Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مذاکرات کی اہمیت

February 27, 2013February 27, 2013 0 1 min read
Tariq Hussain Butt
Opposition
Opposition

جمہوری دور میں مذاکرات کی اہمیت سے کوئی بھی ذی شعور انسان انکار نہیں کر سکتا کیونکہ مذاکرات جمہوریت کا حسن بھی ہیں اور جمہوری روایات کو بچانے اور زندہ رکھنے کا ایک شاندار راستہ بھی۔جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے ایک عام سی بات ہے۔اپوزیشن اور حکومت میں اختلافِ رائے ہی دونوں کے وجود کی ضمانت ہوتا ہے۔

اگر اپوزیشن حکومتی موقف کی حامی ہوجائے یا ذاتی مفادات کی خاطر اس سے سمجھوتہ کر کے فرینڈ لی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے لگ جائے تو پھر اس کا وجود،وقار اور احترام خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔حکومت اور اپوزیشن کا یکجا ہو جانا عوام کی بد قسمتی تصور کی جاتی ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن ہمیشہ حکومت کے اقدامات کو چیلنج کرتی رہتی ہے اور اس کے عزائم کو بے نقاب کر کے عوام کو حقائق سے آگاہ کرتی رہتی ہے۔ بعض اوقات کچھ اچھے کام بھی اپوزیشن کی تنقید کا نشانہ بن جاتے ہیں کیونکہ اس کے پیچھے حکومتی بدنیتی کار فرما ہو تی ہے۔

حکومت کی ایسی ہی بد نیتی کو بے نقاب کرنا اپوزیشن کا فر ضِ اولین ہوتا ہے اور اسے یہ فرض ہر حال میں ادا کرنا ہو تا ہے۔جمہوری روایات کو جاری و ساری رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ حکومتی اقدامات، فیصلوں اور ترجیحات کو تلوار کی دھار پر رکھا جائے تاکہ حکومت عوام دشمن فیصلے کرنے سے اجتناب کرتی رہے۔دنیا کے سارے جمہوریت نواز حلقے اس طر یقہ کار پر متفق ہیں اور اپنے اپنے ممالک میں اس کا اظہار کرتے ہیں۔اب اگر کوئی لمحہ ایسا آجائے کہ حکومت اور اپوزیشن میں کسی مسئلے پر کوئی ڈیڈ لاک یا تنازعہ کھڑا ہو جائے تو مذاکرات سے ہی اس مسئلے کے حل کی راہ نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اگر اس وقت حکومت اور اپو زیشن اپنے اپنے موقف پر سختی سے ڈٹ جائیں تو پھر کوئی تیسری قوت میدان میں کود پڑتی ہے اور یوں جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے۔

مذاکرات میں دونوں فریق اپنا اپنا موقف رکھتے ہیں اور جس کا موقف زیادہ مضبوط ،مدلل اور با وزن ہوتا ہے اسے مان کر ہنگامہ آرائی سے اجتناب کیا جاتا ہے۔عالمی سیاست میں مذا کرات کی اہمیت سے ہر شخص بخوبی آگاہ ہے لہذا میں اس پر اظہارِ خیال نہیں کروں گا۔میں پاکستان میں پیش آنے والے چند اہم واقعات کی روشنی میں مذاکرات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی جسارت کروں گا کیونکہ سیاستدانوں کے پاس مذاکرات کی قوت ہی ان کا سب سے مضبوط ہتھیار ہو تی ہے۔

Zulfqar Ali Bhutto
Zulfqar Ali Bhutto

اگرہم 1977 کی پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کا جائزہ لیں تو اس میں شک وشبہ کی مطلق کوئی گنجائش نہیں ہے کہ عوام کی ایک اغلب اکثریت اس تحریک میں شامل تھی۔اس تحریک کو فوج اور امریکہ کی اشیر واد حاصل تھی اس پر کوئی دو رائے نہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام نے اس تحریک میں بھر پور حصہ لیا تھا۔انتخابی دھاندلی ایک بہانہ تھا جس کی آڑ میں ذولفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے کا منصوبنایا گیا تھا۔ذولفقار علی بھٹو نے 1977کے انتخابات بڑی واضح برتری کے ساتھ جیتے تھے لیکن اپوزیشن نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ مقصدذولفقار علی بھٹو کو اقتدار سے الگ کرنا تھا اور اس کا ایک ہی طریقہ تھا کہ ان انتخابات کو متنازع بنا دیا جاتا۔

