Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عمران خان کا خطاب اور پاکستانی عوام کی توقعات

July 29, 2018 0 1 min read
Imran Khan
Imran Khan
Imran Khan

تحریر : سلیم سرمد

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے26جولائی کی شام جس طرح مدبرانہ اور ذمہ دارانہ خطاب کیا، اس کی مثال گزشتہ تین دہائیوں میں تو نہیں ملتی۔ان کے اس خطاب کی مد میں نا صرف پاکستانی عوام بلکہ پوری دنیا نے پاکستان کے ایک حقیقی اور سنجیدہ لیڈرکا چہرہ دیکھا۔انھوں نے پاکستان اور پاکستانی عوام کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہارکرتے ہوئے عام آدمی کے مسائل کو ڈسکس کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کو درپیش دیگرچیلنجز دہشت گردی، کرپشن ، بیروزگاری اورمعاشی بحران جیسے بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے حوالے سے اپنا نقطۂ نظرواضح کیا۔ انھوں نے خصوصاًہمسایہ ممالک اور تیسری دنیا کے ساتھ خوشگوار اور پرامن تعلقات قائم کرنے کے عزائم کا بھی اظہار کیا اورپاکستانی عوام کو ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان دینے کا وعدہ کیا۔اور ایک خاص بات یہ بھی کہ انھوں نے عنانِ حکومت سنبھالنے کے بعد سادگی اختیارکرنے کی اخلاقی جرأت کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعظم آفس کو تعلیمی درسگاہ کالج یا یونیورسٹی میں تبدیل کرنے اور تمام گورنر ہاؤسز اور ریسٹ ہاؤسز کو عوامی استعمال میں لانے کا وعدہ کیا۔

عمران خان نے بطور لیڈر اپنے خطاب میں جس طرح کی ذمہ داریوں کا اظہار کیااس کے نا صرف پاکستانی عوام، پاکستانی معیشت، بلکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ اور امریکا جیسی سپر پاور ملک کی صحت پر بھی مثبت اور خوشگواراثرات پڑے۔ چین نے عمران خان کی قیادت میں دونوں ملکوں کی دوستی کو مضبوط اور مستحکم خیال کیا اور دورۂ چین کی دعوت دی۔ سعودی عرب کے سفیرنے ان سے باقاعدہ بنی گالہ میںجا کر ملاقات کی، امریکا نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے باہمی شراکت داری کے استحکام اور ہر طرح کی ڈپلومیٹک تعاون کی یقین دہانی کرائی اور خاص بات یہ ہے کہ بھارت کے دانشوروں اور سیاسی و قانونی مبصرین نے عمران خان کے اس پہلے ہی سیاسی قدم کو مثبت اور مہذب تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مذکرات بحال کرنے اور کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کا مشورہ دیا۔ان تمام باتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خان صاحب کے حلف اٹھانے سے قبل ہی داخلی و خارجی سطح پر ایک مضبوط اورمستحکم پاکستان کے خواب کی تکمیل ہوتی نظر آرہی ہے۔

مگر ابھی تک مسائل حل نہیں ہوئے،حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ بلکہ حالیہ دنوں میں عمران خان کی حکومت کے لیے مسائل بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ بہت بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ گردشی قرضوں کی ادائیگی اور آئی ایم ایف سے چھٹکارہ بھی پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے بیحد ضروری ہے۔جس کے لیے زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھانے ہوں گے۔اور زرِ مبادلہ کے ذخائر تبھی بڑھیں گے جب پاکستان میں سرمایہ آئے گا۔ سرمایہ لانے کے لیے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے مطمئن کرنا اور انھیں مکمل تحفظ دینے کی یقین دہانی کرانی ہوگی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ سابقہ حکمرانوں، چوروں لٹیروں اور کرپٹ ٹولے سے لوٹی ہوئی دولت بھی واپس لا کر قومی خزانے میں جمع کرانی ہوگی۔ معاشی ماہرین کے مطابق نئی حکومت کو معاشی استحکام کے لیے 16ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ دہشت گردی کا خاتمہ بھی اوّلین چیلنجز میں سے ہے۔ باوجود انتخابات ہوجانے کے کئی طرح کے نئے سیاسی مسائل نے سر اٹھا لیا ہے۔

