے ہی گھر وں میں خود اپنی ہی آنکھوں سے اہل خانہ کو ان تمام اعمال فاحشہ میں ملوث پائیں جن سے بچنے کی ہم آج گفتگو کررہے ہیں۔ذلت و رسوائی کی اُس حالت میں نہ ہم زندہ ہی رہ سکیں گے اور نہ مرتے ہی بنے گا۔

Mohammad Asif Iqbal
Mohammad Asif Iqbal

تحریر : محمد آصف اقبال، نئی دہلی
maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com

Share this:
Tags:
business drugs government Media Mohammad Asif Iqbal promotion حکومت فحاشی فروغ کاروبار منشیات میڈیا
Chaudhry Pervez Ashraf,Chaudhry Qasim Majeed,Lord Mayor Majid Khan,Addressed
Previous Post بھمبر کی خبریں 11/08/2014
Next Post حامد میر کی ایک سال پرانی پشین گوی نے عمران کو ننگا کر دیا

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close