Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

یومِ آزادی

October 26, 2015 0 1 min read
Independence Day Pakistan
Independence Day Pakistan
Independence Day Pakistan

تحریر: عاقب شفیق
پانچ برس قبل اسلامیہ پبلک سکول قلندر آباد میں چودہ اگست کو تقریب تقسیم انعامات تھی، تمام والدین مدعو تھے،جنگِ آزادی سے لیکر یومِ آزادی تک کا بہترین ڈرامہ تیار کیا گیاتھا۔ میں نے اس سٹیج پلے میں مولانا محمد علی جوہر کا کردار ادا کرنا تھا۔ جب میں نے مولانا محمد علی جوہر کی دوسری گول میز کانفرنس میں کی گئی تقریر کو ” رَٹا لائیز“ کرنے کا آغاز کیا تو وہ اس قدر جذباتی تھی کہ مجھے تاریخ کے مطالعہ پر اُکسانے لگی۔ دادا جان سے مولانا محمد علی جوہر کے بارے میں پوچھا۔ دادا جان نے قریب مکمل تحریکِ آزادی اور سفرِ آزادی کے المناک واقعات سنائے۔

” احمد اورنورین دو بہن بھائی تھے۔وہ والدین کے ہمراہ دکن میں رہتے تھے۔ ان کے والد تحریکِ آزادی کے سرگرم کارکن تھے۔ جب آزادی کی تحریک عروج پر پہنچی تو وہ امی ابو کے ساتھ چندی گڑھ میں قیام پذیر ہو گئے کہ جونہی پاکستان کے قیام کا اعلان ہوگا تو ہم امرتسر کے راستے لاہور چلے جائیں گے اور ہندوؤں کے تعصبانہ رویئے اور فرنگیوں کے مظالم سے مستقل نجات حاصل ہو جائے گی۔تین ماہ تک قیام پاکستان کے اعلان کے انتظار میں وہ چندی گڑھ میں ہی رہے۔جب ریڈیو پر انہوں نے پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کا اعلان سُنا تو شکرانے کے نوافل ادا کر کے سٹیشن پہنچے۔ امرتسر ریلوے سٹیشن پر تمام ریل گاڑیاں بھری ہوئی تھیں۔ چھت پر بھی پیر دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ انہوں نے لاکھ کوشش کی کہ کسی طرح ریل گاڑی میں چڑھ جائیں لیکن ناکام رہے۔ گاڑی ” پآں“ کی صدا بلند کرتی ہوئی چلتی بنی۔ انکے دلوں کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی۔ جب دوسری گاڑی امرتسر سٹیشن پر رکی تو یہ جلدی سے اس میں چڑھ گئے۔ تمام ڈبے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔ گاڑی ابھی چلی ہی تھی کہ تین چار جھٹکوں سے اچانک رک گئی۔ شور و غل شروع ہو گیا ۔ چیخ و پکار نے سب کو حیران کر دیا۔

Pakistan
Pakistan

وہاں پیلے کپڑوں میں ملبوس کچھ ہندو تلواریں ، خنجر، برچھیاںاور ڈھنڈے لئے ریل گاڑی کے انجن میں گھُس کر خون خرابہ کرنے کے بعد باقی ڈبوں کی سمت دوڑ رہے تھے۔ کچھ لوگ دائیں بائیں بھاگے ۔۔ کچھ لوگ وہیں سیٹوں کے نیچے چھپ گئے۔ احمد نے باہر جھانک کر دیکھا تو کہیں کٹے ہاتھ دکھائی دیئے تو کہیں کٹے سر۔۔۔ معصوم سہم گیا۔ عجیب سماں تھا ۔۔ ریل گاڑی کو چھوڑیں کیسے؟ کہ اسی نے چل کر پاکستان کی سرزمین کی سمت جانا ہے اور ہمیں محفوظ کرنا ہے اور اس پر رہیں تو کیسے؟ کہ یہ ظالم ہمیں کاٹ ڈالیں گے۔۔ ”ساری لڑکیوں کو باہر نکالو ورنہ تم ساروں کو چیر کر رکھ دوں گا۔ ۔۔“ کالے رنگ کا بڑی بڑی مونچھوں والا بھیانک ساشخص جس کے ہاتھ میں خون سے لتی تلوار تھی اور صرف پیلے رنگ کی شلوار پہن رکھی تھی وہ چلا رہا تھا۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں ساری لڑکیاں ریل گاڑی سے اتر کر سٹیشن کی چھت کے نیچے ہندوؤں کے گھیرے میں کھڑی تھیں۔ کچھ مسلح گاڑی میں چڑھ آئے اور نہتوں کی خون کی ندیاں بہا دیں۔۔

