Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ادھوری محبت

December 17, 2016 0 1 min read
Girl Staring at Boy
Girl Staring at Boy
Girl Staring at Boy

تحریر : شہزاد حسین بھٹی
یہ جون 2014 کی ایک شام تھی جب میری بیوی نے شام کی چائے پر مجھے بتایا کہ آج ہمارے گھر ایک مہمان آ رہی ہے اور کچھ دن وہ ہمارے گھر رہے گی۔ میرے مزید استفار پر اُس نے بتا یا کہ آج میری خالہ زاد کا فون آیا تھا ۔اس نے مزکورہ لڑکی کے بارے میں تفصیلات دی ہیں کہ وہ اس کے ساتھ کسی پرائیویٹ ہسپتال میںجاب کرتی ہے اور اُسکے والداور چچا اُس کی زبردستی شادی کروانا چاہتے ہیں یہی وجہ تھی کہ آج اس کے والد اور دیگر رشتے دار اسے ہسپتال سے زبردستی اُٹھانے آئے تھے۔ لیکن میں نے کمال ہوشیاری سے اسے کسی دوسری لڑکی کا برقعہ اُڑھا کر وہاں سے نکالا ہے اور اُسے کچھ دنوں کے لیے تمہارے ہاں بھجوا رہی ہوں تاکہ اُنہیں اس کی موجودگی کا پتہ نہ چلے اور جب حالات بہتر ہو جائیں یا کوئی مناسب رشتہ دیکھ کر اسکی شادی کر دیں گے یہ سب سننے کے بعد میں کچھ پرشان ہوا لیکن دوسرے ہی لمحے اُسے اپنے گھر رکھنے کی حامی بھر لی اور دل میں سوچا کہ اب جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا۔ رات نو بجے کے قریب اُس لڑکی کی آمد کا ایس ایم ایس میری بیوی کے موبائل پر آیا کہ میں راولپنڈی کراس کر رہی ہوں اور اگلے بیس منٹ تک میں آپ کے سٹاپ پر ہوں گی۔ میری بیوی نے کہا کہ گاڑی نکالیں تاکہ اُسے سٹاپ سے پک کیا جاسکے۔

ہم اسٹاپ پر اُس کا انتظار کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ میرے ذہن میں اُس کی مختلف خیالی تصاویر گردش کر رہی تھیں۔ اچانک ایک ہائی ایس ہمارے سٹاپ پر رُکی اور میری بیوی اُس گاڑی کی طرف بڑھی جبکہ میں اپنی گاڑی میں بیٹھا انتظار کر رہا تھا۔ چند ہی لمحے بعد ایک نقاب پوش لڑکی ہماری گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بُرجمان ہو گئی اور اُس نے آتے ہی مجھے سلام کیا ۔ جسکے جواب میںوعلیکم السلام کہا اور گاڑی بڑھا دی۔ چند منٹوں کی ڈرائیو کے بعد ہم اپنے گھر تھے۔کپڑے تبدیل کرنے کے بعدوہ میرے ڈرائینگ رو م میں ہمراہ میری بیوی داخل ہوئی اور میرے سامنے والے صوفہ پر بیٹھ گئی اور میرے متوقع سوالوں کے جواب دینے کے لیے ہمہ تن گوش ہو گئی میری جوں ہی نظر اس لڑکی پر پڑی تو میں گویا طشت ازبام ہو گیا اور اُسے دیکھا ہی رہ گیا۔ خیر چندلمحوں بعد میں نے اُس سے ساری کہانی سُنی اور اُسے تسلی دی کہ وہ بے فکر ہو جائے۔ اول تو یہاں کوئی آئے گا نہیں اور اگر آیا بھی تو اُس کا انتظام کر لیا جائے گا۔میںنے احتیاط کے طور پر اسکے موبائل سے اُس کی سم نکلوا کر نہ صرف توڑ دی بلکہ اُسے دور نالے میں پھینک آیا۔اور اپنی ایک اضافی سم اُس کے حوالے کر دی تاکہ اُس کے ساتھ میرا اور میری بیوی کا رابطہ بحال رہے۔