پاکستان قومی اتحاد نے دھاندلی کے نام پر تحریک کا آغا ز کردیا جو دن بدن متشدد ہو تی چلی گئی۔اپوزیشن راہنمائوں نے ذولفقار علی بھٹو کوہالہ کے پل پر پھا نسی دینے کا اعلان کر دیا۔آج کا نوجوان اس وقت کے شدت انگیز جذبوں کو سمجھنے سے قاصر ہے کیونکہ ان جذبات کو بیان کرنے سے بھی اس تحریک کی شدت کو سمجھایا نہیں جا سکتا۔قومی اتحاد کسی بھی صورت میں ذولفقار علی بھٹو کی جان بخشی کرنے کیلئے تیار نہیں تھا۔اپوزیشن نے بھٹو مخالف جذبات کو اس حد تک بھڑکایا تھا کہ وہ تحریک گھرائو جلائو کی تحریک میں بدل گئی۔

ذولفقار علی بھٹو کی ذات پر ایسے رکیک حملے کئے گئے جو کسی بھی لحاظ سے سیاسی دائرے میں نہیں آتے تھے۔ایک جنگ تھی جو دو طبقوں کے درمیان تھی اور اس میں ایک طبقے کی ہار یقینی تھی ۔ذولفقار علی بھٹو اب بھی پا کستان کے مقبول ترین راہنما تھے لیکن یہ کریڈٹ اپوزیشن کو دیا جانا ضروری ہے کہ اس نے اتنے طلسماتی اور سحر انگیز راہنما کے خلاف عوام کو بر انگیختہ کر دیا۔دونوں جماعتیں ایسی انتہائوں پر کھڑی تھیں جہاں پر ان کے درمیان مذاکرات اور بات چیت کے سارے امکانات معدوم ہو چکے تھے۔پاکستان قومی اتحاد کے جنرل سیکرٹری اور تحریک کے انتہائی موثر راہنما رفیق باجوہ نے اس پر تشدد ماحول میں امن کی ممکنہ راہ کی تلاش کی خاطر حکومت سے ربطہ کرنے کی کوشش کی تو اسے قومی اتحادسے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا اور اس کے بعد انھیں انتہائی رسوا کن طریقے سے سیاست سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بے دخل کر دیا گیا جو یہ ثابت کرنے کیلئے کافی تھا کہ اپوزیشن صرف حکومت کی برخاستگی چاہتی ہے۔

ذولفقار علی بھٹو اپوزیشن کے عزائم اور عالمی سازشوں سے بخوبی آگاہ تھے لہذا انھوں نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔ذولفقار علی بھٹو کے بہت سے قریبی دوست مذاکرات کا ڈول ڈالنے کے مخالف تھے کیونکہ سیاست پر ان کی نظر ذولفقار علی بھٹو جتنی گہری اور وسیع نہیں تھی۔پاکستا ن قومی اتحاد نے اپنی حکومت مخالف تحریک میں صرف ذولفقار علی بھٹو کی ذات کو نشانہ بنایا تھا کیونکہ انھیں علم تھا کہ پی پی پی صرف ذولفقار علی بھٹو کی ذات کا ہی نام ہے لہذا ذولفقار علی بھٹو کے اقتدار سے ہٹ جانے کے بعد پی پی پی دفا عی پوزیشن میں چلی جائیگی اور پھر ہماری جیت کو کوئی روک نہیں سکے گا۔ پاکستان قومی اتحاد میں بھی مذاکرات کے نام پر سخت اختلافات پائے جاتے تھے کیونکہ ایک گروہ کو جس کی قیادت ائر مارشل اصغر خان کر رہے تھے کو سخت خد شہ تھا کہ مذاکرات سے ذولفقار علی بھٹو زندہ بچ کر نکل جائیگا لہذا وہ مذاکرات کے بکھیڑوں میں نہیں پڑنا چاہتے تھے۔

