Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

یومِ آزادی اور ہماری ذمہ داری

August 12, 2017 0 1 min read
Youm e Azadi
Youm e Azadi
Youm e Azadi

تحریر : حافظ کریم اللہ چشتی
آج کا دن (14 اگست) پاکستان کے مسلمانوں کے لئے خصوصی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے عمومی طور پر ایک یادگار اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ چودہ اگست 1947 کوواحداسلامی ملک پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیا دپر دنیا کے نقشے پر معرضِ وجود میں آیا۔

دنیامیں انسان کوسب سے زیادہ دوچیزیں عزیزہوتی ہیں ایک جان دوسری اولاد،یہ بات توکسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ وطن عزیزملک پاکستان کے حصول کی خاطرہمارے اسلاف (بزرگوں) نے اپناتن من دھن سب کچھ نچھاورکیا۔قیامِ پاکستان کے وقت دی جانے والی قربانیوں کاہم بغورمطالعہ کریں تودل خون کے آنسوروتاہے ۔جب مسلمان، انگریزکے غلام تھے ۔کیونکہ غلامی غلامی ہوتی ہے چاہے ایک لمحہ کی بھی کیوں نہ ہو؟

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبریں جوہوذوقِ یقین پیداتوکٹ جاتی ہیں زنجیریں

اللہ پاک اوراس کے محبوبۖ کا فضل وکرم ہوامسلمانوں کے آپس میں باہمی اتفاق واتحاداورقائداعظم محمدجناح کے خلوص کی وجہ سے یہ عظیم اسلامی سلطنت دنیاکے نقشے پروجودمیں آئی۔ہندوئوں نے بڑی بڑی مکاریاں کی مختلف حربوں سے پاکستان کی مخالفت کی انگریزوں نے بھی کوئی کسرروانہ رکھی بلکہ ہرقسم کی رکاوٹیں پیداکیں۔ بہرحال ان کی مخالفتوں اوررکاوٹوں سے بنتاکیا۔کیونکہ

مُدّعی لاکھ بُراچاہے توکیاہوتاہے وہی ہوتاہے جومنظورِخداہوتاہے

مسلمان آپس میں متحدتھے ۔رحمت ِ خداوندی کے ٹھاٹھیں مارتے سمندرکواپنا اوڑھنابچھونابنائے ہوئے تھے ۔حالانکہ پاکستان اورمسلمانوں کے حریف توبہت تھے لیکن ان کوپتانہ تھاکہ مسلمانوں کی غیبی مددکی جارہی ہے۔نصرت ِ الٰہی سے پاکستان بن کررہناتھااوربن کرہی رہاان شا ء اللہ قیامت تک قائم ودائم رہے گا۔اس وقت مسلمانوں کامطالبہ حق اورصداقت پرمبنی تھا۔اِس لئے حق آگیااورباطل مٹ گیا۔دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے ۔ بندہ مومن کاکام ہے ارادہ کرنااس کوپھل لگانامیرے اورتمہارے خالق اللہ رب العالمین کے ذمہ کرم ہے۔شاعرنے کیاخوب کہا

ہم توتقدیرکے بندے ہیںہمیں کیامعلوم کون سی بات میں کیامصلحت یزداں ہے
اورپھراپنی شکایت سے بھی کیاہوتاہے وہی ہوتاہے جومنظورِ خداہوتاہے

وطن ِ عزیزکی بنیادیں استوارکرنے کے لئے متحدہ مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ ،گوشت گارے کی جگہ ،اورخون پانی کی جگہ استعما ل ہواہے۔جن کی عظیم قربانیوں کے بعد وطن عزیزپاکستان کاقیام وجودعمل میں آیا ۔بالآخر14اگست 1947کوپاکستان بن گیا۔
شاعر مشرق علامہ محمداقبال حکیم الامت کاکرداراداکرتے ہوئے اپنی شاعری کے ذریعے امت مسلمہ کوایک کھویاہوامقام حاصل کرنے کاپیغام دیتے رہے۔

