Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بھارت کبھی ایک سر والا نہیں رہا!

July 9, 2019 0 1 min read
India
India
India

تحریر : محمد آصف اقبال

یہ حقیقت ہے کہ آزادہ ندوستان اپنے آئینی شناخت کے اعتبار سے کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کا ملک نہیں رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دستور ہندکی تمہید کو We the people of Indiaیعنی ‘ہم بھارت کے لوگ’کے جملے سے شروع کیا گیا ہے۔اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ بھارت یا ہندوستان کسی خاص نظریہ سے وابستہ افراد کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص اورگروہ کے لیے ہے جو ہندوستان کا شہری ہے،جو یہاں پیدا ہوا ہے،اور جس نے اس ملک کی بقا و ترقی میں راست یا بلاوسطہ کردار ادا کیا ہے یا آئندہ مستقبل میں کرے گا۔ہندوستان اور ہندوستانی آئین کی ایک دوسری خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں ریاست کی سطح پر مختلف گروہ ، افراد اورمذاہب کے ماننے والوں کو بنیادی حقوق فراہم کیے گئے ہیں،جس کے تحت وہ اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اور اپنے مذہب سے وابستہ رہتے ہوئے بنا کسی دبائو کے زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ساتھ ہی ہندوستانی معاشرے کی فلاح و بہبود اور آزادی کی اقدارکو آزاد ہندوستان کے مقاصد میں شامل کیا گیا ہے۔آئین ہند کی اسی تمہید کے سلسلے میں ارنیسٹ بیکر نے کہا تھا کہ تمہید آئین،دراصل بھارت کے دستور کا نچوڑ ہے۔جبکہ بھارگو نے کہا تھا کہ تمہید آئین کی روح ہے۔اسی ضمن میں سپریم کورٹ نے 1973کے پیشوا نند بھارتی کیس میں کہاتھا کہ تمہیدیہ دستور کا جزو لاینفک ہے۔اور اسی تمہید میں سارے آئین کو بہ مصداق سمندر کو کوزے میں سمایا گیا ہے ۔جس کی بنیاد پر ہم بھارت کے شہری حقیقی آزادی کا تصور کر سکتے ہیں۔

ہندوستانی آئین کی تشکیل کی تاریخ پر اگر آپ نظر ڈالیں گے تو محسوس ہوگا کہ یہ مسودہ جو آج ہمارے ہاتھوں میں دستور ہند کی شکل میں موجود ہے اسے مختلف مراحل سے گزارتے ہوئے محنت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔پہلی جنگ عظیم کے تجربات 1919کے غیر اطمینان بخش مونٹیگـچیمسفرڈ اصلاحات (پہلی جنگ عظیم میں کامیابی کے بعد تاج برطانیہ نے اپنی ہندوستانی رعایا کے لیے جنگ میں ان کے شاندار خدمات کے اعتراف کے طور پر اصلاحات اور مراعات کا ایک نیا پیکج دیا تھا۔یہ نیا پیکج اس وقت کے وزیر ہند مانٹیگو اور برطانوی ہند کے گورنر جنرل چیمسفورڈ نے مل کر مرتب کیا تھا۔ برٹش پارلیمنٹ نے ان اصلاحات کے بل کو گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919 کے نام سے پاس کیاتھا۔ لیکن یہ عام طور پر مانٹیگو۔ چمسفورڈ اصلاحات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے)اور ہندوستان کی تحریک آزادی میں گاندھی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی وجہ سے شہری حقوق کے مطالبات کے متعلق تحریک آزادی کے رہنماؤں کے نقط نظر میں قابل ذکر تبدیلی آئی تھی جس کے نتیجہ میں شاید ان کی توجہ ہندوستانیوں اور انگریزوں کے درمیان مساوات کا حق مانگنے کی بجائے تمام ہندوستانیوں کی آزادی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہو گئی تھی۔1925 میں اینی بیسنٹ کی جانب سے تیار کردہ ہندوستان کے دولت مشترکہ بل میں سات بنیادی حقوق کا خاص طور پر مطالبہ کیا گیا تھا۔i) انفرادی آزادی،ii) ضمیر کی آزادی،iii) اظہار رائے کی آزادی،iv) اجتماع کی آزادی،v) جنسی بنیاد پر عدم تفریق،vi) بنیادی تعلیم اورvii) عوامی مقامات کے استعمال کی آزادی۔بعد 1927 میں کانگریس نے ظلم و ستم پر نگرانی رکھنے والے حقوق کے اعلامیہ کی بنیاد پر ہندوستان کے ”آئین سوراج” کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل کی سفارش کی تھی۔جسے 1928 میں موتی لال نہرو کی قیادت میں 11 رکنی کمیٹی کی شکل میں قائم کیا گیا۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں تمام ہندوستانیوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت سمیت متعدد سفارشات پیش کیں تھیں۔ یہ سفارش کردہ بنیادی حقوق امریکی آئین اور جنگ عظیم کے بعد یورپی ممالک کے اختیار کردہ حقوق سے مشابہ تھے، چنانچہ ان میں سے بہت سے حقوق 1925 کے بل کے ذریعہ اختیار کر لیے گئے۔ بعد ازاں ان میں سے متعدد دفعات کو بنیادی حقوق اور رہنما اصولوں سمیت آئین ہند کے مختلف حصوں میں جوں کا توں شامل کر لیا گیا۔