جن میں سب سے اول تو شکست خوردہ سیاسی جماعتوں کا اے پی سے بلا کر حالیہ انتخابات کے نتائج کو مسترد کرنا اور دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کرنا۔وفاق اور اکثریتی نشستیں حاصل کردہ صوبوں میں اپنی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ ممبران کی حمایت حاصل کرنا اور اپوزیشن کے روایتی سیاسی ہتھکنڈوں سے نپٹنا بھی تحریکِ انصاف کے لیے کھلے چیلنجز ہیں اور اوپر سے دہشت گردی کے عفریت نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔کچھ بعید نہیں کہ عمران خان ان تمام مسائل کو سیاسی طریقوں سے حل کر لیں مگر یہاں پر پچھلے ستر سال سے پاکستانی عوام جن مسائل میں الجھی ہوئی ہے ان کا خاتمہ از حد ضروری ہے۔قیام ِ پاکستان سے لے کر آج تک اس ملک کی سیاسی اشرافیہ، سرمایہ دار،جاگیردار، بیوروکریسی اور دیگر قوتوں نے ملک و قوم کو دیمک کا طرح چاٹا ہے ۔ایک عام آدمی کو آج تک یہ نہیں معلوم کہ قانون کیا ہوتا ہے؟ بنیادی انسانی حقوق کیا ہوتے ہیں؟کیوں کہ ہمیشہ مقتدر قوتوں نے عوام کا استحصال کر کے انھیں پستی اور جہالت کے کنویں میں دھکیلا ہے۔

قانون کو صرف غریب آدمی کو دبانے اور اپنے فائدے کے لے استعمال کیا۔عوام کوتعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی حقوق سے محروم کرکے بے دریغ اس ملک کے خزانے کو لوٹا اور اپنے فار ن اکاؤنٹ بھرنے کے ساتھ ساتھ دوبئی یورپ اور امریکا میں اپنے اور اپنی نسلوں کے لیے عالیشان محلات کھڑے کیے۔ اور عوام آج تک، غربت، بیروزگاری، بیماریوں،ناخوندگی، صحت و تعلیم کی سہولتوں کے فقدان اور بنیادی انسانی اور شہری حقوق کی عدم فراہمی ایسے مسائل کا شکار ہے اور ان کا حل چاہتی ہے۔ حالیہ انتخابات میں عمران خان کی جیت کوئی معجزہ نہیں ہے، یہ پاکستان کے پسے ہوئے اور نچلے طبقے کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔یہ جیت ان خوابوں کی ہے جن کی تعبیر کا وعدہ عمران خان نے قوم سے کیا۔ یہ عوام کی وہ توقعات ہیں جو بہتری اور تبدیلی کی خاطر عمران خان سے سے جڑی ہوئی ہیں۔یہ ان وعدوں کی یاد دہانی ہے جو عمران خان پچھلے بائیس سال سے عوام سے کرتے آ رہے ہیں۔عوام اب ان وعدوں کی تکمیل اور اپنے خوابوں کی تعبیر چاہتی ہے۔ اپنے بنیادی انسانی اور شہری حقوق چاہتی ہے۔ اپنے بچوں کے لیے صحت و تعلیم کی سہولتیں، ہسپتال، سکول کالجز، یونیورسٹیاں،روز گار ، امن اور ملک و قوم کا خون پینے والی جونکوں سے نجات چاہتی ہے۔

مگر کیا عمران خان عوام کے ان مسائل کا دراک کر چکے۔؟ کیا عمران خان خود سے اپنی حکومت ( جنھیں عوام نے نجاتِ دہندہ کے طور منتخب کیا ہے)سے وابستہ عوام کی توقعات پہ کلی طورپر پورا اتریں گے؟

کیا عمران خان کو معلوم ہے کہ بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے دورافتادہ علاقوں اور چولستان میں انسان اور جانور ایک ہی تالاب (جوہڑ) سے پانی پینے پہ مجبورہیں؟

کیا عمران خان کو معلوم ہے کہ پاکستان کے ہسپتالوں ، سکول اورکالجوں میں بنیادی سہولتیں موجود نہیں، اگر کہیں ہیں تو صرف بااثر لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں؟

کیا عمران خان کو معلوم ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کے گھر میں کھانے کا ٹیبل، چھری کانٹے، انواع و اقسام کے کھانے تو درکنار دو وقت کی روٹی تک بھی میسرہے یا نہیں ؟