علامہ محمداقبال نے 1930ء میں اپنے خطبہ الہ آبادمیںبرصغیرکے مسلمانوں کے سامنے ایک الگ مملکت کاتصورپیش کیا۔انہوں نے کہاکہ مسلمان اور ہندومذہب درحقیقت دومختلف اورجداگانہ تمدن ہیں۔اوران کے لئے لازماَایک علیحدہ ملک اورریاست کی ضرورت ہے۔قیام ِپاکستان کی راہ میں حائل ہونیوالی باقی مشکلات پرقائدملت اسلامیہ قائداعظم محمدعلی کی منفردقیادت نے اکیلے قابوپالیا۔کیونکہ مسلمان قائداعظم کی قیادت میں مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع ہوچکے تھے۔اورہمہ تن آزادی کی جدوجہدمیں مصروف تھے ۔مسلمانوں کوبھی اپنے قائدپرپورااعتمادتھاکہ ہماراقائدکسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرے گا۔اس وقت وطن عزیزکانام برطانیہ میں زیرتعلیم ایک مسلمان نوجوان چودھری رحمت علی نے”پاکستان ”تجویزکیاتھا۔23مارچ1940ء کومسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں علیحدہ ریاست کی تجویزسامنے آئی۔یہ اجلاس اُسوقت لاہورکے ”منٹوپارک” جسے آج کل” اقبال پارک” کے نام سے پکارا جاتاہے میں منعقدہواتھا ۔جہاں پرمسلم لیگ کی جانب سے ایک قراردادمنظورکی گئی ۔جسے ”قراردادلاہور”کے نام سے مٔوسوم کیاگیاتھا۔

اس قراردادمیں یہ اعلان کیاگیاتھاکہ مسلمان ہنداپنے مخصوص فلسفۂ زندگی ،سماجی روایات اورمذہب کی بنیادپرہندوئوں سے الگ اورمستقل قوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس تاریخی ،مذہبی اورسماجی تشخص کوبرقراررکھنے کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے لئے ایک الگ ریاست قائم کی جائے”۔1942ء تک اس قرارداد کو”قراردادلاہور”ہی کہاجاتارہا۔لیکن بعدمیںغیرمسلم اخبارات نے اسے ”قراردادپاکستان ”کانام دے دیااوراس کی سخت مخالفت کرناشروع کردی۔یکم مارچ 1942کوقائدملت اسلامیہ قائداعظم محمدجناح نے اسلامیہ کالج لاہورکے وسیع وعریض میدان میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ”ہم نے ”قراردادلاہور” کو”قراردادپاکستان ”کانام نہیں دیاتھالیکن اگرہمارے دشمن ہمیں چڑانے کے لئے اس نام کواستعمال کررہے ہیں۔توہم اس سے چڑیں گے نہیں بلکہ اب اسے ”قراردادِ لاہور”کی بجائے ”قراردادپاکستان ”کے نام سے پکاریں گے۔

وطن عزیزپاکستان جس کی عظمت کوآج پوری دنیامانتی ہے ۔اس لئے ہمیں بھی وطن سے محبت کرنی چاہیے ۔اس کے بانی سے عقیدت اوراس کے مصوّرسے دل لگائورہناچاہیے ۔کیونکہ جس وطن عزیزکے قیام کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی بے شمارقربانیاں پیش کیں۔اتنی گراں قدرتخلیق کااندازہ تو وہی لگاسکتا ہے جس نے تعمیر پاکستان میں اپنے تن من دھن قربان کیاہو۔بس ہم نے تویہی سوچ رکھاہے جیسے باپ داداکی وراثت میں یہ وطن عزیزملاہو۔حالانکہ پاکستان کے حصول کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے شہادت کاجام نوش کیا۔کتنی مائوں کے سامنے ان کے بچے قتل کیے گئے۔جوساری عمراپنے والدین کی شفقت کے لئے ترستے رہے ہوں گے۔بے بسوں کے سامنے ان کے خاندانوںکے افراد کوکمروں میں بندکرکے نذرآتش کیاگیا۔ہزاروں عصمتیں لٹنے ،لاکھوں گھراجڑنے کے بعد پاکستان بنا۔

زندہ آزادومختارقومیںہمیشہ اپنے وطن سے کھل کرمحبت اوراپنی آزادی کاجشن بھی شایان شان طریقے سے مناتی ہیں۔کیونکہ آزادی کی خوشیاں مناناان خوشیوں میں شریک ہوناان کی رونقیں دوبالاکرنایقینازندہ اورمحب وطن قوموں کاشیوہ ہے۔خالق کائنات مالکِ ارض وسماوات قرآن مجیدمیں بھی ہمیں یہی حکم دیتاہے کہ جب بھی کسی نعمت کاتم پرحصول ہوتواس پرخوب خوشی کااظہارکرو۔یعنی کہ سجدہ تشکربجالائو۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے ”اگرتم میراشکراداکروگے تو میں تمہیںاوردونگااوراگرناشکری کروگے تومیراعذاب سخت ہے”۔