ایک دو دن کے بعد میں نے اُسے اپنے دفتری اوقات میں فون کر نا شروع کر دیا اور رسماً اُس کا حال احوال پوچھنا شروع کر دیا اور پھر رفتہ رفتہ اُس کے قریب ہو نا شروع کر دیا ۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ وہ کسی کو پسند کرتی ہے کیا تو اُس نے جواب دیا کہ ہاں وہ ایک لڑکے کے ساتھ شادی کر نا چاہتی تھی لیکن وہ لڑکا اپنی والدہ کا حکم ٹا ل نہیں سکتا اور وہ پہلی شادی اپنی والدہ کی مرضی سے کرے گا اور پھر میرے ساتھ ۔ میں نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ تم جان بوجھ کر ایک ایسے لڑکے کے ساتھ شادی کرنے جا رہی ہو جو تمہارے اُوپر اپنی والدہ کی پسند کو فوقیت دے رہا ہے۔ جس پر اُس نے کہا کہ وہ جلد سے جلد کسی ایسے بندے سے شادی کرنا چاہتی ہے جو اسے فوراً بیاہ کر دیار غیر لے جائے۔ میری غیرمعمولی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے وہ بھانپ گئی تھی کہ میں اس میں دلچسپی لے رہا ہوں۔ وہ ہمارے ساتھ ہرجگہ گھرکے ایک فرد کی طرح آ جا رہی تھی ۔ میری بیوی اُسے ایک بیٹی کی طرح برتائوکر رہی تھی جبکہ میں دل ہی دل میں اُسے اپنے دل کی ملکہ بنانے کے درپے تھا۔ اور یہ سب کچھ اس لڑکی کی ایک ہاں پرمنحصر تھا۔حورین کو رب نے فرصت میں بنایا تھا۔ بائیس سال کی عمر اور جوبن حسن بن کر اُس کے چہرے سے عیاں تھا۔اُس کی موٹی موٹی اور خوبصورت آنکھیں اپنی مثال آپ تھیں۔ خوبصورت گول چہرہ اور پتلے پتلے ہیرے جیسے ہاتھ اس کے۔ دل کرتا تھا کہ یہ فلموں کی ہیروئن کی طرح میری باہوں میں سمٹ جائے اور کہے ۔۔۔۔میں تیری آن میں تیری آن۔۔۔۔

Interresting with Office Girl
Interresting with Office Girl

حورین میں غیر معمولی دلچسپی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ میں اپنے دفتری امور تک بھول چکا تھا اور ہر وقت اُسی کے خیالوں میں گم رہتا اور اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب رہتا۔شروع میں میری اُس کے ساتھ گفت وشنید ایس ایم ایس یا فون کے ذریعے ہوتی تھی۔ لیکن وہ مجھ میں دلچسپی نہ لے رہی تھی ۔ حالانکہ میں اُس کے لیے اپنی تمام جمع پونجھی لٹانے اور اپنے راہ میں آنے والے ہر طوفان سے ٹکرانے کو تیار تھا لیکن جسکے لیے میں سب کر رہا تھا وہ میری انگلی پکڑنی کو تیار نہ تھی۔وقت کا دھارا تیزی سے گزرنے لگا۔ایک ماہ گزرچکا تھا۔ آفس سے چھٹی ہوتے ہی میں گھر کی طرف لپکتا تھا تاکہ اُسے ایک نظر دیکھ کر اپنی آنکھیں خیزہ کروں۔ اور کچھ دیر اس کی صحبت میں بیٹھ کراسکی جوانی کی حرارت اپنے اندر محسوس کروں۔ ہمارے ہاں آنے کے ایک ہفتے بعد ہی وہ میری بیوی سے کہنے لگی کہ اُسے لاہور جانا ہے اور نرسنگ ڈائریکڑ سے ملنا ہے جاب کے سلسلے میں۔ خیر ایک دفعہ میں نے اُسے ہائی ایس سروس کے اڈے سے گاڑی میں بیٹھایا اور ٹکٹ لے کر دینے کے بعد اُس کے لیے زاد سفر کے لیے منرل واٹر اور کچھ سویٹس لے کر اُسے دیں۔ پھر ایک دفعہ اُسے لاہور جانا تھا ۔ میرے خیال میں اُسے اپنے محبوب سے ملنا تھا ، میں اور میرے بیوی اُسے ریلوئے اسٹیشن گاڑی میں بیٹھانے آئے اور ٹکٹ تک ہر خرچہ میرا ہو رہا تھا۔میں یہی سمجھ رہا تھا کہ ایک نہ ایک دن ضرور یہ خود ہی مجھے کہے گی کہ وہ مجھ سے محبت کرنے لگی ہے ۔بلکہ ایک دفعہ ہم نے اپنے آبائی شہر جانا تھا تو میری بیوی اُسے وہاں بھی ساتھ لے گئی اور اپنی بھانجی کے حوالے سے تعارف کروایا۔ خوبصورت ہونے کی وجہ سے میری امی اور والد بھی اُس سے ہمکلام ہوئے تاکہ اُس کو جانچ سکیں۔ بلکہ میری والدہ میرے چھوٹے بھائی کے رشتے کے حوالے سے غیر معمولی طور پر اس میں دلچسپی لینے لگیں۔