احمد سیٹ کے نیچے چھپا تھا۔ عجیب طرح کی چیخ و پکار تھی۔ احمد کو محسوس ہواکہ اب کوئی اس کی سمت آ رہا ہے۔ وہ مزید سکڑ گیا۔ اسکی تلوار سے خون کا قطرہ احمد کے ہاتھ پر گرا۔ احمد نے آنکھیں زور سے بندی کر لیں ۔۔ قدموں کی آہٹ سے پتا چلا کہ وہ دوسری جانب چلا گیا ۔احمد نے اُٹھ کر کھڑکی سے باہر دیکھا تو لڑکیوں کی برہنہ لاشیں پڑیں تھیں اور بعض کے پستان کاٹ کر سٹیشن کی دیواروں پر ”پاکستان مردہ باد“ کے نعرے لکھے جا رہے تھے۔ بے چاریاں زخموں سے تڑپ رہی تھیں ۔۔۔ سسک رہی تھیں۔۔۔ بلک رہی تھیں۔۔۔۔ اور پھر ساکت ہوتی چلی جا رہیں تھیں۔۔ احمد کی نگاہیں نورین کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ مگر اسے کہیں بھی بہن دکھائی نہ دی۔۔ چند ہندوؤں نے نوجوان زندہ لڑکیوں کو باندھ کر ساتھ لے لیا۔ اور وہاں سے فرار ہو گئے۔ احمد حواس باختگی میں اُٹھا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا۔۔ جلدی سے ڈبے سے اُترا تو دیکھا کہ اسکے ابو نیچے پٹھڑی پر پڑے تھے۔ انکی ایک ٹانگ خون میں لت پت علیہدہ پڑی تھی۔ وہ چیختا ہوا آگے بڑھا اور باپ کو جھولی میں لیا۔ ۔ ۔ وہ آخری سانسیں لے رہے تھے۔ ” احمد ! بیٹا یہاں سے بھاگ جاؤ۔۔ جس سمت سورج جائے اسی سمت چلتے رہنا۔۔۔ ہمت نہ ہارنا۔۔۔ چلتے رہنا۔۔۔ بڑھتے رہنا۔۔۔ آخر کار پاکستان کی سرزمین پر پہنچ جاگیا۔ گے۔ تم خدا کے علاوہ کسی سے نہ ڈرنا۔۔۔۔ اب مغرب کی سمت میں بھاگتے جاؤ۔۔۔“ یہ کہہ کر انکا چہرہ دائیں جانب جھک گیا۔