قیام پاکستان سے قبل پورے برصغیرپرانگریزوں کاقبضہ رہاہے ۔حالانکہ انگریزوں کے قبضہ سے پہلے مسلمانوں کی حکومت تھی ۔جب انگریزقابض ہوئے تومسلمان غلامی کی زندگی بسرکرنے لگے ۔مسلمانوں پرطرح طرح کے ظلم وستم ہونے لگے۔بالآخرمسلمانوں نے متحدہوکرمسلسل دن رات محنت کی ۔جوشخص جتنی محنت کرتاہے اس کاپھل اللہ پاک اس کوضرورعطاکرتاہے۔مسلمانوں کی دن رات مسلسل محنت رنگ لے آئی اوراللہ پاک نے آج کے دن یعنی 14اگست1947کومسلمانوں کوانگریزوں کی غلامی سے نجات بخشی۔اورا سطرح مسلمان اپناالگ وطن ملک پاکستانِ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

دوستو!وطن عزیزپاکستان کی آزادی اللہ تعالیٰ کی کسی بڑی نعمت اورفضل وکرم سے کم نہیں ۔کیونکہ اللہ رب العالمین نے 14اگست1947کے دن مسلمانوں کوانگریزوں کی غلامی سے نجات دلاکرانہیںایساخطہ ارض ِ پاک عطاکیاجوہرقسم کے معدنی وسائل سے مالامال ہے۔قدرت نے پاکستان کوہرنعمت سے نوازاہے۔جس کی وادیاں اپنے اندررعنایاں لیے ہوئے ہیں۔دریائوں ،ندیوں،نالوں کی عرفات ہے۔جس سے زمینوں کوسیراب کیاجارہاہے۔ہرے بھرے اوروسیع وعریض کھیت سونااُگل رہے ہیں۔

اللہ کے فضل وکرم اوربرزگوں کی قربانیوں کے بعدہمیں ہرقسم کی آزادی اورہرقسم کاسامان عیش وعریش کے لئے میسرہے ۔ملک کے اندر بسنے والے ہنرمندہیں۔تجارتی،زرعی،صنعتی اوردیگرمیدانوں میں اپنالوہامنواکرترقی کررہے ہیں۔جب کہ جنگی میدان میں بھی اپنی مہارت منواچکے ہیں ۔منوارہے ہیں اورمنواتے رہیں گے ۔

ملک پاکستان ہماراوطن ہے۔وطن اس جگہ یامقام کوکہتے ہیں جہان انسان اقامت پذیرہوتاہے۔جب انسان کسی جگہ پراپنی قیمتی زندگی کاکچھ اہم حصہ گزارلیتاہے ۔توانسان کواس جگہ سے فطری طورپرمحبت ہوجاتی ہے۔پھرجب کسی مجبوری کے تحت انسان اس سرزمین سے جداہوتاہے تواس کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ جلدسے جلداپنے وطن یعنی پہلی منزل تک پہنچ سکوں ۔اس بات میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے کیونکہ اس کاثبوت حدیث نبویۖسے ملتاہے ۔ اللہ کے محبوب دانائے غیوب ۖنے ارشادفرمایا”حب الوطن من الایمان””وطن کی محبت ایمان کاحصہ /علامت ہے”۔جب آپ ۖمکة المکرمہ سے ہجرت فرمانے لگے تواس وقت آپۖکی کیفیت کایہ عالم تھا۔حضرت عبداللہ بن عدی بن حمرائ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہۖکومقام حزورہ پرکھڑے ہوکرفرماتے ہوئے سنا: اللہ کی قسم!اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کی ساری زمین سے بہتراوراللہ تعالیٰ کوساری زمین سے زیادہ محبوب ہے اگرمجھے تجھ سے نکل جانے پرمجبورنہ کیاجاتاتومیں ہرگزنہ جاتا(ترمذی ،ابن ماجہ) ابن شہاب فرماتے ہیں۔