اُدھر دُوسری طرف وہ میرے سسرال میںبھی ہمارے ساتھ جانے لگی اور میری سالی کی بیٹیوں کے ساتھ اسکی دوستی ہو گئی۔ اور وہ وہاں رہنے کے لیے اصرار کرنے لگی۔ لیکن میری بیوی نے یہ سوچ کر اجازت نہ دی کہ وہاں پہلے ہی افراد خانہ زیادہ ہیں ۔لاہور میں میری بیوی کی کزن کو جب ہمارے گھر نئی مہمان کی آمد کی خبر ہوئی تو وہ جمیلہ سے کہنے لگی کہ تم بوڑھی ہو رہی ہے اور جمشید بھائی ابھی جوان ہیں۔ کہیں ایسانہ ہو کہ حورین تمہاری بہن کی سوکن بن جائے ۔ یہ بات سن کر میری چھوٹی سالی حمیدہ کا ماتھا ٹھنکا اور اُس نے فوراً فون کر کے میری بڑی سالی کے ذریعے میری بیوی جمیلہ کو خبردار کیالیکن میری بیوی نے اس امکان کو مسترد کر دیا۔حورین کو ایک دفعہ لاہور میں کچھ پیسوں کی ضرورت پڑی تو اُس نے مجھے سے رابطہ کیا اور کچھ رقم کا تقاضا کیا جو میں نے جَھٹ ایزی پیسہ کے ذریعے بھجوادئیے۔ بلکہ ایک دفعہ وہ ناراض ہو کر لاہور روانہ ہوئی اورجب وہاں رہنے کے لیے کوئی ٹھکانہ نہ پانے پر دوبارہ مجھ سے رابطہ کیا اور میںنے اُسے کہا کہ وہ واپس آ جائے اور یوں وہ دوبارہ واپس آگئی ۔وہ اپنے مفاد میں جب چاہتی مجھے استعمال کرتی لیکن جب میں اسے اپنی مجت کااظہار کرتا تو وہ مجھے دھمکی دیتی کہ اگر میں باز نہ آیا تو وہ میرے میسجز اور یک طرفہ محبت بارے میری بیوی کو بتا دے گی۔اور میں کچھ اجتناب برتنے لگ جاتا۔میری بیوی اور میں شام کو واک پر نکلتے تو اُسے بھی ساتھ لے لیتے لیکن وہ راستے بھر میرے ساتھ بات نہ کرتی بلکہ میری بیوی سے باتوں میں مگن رہتی۔ اور میں چُپ چاپ اُس کی حسین چہرے اور اُسکے گیسوں کو دیکھتا۔

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آخر یہ لڑکی کیوں مجھ میں دلچسپی نہی لیتی؟ میرے پاس وہ سب کچھ ہے جو ایک لڑکی کو اپنا گھر آباد کرنے کے لیے چاہیے ہوتا ہے۔ ایک کے بجائے دو دو گاڑیاں ہیں ۔ اچھی جاب ہے ۔ اچھا رہن سہن ہے تو پھر ایسا کیا ہے کہ وہ مجھ میں دلچسپی نہیں لیتی۔میں نے اُسے پانے کے لیے کیا کیا جتن نہیں کیے۔ ایک دوست کے ذریعے ایک عامل سے تعویز لکھوائے ،اُلٹے سیدھے منتر پڑھے، ویران کنوئوں میںتعویز پھینکے۔ حتکہ کہ ہر وہ حربہ اخیتار کیا جو ایک عاشق اپنے محبوب کو پانے کے لیے کرتا ہے۔ لیکن اُسے دلچسپی اپنے ہم عمر لڑکے میں تھی۔ اگرچہ میری عمرچالیس سال سے زیادہ نہ تھی لیکن وہ مجھے کہتی کہ میں اُسکے والد کا ہم عمر ہوں جبکہ حقیقت یہ نہیں تھی۔اسکے والد تو مجھ سے بھی پندرہ سال بڑے تھے اور ویسے بھی محبت اور شادی میں عمر کا کیا کام۔