احمد سٹیشن کی سمت بھاگا اور وہاں پڑی خواتین کی سسکیوں اور تڑپ نے اسے جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ کئی خواتین زندہ تھیں ۔۔۔ کئی آخری سانس لے رہی تھیں۔۔۔ اور بہت ساری لے چکی تھیں۔ ۔ ۔ اچانک اس کی نگاہ اپنی ماں پر پڑی۔۔۔ وہ برہنہ پڑی تھی۔۔۔ سینے پر گوشت نہیں تھا ۔۔۔۔ وہاں خون کی سرخی میں پسلیاں دکھائی دے رہی تھی۔۔۔ احمد نے جلدی سے اپنی قمیض اتاری اور لاش کا ناف سے گھٹنوں کا حصہ ڈھانپ دیا۔۔۔ نگاہ پھر ماں کے چہرے پر پڑی تو ایسی چیخ نکلی کہ عرش کانپ اُٹھا۔۔۔ کوئی ذی شعور وہاں ہوتا تو یہ منظر اسکی جان لے لیتا۔۔۔ وہ اپنے بال نوچنے لگا۔۔۔ گال نوچ ڈالے۔۔۔ ماں کا منہ چومنے لگا۔۔ چیخ چیخ کر ماں کی لاش کو گلے لگاتا رہا۔۔۔ پھر دیگر لاشوں میں بہن کو ڈھوندا مگر وہ نہ ملی۔۔۔۔شائد وہ قیدیوں میں ہو۔۔۔ احمد کے کانوں میں باپ کے آخری الفاظ گونجنے لگے۔۔۔ وہ اُٹھا اور مغرب کی طرف چلنا شروع کر دیا۔۔ ہمسفر ملتے گئے۔۔۔ کچھ کھانے کو۔۔کچھ پینے کو ان سے ملا اور آخر کار اور لاہور پہنچ کر سجدے میں گر پڑا۔۔۔ ماں باپ اور بہن کی یاد، تڑپ اور پیار نے اسے نوچ کر رکھ دیا ۔۔۔۔ اسی رنج میں وہ اکتوبر انیس سو سینتالیس کو جہانِ فانی سے چل بسا۔۔۔۔“

Pakistan Independence Day
Pakistan Independence Day

خیر، چودہ اگست کو ہونے والے سٹیج پلے کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھی۔۔۔حاضرین نشستوں پر براجمان تھے۔۔۔۔ پردہ گرا ہوا تھا ۔۔ پردہ اُٹھا اور سٹیج پلے کا آغاز ہو گیا۔۔۔ یہ اتنا حساس تھا کہ حاضرین کو رلا کے رکھ دیا۔۔ تمام لوگوں کو احساس دلا دیا کہ وطنِ عزیز کس قدر دشواریوں اور قربانیوں سے حاصل ہوا ہے۔۔۔ پرفارمنس کے بعد مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے گرے پردے سے جھانک کر حاضرین کو دیکھا تو ایک ضعیف العمر خاتون عینک اتار کر ایسے رو رہی تھیں کہ اپنا شعور ہی نہ رہا۔۔ حاضرین پر رقت طاری ہو چکی تھی۔۔۔ رات جب میں گھر لوٹا تو اسی خیال تھا کہ اس قدر زیادہ قربانیاں؟ اُف۔ ہمیں احساس تک نہیں کہ ہم یہاں کس طرح رہ رہے ہیں ،۔۔۔ ہمیں شعور ہی نہیں ہے کہ ” اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کی بنیادوں میں کتنا پاک خون بہا ہے جو اس کی اتنی مضبوط بنیادی اُٹھائی گئی ہیں۔ اسی خیال میں تھا کہ میں کھانا کھائے بغیر سو گیا۔

اس نیند میں آنے والے خواب نے میری زندگی بدل کے رکھ دی: ” حشر کا میدان سجا ہوا ہے۔۔ اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کے فیصلے سنا رہے ہیں۔۔ عدل کے تقاضے خداوند ذوالجلال ایسے پورے کرتا ہے کہ سب دھنگ ہیں۔۔۔ اصحابِ جنت کا جنت میں دخول جاری ہے۔۔ اصحاب النار میں سے ہلکے گناہوں والے بھی خدا تعالیٰ کے رحم و کرم سے جنت کا ہی رُخ کر رہے ہیں ۔۔ سُبحان اللہ۔۔۔۔اتنے میں ایک نوجوان لڑکی سامنے آتی ہے اور رب غفور سے اجازت لے کر گویا ہوتی ہے: ” خدایا ! خدایا! تو اپنے عدل و انصاف کے فیصلے جاری رکھ۔۔۔ صرف میری چھوٹی سی عرضِ داشت سن لے۔۔ جب پاکستان بن رہا تھا تو میں اپنے بچے ، شوہر اور والد کے ساتھ لاہور کی سمت چل پڑی۔۔ راستے میں میرے باپ کو ظالموں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔۔ لیکن آزادی کا جذبہ اس قدر تھا کہ باپ کی محبت مجھے نہ روک پائی۔۔۔ ہندوؤں کے ایک اور گروہ نے میرے شوہر کے پاؤں الگ الگ گاڑیوں کے ساتھ باندھ کر چیر ڈالا۔۔ خدایا! مجھے مجازی خدا کی محبت بھی نہ روک پائی اور میں اپنے بچے کو لے کر بھاگ کھڑی ہوئی۔۔۔“