حضرت اصیل غفاری حضورۖکی ازواج مطہرات پرحجاب فرض ہونے سے پہلے ام المومنین سیدتناعائشة الصدیقہ کے پاس تشریف لائے توآپ نے حضرت اصیل غفاری سے پوچھامکہ مکرمہ کو کیساپایا۔توآپ نے بعض اوصاف بیان فرمائے ۔پھرآپ ۖآئے اورآپ ۖنے پوچھامکہ مکرمہ کوتم نے کیساپایاتوآپ نے کچھ اوصاف بیان فرمائے توآپۖدل برداشت ہوئے اور فرمایا”اصیل بس کروہمیں مکہ شریف کے اوصاف بیان کرکے غمزدہ نہ کرو”۔جب آپ ۖمکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی اورمدینہ منورہ کواپنامسکن بنایااس وقت آپۖمدینہ منورہ سے سفرکے لئے باہرنکلتے اورواپس پھرمدینہ منورہ آتے آپۖکی کیفیت کایہ عالم ہوتا ؟سیدناانس فرماتے ہیں جب آپۖکسی سفرسے آتے تومدینہ شریف کی اونچی سڑکیں اورمنزلیں دیکھ کرخوش ہوتے اوراونٹنی تیزی سے اس کی طرف دوڑادیتے تھے اوراگرکوئی دوسراجانورہوتاتواس کوحرکت دیتے”۔بخاری شریف سیدنابلال حبشی کے بارے میں آتاہے کہ مکہ مکرمہ کویادکرتے اورکہتے کہ کوئی مجھے حوصلہ ہی دے دے کہ میں پھرمکہ مکرمہ جائوں گااورفلاں فلاں کنوئیں سے پانی پیوں گا۔حالانکہ سیدنابلال حبشی کامکہ مکرمہ اصل وطن بھی نہ تھا۔لیکن پھربھی جتنی زندگی مکہ مکرمہ میں گزاری زندگی کے ان دنوں کوبھولناگوارانہ کیااورمکہ مکرمہ سے جدائی کاافسوس رہا۔اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام مصرکے بادشاہ تھے لیکن ان کادل ہروقت اپنے وطن کنعان کی محبت میں دھڑکتا رہتا تھا۔

وطن پرفداہرمسلمان ہے کہ حبِ وطن جزوِایمان ہے۔

ان احادیث مبارکہ سے پتاچلاکہ وطن سے محبت کرنادرست ہے ۔انسان کووطن سے محبت کرنی چاہیے۔وطن پرست نہیں ہوناچاہیے۔کیونکہ وطن سے محبت اورایمان کے درمیان تلازم نہیں ۔اسی طرح ایسابھی نہیں ہوسکتاکہ وطن سے محبت ہومگرایمان کاوجودبھی نہ ہو۔جیسے کفارومشرکین کوصرف وطن سے محبت ہوتی ہے ان کے دل ایمان سے توخالی ہوتے ہیں۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ جہاں وطن کی محبت پائی جائے وہاں ایمان کاہوناضروری ہے۔انسان کواصل اورحقیقی محبت اللہ اوراس کے رسول ۖسے ہونی بے حدضروری ہے۔کیونکہ جس کے دل میں اللہ اوراس کے محبوبۖکی محبت نہیں اس کاکوئی وجودنہیںچاہے وہ جس سے محبت کرتارہے یاکوئی نیکی کرتارہے۔جس طرح ہرچیزکی کوئی نہ کوئی بنیادہوتی ہے ۔دین اسلام کی بنیاداللہ اوراس کے رسولۖکی محبت ،اتباع،پیروی میں ہے۔حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہۖنے ارشادفرمایا”تم میں کوئی مومن نہیں ہوتاجب تک میں اسے اس کے والداوراولاداورسب لوگوںسے زیادہ پیاراورمحبوب نہ ہوں”۔بخاری شریف یقینایہ بات توکسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ زندہ قومیںہمیشہ اپنے ذاتی اغراض ومقاصدکوپس پردہ ڈال کراپنے وطن سے کھل کرمحبت کرتی ہیں۔ تواِ س لئے ہرمحب وطن پاکستانی کایہ حق بنتاہے کہ اپنے پیارے وطن پاکستان سے محبت کرے ۔اوردوسرا ہمارایہ قومی اوراخلاقی فریضہ بنتاہے کہ ہم نئی نسل جوپاکستان کاقیمتی اثاثہ ہیں جنہوں نے اس وطن عزیزکی باگ دوڑسنبھالنی ہے اس لئے نئی نسل کوقیامِ پاکستان کے لئے دی جانیوالی قربانیوں سے روشناس کراناان کی یادتازہ کرناہماراملی فریضہ ہے۔کیونکہ یہ بات ہرکسی پرروزِروشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ ملک لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کاثمرہے اگرہمارے بزرگ یہ قربانیاں نہ دیتے توشایدآج بھی ہم آزادنہ ہوتے؟تحریک پاکستان میں صرف مردنہیں بلکہ خواتین کاکرداربھی ہماری تاریخ کاسنہری باب ہے۔
آج بھی ملکی درپیش مسائل اورچیلنجزسے نجات حاصل کرنے کاواحدذریعہ ہمیں قیامِ پاکستان اور1965ء کی جنگ آزادی والاجذبہ اپننے اندرپیداکرنا ہوگا۔کیونکہ وطن عزیزپاکستان اسلامی ریاست اورایٹمی طاقت ہونے کے باوجودبے شمارمسائل اورتنزلی کاشکارہے۔جن سے نجات کاواحدذریعہ مخلص قیادت کاچنائواور نوجوانوں میں بالخصوص قیام ِپاکستان والاجذبہ بیدارکرناہوگا۔