اگر نہیں معلوم تو معلوم ہونا چاہیے،معلوم کرنا چاہیے۔ کیوں کہ آپ مدینہ منورہ جیسی ایک فلاحی ریاست چاہتے ہیں، جس میں اگر ایک کتا بھی بھوک اور پیاس سے مر جائے تو اس کا ذمہ دار حاکمِ وقت ہوتا ہے، جس کا اظہار آپ نے اپنے گزشتہ خطاب میں بھی کیا تھا۔

نیازی بادشاہ! اپنی ذات کے کرب سے بڑھ کر اس دنیا میں کوئی سچائی نہیں ہے۔اور ایک عام آدمی کا کرب جاننے کے لیے اس کی روح میں اترنا پڑتا ہے جو کہ ناممکن کی حد تک مشکل ہے۔ایک عام آدمی کی جب تھانے میں تذلیل ہوتی ہے تو اس وقت اس کے کرب کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔جب ایک سائل کے ساتھ کورٹ کچہری میں ناانصافی ہوتی ہے تو تب اس کے کرب کا احساس کوئی گوشت کا وجود نہیں کرسکتا ۔اورجب پٹوار خانے میں اس کی وراثت پہ ڈاکہ ڈالا جاتا ہے یا جب کسی فاقہ کش مزدور کے بیٹے کا کسی کالج یونیورسٹی یا کسی سرکاری ادارے میں حق مارا جاتا ہے تو اس وقت اس آدمی کا کرب شاید ہی کوئی محسوس کرتا ہو۔ جب کسی ماں کی معصوم بچی کی زندگی سرکاری ہسپتال میں موت کے بسترپر ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتی ہے اور ڈاکٹر چائے سموسوں کی ٹیبل نہیں چھوڑتا ۔ جب کسی غریب دیہاڑی دار کے اکلوتے بچے کو موت اس لیے اپنے وحشی پنجوں میں دبوچ لیتی ہے کہ اس کا باپ پرائیوٹ ڈاکٹر کی بھاری فیس، مہنگی ادویہ اور غیر ضروی ٹیسٹوں کے لیے جیب میں کچھ نہیں رکھتا ، یا پھر، جب کسی غریب یا ہاری کی بیٹی کا بااثر جاگیردار، سرمایہ دار یا سیاسی اثرو رسوخ رکھنے والوں کے بیٹے ریپ کرتے ہیں یا کسی ماں باپ کے نوجوان بے قصور بیٹے کا وحشیانہ قتل کیا جاتا ہے تو تب اس بد نصیب متاثرہ کے کرب کوزمین و آسمان کی وسعتوں میں سمانا ناممکن ہو جاتا ہے۔
اور بھی بہت سے کرب ہیں جنھیں میں کاغذ پر سمیٹ نہیں سکتا۔ جنھیںپاکستان کی عوام مر مر کر سہہ رہی ہے۔

عمران خان صاحب، اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اس عوام کے کرب کو سمجھتے ہیں یا نہیں اور اگر سمجھتے بھی ہیں تو مداواہ بھی کرتے ہیں یا نہیں ۔یاپھر ماضی کے حکمرانوں کی طرح اقتدار کی چکا چوند روشنیوں میں کھو جاتے ہیں، یا پھر اپنے حکومتی و سیاسی مسائل کا رونا روتے ہوئے اپنے اقتدار کی مدت پوری کر لیتے ہیں۔ مگر اللہ نا کرے کہ آپ گزشتہ حکمرانوں کی تقلید کریں۔آپ کو جرأت اور بہادری دکھانی ہوگی ۔اپنی عوام کے دکھوں کو ماپنے کے لیے ان کے کرب کو محسوس کرنے کے آپ کو اپنی عوام کی روح میں اترنا ہوگا۔ان کے مسائل کے ادراک اور ان کے خاتمے کے لیے ایک نجات دہندہ، ایک حقیقی نمائندہ ، عوام کا محافظ، عوام کا پاسبان بن کرعوام کے سامنے آنا ہو گا۔

Saleem Sarmad
Saleem Sarmad

تحریر : سلیم سرمد
(ڈیرہ غازیخان)
Contact Number(03326209296)
Email Address:saleemsarmad418@gmail.com

Share this:
Tags:
imran khan pakistani people Saleem Sarmad پاکستانی عوام تحریک انصاف توقعات خطاب عمران خان
Imran Khan - PTI
Previous Post بس ایک سواری باقی
Next Post ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مرحلہ جاری: این اے 73 سے خواجہ آصف کی جیت برقرار
Khawaja Asif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close