Life
Life

اس لڑکی پر میں ایسے فریفتہ تھا کہ میں اُسے اپنی زندگی کا ایک لازمی حصہ تصور کرنا شروع کر دیا تھا۔یعنی ایسا دل پھینک تھا کہ اُس کی ایک پل کی جدائی مجھے برداشت نہ تھی۔میں اُس کی خاطر اپنی تمام فیملی کو کبھی کہاں اور کبھی کہاں سیر کے لیے لے جاتا۔ کبھی ہوٹلنگ کے لیے لے جاتا ۔ لیکن وہ نہ جانے کیو ں میرے وجود سے بھی تنگ تھی ۔حورین نے حال ہی میں نرسنگ کی چار سالہ تربیت حاصل کی تھی جبکہ اسکی والدہ وفات پا چکی تھی اور والد بیمار تھا۔ جبکہ اسکی دو یا تین مزید بہنیں اور دو بھائی بھی تھے جو کوئی چھوٹے موٹے کام کرتے تھے۔ جبکہ یہ محترمہ چار سالہ نرسنگ کے بعد اپنے آپ کو کوئی بہت بڑی چیز سمجھتی تھی اور غرور وتکبرکااک مجسمہ تھی۔اس ادھوری مجت کا اختتام ڈھائی ماہ کے بعد ہی ہوگیا ۔ میرے ایک دوست جو علم الاعادات جانتے تھے، اُن کے مطابق یہ لڑکی میرے لیے بہت بڑی بدنامی کا سبب بن سکتی تھی۔کیونکہ انکے علم کے مطابق اسکے ستارے میرے ساتھ موافقت نہیں رکھتے تھے۔ وہی ہوا کہ ایک دن ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ہم دونوں کی ایس ایم ایس پر لڑائی ہوگئی جس پر اُس نے سب کچھ میری بیوی کو بتانے کا کہہ دیا۔

میں نے صورت الحال کو کنڑول کیا اور اسے منایا کہ وہ ایسا کچھ نہیں کرے گی۔ اگلے دن جب میںاپنے آفس سے آیا تو دیکھا کہ میری بیوی کے طیور چڑھے ہوئے تھے جبک وہ لڑکی میری بیوی کے سامنے ایک کرسی پر بیٹھی رو رہی تھی۔ میں صورت حال کو فوراً بھانپ گیا۔میں نے اپنی بیوی سے بات کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اُسے سب کچھ بتا دیا گیا ہے۔ بیوی الگ گھر چھوڑنے کی دھمکیاں دینے لگی۔ میری بیوی نے میرے والدین، سرال اور اولاد تک کو بتا دیا اور وہ ہنگامہ مچایا کہ الامان الحفیظ۔ میں نے بھی اس لڑکی کی بتائی روداد کا انکار کیا اور کہا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے۔ اسی شام میری بیوی نے میرے سالے احسن کو بلوایا کہ اس لڑکی کو فوراً اسکے گھر ٹوبہ ٹیک سنگھ روانہ کیا جائے۔ لڑکی کے گھر کا نمبر لے کر میرے سالے نے وہاں بات کی تو اسکے بھائی نے بتایا کہ اسکے والد کو فالج ہواہے اور وہ بیڈ پر ہیں ۔ وہ اپنی بیٹی کو بہت یاد کرتے ہیں۔

اسکے بھائی نے کہا کہ آپ اسے وہاں سے بیٹھا دیں میں پک کر لوں گا۔ اور یوں اگلے دن19 جولائی 2014کوجب میں اپنے آفس سے گھر واپس آیا تو معلو م ہوا کہ وہ جا چکی تھی۔میرے سالے نے اسے جانے سے پہلے کہا تھا کہ بی بی آپ جا تو رہی ہو ۔ اور ان کو یوں بھول جائو گی جیسی یہ لوگ کبھی تھے ہی نہیں تمہاری زندگی میں۔میں نے اسکے جانے کے بعد اسکے فون نمبرز کو بہت ٹرائی کیا لیکن اس نے بند کردیئے تھے۔بعدا زاں دوسال بعد اسکا وٹس ایپ پر نمبر آن تھا۔ رابطہ کیا تو وہ کسی لڑکے کے پاس تھا جو اس لڑکی کو نہیں جانتا تھا۔ اب بھی کبھی کبھی اُداسی یا تنہائی میں اس بے وفا کی یاد آتی ہے اور دل خون نے آنسو رونے لگتا ہے ۔ کیونکہ میں حساس انسان تھا یہ نہیں جانتا تھا کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔بحرحال آج بھی وہ میری یادوں میں کبھی کبھی دستک دے کر مجھے میری کھوئی ہوئی محبت کا احساس دلا کر پریشاں کیے رکھتی ہے۔ کاش کہ وہ میرے سامنے نہ آتی اور آج میں اسکی یادوں کا اسیر نہ ہوتا۔

Shahzad Hussain Bhatti
Shahzad Hussain Bhatti

تحریر : شہزاد حسین بھٹی

Share this:
Tags:
girl hospital incomplete Love marriage smart waiting wife ادھوری انتظار بیوی شادی لڑکی محبت ہسپتال
Haq Nawaz Awan
Previous Post حق نواز اعوان پاکستان کا سرمایہ ہے حکومت فوری توجہ کرے اور حق نواز کا علاج کرائے۔ افضال احمد
Next Post ماں تجھے سلام
Mother with Child

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close