اعلیٰ حضرت مجدددینِ وملت الشاہ امام احمدرضاخان نے سب سے پہلے67سال کی عمرمیں دوقومی نظریہ پیش کیااوردنیاپرواضح کیاکہ ہندوالگ قوم ہے اور مسلمان الگ قوم ہے۔کیونکہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی الشاہ امام احمدرضاخان کی نگاہ برصغیرپاک وہنداوردنیاکی سیاست پربھی تھیں آپ نے برصغیرمیں اسلامی اقدارکوبرسرنوزندہ کرنے اورمسلمانوں کوان کی گمشدہ میراث واپس دلانے کے لئے بہت جدوجہدکی .آپ کے زندہ کارناموں میں سے ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ آپ تحریک آزادی کے علمبرداراور دوقومی نظریہ کے نقیب تھے اس لئے آپ نے تحریک عدم تعاون اورترکِ موالات کے زمانے میں متحدہ قومیت کے نظریے کوباطل قراردیااور مسلمانانِ برصغیرکوہندئووں اور انگریزوں کی سازشوںسے خبردارکیاآپ نے کبھی کسی انگریزیاہندوکی عدالت میں حاضری نہیں دی تھی حتیٰ کہ آپ ڈاک کاٹکٹ ہمیشہ الٹا چسپاں کیاکرتے تھے۔اس ٹکٹ کوالٹاچسپاںکرنے کی اہم وجہ یہ تھی کہ اس ڈاک کے ٹکٹ پرانگریزملکہ یابادشاہ کی تصویرہواکرتی تھی۔

محسن ملت اسلامیہ ڈاکٹرعبدالقدیرخان اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان کے بارے میں فرماتے ہیں آج سے سوسال قبل جب انگریزہندوئوں کے ساتھ سازبازکرکے ہندکی معیشت پرقابض ہوئے تومسلمانوں کے تشخص اور تعلیمی نظام کوزبردست دھچکالگااستعماری طاقتوں کے مذموم عزائم کی بدولت مذہبی قدریں زوال پذیرہونے لگی تھیں اس پرآشوب دورمیں اللہ رب العزت نے برصغیرکے مسلمانوں کوامام احمدرضاجیسی باصلاحیت اورمدبرانہ قیادت سے نوازاکہ جن کی تصانیف،تالیفات اورتبلیغی کاوشوں نے شکست خوردہ قوم میں ایک فکری انقلاب برپا کردیا۔امام صاحب کی شخصیت جذبہ عشق رسول ۖ سے لبریزتھی۔آپکی ساری زندگی کو مدنظررکھتے ہوئے یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ آپ کی ذات نبی کریم ۖ کے ساتھ وفاشعاری کانشان مجسم تھی آپ کی ہمہ جہت شخصیت کاایک پہلوسائنس سے شناسائی بھی ہے سورج کوحرکت پذیراورمحوگردش ثابت کرنے کے ضمن میں آپ کے دلائل بڑی اہمیت کے حامل ہیں آج جبکہ دوسری طرف ہمارادشمن ہمیں تباہ وبرباد کرنے کے لئے گھات میں بیٹھاہے۔تومیں سمجھتاہوں کہ امام صاحب کی تعلیمات سے بہرورہوکرہم آج بھی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیواربن سکتے ہیں مصورپاکستان ڈاکٹرعلامہ اقبال فرماتے ہیں ؛ہندوستان کے دورآخرمیں ان جیساطبّاع اورذہین فقیہ پیدانہیں ہوا۔میں نے ان کے فتاوٰی کے مطالعہ سے یہ رائے قائم کی ہے ۔ان کے فتاوٰ ی ان کی ذہانت ،فطانت،جودت طبع،کمال ثقاہت اورعلوم دینیہ میں تبحرعلمی کے شاہدعادل ہیں۔