پھر آنسو پونچھتے ہوئے بات جاری رکھی ” خدائے ذوالجلال! چند ہندو شر پسندوں نے جھپٹے سے میرابیٹا مجھ سے چھین لیا اور اسکی گردن مروڑ کر آسمان کی طرف اُچھال دیا۔۔ اور نیچے نیزے رکھ دیئے۔۔ جب میرا لختِ جگر نیزوں میں پرویا جا رہا تھا تو اسکے منہ سے ”اماں اماں“ کی آواز نکل رہی تھی۔۔۔ لختِ جگر کی تڑپ نے مامتا کو جگایا لیکن آزادی اور پاکستان کی محبت نے اسے دبا دیا۔۔۔۔ میں بھوکی پیاسی۔۔۔ بھاگتے۔۔۔ گرتے سنبھلتے لاہور پہنچی۔۔۔ تا کہ میری آئندہ نسلیں آزا د ریاست میں خوش و خرم رہیں۔۔۔۔“ پھر اس لڑکی نے ہمارے سمت اشارہ کرتے ہوئے۔۔۔روتے ہوئے۔۔ چلاتے ہوئے کہا ” یہ ہے وہ نسل ۔۔ جس کے لئے میں نے وہ سب کیا۔۔ خدایا! ذرا ان سے پوچھیئے کہ آیا انہوں نے اپنا حق ادا کیا ؟“”خدایا! نورین کو ہندوؤں نے بازارِ حُسن کی زینت بنایا۔۔ وہ کسی محمد بن قاسم کو جانتی تھی کہ وہ ایک بہن کی خاطر حجاز سے سندھ میں آیا تھا۔۔ نورین کسی محمد بن قاسم کے انتظار میں درجنوں سکھ اور ہندو بچوں کو جنم دے چکی۔۔۔

Allah
Allah

خداوندِ جبار و قہار! ذرا ان سے پوچھیئے کہ یہ نورین کے لئے ابنِ قاسم بنے؟ یا اپنی بہن کو انہی دھکتے انگاروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا؟؟اس عالم میں بھی سب خداوند ذوالجلال کے رحم کے منتظر تھے۔۔۔ کسی کے چہرے پہ ندامت نہ پاکر میں شرم سے نظریں جھکائے وہیں گھڑ جانا چاہ رہا تھا۔۔۔۔ کہ نہ یہاں کسی کا احساس کیا نہ خدمتِ الٰہی میں ندامت۔۔۔۔۔میں نے مٹھیاں اتنی کس کے بند کیں کہ اب انکا کھلنا دشوار۔۔۔ دانت اتنے کس کے دبا رکھے تھے کہ جبڑے ٹوٹنے کو تھے۔۔۔ ٹھوڑی کو مزید جھکا کر سینے میں گھُسانا چاہ رہا تھا۔۔۔ پاؤں کی انگلیاں نیچے کو موڑ کر توڑ دینا چاہ رہا تھا۔۔ آنکھیں اس قدر شدت سے بند کر رہا تھا کہ کاش بینائی سلب ہو جائے۔۔ اس لڑکی کا ہماری طرف اشارہ کرنا مجھے اتنی شرمندگی دے گیا کہ میں خود کو کسی قیمت پر جنت کا حقدار نہیں سمجھ رہا تھا۔۔۔۔ میں خُدا کی اپنی طرف نظر پڑنے سے پہلے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے واصلِ جہنم ہو جانا چاہ رہا تھا۔۔۔۔“

تحریر: عاقب شفیق

Share this:
Tags:
independence day Love Movement pakistan war پاکستان محبت واقعات
Secular India
Previous Post سیکولر ہندوستان ہچکیاں لے رہا ہے….
Next Post اسلام آباد، راولپنڈی، سوات، مالاکنڈ میں زلزے کے جھٹکے
Earthquake– Breaking News – Geo

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close