
اسلام آباد (جیوڈیسک) اسلام آباد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جمیعت علمائے اسلام آباد ف کے سربراہ مولانا فضال الرحمان کو ہتک عزت کا قانونی نوٹس بھیج دیا۔ بے بنیاد الزامات پر مولانا فضل الرحمان سے ایک ہفتے میں غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ۔
قانونی نوٹس تین اگست 2013کو مولانا فضل الرحمان کی جانب سے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں عمران خان کو یہودیوں کا ایجنٹ قرار دینے پر بحیجا گیا۔ قانونی نوٹس مولانا فضل الرحمان کی پارلیمنٹ لاجز رہائشگاہ اور جامعہ معارف الشریعہ شوکوٹ ضلعی ڈیرہ اسماعیل خان کے پتے پر بیجھا گیا۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے جانب سے بے بنیاد الزامات لگانے پر عمران خان کی ساکھ کو نقصان پہنچا اگر ایک ہفتے میں عمران خان سے غیر مشروط طور پر معافی نہ مانگی گئی تو مولانا فضل الرحمان کے خلاف ایک کروڑ روپے ہرجانے کا دعوی دائر کیا جائے گا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
لیگل نوٹس تحریک انصاف کے لیگل مشیر حامد خان نے تیار کیا جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی ملک کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ عمران خان نے 1992 میں پاکستان کو کرکٹ ورلڈ کپ کی جیت کا تحفہ دیا۔ قومی سطح کی سیاسی پارٹی قائم کی، حالیہ انتخابات میں ملک کے چار اہم حلقوں سے کامیابی حاصل کی، عمران خان چاروں صوبوں میں یکساں شہرت رکھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان سے بے بنیاد الزام تراشیوں اور یہودیوں کا ایجنٹ قرار دینے کی وضاحت بھی طلب کی گئی ہے۔