مولانا ایک دفعہ جورائے قائم کرلیتے اس پرمضبوطی سے قائم رہتے تھے ۔یقیناوہ اپنی رائے کااظہاربہت غوروفکرکے بعدکیاکرتے تھے ۔لہذا انہیں اپنی شرعی فیصلوں اورفتاوٰی میں کبھی کسی تبدیلی یارجوع کی ضرورت نہیں پڑی ۔(حوالہ ہفت روزافق کراچی 22تا28جنوری 1979) تحریک پاکستان میں علماء دیوبندمیں مولاناشبیراحمدعثمانی نے قیام ِپاکستان کے لئے انتھک جدوجہدکی۔لیکن دارالعلوم والوں نے جوان کے ساتھ حال کیاوہ ان کی کتاب مکالمة الصدرین میں موجودہے۔یہ ایک طویل فہرست ہے جس کی یہ مضمون گنجائش نہیں رکھتااوراس مضمون میں کسی کی دل آزاری کرنامناسب نہیں سمجھتا۔اس لئے اپنے مضمون کااختتام اس بات پرکرتاہوں کہ ہمیں اس وقت ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم جشن ِ آزادی گلی گلی،کوچہ،کوچہ ،نگرنگر،قصبہ ،قصبہ میںشان وشوکت سے مناکرملک دشمن قوتوں کویہ پیغام دیں کہ ہم مردہ نہیں بلکہ زندہ قوم ہیں۔جوہمارے وطن کی طرف میلی نگاہ سے دیکھے گااس کواینٹ کاجواب پتھرسے دیاجائیگا۔ کیونکہ ہمارے بزرگوں نے پاکستان کی بنیاد اینٹ گارے سے نہیں بلکہ اپنے خون اور ہڈیوں سے رکھی تھی اور یہ ملک خداداد پاکستان کلمہ لا الہ الااللہ کے نعرے پر حاصل کیا گیا تھا اور یہی نظریہ پاکستان ہے آج ہمارے دشمن اس نظریہ کو ملیا میٹ کرنے کے ایجنڈے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس وقت تقاضا دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا ہے نا کہ اس کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھانے کا۔ جب تک ہم اپنے اختلافات بھلا کر باہم متحد ہوکر جدوجہد نہیں کرتے اس وقت تک ہمارے دشمن ہم پر مسلط بھی رہیں گے اور ہماری بنیادیں بھی کھوکھلی کرتے رہیں گے۔آج کے دن خصوصاًبالخصوص وطنِ عزیزکی خاطراپنی قیمتی جانوں کانذرانہ پیش کرنیوالوںکی یادتازہ کرکے ان کوخراجِ تحسین اوربلندی درجات کے لئے دعاکریں ۔اللہ پاک وطن عزیزپاکستان کودن دگنی رات چوگنی ترقیاں عطا کرے۔آمین بجاہ النبی الامین طٰہ

Hafiz Kareem Ullah Chishti
Hafiz Kareem Ullah Chishti

تحریر : حافظ کریم اللہ چشتی
پائی خیل،میانوالی
03336828540
یسینkareemullah786@gmail.com

Share this:
Tags:
Importance independence muslims pakistan responsibility اہمیت پاکستان ذمہ داری مسلمانوں یوم آزادی
Nawaz Sharif Caravan
Previous Post مشن جی ٹی روڈ کا فائنل مرحلہ: نواز شریف کا قافلہ منزل کی جانب رواں دواں
Next Post چودہ اگست یوم قیام پاکستان
Youm-e-Azadi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close