1931 میں انڈین نیشنل کانگریس نے اپنے کراچی اجلاس میں استحصال کے خاتمہ، سماجی تحفظ کی فراہمی اور اصلاحات زمین کے نفاذ جیسے مقاصد پر مشتمل اعلان کے ساتھ خود کو شہری حقوق اور اقتصادی آزادی کی حفاظت کے تئیں وقف کرنے کی ایک قرارداد منظور کی۔ اس قرارداد میں دیگر نئے مجوزہ حقوق میں ریاستی ملکیت کی ممانعت، حق رائے دہی، سزائے موت کے خاتمے اور اور آمد و رفت کی آزادی جیسے حقوق شامل تھے۔ جواہر لال نہرو کی جانب سے تیار کردہ قرارداد کے اس مسودے میں جو بعد میں بہت سے رہنما اصولوں کی بنیاد بنا، سماجی اصلاح کے نفاذ کی بنیادی ذمہ داری ریاست پر ڈالی گئی اور اسی کے ساتھ تحریک آزادی پر اشتراکیت اور گاندھی فلسفہ کے اثرات بڑھنے لگے۔ تحریک آزادی کے آخری مرحلے میں 1930کی دہائی کے اشتراکی اصولوں کی تکرار نظر آتی ہے اور اس کے ساتھ ہی توجہ کا اصل مرکز اقلیتی حقوق ، جو اس وقت تک ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن چکا تھا ، بن گئے جنہیں 1945 میں سپرو رپورٹ میں پیش کیا گیا۔ اس رپورٹ میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دینے کے علاوہ ”قانون ساز ادارہ، حکومت اور عدالتوں کے لیے معیار اخلاق” کا تعین کرنے کی بھی کوشش کی گئی تھی۔

برطانوی راج کے آخری مرحلے کے دوران ہندوستان کے کابینی مشن، 1946 نے اقتدار کی منتقلی کے سلسلہ میں آئین ہند کی تشکیل کے لیے ایک قانون ساز کمیٹی کی تجویز پیش کی۔ برطانوی صوبوں اور نوابی ریاستوں سے براہ راست منتخب کردہ نمائندوں پر مشتمل ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی نے دسمبر 1946 میں اپنی کارروائی شروع کی اور نومبر 1949 میں آئین ہند کا مسودہ مکمل کیا ۔ کابینی مشن کے منصوبے کے مطابق اقلیتوں کے تحفظ، قبائلی علاقوں کے انتظام اور بنیادی حقوق کی نوعیت اور حد پر مشورہ دینے کے لیے ایک مجلس مشاورت کا قیام ہونا تھا۔ چنانچہ جنوری 1947میں 64 رکنی مجلس مشاورت بنائی گئی، بعد ازاں ان ہی میں سے فروری 1947 میں بنیادی حقوق کی تشکیل کے لیے جے بی کرپلانی کی صدارت میں 12 رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ ذیلی کمیٹی نے بنیادی حقوق کا مسودہ تیار کیا اور کمیٹی کو اپریل 1947 تک اپنی رپورٹ پیش کردی جسے بعد میں اُسی مہینہ کمیٹی نے اس کو اسمبلی کے سامنے پیش کیا، جس پر ایک سال تک بحث اور گفت و شنید ہوتی رہی اور دسمبر 1948میں مسودے کے بیشتر حصوں کو منظوری دے دی گئی۔ ہندوستانی آئین میں بنیادی حقوق کو تمام شہریوں کے بنیادی انسانی حق کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ آئین کے حصہ سوم میں وضاحت کے ساتھ درج ہے کہ یہ حقوق نسل، جائے پیدائش، ذات، عقیدہ یا جنسی امتیاز سے قطع نظر ہر شہری پر نافذ اور مخصوص پابندیوں کی تابع عدالتوں کی طرف سے قابل نفاذ ہیں۔

ریاستی پالیسی کے رہنما اصول حکومت کی جانب سے قانون سازی کی ہدایات پر مشتمل ہیں۔ آئین ہند کے حصہ چہارم میں مذکور اصول عدالتوں کی جانب سے قابل نفاذ نہیں ہیں، لیکن جن اصولوں پر یہ مبنی ہیں، وہ حکومت کے لیے بنیادی ہدایات کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کے متعلق امید ظاہر کی گئی ہے کہ ریاستی قانون سازی اور منظوری میں ان پر عمل کیا جائے گا۔اس پس منظر میں آئین ہند کی شناخت اور حیثیت کو برقرار رکھنے کی جدوجہد،ہم سب ہندوستانیوں کامن پروگرام ہونا چاہیے اس کے باجود کہ ہم اپنی منفرد حیثیت کو بھی نہیں کھونا چاہتے اور اس کا حق بھی ہمیں ہندوستانی آئین ہی فراہم کرتا ہے۔اور غالباً یہی پیغام راہل گاندھی کے اس خط میں بھی جھلکتا ہے جبکہ وہ اپنا استعفیٰ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بھارت کبھی ایک سر والا نہیں رہا،یہاں کئی سروں کی شمولیت رہی ہے،اوریہی بھارت کی شناخت ہے!

Mohammad Asif Iqbal
Mohammad Asif Iqbal

تحریر : محمد آصف اقبال
maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com

Share this:
Tags:
Constitution Future India reality supreme court آئین بھارت حقیقت سپریم کورٹ مستقبل
Maryam Nawaz
Previous Post سوال نامہ
Next Post شہداء پاکستان SSB ٹرافی شوٹنگ بال ٹورنامنٹ کا ٹائٹل واحد اسپورٹس کے نام
SOHDA E PAKSITAN SSB TROPHY SHOOTING BALL TOURNAMENT

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close