Elections
Elections

وہ اسی تحریک کے زور سے اقتدار پر قابض ہونا چاہتے تھے کیونکہ اس سے بہتر موقع انھیں شائد دوبارہ نہ ملتا۔ یکن دوسرے گروہ نے ان کی رائے کو غیر اہم سمجھ کر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا کیونکہ جمہوری معاشروں کی پہچان مذاکرات ہی ہوا کرتے ہیں۔ ذولفقار علی بھٹو کو اس بات کا پختہ یقین تھا کہ پاکستان کے عوام ان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں لہذا انھیں انتخابات میں شکست دینا اپوزیشن کے بس میں نہیں ہو گا۔ذولفقار علی بھٹو نے اپوزیشن کے سارے مطالبات مان کر دوبارہ انتخابات کی راہ ہموار کر دی تھی یہ جانتے ہوئے بھی کہ انتخابی دھاندلی کے الزامات انھیں بدنام کرنے کے علاوہ کچھ نہیں حالانکہ سچ یہی ہے کہ اپوزیشن انتخات ہار چکی تھی لیکن اسے تسلیم کرنے سے عاری تھی۔انانیت کی ضد تھی جو اپوزیشن کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہو گئی تھی اور جسے پاٹنا اس کے لئے ممکن نہیں تھا۔چار جولائی 1977 کو پی پی پی اور اپوزیشن کے درمیان معاہدہ طے پا گیا لیکن اسی شب جنرل ضیالحق نے شب خون مار کر اقتدار پر قبضہ کر لیا کیونکہ عالمی طاقتیں یہ سمجھ چکی تھیں کہ مذاکرات کی میز پر انتخابات کے انعقاد کیلئے راضی ہونا اپوزیشن کی ہار ہے کیونکہ انتخابات میں ذولفقار علی بھٹو کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔ادھر جنرل ضیاا لحق نے اقتدار پر قبضہ کیا اور ادھر وہ ساری جماعتیں جو ذولفقار علی بھٹو سے مذاکرات کر رہی تھیں جنرل ضیا الحق کی مارشل لائی حکومت کا حصہ بن گئیں جو یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ اپوزیشن ،فوج اور عالمی طاقتیں ذولفقار علی بھٹو کو ہٹانے کے لئے متحد تھیں۔

ابھی تو کل کی بات ہے کہ پاکستان پر جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی۔اس نے اپنی طاقت اور رعب و دبدبے سے اپوزیشن کو کچل کر رکھ دیا ہوا تھا۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ جنرل پرویز مشرف کو علم تھا کے ان کی آمد سے اس کی بنائی گئی لنکا جل کر راکھ ہو جائیگی۔میاں محمد نواز شریف کی حد تک تو بات سمجھ میں آتی تھی کہ وہ ایک دس سالہ معاہدے کے تحت ملک سے جلا وطن ہوئے تھے لہذا ان کو ملک میں داخلے سے روکنا اس معاہدے کی رو سے ضروری تھا لیکن اس کا پی پی پی کی چیر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹورپر اطلاق نہیں ہوتا تھا۔یہ بات بالکل واضح اور صاف تھی کہ جنرل پرویز مشرف کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی آمد سے اپنا اقتدار ہوا میں تحلیل ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا لہذا انھیں بھی واپسی کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔2008 کے انتخابات سر پر تھے اور پی پی پی ان انتخابات میں بھر پور حصہ لینا چاہتی تھی جس کیلئے محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی اشد ضروری تھی لیکن جنرل پرویز مشرف محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کا خطرہ مول لینے کیلئے تیار نہیں تھا۔

یہی وہ مقام تھا جہاں جنرل پرویز مشرف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا۔ان مذاکرات کے دو دور ابوظبی میں ہوئے جن میں سارے امور طے پائے گئے۔اسی معاہدے کی رو سے جنرل پرویز مشرف نے این آر او جاری کیا اور یوں محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کو ممکن بنایا گیا۔ یہ وہی این آر او ہے جس پر سپریم کورٹ اور پی پی پی کی حکومت کے درمیان چار سال تک عدالتی جنگ جاری رہی اور جس کی وجہ سے سید یوسف رضا گیلانی کو وزارتِ عظمی سے ہاتھ دھونے پڑے۔اس معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ پیدا ہو گئی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو انتخابات سے قبل پاکستان آنا چاہتی تھیں جو جنرل پرویز مشرف کو قبول نہیں تھا۔اس کی خواہش تھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو انتخابات کے بعد پاکستان آئیں تا کہ جنرل پرویز مشرف کو انتخابات جیتنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو نے جنرل پرویز مشرف کی یہ بات ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے طے شدہ معاہدے کو پسِ پشت ڈال کر وطن واپسی کا فیصلہ کر لیا اور پھر وہ کچھ ہوا جو تاریخِ عالم کا سیاہ ترین باب بن گیا۔ایک نہتی لڑکی کو اقتدار کی خاطر سرِ عام قتل کر دیا گیا لیکن جس اقتدار کو بچانے کی خاطر یہ انتہائی قدم اٹھایا گیا تھا وہ اقتدار پھر بھی بچ نہ پایا۔

Tariq Hussain Butt
Tariq Hussain Butt

تحریر : طارق حسین بٹ(چیرمین پیپلز ادبی فورم یو اے ای )

 

Share this:
Tags:
democracy elections government opposition اپوزیشن جمہوریت حکومت
Sargodha army trucks
Previous Post سرگودھا : آرمی کی استعمال شدہ گولیوں کے خول سے بھرا ٹرک پکڑاگیا
Next Post جماعت اسلامی اور ن لیگ کے وفد کی الیکشن کمشنر سے ملاقات
Election Commissioner

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close